Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 47)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 47)
نائل نے محسن کے گھر کے باہر گاڑی روکی تھی۔گاڑی سے اترتے وہ ناگواری سے اندر داخل ہوا تھا۔
“کیا ضروری بات تھی؟”صوفے پر تقریبا ڈھتے نائل نے بیزاری سے پوچھا تھا۔وانیہ کے جانے کے بعد اس کی زندگی کا سارا سکون بھی جیسے چلا گیا تھا۔وہ اسے بہت مس کر رہا تھا۔
“ایک خوشخبری دینی تھی تمہیں….”نائل نے سوالیہ نگاہوں سے محسن کی جانب دیکھا تھا۔اسے تو لگا تھا کہ شاید اب اس کی زندگی بھی کچھ بھی اچھا نہیں ہونا تھا۔
“میں نے اور ساشا نے بہت محنت سے کچھ ثبوت اکھٹے کیے ہیں جن سے حاتم کے سامنے تمہاری بےگناہی ثابت ہو جائے گی۔”محسن نے دلچسبی سے اس کے چہرے کا جائزہ لیا تھا۔وہ وہاں بےیقینی اور حیرانگی جیسی کوئی چیز دیکھنا چاہتا تھا مگر اس کا بےتاثر چہرہ دیکھ کر محسن کو اچھی خاصی مایوسی ہوئی تھی۔
“تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟”
“کس بات کی خوشی….؟اگر تم لوگ اتنے ہی ذہین ہوتے تو بہت پہلے یہ کر چکے ہوتے۔”نائل اپنی ساری امیدیں ہار چکا تھا۔ اب محسن کی یہ بات اسے مزاخیہ ہی لگی تھی۔
“یہ فائل دیکھ کر ہماری ذہانت کا فیصلہ کرنا….”محسن نے چیلنجنگ انداز میں وہ فائل صوفے پر پٹخی تھی۔
نائل نے ناگواری سے وہ فائنل کھولی تھی جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا،اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔
“یہ….یہ تم نے کیسے کیا؟”وہ شاکڈ تھا۔
ان ریکارڈز کے مطابق نائل اس حادثے کے وقت ہسپتال میں موجود تھا۔یہ مشکل تھا کہ ڈیوڈ اس کی بات پر یقین کر لے لیکن وہ دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ ان ریکارڈز کو دیکھنے کے بعد وہ ہسپتال ضرور جائے گا اور سچ پتا لگانے کی جستجو میں اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔
“بس کبھی غرور نہیں کیا۔”محسن نے فرضی کالر جھاڑے تھے۔
“سارے ریکارڈز تو جل چکے تھے تو پھر تمہیں یہ کہاں سے….؟”نائل نے مشکوک نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
“ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے پاس کچھ پرانے ریکارڈز کی کاپیز پڑی تھیں۔وہ بائے چانس ساشا کا دوست نکلا۔جب اس نے باتوں ہی باتوں میں اس چیز کا ذکر کیا تو میں نے اور ساشا نے وہ فائلز دیکھنے کا مطالبہ کیا،اور فائنلی ہمیں یہ مل گئی۔”نائل کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
“کھیل میں مزا آئے گا۔حاتم کسی کو نہیں چھوڑے گا۔”نائل کے چہرے پر خوشگواریت چھائی تھی۔
“دیر کس بات کی ہے،جلد از جلد پہنچاؤ یہ اس تک….”
محسن بھی بہت خوش تھا،آخرکار اتنے سالوں بعد ان کی محنت رنگ لائی تھی۔
نائل اثبات میں سر ہلاتا کھڑا ہوا تھا۔وہ اچھے سے جانتا تھا کہ حاتم وہ چھوٹا اور کمزور سا بچہ نہیں رہا،وہ ایک بھپڑا ہوا شیر ہے جو اگر نائل کو نقصان پہنچا سکتا تھا تو نجانے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ کیا کیا نہیں کر سکتا تھا….؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر ڈیوڈ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا مگر اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا،نجانے وہ کہاں غائب تھا؟؟
سارا دن گزرنے کے بعد نائل نے گاڑی کا رخ فارم ہاؤس کی جانب موڑا تھا۔گھر جانے کا تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔وہ گھر اسے کاٹ کھانے کو ڈورتا تھا۔وانیہ کے بغیر سب ادھورا تھا۔
اپنے گھر کے باہر اس نے ایک کال لینے کے لیے گاڑی روکی تھی۔گارڈ کو چابی تھماتے وہ عین فارم ہاؤس کے دروازے کے باہر کھڑا کسی سے محو گفتگو تھا۔
دو منٹ مزید بات کرنے کے بعد نائل نے ابھی فون رکھا ہی تھا کہ اچانک ہی فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی۔اس کے بازو پر دو فائر کیے گئے تھے۔گارڈز فورا حرکت میں آئے تھے مگر فائرنگ کرنے والا بھاگ چکا تھا۔فائرنگ کی آواز سنتے سنیہا بھی بھاگ کر باہر آئی تھی۔
“نائل….”اس کا بہتا خون دیکھ وہ چیخ اٹھی تھی۔
“اندر جاؤ بیواقوف عورت….”اسے دیکھ کر وہ دھاڑا تھا۔نائل کا ارادہ اس شخص کے پیچھے جانے کا تھا مگر سنیہا کی آہ پکار نے اس کے قدم روک کر دیے تھے۔
وہ سنیہا کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر کے آنے پر نائل کی مرہم پٹی کی گئی تھی۔وہ تو گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔محسن کا آج اسے یہ فائل دینا اور پھر یہ حملہ،وہ بھی اس کے گھر کے باہر….یہ کھلی دھمکی تھی،یعنی وہ جو بھی تھا،وہ اسے یہ جتانا چاہتا تھا کہ وہ اس کے گھر تک پہنچ چکا ہے۔اس کے لاکھ محتاط رہنے کے باوجود بھی دشمن اس کے گھر تک پہنچ چکے تھے۔وہ لوگ سنیہا کو بھی نقصان پہنچا سکتے تھے۔
“نائل یہ جوس پی لو۔”سنیہا نے جوس کا گلاس اس کے سامنے پیش کیا تھا۔
“مجھے نہیں پینا۔”کہتے ساتھ ہی وہ بستر سے اٹھا تھا۔
“کہاں جا رہے ہو؟”وہ ہکا بقا رہ گئی تھی۔
“کام ہے ایک….”وہ ایسے برتاؤ کر رہا تھا جیسے اسے گولیاں نہیں بلکہ ایک سوئی چھبی ہو۔
“نائل!تمہیں گولیاں لگی ہیں۔”سنیہا نے اسے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا۔
“پتا ہے مجھے….”پاؤں میں جوتے پہنتے اس نے لاپروائی سے کہا تھا۔
“سچ سچ بتاؤ،تم کون ہو؟”پچھلی دفعہ بھی وہ ایسے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔سنیہا کو کچھ کھٹکنے لگا تھا۔
“میجر نائل آفندی….”جوتے پہننے کے بعد اب وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال برش کر رہا تھا۔
“اچھا مذاق تھا۔”وہ ذرا برابر متاثر نہیں ہوئی تھی۔
“یہ مذاق نہیں تھا۔”اس کی جانب پلٹے نائل نے خفگی سے کہا تھا۔
“یہ جوک آف دا ائیر تھا۔تم غنڈے ہو سکتے ہو،موالی ہو سکتے ہو،گیگسٹر ہو سکتے ہو مگر میجر….سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”سنیہا کا لہجہ پریقین تھا۔نائل نے بامشکل صبر کے گھونٹ بھرے تھے۔
“تم نہیں آپ….”نہایت سخت گھوری کے ساتھ نائل نے اسے باور کروایا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے،پلیز کہیں مت جائیں۔کچھ دیر آرام کر لیجیں۔”لہجے میں مٹھاس گھولتے سنیہا اس کے پاس آئی تھی۔
“آرام کرنے کا وقت نہیں ہے میرے پاس….”اس کے لہجے میں سرد مہری تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے تو پھر یہ جوس پی لیجیے۔اس کے بعد چلے جائیں گا۔”سنیہا نے آنکھیں ٹپٹپائے جوس کا گلاس اس کے سامنے کیا تھا۔
“پلیز میرے لیے….”اس کی التجا پر نائل نے ناگواری سے گلاس پکڑے لبوں سے لگایا تھا۔
اس نے ایک ہی سانس میں جوس گلے کے اندر اتارتے خالی گلاس سنیہا کو پکڑایا تھا۔
“تھوڑی دیر میرے پاس رک جاؤ۔”سنیہا نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا تھا۔
“بس آدھا گھنٹہ….مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔میرے سوتے ساتھ ہی چلے جانا ۔”
“اچھا!ٹھیک ہے۔”اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے ہی اس کی بات مان لی تھی۔
سنیہا بستر پر لیٹی تھی اور نائل بستر کی دوسری جانب لیٹ گیا تھا۔
اگلے دس منٹ میں ہی نائل پر نیند غالب آئی تھی۔اس کے سونے کا یقین کرتے سنیہا اٹھ کر بیٹھی تھی۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس کا شوہر کبھی آرام نہیں کرے گا جس وجہ سے اس نے ڈاکٹر سے اسے نیند کی دوا دینے کا کہا تھا۔سنیہا نے جوس کے گلاس میں چار ہیوی ڈوس نیند کی گولیاں ڈالی تھیں تا کہ وہ سکون سے سو سکے۔اسے ایک عجیب سا تجسس بھی تھا کہ آخر کیوں اس کے شوہر پر ہی قاتلانہ حملے ہوتے ہیں۔کہیں نا کہیں سنیہا کو خوف تھا کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث ہے۔
صبح اپنے انجام کا سوچتے سنیہا کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔نائل اس کا بہت برا حشر کرنے والا تھا مگر اس نے خود کو تمام تر حالات کے لیے تیار رکھا تھا۔
اب اس پر کمبل درست کرتے وہ اس کی نیند کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی نظروں کی پیاس بجھا رہی تھی۔سنیہا نے آہستگی سے اپنا دائیاں ہاتھ اس کی گال پر رکھا تھا۔اس کی شیو کی میٹھی چھبن محسوس کرتے اس کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔
اپنا ہاتھ اس کی گال پر سے ہٹاتی وہ اپنے لبوں تک لے گئی تھی۔اپنی انگلیوں کے پوروں کو چومتے سنیہا نے بےاختیار اپنا منہ ہاتھوں میں چھپایا تھا۔اس کے جاگتے تو یہ سب ناممکن تھا اور پھر کچھ شرم و حیا کے تقاضے بھی تھے۔
کچھ دیر مزید گزرنے کے بعد سنیہا ہمت کر کے اس کے مزید قریب آئی تھی۔اب اس نے اپنا نرم ملائم ہاتھ نائل کے دل کے مقام پر رکھا تھا۔سنیہا کو اپنا دل اس کے دل کے ساتھ دھڑکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا ہاتھ ہٹاتی،نائل نے سختی سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
سنیہا کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے تھے۔
“مت جاؤ۔پلیز مت جاؤ۔”وہ آنکھیں بند کیے کچھ بڑبڑا رہا تھا۔اس بات کا یقین کرتے کہ وہ غنودگی میں کچھ بول رہا ہے،سنیہا اس کے مزید قریب ہوئی تھی۔
“مت جاؤ۔مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔”پہلے پہل سنیہا کو تھوڑی حیرت ہوئی تھی پھر اچانک ہی اس کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ بکھری تھی۔
“میں کہیں نہیں جا رہی۔”سنیہا نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
“صوفی پلیز مت جاؤ۔مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔”اس کے زبان سے ادا ہونے والے اگلے الفاظ نے سنیہا کو بالکل ساکت کر دیا تھا۔وہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑواتی پیچھے ہٹی تھی۔
“صوفی….؟”اس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گال پر گرا تھا۔
کیا کچھ برداشت نہیں کیا تھا اس نے….؟محض اس امید کے ساتھ کہ نائل صرف اس کا ہے،مگر وہ غلط تھی،اس کے دل پر تو کسی اور کا قبضہ تھا۔
بستر سے اٹھتے وہ ننگے پیر بالکنی کی جانب بھاگی تھی۔سامنے پڑی کرسی سے اس کا پیر ٹکرایا تھا،وہ اوندھے منہ زمین پر گری تھی مگر اس نے اٹھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“کیوں…؟میرے ساتھ کیوں…؟کیوں نائل،کیوں….؟”وہ اپنی پوری قوت سے چلاتی ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔
آج اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ نائل صرف اس کی محبت نہیں بلکہ عشق بھی تھا۔یہ شراکت داری وہ کسی صورت برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
