93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 53)

“اچھا!کیا کرو گی؟مجھے مارو گی؟”ماہم نے اس کا مذاق اڑایا تھا۔
“بھائی کہتے ہیں موت سزا نہیں ہے،زندگی سزا ہے۔اور میں تمہیں زندگی دوں گی،اذیت ناک زندگی….”وہ عہد کر چکی تھی۔
“پہلے میری قید سے تو نکل کر دکھاؤ میری گڑیا!پھر بات کریں گے۔دیکھو کتنی بےبس ہو تم،زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک پھڑپھڑاتی چڑیا….”ماہم نے جاندار قہقہ لگایا تھا۔
“یہ چڑیا کیا کر سکتی ہے اس کا ٹریلر میں تمہیں ابھی دکھاتی ہوں۔”اس کا مفلوج ذہن اب کام کرنے لگا تھا۔ذہن پر سے پردے اب ہٹ چکے تھے۔
وانیہ نے اپنے بائیں ہاتھ کو حرکت دے کر ذرا سا گھمایا تھا۔ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھلنے کی آواز آئی تھی،ایک لمحے کا کھیل تھا اور اندر موجود قینچی اس کے ہاتھ میں تھی۔
اپنی جگہ سے آگے کھسکتے اس نے ماہم کی ٹانگ میں وہ قینچی بری طرح کھبائی تھی۔وہ درد سے بلبلا اٹھی تھی۔
“You…..”
اس کے ہاتھ سے قینچی جھپٹتے ماہم نے اس کے پیر پر تین سے چار بار وہ قینچی پیوست کی تھی۔وانیہ نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں۔
“تمہیں ڈر لگ رہا ہے مجھ سے…..”قینچی ہاتھ میں دبوچے وہ دروازے کی جانب مڑی ہی تھی کہ وانیہ کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
“میں وانیہ آفندی ہوں،تم تو کیا کوئی بھی مجھے قید نہیں کر سکتا۔میرے پاس طاقت ہے،میرے پاس دماغ ہے،میں بہت جلد یہاں سے بھاگ جاؤں گی لیکن اس کے بعد میں پوری تیاری کے ساتھ لوٹوں گی۔تمہاری بربادی بن کر…..”اس کی باتوں کو نظرانداز کرتے ماہم نے کمرے سے باہر جا کر دروازہ لاک کیا تھا۔یہ سچ تھا کہ وہ ایک لمحے کے لیے ڈر گئی تھی۔اسے اس دن کا منظر یاد آیا تھا جب وانیہ نے اسی طرح فروٹس کے لیے چھری اٹھائی تھی۔اس دن تو اسے یہ سب آنکھوں کا دھوکہ ہی لگا تھا کیونکہ ماہم کی نظر میں وانیہ ایک ذہنی مریضہ تھی۔اگر الیکس اسے سانپ کے کاٹنے والے واقعے کے بارے میں نا بتاتا تو وہ کبھی بھی وانیہ کی اصلیت نا جان پاتی۔
رات سے صبح ہو گئی تھی۔وانیہ فرش پر اوندھے منہ گری ہوئی تھی۔ساری رات اسے ہاتھوں کی جلن نے سونے نہیں دیا تھا۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی آنکھ لگی تھی۔
فجر کے وقت ایک بار پھر مؤذن کی آواز بلند ہوئی تھی۔
کھڑکی لاک تھی مگر پھر بھی اس کے کمرے تک یہ آواز باآسانی پہنچ رہی تھی،وجہ شاید سپیکر کا استعمال تھا۔
“اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے…..”وانیہ کی ہاتھ کی انگلیوں نے حرکت کی تھی۔
مؤذن برابر آذان کے کلمات دہرا رہا تھا۔
“نماز نیند سے بہتر ہے….”ان کلمات پر وانیہ کی آنکھ کھلی تھی۔
“تم نماز نہیں پڑھتی؟”احمر کی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
“پہلے پڑھتی تھی۔”وانیہ نے سرسری سے انداز میں جواب دیا تھا۔
“اب کیوں نہیں پڑھتی؟”
“کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔”
“مطلب….؟”
“مطلب یہ کہ پہلے کبھی ایگزامز میں کامیاب ہونے کے لیے تو کبھی بھائی کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے میں پڑھ لیتی تھی مگر اب ان ساری چیزوں کا خوف ختم ہو گیا ہے۔”
“نماز کا خوف سے کیا تعلق؟”وہ نہیں سمجھا تھا۔
“گہرا تعلق ہے۔میرے نزدیک اللہ ایک ڈر ہے جسے لوگوں کے دلوں میں بٹھایا گیا ہے کہ یہ مت کرو ورنہ اللہ جہنم میں ڈال دے گا اور وہ مت کرو وغیرہ وغیرہ۔”احمر چند ثانیوں کے لیے بالکل ساکت ہوا تھا۔پھر کچھ دیر سنبھلنے کے بعد اس نے قدرے نرم لہجے میں جواب دیا تھا۔
“ہر کسی کی نظر میں اللہ خوف نہیں ہوتا۔لیکن اگر تمہیں اللہ خوف لگتا ہے تو پھر تم اسے کم از کم خوف کی حالت میں ضرور پکارنا۔”
“اللہ….”وانیہ کے لب پھڑپھڑائے تھے۔اس خوفناک اور ویران کمرے میں اسے اللہ شدت سے یاد آیا تھا۔
زندگی میں پہلی دفعہ دل نماز پڑھنے کے لیے بےچین ہوا تھا۔
وانیہ نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر اس کا وجود زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور پھر کچھ کمزوری بھی تھی۔اسے کچھ نا کھائے پیے آج دوسرا دن تھا۔
“وضو کیسے کروں؟”وانیہ نے اردگرد نگاہیں ڈورائی تھیں پھر اس کی نظر اپنے پاس پڑے جگ پر پڑی تھی جو کہ ماہم اس کے پاس رکھتی تھی۔وانیہ نے آگے بڑھ کر جگ اٹھایا تھا مگر وہ خالی تھا۔سارا پانی تو رات میں ہی ختم ہو گیا تھا۔اس کا دھیان اب اپنے سر کی جانب گیا تھا۔اس کے پاس اوڑھنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
وانیہ کی آنکھوں سے گرم پانی ابلنے لگا تھا۔وہ لڑکی جس نے کبھی ڈوپٹہ نہیں لیا تھا آج اس سے ڈوپٹہ پہننے کی سکت ہی چھین لی گئی تھی۔
“انسان کو دعا کرنا نہیں چھوڑنا چاہیئے۔اسے مانگنا چاہیئے اور مانگتے رہنا چاہیئے۔دینے والی ذات صرف اس ہی کی ہے۔”احمر کی کہی ایک اور بات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگی تھی۔
وانیہ نے اپنے دونوں کی جانب دیکھا تھا۔جھلسے ہوئے بدصورت ہاتھ….اسے اپنے ہاتھ بدصورت ہی لگے تھے۔اس نے کپکپاتے ہاتھ پھیلائے تھے۔
آنسوؤں کا ایک ریلہ اس کی آنکھوں سے بہا تھا۔
اللہ ویسے یاد آئے یا نا آئے مگر مشکل حالات میں وہ ضرور یاد آتا ہے۔
سائنس کے قریب وہ لڑکی،آخرت،فرشتوں اور جنات کا انکار کرنے والی،اللہ کی موجودگی پر سوال اٹھانے والی آج گڑگڑا کر اس سے اپنی رہائی مانگ رہی تھی۔
“میں نے بہت بار دعا مانگی ہے اور میری ہر دعا ہی قبول ہوتی ہے۔آج ایک اور دعا مانگتی ہوں….جنت نا سہی مگر جہنم کا سفر تو کروا ہی دے مجھے….”اس نے جہنم کا سفر طے کرنے کی دعا مانگی تھی مگر وہ تو اپنے ہاتھوں پر چند آبلوں کی جلن تک برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
بعض دعاؤں کا قبول نا ہونا ہمارے حق میں بہتر نہیں بلکہ بہترین ہوتا ہے۔انسان بہت جلد باز اور ناقص العقل ہے۔وہ اکثر اپنے لیے خیر کی جگہ شر مانگتا ہے اور پھر اس شر کے نا ملنے پر واویلا مچا دیتا ہے۔پھر رفتہ رفتہ وقت انسان پر خیر اور شر کا یہ بھید کھول دیتا ہے پھر اسے سب سمجھ آنے لگتا ہے،ہر ایک چیز،ہر ایک بات…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوڈ اپنے کمرے میں لیٹا موبائل پر وانیہ کی تصویر کو زوم کر کے دیکھ رہا تھا۔
ماضی کی ایک یاد ہوا کے تیز جھونکے کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر اجاگر ہوئی تھی۔
“ناراضگی کی وجہ بھی ہوتی ہے۔”مانو جھولے پر منہ پھلائے بیٹھی تھی جبکہ حاتم پاس بیٹھا اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“بات مت کرو مجھ سے….”اس کے گال سرخ پڑے تھے۔
“ہوا کیا ہے؟”وہ صحیح معنوں میں جھنجھلایا تھا۔
“کل ہماری شادی ہوئی تھی،ہے نا؟؟”اس کی جانب دیکھے آنکھیں چھوٹی کیے مانو نے تصدیق چاہی تھی۔
“ہاں!ہوئی تھی۔”جھولے سے اٹھتے حاتم نے ناسمجھی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“اور تم نے مجھے منہ دکھائی بھی نہیں دی۔”وہ بیچارا ابھی ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہوا تھا کہ اپنی چھوٹی سی بیوی کی اس بات پر وہ دھڑام سے نیچے گرا تھا۔
“منہ دکھائی….؟”حاتم کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔
“ہاں منہ دکھائی….”جھولے سے اٹھتے مانو نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
“تت….تمہیں منہ دکھائی کا مطلب پتا ہے؟”جھولے کا سہارا لیے وہ بامشکل اٹھا تھا جبکہ اس کی اگلی بات سے وہ ایک بار پھر دھڑام سے گرا تھا۔
“مجھے سب پتا ہے۔”مانو نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“کک….کیا پتا ہے؟”حاتم کے چہرے کی تو ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔اس بار اس نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔وہ اچھے سے جانتا تھا کہ سامنے کھڑی ڈیڑھ فٹ کی ٹڈی اسے بار بار گرانے کا فن اچھے سے جانتی ہے۔
“جب شادی ہوتی ہے تو لڑکا لڑکی کو گفٹ دیتا ہے۔نغمہ باجی کو ان کے شوہر نے انگوٹھی دی تھی اور تم نے مجھے کچھ نہیں دیا۔”ہاتھ پر ہاتھ باندھے وہ ایک بار پھر رخ موڑ گئی تھی۔
حاتم کو اب جا کر کہیں ساری کہانی سمجھ آئی تھی۔ان کے گھر کی ملازمہ نے اسے یہ سب بتایا تھا۔حاتم اس کی اچھے سے کلاس لینے کا ارادہ کر چکا تھا۔
“تمہیں انگوٹھی چاہیئے؟”اٹھتے ساتھ ہی وہ فورا جھولے پر بیٹھا تھا مبادا کہیں اگلی بات سے پھر ہی نا گر جائے۔
“نہیں!مجھے ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹس چاہیئے۔”
“تمہیں منہ دکھائی میں ٹیڈی بیئر اور چاکلیٹس چاہیئے؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔مانو نے زور و شور سے سر ہلایا تھا۔
“ٹھیک ہے میں لا دوں گا مگر تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ دوبارہ کبھی منہ دکھائی کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لاؤ گی۔یہ اچھا لفظ نہیں ہے۔”
“او کے!”اپنی فطرت کے بالکل برعکس اس نے بغیر کسی سوال کے حاتم کی بات مان لی تھی۔حاتم نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔
“کچھ اور تو نہیں چاہیئے نا تمہیں؟؟”
“تم لا کر نہیں دو گے۔”وہ بڑبڑائی تھی۔اسے مزید دو کاکروچ چاہیئے تھے مگر کہیں نہیں مل رہے تھے۔
“کچھ کہا تم نے؟؟”حاتم کے سوال پوچھنے پر مانو اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی۔
“ایک بات پوچھوں تم سے….؟”اس نے رازداری سے کہا تھا۔
“پوچھو….”کہہ تو وہ ایسے رہی تھی جیسے وہ منع کر دے گا تو وہ نہیں پوچھے گی۔
“تمہیں پتا ہے کہ کاکروچ کیا کھاتے ہیں؟”وہ بیچارا اس بار جھولے سے پیچھے لڑکھ کر گرا تھا۔
“تم کیا کوئی نئی گیم کھیل رہے ہو بین؟”اسے یوں بار بار گرتے دیکھ مانو نے دلچسبی سے پوچھا تھا۔
“تم پلیز چلی جاؤ یہاں سے….”حاتم کی کمر میں شدید چوٹ لگی تھی۔
وانیہ کی تصویر زوم کرتے وہ ہنس دیا تھا۔اس لڑکی نے صحیح معنوں میں اسے ناکوں چنے چبوائے تھے۔
ابھی وہ اس دشمن جاں کے خیالوں میں ہی گم تھا کسی نے اس کے کمرے کا دروازہ ناک کیے اس کے حسین خیالات میں خلل ڈالا تھا۔وہ ماریہ تھی۔ایک سخت نگاہ اس پر ڈالے
وہ اٹھ کر بیٹھا تھا۔
“وہ میں یہ بتانے آئی تھی کہ میں نے پیکنگ کر لی ہے۔”اس کی سخت نگاہ پر ماریہ کی جان جیسے ہتھیلی پر آئی تھی۔
“ہممم….”بیڈ کراون سے ٹیک لگائے ڈیوڈ نے ایک بار پھر موبائل اٹھایا تھا۔
کسی کیس کے سلسلے میں پچھلے کچھ دنوں سے ماریہ اس کے گھر ہی رہ رہی تھی۔ڈیوڈ کو وانیہ کی طرف سے کافی خدشات لاحق تھے جس وجہ سے وہ ماریہ کو لندن بھیج رہا تھا تا کہ وہ اسے تمام تر حالات سے آگاہی دے سکے۔
“وہ ایک بات کرنی تھی۔”دونوں ہاتھوں کو آپس میں مس کیے ماریہ نے تھوک نگلی تھی۔
“الیکس نہیں جانتا کہ آپ نے…..”
“اپنی عمر سے زیادہ اپنا دماغ مت چلاؤ لڑکی!” گرجدار،
گھمبیر آواز پر ماریہ کا ناصرف دل زور سے دھڑکا تھا بلکہ اس کی ہتھیلیاں بھی پسینے سے بھیگ گئی تھیں۔
“بڑا ہی کوئی بزدل شخص تھا۔اب اگر گولی مار ہی دی تھی تو ساری عمر کا روگ لینے کی کیا ضرورت تھی؟دھرتی پر بوجھ….اس کا مرنا ہی بہتر تھا۔”موبائل آف کیے ڈیوڈ نے سائیڈ پر رکھا تھا۔
“اگر….اس کی جگہ آپ ہوتے تو….تو کیا کرتے؟”ماریہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ شخص کس قدر کھڑ دماغ ہے۔
“اول تو یہ ناممکن ہے لیکن پھر بھی اگر کبھی میری محبت نے مجھے دھوکہ دیا،مجھ سے غداری کی تو پھر میں اسے انعام دوں گا۔میں اسے موت دوں گا۔اور اپنے ہی ہاتھوں سے اسے دفنا دوں گا۔”اتنی سفاک گفتگو پر ماریہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی،یعنی وہ شخص اپنی محبت تک کو نہیں بخشے گا۔
“لیکن یہ ناممکن ہے۔میری بیوی بہت معصوم ہے۔اسے تو دھوکے لفظ کا مطلب بھی نہیں پتا….”اس کا لہجہ پریقین تھا۔ماریہ نے کوئی اور سوال نہیں کیا تھا۔
“میرے جوتے صاف کرواؤ۔”اسے حکم صادر کرتا وہ ایک بار پھر موبائل میں مصروف ہوا تھا۔
“نئے جوتوں کو کتنی دفعہ صاف کرواؤں؟”وہ دل ہی دل میں کڑھی تھی۔
شوز کے معاملے میں وہ بہت زیادہ چوزی تھا۔وہ سب سے مہنگے برینڈ کے جوتے پہنتا تھا۔اگر اس کے جوتے پر ایک معمولی سا داغ بھی لگ جائے تو وہ اس کے لیے بےکار ہو جاتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنیہا نے ڈائینگ ٹیبل پر کھانا چن دیا تھا۔نائل کے آتے ہی وہ بھی ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی۔
“اتنا نمک…..”پہلے ہی لقمے پر نائل کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔
“کھانا بنانا نہیں آتا تمہیں؟”وہ مشتعل ہوا تھا۔
“مجھے تو کھانا بنانا آتا ہے مگر آپ کو شاید میرے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں ہے۔کسی اور کے ہاتھوں کا ذائقہ جو چکھ چکے ہیں۔”
“بس کر دو۔تمہیں اللہ کا واسطہ ہے اب بس کر دو۔تھک گیا ہوں میں یہ سب سن سن کر….”وہ غصے سے وہاں سے اٹھا تھا۔
“کیوں بس کر دوں؟میری حصے کی محبت آپ اس ڈائن سے کرتے ہیں۔یہ ناانصافی نہیں ہے؟”سنیہا بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ان دونوں کے مابین حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں تھے۔وہ ہر بات میں صوفی کو لے آتی تھی جس وجہ سے نائل شدید جھنجھلا جاتا تھا۔
“میں تم سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔”وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اس بےربط گفتگو کا کوئی حل نہیں نکلنے والا۔
“مجھ سے تو بات کرنا بھی گورا نہیں آپ کو اور اس کے خیالات سے باہر ہی نہیں نکلتے آپ…وہ ایک نمبر کی چڑیل ہے۔”نائل کے بڑھتے قدم رکے تھے۔
“ٹھیک کہا تم نے،وہ واقعی چڑیل تھی۔”سنیہا کا بےاختیار منہ کھل گیا تھا۔
وہ ایک عاشق تھا اور ایک عاشق کیسے اپنے محبوب کو چڑیل بول سکتا تھا؟؟
شاید وہ یہ بھول رہی تھی کہ وہ نائل آفندی ہے اور نائل کچھ بھی کہہ اور کر سکتا ہے۔
“بلکہ تم بھی چڑیل ہو اور باقی کی ساری بھی چڑیلیں ہی تھیں۔تم سب نے مل کر میرا سکھ،چین سب برباد کر دیا۔”وہ غصے سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“کہاں جا رہے ہو؟”سنیہا نے اسے پیچھے سے آواز دی تھی۔اس کی بات تو ہمیشہ کی طرح اس کے سر پر سے گزری تھی۔
“ایک دفعہ اور برباد ہونے….چلو گی ساتھ….؟؟”وہ اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
“تم آج کی ساری رات پھر اس کی یادوں میں گزارنے جا رہے ہو نا؟”وہ نائل کو لے کر بہت زیادہ ان سکیور ہو گئی تھی۔
“میں بائیسویں بار شادی کرنے جا رہا ہوں۔تم چلو ساتھ،تینوں مل کر فری فائر کھیلے گے۔”وہ غصے سے کہتا تن فن کرتا وہاں سے گیا تھا۔سنیہا بیچاری ہکا بقا وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماریہ کو لندن گئے آج دوسرا دن تھا۔ڈیوڈ نے اسے نجانے کتنی کالز کی تھیں مگر وہ ریسیو نہیں کر رہی تھی۔
آج جب اس نے ڈرتے ڈرتے کال ریسیو کی تھی تو ڈیوڈ سے اچھی خاصی جھاڑ کھائی تھی۔
“وہ ٹھیک ہے؟”غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہونے پر ڈیوڈ نے پوچھا تھا۔
“جی….!”یک لفظی جواب پر اسے اپنے اندر ڈھیروں سکون اترتا محسوس ہوا تھا۔
“یونیورسٹی کیوں نہیں جا رہی وہ؟”
“ویسے ہی….شاید آگے پڑھنا نہیں چاہتی۔”
“ٹھیک ہے!نظر رکھو۔”اس نے یہ کہتے ہی فون رکھا تھا۔دوسری طرف ماریہ کے ہاتھ سے فون گرا تھا۔
اس نے مدد طلب نگاہوں سے سامنے کھڑے الیکس کی جانب دیکھا تھا۔
“وہ مار دے گا،تمہیں بھی اور مجھے بھی…..”وہ حد سے زیادہ خوفزدہ تھی۔
“کچھ نہیں ہو گا۔جب یہ لڑکی مر جائے گی تو بلیک مونسٹر چند دن سوگ منائے گا پھر تم اسے اپنا کندھا میسر کرنا۔ہمدردی کے چند بول بول دینا اور کچھ ادائیں دکھا دینا…..محبت تو کرتی ہو نا ڈیوڈ سے؟”ماریہ نے شکست خور حالت میں سر ہلایا تھا۔
اسے وانیہ ایک آنکھ نا بھاتی تھی۔اب اگر وہ راستے سے ہٹ رہی تھی تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔