Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 26)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 26)
26
وانیہ کی حالت بہتر ہونے کے پیش نظر اسے شام تک ڈسچارج کر دیا جانا تھا۔ وہ ہسپتال کے بستر پر گہری نیند
میں سو رہی تھی جب کسی انجانی خوشبو کے احساس کے تحت وہ نیند میں بھی اچھی خاصی بےچین ہوئی تھی۔اسے اپنی گردن پر کسی کے لمس کا احساس ہوا تھا۔پھر وہ اپنے بالوں میں کسی کی چلتی انگلیاں محسوس کر رہی تھی۔اس نے آنکھیں کھولنی چاہی تھیں مگر دوائیوں کے زیر اثر
غنودگی اب بھی اس پر طاری تھی۔آنکھوں پر بوجھ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں کھول پا رہی تھی۔اگر اس کی جگہ کوئی اور یہاں ہوتا تو کبھی بھی اتنی سٹرونگ دوائیوں کے زیر اثر یہ سب محسوس نا کر پاتا مگر وہ وانیہ تھی،وانیہ آفندی…
مقابل کی انگلیاں اب رک چکی تھیں۔اب وہ اپنے چہرے پر کسی کی گرم سانسوں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔اگلے عمل پر وانیہ کی آنکھیں مکمل طور پر کھلی تھیں۔اس کی
ٹھوڑی پر کسی نے اپنے لب رکھے تھے۔وہ گھبرا کر فورا اٹھ بیٹھی تھی۔حیرت کا جھٹکا تو اسے تب لگا جب اس نے وہاں کسی کو نا پایا تھا۔ کمرہ خالی تھا۔وانیہ نے اپنے چکراتے سر کو تھاما تھا۔
“کون ہے؟”اس نے ہمت جمع کر کے پوچھا تھا۔جواب ندارد تھا۔وانیہ نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس قدر شدید کمزوری کےباعث وہ نہیں اٹھ سکی تھی۔
“بھائی…!”اس نے ایک بار پھر نظریں گھما کر اردگرد دیکھا تھا۔
“نہیں بھائی نہیں تھے۔”پہلے پہل اسے لگا کہ شاید نائل اس کے پاس ہو مگر پھر بعد میں اس نے خود ہی اپنے خیال کی تردید کی تھی۔اس کا لمس،چھونے کا انداز اسے کچھ اور ہی بتا رہا تھا۔یہ اس کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ ہوا تھا کہ کوئی اس کے اتنا قریب آیا ہو۔وانیہ گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔جب نرس کے اندر داخل ہونے پر اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا۔وہ پھولوں کا بکے لے کر اندر داخل ہوئی تھی۔
“یہ آپ کے دوست نے بھیجا ہے۔”اس نے کہتے ساتھ ہی وہ بکے اس کے بستر کے پاس رکھا تھا۔بکے رکھنے کے بعد وہ نرس باہر چلی گئی تھی۔
وانیہ کچھ دیر غائب دماغی کی حالت میں اس گلاب کے گلدستے کو گھورتی رہی تھی پھر اس نے ہاتھ آگے بڑھا
کر وہ گلدستہ اٹھایا تھا۔
“شاہین…!”پھولوں کی خوشبو اپنے
اندر اتارتے اس کے لبوں نے خود بخود ایک نام ادا کیا تھا۔
“تم یہاں آئے تھے۔”وہ ایکدم ہی فریش ہوئی تھی۔ساری نیند،ساری غشی جیسے ختم ہوئی تھی۔پھولوں کو اپنے قریب رکھے وہ مسکراتی ہوئی واپس لیٹی تھی۔کچھ دیر لیٹنے کے بعد اچانک ہی اس کے دماغ میں جھماکہ ہوا تھا۔وہ فورا اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“اگر پھول بھیجے ہیں تو نوٹ بھی ضرور ہو گا۔”وانیہ نے گلدستے کو الٹ پلٹ کر دیکھا تھا۔گلدستے کے بہت اندر کہیں جا کر اسے نوٹ مل ہی گیا تھا۔وانیہ نے پرجوش ہو کر وہ خط کھولا تھا۔
“تیرا حسن میری جاں لے گیا…
تیری ہنسی مجھے پاگل کر گئی…
تجھے دیکھنے کے بعد کسی
اور کو دیکھنے کی تمنا نہ رہی…
تیرے لمس کی خوشبو میری ہتھیلی
میں بس گئی…
دیدار یار کے بعد اب یہ دل وصل
یار کے لیے مچل رہا ہے…
بس کچھ وقت اور،ایک نیا دیس
تیرا منتظر ہے۔”
اس نے لکھی گئی تحریر پر ہاتھ پھیرا تھا۔پھر لاشعوری میں وانیہ وہ ہاتھ لبوں تک لے گئی تھی۔ اس کا چہرہ شرم سے گلال ہوا تھا۔ پلکوں کا بوجھ اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا۔ شاعری کا مفہوم سمجھنے کی اس نے
زحمت نہیں کی تھی۔وہ تو کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی۔ایک الگ دنیا میں،جہاں پر وہ ہو اور اس کا شاہین…
“تم کہاں ہو شاہین؟”ایک بار پھر اس پر غنودگی طاری ہوئی تھی۔
برسات کے گرتے آخری قطرے تک وہ آنکھیں بند کیے ٹیرس پر کھڑی رہی تھی۔ہوا کے تیز جھونکے اس کے وجود سے ٹکرا رہے تھے۔چہرے پر اب بھی بارش کی بوندیں رقص
کر رہی تھیں۔بارش کے رکنے کا یقین کرتے سنیہا نے آہستگی سے آنکھیں کھولی تھیں۔اسے اپنے رب سے بےپناہ شکایتیں تھیں۔زندگی میں پہلی بار تو اس کا دل کسی کے لیے دھڑکا تھا مگر اس شخص نے ہی اس کے دل کو بری طرح توڑا تھا۔خود پر بیتے ہر ایک ستم کو یاد کرتے اس کی بائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر گرا تھا۔اس نمکین پانی کے قطرہ نے برسات کے میٹھے پانی کے قطرے سے مل کر گال سے ٹھوڑی تک کا سفر طے کیا تھا۔ایک ٹھنڈی مگر گہری سانس اندر کھینچتے وہ پلٹی تھی۔
سامنے نائل کو کھڑا دیکھ سنیہا بوکھلا گئی تھی۔ایک قدم اٹھانے کی دیر تھی کہ اس کا پیر پھسلا تھا۔اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرتے نائل نے اسے گرنے سے بچا لیا تھا۔
“چھوڑنا مت…!”سنیہا نے خوف کے مارے اس کے بازو کو سختی سے دبوچا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر نائل کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔نائل نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے سنیہا کو آہستگی سے چھوڑا تھا۔ اب وہ ہاتھ پر ہاتھ باندھے دلچسبی سے اس کے بھیگے وجود کا جائزہ لے رہا تھا۔اس کی مسلسل چھبتی نگاہوں سے وہ شرم سے پانی پانی ہوئی تھی۔اس نے گلے میں موجود بھیگے ڈوپٹے سے خود کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ غصہ تو اسے نائل پر بھی آیا تھا۔جو شخص اسے نظر اٹھا کر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا،آج وہی شخص اس سے نظریں ہٹانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔شرم سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ تقریبا وہاں سے بھاگی تھی جب نائل نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔
“آہیہہ..!”سنیہا کی چیخ نکلی تھی۔
“تمہیں یاد ہے تم نے مجھے کہا تھا کہ میں تمہارے قریب تب ہی آؤں جب میں تمہاری قیمت ادا کر سکوں۔”وہ پہلے
ہی اس کے اسطرح خود کو کھینچنے پر بوکھلا گئی تھی اور اب اچانک اس کی یہ بات…
“میں نے بہت سوچا اور آج میں وہ قیمت ادا کرنا چاہتا ہوں۔”سنیہا کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔اگر نائل نے اسے نا پکڑا ہوتا تو یقینا وہ گر جاتی۔ اس کے باپ نے اس کی قیمت دس کڑور لگائی تھی اب وہ سامنے کھڑا شخص نجانے اس کی کیا قیمت لگانے والا تھا؟ ہر چیز برداشت تھی مگر یہ نہیں… وہ اس کی بیوی تھی۔ان کے درمیان ایک نہایت ہی پاکیزہ رشتہ تھا۔اب وہ یہ سب برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ سنیہا کے مزید قریب ہوتے نائل نے اپنا دائیاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تھا۔اس کا ہاتھ اب اس کے ڈوپٹے پر
تھا۔اپنی گردن سے ڈوپٹے کو مسلسل سرکتے محسوس کرتے سنیہا نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔اس کا دل بری طرح کانپنے لگا تھا۔
“سسسی…!”ڈوپٹے کے گردن سے جدا ہوتے ہی اس کی سسکی نکلی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ نڈھال سی زمین پر
ڈھے جاتی،اسے اپنے سر پر کچھ محسوس ہوا تھا۔اس کی بھیگی زلفوں پر کچھ ٹھنڈی اور گیلی چیز…وہ آنکھیں کھولنے پر مجبور ہو گئی تھی۔آنکھیں کھولتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ڈوپٹہ اس کی گردن پر نہیں تھا،وہ نائل کے ہاتھ میں بھی نہیں تھا وہ پاس پڑی کرسی پر بھی نہیں تھا نا ہی وہ زمین پر تھا تو پھر وہ کہاں تھا…؟ ڈوپٹہ سنیہا کے سر پر تھا۔اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھی۔بےیقینی کا ایک سمندر تھا سنیہا کی آنکھوں میں…
“اس رشتے کی قیمت محض عزت و احترام ہے۔ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔” نائل نے اسے کندھوں سے تھامتے بہت نرمی سے کہا تھا۔
“تھک گیا ہوں میں،خود سے لڑتے لڑتے…” وہ سانس لینے کو رکا تھا جبکہ سنیہا کے قدم زنجیر ہوئے تھے۔
وہ خواب اور حقیقت کے درمیان کہیں الجھی ہوئی تھی۔کم ازکم یہ وہ الفاظ نہیں تھے جسے وہ سننے کی توقع کر رہی تھی۔
“میرا ذہن ہمیشہ سے ہی کشمکش کا شکار تھا۔تم قصوروار ہو یا نہیں…میں ہمیشہ یہی سوچتا رہا۔اور آخرکار میں
اس نتیجے پر پہنچ ہی گیا کہ تم بےقصور ہو۔”وہ دم سادھے اسے سن رہی تھی۔ جب نائل نے اس کے سامنے اپنی ہتھیلی
پھیلائی تھی۔
“کیا تم مجھے اور اس رشتے کو ایک اور موقع دو گی؟”اس کے آگے ہاتھ پھیلائے وہ استفسار کر رہا تھا۔وہاں کچھ بھی
فلمی نہیں تھا۔نا تو نائل نے اسے عاشقوں کی طرح پرپوز کیا تھا اور نا ہی وہ یہ کرنے والا تھا۔وہ بس بہت ہی سادگی
سے اس سے اس کا ساتھ مانگ رہا تھا۔
سنیہا کے لیے یہی بہت تھا بلکہ بہت زیادہ تھا۔وہ ابھی بھی حقیقت اور خواب کے درمیان کہیں گم تھی۔
“سنیہا…؟”
نائل کے ایک بار پھر پکارنے پر وہ ہوش میں آئی تھی۔اس نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کی طرف دیکھا تھا۔معمہ حل ہو چکا تھا۔یہ خواب نہیں حقیقت تھی۔اس بات کا یقین کرتے کہ یہ حقیقت ہے،سنیہا کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
“میں تمہیں ہر گز کوئی موقع نہیں دوں گی۔”اب کی بار حیران ہونے کی باری نائل کی تھی۔وہ اس جواب کی توقع
نہیں کر رہا تھا۔
اسے ڈسچارج ہوئے آج دوسرا دن تھا۔ مگر اس کے آگے پیچھے ملازماؤں کی فوج تھی اور ماہم بھی اسے ایک
لمحے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ وہ رات میں بھی اس کے ساتھ سوتی تھی۔آج موقع پاتے ہی وہ بک شیلف کے پاس گئی تھی۔اس نے کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا تھا۔
“میرا فون…؟”موبائل کی غیر موجودگی پر وہ ہواس باختہ ہوئی تھی۔ “میرا فون کہاں گیا؟”وہ پاگلوں کی طرح کتابیں شیلف سے نیچے پٹخ رہی تھی۔ “میرا فون…؟”وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔
“کیا ہوا بی بی جی؟”ملازمہ ڈورتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی تھی۔
“میرا فون…؟یہاں پر تھا میرا فون…؟ کہاں ہے؟”وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ چیخی تھی۔
“بی بی جی!مجھے آپ کے فون کا نہیں پتا…یہاں تو بس کچھ پرانی کتابیں کتنے عرصے سے پڑی ہوئی تھیں،میں نے انہیں پھینک دیا تھا۔”وانیہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔تیزی سے آگے بڑھتے اس نے ایک ہی جھٹکے میں اس ملازمہ
کو گلے سے دبوچا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری مرضی کے بغیر میری چیزوں کو چھونے کی…؟” اس نے کتابوں کے درمیان بہت
چھپا کر فون فکس کیا تھا۔ “کیسے چھوا تم نے میری چیزوں کو…؟”اس نے ملازمہ کو زمین پر دھکہ دیا تھا۔
“جان لے لوں گی میں تمہاری…!” اس نے فرش پر بیٹھتے ایک بار پھر ملازمہ کو گلے سے دبوچا تھا۔ملازمہ کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔
“وانیہ…!”ماہم کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی بھاگ کر اس جانب بڑھی تھی۔اس نے ملازمہ کو اس کی گرفت سے آزاد کروایا تھا۔
“میں جان لے لوں گی اس کی…!” وانیہ کے سر پر خون سوار تھا۔
“چٹاخ…!”وانیہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتے ماہم نے اسے تھپڑ کھینچ مارا تھا۔
“ہوش میں آؤ وانیہ…!”اپنے منہ پر ہاتھ رکھے وانیہ نے بےیقینی سے ماہم کی طرف دیکھاتھا۔
“بس بہت ہو گیا،اب مزید تمہاری کوئی بھی غلط حرکت میں برداشت نہیں کروں گی۔”ماہم ایک ٹھنڈے مزاج کی خاتون تھی مگر آج وہ شدید طیش کی حالت میں تھی۔
“نائل کے گھر آنے تک تم یہاں سے ہلو گی بھی نہیں…!”اسے کلائی سے تھامے ماہم نے اسے بستر پر پٹخا تھا۔ملازمہ کو باہر لے جاتے ہی ماہم نے کمرہ باہر سے لاک کیا تھا۔
“پھوپھو!پھوپھو نے مجھے مارا…!”وہ دیوانہ وار کبھی اپنے گال کو چھو رہی تھی تو کبھی اپنے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔
“مجھے مارا پھوپھو نے…!”اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے،آنکھیں سرخ تھیں اور اس کا پورا وجود ہی جیسے ہانپ رہا تھا۔
“کوئی مجھ پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا ہے؟کیسے…؟”اس نے
باقاعدہ اپنے بال نوچے تھے۔ اسے کمرے میں لاک کیے ماہم کی آنکھیں نم ہوئی تھی۔وانیہ اس کی بھیتیجی تھی اور اس کے لیے بےحد خاص تھی۔
“آخر نائل کیوں نہیں سمجھتا کہ وانیہ ایک نفسیاتی مریض ہے۔اسے عام لوگوں کے درمیان نہیں ہونا چاہیئے۔”ماہم نے
افسوس سے سر جھٹکا تھا۔وانیہ نائل کے لیے بہت اہم تھی۔وہ اس کی زندگی تھی۔وہ یہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بہن عام لوگوں جیسی نہیں ہے۔وہ دماغی
مرض کا شکار تھی جس کا علاج شاید ممکن نہیں تھا۔نائل نجانے کتنے سالوں سے ہر طرح سے اس کا علاج کروا رہا تھا مگر پھر بھی اس کی کنڈیشن میں کوئی سدھار نہیں آ رہا تھا۔
