93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 05

“گاڑی میں بیٹھو۔”اس کے حکم پر وہ روتے سسکتے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی تھی۔اس اذیت بھری زندگی سے تو موت ہی بہتر تھی۔
“چلاؤ گاڑی،اور رکنا مت….اگر تم رکی تو پھر تمہیں نجات کا موقع کبھی نہیں ملے گا۔”ماہم نے کپکپاتے ہاتھوں سے گاڑی میں چابی گھمائی تھی۔حاتم سڑک کے کنارے کھڑا ہاتھ پر ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ایک طرف کھائی تھی
جہاں دردناک موت اس کی منتظر تھی اور دوسری طرف وہ اس کے زندگی لیے کھڑا رہا تھا،موت سے بدتر زندگی….
ماہم نے موت کو چنا تھا۔جو کچھ نینا کے ساتھ ہوا تھا وہ سب کسی فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہا تھا۔نینا کا ریپ،اس کی آخری سانسیں اور پھر اسے گاڑی سمیت کھائی سے دھکا دے دینا…..
ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھے اس نے گاڑی فل سپیڈ میں چلائی تھی۔اس نے آخری بار آنکھیں بند کیے اپنے تمام تر گناہ یاد کیے تھے۔گاڑی اب نیچے جا گری تھی۔آگ کے شعلے بھڑکنے لگے تھے۔آج ایک اور اپنے انجام کو پہنچا تھا۔وہ بھی نینا کی طرح بغیر کفن،بغیر قبر کے بےنام موت مری تھی۔
وہ سگریٹ سلگاتا کافی دیر ان بھڑکتے شعلوں کو دیکھتا رہا تھا۔پھر اپنے کالر کی نا دیدہ گرد جھاڑتے آنکھوں پر گوگلز لگائے وہ واپسی کے لیے مڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے ہمیشہ سے ہی یہ سب کرنے کا شوق تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ بھائی مجھے یہ نہیں کرنے دے گے بس اسی لیے میں نے یہ چھپ کر کیا۔”عینین نے سرد سانس خارج کرتے کہا تھا۔
“لیکن میں تمہارے شوق میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔میں اس گھر میں تمہیں ایک لیب بنوا کر دوں گا جہاں پر تم جو چاہو وہ کر سکتی ہو۔تم جو کہو گی میں تمہیں وہ لا کر دوں گا۔”حاتم نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“تم سچ کہہ رہے ہو؟”عینین کی آنکھیں چمکی تھیں۔
“بالکل سچ،لیکن پہلے تمہیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم میں ایسی کیا خاص بات ہے؟میرا مطلب ہے ہیکنگ تو کوئی بھی کر سکتا ہے،تمہاری ہیکنگ میں کیا خاص بات ہے؟”
“تم مجھے چیلنج کر رہے ہو؟”عینین نے آنکھیں سکیڑے اسے گھورا تھا۔
“ہاں….”حاتم نے دلچسب نگاہوں سے اس کے پھولے چہرے کو دیکھا تھا۔
“اپنا لیپ ٹاپ دو مجھے….”عینین نے چیلنج قبول کیا تھا۔
“کیا کر رہی ہو؟”حاتم نے اسے لیپ ٹاپ لا کر دیا تھا۔اب اسے مسلسل مصروف دیکھے وہ پوچھے بغیر نا رہ سکا تھا۔
“تمہارے آکاونٹ ہیک کر رہی ہوں۔”عینین نے آنکھ ونگ کرتے کہا تھا۔
“نا ممکن تم یہ نہیں….”
“ہو گیا۔”حاتم کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔اس نے بےیقینی سے عینین کی جانب دیکھا تھا۔اس کے سارے اکاؤنٹس تو سیکیور تھے تو پھر کیسے؟؟؟
“اس شہر میں تمہارے پانچ بینک اکاؤنٹس ہیں۔اور اگر ملک کی بات کی جائے تو کل ملا کر بیس…..”حاتم سانس نہیں لے سکا تھا۔اصل جھٹکہ تو اسے تب لگا تھا جب عینین نے بینک کے نام کے ساتھ ساتھ اسے رقم تک بتا ڈلی تھی۔حاتم نے فون اٹھا کر ایک ایک کر کے سارے اکاؤنٹس کی رقم چیک کی تھی۔کوئی ایک فگر بھی ادھر سے ادھر نہیں ہوا تھا۔
وہ ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے نہایت دلچسبی سے اس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ رہی تھی۔
“ظاہر ہے میرے ہی لیپ ٹاپ سے میرے اکاؤنٹ ہیک کرو گی تو یہ تو آسانی سے ہو جائے گا۔کسی اور کا ہیک کر کے دکھاؤ تو مانوں؟”خود کو کمپوز کرتے اس نے عینین کا اگلا امتحان لینے کا سوچا تھا۔
“تم نام بتاؤ۔”وہ پر اعتماد تھی۔حاتم کے نام بتانے پر عینین نے ایک بار پھر انگلیاں پائپنگ بورڈ پر چلائی تھیں۔
“اس نام کے اس شہر میں سو سے زیادہ لوگ ہیں۔کوئی اور نشانی یا پھر ولدیت…..”حاتم نے اسے ولدیت بتائی تھی۔
“اس ولدیت کے چھ افراد ہیں۔کچھ اور پتا ہے تمہیں؟”حاتم نے سوچتے ہوئے اسے بینک کا نام بتایا تھا۔اگلے لمحے وہ اکاؤنٹ ہیک کر چکی تھی۔حاتم نے ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“اور اگر اسے پتا چل جائے کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے پھر؟”
“نہیں پتا چلے گا،کم سے کم تین چار مہینوں تک تو بالکل نہیں….ہاں اگر وہ خود رقم نکلوانے آئے تو اسے پتہ چل سکتا ہے،لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ ہم رقم نکلواتے ہیں یا پھر صرف ہیک کرتے ہیں۔”
“کوئی میسج یا پھر کوئی الرٹ؟”
“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں لیکن اگر کسی کو جان بوجھ کر تنگ کرنا ہو تو آپ اسے میسج بھیج سکتے ہیں لیکن وہ بعد میں ڈیلیٹ بھی ہو سکتا ہے،ساری کی ساری کال ہسٹری بھی ڈیلیٹ ہو سکتی ہے۔”حاتم نے تہےدل سے اعتراف کیا تھا کہ اس کی بیوی بہت ذہین ہے۔اب وہ باآسانی اس کا استعمال کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بستر پر چت آنکھیں بند کیے لیتا ہوا تھا اور سنیہا بستر کے دوسری طرف لیٹے مسلسل اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“نظر لگانے کا ارادہ ہے؟”وہ آنکھیں بند کیے ہی گویا ہوا تھا۔
“مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے؟”وہ سیدھا مدعے پر آئی تھی۔
“تمہاری آنکھیں،مجھے تمہاری آنکھیں نہیں پسند….”نائل نے آنکھیں کھولے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“کیوں؟”وہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“یہ بدصورت ہیں۔”سنیہا لب بھینچ کر رہ گئی تھی۔
“اگر تم انہیں نکلوا دو تو ہو سکتا ہے مجھے تم سے محبت ہو جائے۔”وہ سنجیدہ چہرہ لیے اس کی جانب دیکھ رہ تھا۔
“یعنی گارنٹی نہیں ہے؟”وہ اس کے سوال پر چونکا تھا۔
“اگر میں گارنٹی دوں تو….؟”یہ چیلنج تھا۔
“تو پھر میں انہیں نوچ کر پھینک دوں گی۔”وہ حد درجہ سنجیدہ تھی۔
“تمہاری دنیا سیاہ ہو جائے گی۔”وہ اسے بیان بدلنے پر مجبور کر رہا تھا۔
“آپ کی محبت کا رنگ میرے لیے کافی ہے۔”وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھی۔نائل کے چہرے پر ایک ساتھ کئی سائے لہرائے تھے۔
“اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے؟”وہ پوچھے بغیر نا رہ سکا تھا۔
“محبت نہیں عشق….یہ عشق بڑا عجیب ہوتا ہے،یہ محبوب کے سامنے عاشق کو خاک تو کر دیتا ہے لیکن کبھی ختم نہیں ہوتا۔”نائل خاموش رہا تھا۔بعض اوقات وہ اسے کچھ بولنے کے قابل نہیں چھوڑتی تھی۔
“کبھی کبھی مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔”کچھ دیر کی خاموشی کے بعد نائل نے سرد آہ بھرتے کہا تھا۔
“کیسا ڈر؟”سنیہا اس کے تھوڑا قریب ہوئی تھی۔
“کہیں میں تمہیں کوئی نقصان نا پہنچا دوں،کہیں میں تمہیں جان سے نا مار دوں؟”نائل کی آنکھوں میں عجیب سی بےبسی تھی۔سنیہا کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی تھی پھر اس نے مسکرا کر اس کے سینے پر سر رکھا تھا۔
“اگر مجھے سو زندگیاں بھی ملے گی تو میں ہر بار آپ کے ہاتھوں مرنے کو تیار ہوں۔”نائل کا دل زور سے دھڑکا تھا۔سنیہا سے اس کی تیز دھڑکنوں کا شور سنا تھا۔
“تم بیواقوف ہو۔”وہ کہے بنا نا رہ سکا تھا۔
“اور آپ سنگدل….”وہ مسکرائی تھی۔
“سنگدل نہیں ہوں میں،صبر کرنے والوں میں سے ہوں۔تمہیں بھی ان ہی میں سے ہونا چاہیئے۔”نائل نے اس کے گرد حصار قائم کیا تھا۔
“آپ کو پتا ہے میرا دل کبھی کسی کے لیے نہیں دھڑکا لیکن جب آپ کو پہلی بار دیکھا تو میرا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔نجانے کیوں آپ کے حصول کی خواہش میرے دل میں جاگی تھی۔”
“ایسا اس لیے ہوا کیونکہ تمہیں مجھ تک ہی آنا تھا۔ہمارا جوڑا بہت پہلے ہی عرش پر بنا دیا گیا تھا۔”نائل نے آہستگی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے کہا تھا۔وہ پر سکون سی آنکھیں موند گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر آتے ساتھ ہی حاتم کمرے کی جانب بڑھا تھا۔نین کو وہاں نا پا کر اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔اب اس نے لاؤنچ،لیب یہاں تک کہ سڈی روم میں بھی اسے دھونڈھا تھا،وہاں بھی نہیں تھی۔ماتھے پر تیوری چڑھائے وہ ٹیرس کی جانب بڑھا تھا۔
“میں تمہیں سارے گھر میں ڈھونڈھ رہا ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو۔”اپنا کوٹ کرسی پر رکھتے وہ اس کے پاس جھولے پر بیٹھا تھا۔وہ ٹیرس پر گول بڑے سائز کے جھولے پر اپنا فراک پھیلائے ٹانگیں اوپر کیے بیٹھی بہت سکون سے نیک پینٹ لگا رہی تھی۔
“اٹھو یہاں سے،تم اسے توڑ دو گے۔”اس نے بہت زور سے اپنا پیر عمر کو مارا تھا۔
“نین….!”عمر نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔اسے نین کی یہ حرکت بالکل پسند نا آئی تھی۔
“کیا نین….؟اتنے موٹے ہو تم،میرا جھولا ٹوٹ جائے گا۔”نین نے منہ پھلائے اسے بھی گھوری سے نوازا تھا۔
“میں موٹا نہیں ہوں،اور تم نے دوبارہ اس طرح پیر چلائے نا تو میں تمہارے یہ پیر کاٹ دوں گا۔”اس کے پیروں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے سہلاتے عمر نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گی اگر تم نے بری نگاہوں سے میرے پیروں کی طرف دیکھا بھی تو…!”اپنے پیر سمیٹتے وہ پھر سے نیل پینٹ لگانے میں مصروف ہو گئی تھی۔
“لاو میں لگا دیتا ہوں۔”عمر نے اس کا ہاتھ تھامتے پاس پڑی نیل پینٹ اٹھائی تھی۔فلحال وہ اس سے لڑنے کا کوئی ارادہ
نہیں رکھتا تھا۔
“سچ سچ بتاؤ،آج سے پہلے کس کس کو نیل پینٹ لگائی ہے تم نے…؟”اس کے کام کی پرفیکشن دیکھ نین نے مشکوک انداز سے اسے گھورا تھا۔
“ٹھیک سے یاد نہیں ہے اب۔”نین نے فورا اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا۔
“میری جان!میں اس نیل پینٹ کی بات نہیں کر رہا۔یہ تو میں صرف تمہیں ہی لگاؤں گا۔”اس کا ہاتھ واپس اپنی گرفت میں لیتے عمر مسکرا دیا تھا۔
“مجھے بھی وہی نیل پینٹ لگاؤ جو تم دوسروں کو لگاتے ہو۔”نین کی فرمائش پر وہ ایک لمحے کے لیے چونک گیا تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دیا تھا۔
اس کی مسکراہٹ ٹھہری ہوئی اور بےحد دل فریب تھی۔ہنسنے کی وجہ سے اس کے بائیں گال میں ہلکا سا گڑھا ابھرا تھا۔نین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“یہ ظلم میں تمہاری ننھی سی جان پر نہیں کر سکتا۔”اس کا گال تھپتھاتے وہ وہاں سے اٹھا تھا۔
“پاؤں ابھی رہتے ہیں۔”نین نے اسے یاد دلایا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے،تمہارے پیر ایسے ہی اچھے لگ رہے ہیں۔”وہ نیل پینٹ اٹھاتے وہاں سے گیا تھا۔
وہ بھی منہ کے زاویے بگاڑتی اس کے پیچھے چل دی تھی۔
کمرے میں آتے حاتم نے اپنا کوٹ بیڈ پر اچھالا تھا۔بستر پر ڈھنے سے پہلے اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی اس چمکتی چیز پر پڑی تھی۔وہ قدم آگے بڑھا گیا تھا۔
ڈریسنگ ٹیبل سے وہ لاکٹ اٹھائے حاتم نے اسے بغور دیکھا تھا۔اس لاکٹ پر جڑے نگینے کو دیکھ اس کی آنکھوں میں اشتعال ابھرا تھا،وجہ اس نگینے پر بنا وہ عجیب طرز کا نشان تھا۔تیر کا نشان….
“یہ میرا ہے۔”عینین نے اس کے ہاتھ سے لاکٹ جھپٹتے کہا تھا۔
“یہ….یہ تمہارا ہے؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔
“ہاں….”نین کے اثبات میں سرہلانے کی دیر تھی،حاتم نے غصے سے اس کا بازو دبوچا تھا۔
“یہ کس نے دیا ہے تمہیں؟”اس کی غراہٹ نے عینین پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔اس کا عمر اس سے اس لہجے میں بات کر سکتا تھا،یہ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا۔
“بتاؤ یہ کہاں سے ملا تمہیں؟”اسے دونوں بازؤں سے دبوچے وہ سرخ انگارہ آنکھوں کے ساتھ گویا ہوا تھا۔عینین کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔پل میں اس کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔
“نین میں نے کچھ پوچھا ہے؟”اس کے لہجے اور گرفت میں اب بھی وہی سختی تھی۔اس کے قیمتی موتی بھی آج اس پتھر کو زیر نہیں کر سکے تھے۔
“وہ لندن میں،و…دوست نے دیا…”عینیں کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔
“کون سی دوست،بولو کون سی دوست….؟”اسے چھوڑے اس نے ہاتھ مار کر ڈریسنگ ٹیبل پر موجود چیزوں کو گرایا تھا۔عینین بری طرح سہم گئی تھی۔
“بولو نین،کس کے ساتھ گھومتی پھرتی رہی ہو تم؟”وہ اس وقت بالکل آپے سے باہر ہوا تھا۔
“تمہیں اندازہ ہے تم نے کیا کیا ہے،تمہیں کچھ ہو جاتا پھر….؟کیسی دکھتی تھی تمہاری دوست؟”وہ خاموش رہی تھی۔وہ اسے یہ نہیں بتا سکی تھی کہ اسے یہ کسی لڑکی نے نہیں بلکہ لڑکے نے دیا تھا۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے نین؟”اس کی دھاڑ پر عینین کا دل بس باہر آنے کو تھا۔
“وہ میری دوست کی کزن کی دوست تھی۔اس کے ہاتھ میں میں نے یہ دیکھا تو مجھے پسند آ گیا تو میں نے اس سے یہ خرید لیا۔”لرزتے وجود کے ساتھ عینین نے جھوٹ بولا تھا۔وہ اسے سچ نہیں بتا سکتی تھی۔
“کیسی دکھتی تھی وہ؟”
“مجھے نہیں یاد….”وہ سسکی تھی۔
“نین….”حاتم نے لب بھینچے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“مجھے سچ میں نہیں یاد….”منہ پر ہاتھ رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“تمہیں تو میں بعد میں دیکھ لوں گا۔”لاکٹ ہاتھ میں دبوچے وہ غصے سے باہر کی جانب گیا تھا۔
وہ زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“یہ تمہارے ہاتھ میں جو بینڈ ہے نا،اس پر یہ چمکتا نگینہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔”
“تمہیں پسند ہے تو تم اسے رکھ سکتی ہو۔”احمر نے خوشدلی سے وہ اس کی جانب بڑھایا تھا۔
“میں اس کا کیا کروں گی؟”
“تم اسے کسی لاکٹ میں ڈال کر پہن سکتی ہو۔”احمر نے اس کی مشکل آسان کی تھی۔
وہ اسے ہمیشہ پہنے رکھتی تھی مگر جب سے وہ حاتم کے پاس آئی تھی اس نے یہ اتار کر رکھ دیا تھا۔آج اتنے دنوں بعد اس نے اسے نکالا تھا اور حاتم کی نظر اس پر پڑ گئی تھی۔
“نہیں!یقینا عمر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔احمر غلط نہیں ہو سکتا۔”وہ نفی میں سر ہلاتی مسلسل رو رہی تھی۔
“اس نگینے میں ایسا کیا تھا جو عمر ایسے….”
“نہیں احمر میرا دوست ہے،وہ غلط نہیں ہے۔”اسے یقین تھا۔احمر کی اس کے دل میں بہت خاص جگہ تھی،وہ اس کے خلاف نا کچھ سوچنا چاہتی تھی اور نا ہی کچھ سننا….
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔