Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 30)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 30)
نائل لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا جب سنیہا اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی۔
“کیا کر رہے ہو؟”اس کے کندھے پر سر رکھے سنیہا نے نہایت محبت سے پوچھا تھا۔
“کرکٹ کھیل رہا ہوں۔”اس کے تحمل بھرے انداز پر وہ بھڑک کر پیچھے ہٹی تھی۔مجال تھی جو وہ شخص کبھی کوئی
سیدھا جواب دے دے۔
“کبھی کسی سوال کا سیدھا جواب نہیں دے سکتے؟”سنیہا نے کلس کر پوچھا تھا۔
“جیسا سوال ویسا جواب…!”وہ اب بھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔
وہ منہ میں مسلسل کچھ بڑبڑاتی ہوئی وہاں سے اٹھی تھی۔
تبھی نائل کی نظر اس کی کلائی پر پڑی تھی۔دودھیا مگر خالی کلائی… ایک لمحہ لگا تھا اسے کہیں اور پہنچنے
میں،کہیں بہت پیچھے….ماضی کے بکھرے پنوں میں….
“یہ کیا تم نے چھن چھن لگا رکھی ہے۔اتارو انہیں…سر میں درد کر دیا ہے۔” اس کی دھاڑ پر کسی کی آنکھوں سے
بہتے موتی آج اتنے سالوں بعد بھی اس کے دل پر گرے تھے۔
“تم چوڑیاں نہیں پہنتی؟”نائل کے لب اپنے آپ ہلے تھے۔اچانک اس قسم کے سوال پر سنیہا چونکی تھی۔
“مجھے پسند نہیں…!”سنیہا نے پلٹتے ساتھ جواب دیا تھا۔
“مگر مجھے ہیں۔”کسی ٹرانس کی کیفیت میں اس نے یہ الفاظ ادا کیے تھے۔
“آپ لے آئیں گا اور پہنا بھی دیجیں گا۔میں پہن لوں گی۔”وہ چہکتے ہوئے ایک بار اس کے پاس بیٹھی تھی۔
“لیکن تمہیں تو چوڑیاں پہننا پسند نہیں…!”
“کوئی بات نہیں!میں پہن لوں گی۔”وہ ایک بار پھر کہیں کھو گیا تھا،کہیں بہت پیچھے….
“آج چوڑیاں نہیں پہنی تم نے؟”
“میں آج کے بعد کبھی نہیں پہنوں گی۔”
“کیوں…؟”
“جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ میں کیسے پہن سکتی ہوں”گہری سانس خارج کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اس کے اسطرح اٹھنے پر سنیہا حیران ہوئی تھی۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے کی بالکونی میں آیا تھا۔
نائل نے فورا سگریٹ سلگائی تھی۔شاید وہ اندر کے انتشار کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی۔
“کیا ہوا نائل؟سب ٹھیک ہے؟”سنیہا اس کے پیچھے آئی تھی۔
“ہاں سب ٹھیک ہے۔”سگریٹ کا کش بھرتے اس نے آہستگی سے کہا تھا۔
“تم چوڑیاں نہیں پہنو گی۔”
چند ثانیوں بعد نائل کی بات پر وہ چونکی تھی۔
“تمہیں نہیں پسند تو تم نہیں پہنو گی۔”سگریٹ کو فرش پر گراتے اس نے سنیہا کے دونوں ہاتھ تھامے تھے۔
“مگر آپ کو تو…”
“ہر کسی کی اپنی پہچان ہوتی ہے۔آپ کسی کو کسی کے بھی سانچے میں نہیں ڈھال سکتے۔تم سنیہا ہو،کوئی اور نہیں… تمہاری پسند،ناپسند میرے لیے اہم ہے۔”کہتے ساتھ ہی وہ اس کے ہاتھ چھوڑے وہاں سے گیا تھا۔
وہ کچھ دیر اس کی کہی باتوں کے بارے میں سوچتی رہی تھی جو کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے سر پر سے گزری تھیں مگر ایک بات جو اسے سمجھ آئی تھی وہ یہ کہ وہ اس کی پسند،ناپسند کے بارے میں سوچتا ہے۔سنیہا کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
ماہم اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی جب وانیہ دروازہ ناک کرتے اندر داخل ہوئی تھی۔اب وہ مختلف
سوالات کر کے ماہم کا سر کھا رہی تھی۔ماہم کے سر میں درد ہونے لگا تھا مگر وانیہ کی زبان کو بریک ہی نہیں لگ رہی تھی۔
“وانیہ اب بس کر دو۔میرے سر میں درد ہونے لگا ہے۔”وہ اکتا گئی تھی۔
“پھوپھو میں آپ کے لیے چائے بنا لاؤں؟”وانیہ کی بات پر ماہم نے باقاعدہ اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔وانیہ کو کچن
میں بھیجنے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔نتائج تو اسے ہی بھگتنے تھے۔
“پھر سر دبا دوں آپ کا…؟”ماہم نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔یہ بلا ٹلنے والی نہیں تھی۔
“مجھے کمزوری محسوس ہو رہی ہے۔میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں وانیہ!” ماہم نے اپنی طرف سے بہت کارآمد بہانہ
بنایا تھا مگر اس کا بہانہ اس ہی کے گلے پڑ جائے گا یہ اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
“میں نا آپ کو فروٹس کاٹ کر دیتی ہوں۔آپ کی کمزوری دور ہو جائے گی۔”اس نے جھٹ سے آگے بڑھ کر میز پر
پڑی ہوئی ٹوکری میں سے فروٹس اٹھائےتھے مگر وہاں چھری نہیں تھی۔وانیہ نے ادھر ادھر نظریں گھمائی تھیں۔
چھری بیڈ کے پاس پڑی میز پر تھی۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔اس نے ایک نظر ماہم کی طرف دیکھا
تھا جو کہ اپنا سر تھامے بیٹھی تھی جبکہ دوسری نظر اس چھری کو…اس بات کا یقین کرتے کہ ماہم اس کی طرف
نہیں دیکھ رہی،اس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنا بائیاں ہاتھ اٹھایا تھا۔ایک سیکنڈ کی دیر تھی اور چھری میز سے
اڑتی ہوئی فورا اس کے ہاتھ میں آئی تھی۔
“وانیہ وہ چھری…!”ماہم کو اچانک ہی یاد آیا تھا کہ چھری باسکٹ میں موجود نہیں ہے مگر وانیہ کے ہاتھ میں چھری
دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔
“یہ چھری تو وہاں تھی۔”ماہم کے اوسان خطا ہوئے تھے۔یہاں سے اس میز تک کا فاصلہ زیادہ تھا۔اگر وانیہ وہاں چھری لینے جاتی تو یقینا ماہم کو خبر ہو جاتی۔
“کیا ہو گیا ہے پھوپھو؟یہی پر تو پڑی تھی۔”چہرے پر معصومیت کے ساتھ سنجیدگی بھی تھی۔
“مجھے اچھے سے یاد ہے میں نے صبح اٹھائی تھی مگر واپس نہیں رکھی تھی۔”ماہم نے دماغ پر زور ڈالے کہا تھا۔
“پھوپھو مجھے لگتا ہے آپ کی طبیعت واقعی میں ٹھیک نہیں ہے۔آپ کو آرام کرنا چاہیئے۔”وانیہ کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔”وہ اپنا سر تھامتےبستر پر لیٹی تھی۔وانیہ ماہم کو آرام کی تاکید کرتے دروازہ بند کرتے باہر گئی
تھی۔ باہر آتے ساتھ ہی اس نے ہاتھ جھاڑے تھے۔اس کا کام ہو گیا تھا۔اب ماہم کم از کم تین گھنٹے اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے گی۔وہ باآسانی اپنے نئے پروجیکٹ پر کام کر سکتی تھی۔
نائل اور اسفند آج اتنے دنوں بعد ملے تھے۔یہ ایک کھنڈر نما جگہ تھی،جسے نائل نے مختص کیا تھا۔”دن بدن حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔اس ہفتے پچس لڑکیوں کے ذریعے سمگلنگ ہوئی ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکے۔”نائل نے افسوس سے کہا تھا۔
“مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا۔”اسفند کے چہرے پر بھی افسردگی تھی۔
“یہ ٹھیک نہیں ہے۔ڈیوڈ تو تم پر مکمل طور بھروسہ کرتا ہے۔کہیں اسے تم پر شک تو نہیں ہے؟”نائل کے لہجے میں
فکرمندی تھی۔
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔وہ مکمل طور پر میرے ہاتھ میں ہے۔یقینا اس سمگلنگ کو اس سے بھی خفیہ رکھا گیا ہو گا۔”
“اگر ایسا ہے تو ڈیوڈ کو یہ بات پتا ہونی چاہیئے۔وہ لوگ آپس میں لڑیں گے تو ہمیں ہی فائدہ ہو گا۔”نائل پرجوش ہوا
تھا۔
“ہم ڈیوڈ کو ختم کیوں نہیں کر دیتے؟”
اس بات پر نائل ٹھٹکا تھا۔ذہن میں ماضی کے کچھ واقعات نمودار ہوئے تھے۔
“کہیں آپ کو اس سے ہمدردی تو نہیں؟”وہ شاید اسے کریدنا چاہتا تھا۔
“میں مانتا ہوں کہ اس کے ساتھ غلط ہوا مگر جو راہ اس نے چنی ہے وہ غلط ہے۔میرے دل میں اس کے لیے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔اور جب بات ملک کی آ جائے تو پھر میں کسی پر رحم نہیں کروں گا۔”اس جواب سے مقابل کے چہرے پر سکون چھایا تھا۔
تھوڑی دیر بات چیت کے بعد ان دونوں نے ہی اپنی اپنی راہ لی تھی۔نائل تو سیدھا گھر کے لیے روانہ ہوا تھا جبکہ اسفند اپنے فلیٹ کے لیے….فلیٹ میں پہنچتے ہی اس نے اپنا کوٹ
اتار کر سائیڈ پر رکھا تھا۔اپنے کمرے میں داخل ہوتے وہ صوفے پر بیٹھا تھا۔صوفے کے سامنے میز پر شطرنج پڑی ہوئی تھی۔مہرے ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے۔اسفند نے مسکرا کر ایک پیادہ اٹھایا تھا۔اب اس نے دوسرے ہاتھ سے دوسرا پیادہ اٹھایا تھا۔
“نائل اور ڈیوڈ…!”اس کے لبوں پر عجیب مسکراہٹ ابھری تھی۔اگلے لمحے یہ مسکراہٹ قہقے میں تبدیل ہوئی تھی۔
“بیواقوف…چچ چچ چچ…!”اس نے دونوں پیادوں کو ایک طرف رکھا تھا۔
“تم دونوں کو کیا لگتا ہے کہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں؟”اس نے ایک بار قہقہ لگایا تھا۔
“تمہاری درمیان تو دشمنی کی ایک چنگاری تھی۔میں نے…میں نے اس چنگاری کو بھڑکتی آگ میں بدل دیا۔”اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔چہرے پر غصہ چھایا تھا۔
“اتنے سالوں سے میں آئی۔ایس۔آئی کو بیواقوف بناتا آیا ہوں اور پھر انڈر ورلڈ کو…لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ میرا مقصد
کچھ اور ہی ہے۔”اس نے اس دونوں پیادوں کو ہاتھ میں رکھے سختی سے مٹھی بند کی تھی۔
“تم دونوں کو اتنا الجھانا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو مار دے۔اور جو بچ جائے گا اسے میں مار دوں گا۔”اس نے مٹھی کھولے پیادے فرش پر گرائے تھے۔
“اس طرح آئی۔ایس۔آئی کے سارے راز بھی میرے اور…”اس نے ان دونوں پیادوں کو بوٹ تلے مسلا تھا۔
“اور بلیک مونسٹر کا منصب بھی میرا…!”اس نے مسکراتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی تھی۔ کچھ لمحوں بعد وہ اٹھ کر بیٹھا تھا۔ اب اس نے ہاتھ بڑھا کر ملکہ کو اٹھایا تھا۔
“وانیہ…بچاری وانیہ…!”ملکہ کے مہرے کو الٹ پلٹ کر دیکھے اس کے لب ہلے تھے۔
“مجھ سے ملنے کے لیے اتنی بےتاب ہوتی ہو کہ اپنی جان ہی خطرے میں ڈال دیتی ہو مگر کوئی بات نہیں سویٹ ہارٹ!بس ایک دفعہ میرا مقصد پورا ہو جائے تمہاری مرنے کی خواہش میں خود پوری کروں گا۔”وہ ایک بار پھر عجیب انداز میں ہنسا تھا۔
نائل کسی میٹنگ کے سلسلے میں ریسٹورنٹ آیا تھا۔واپسی پر اس کا کسی سے ٹکراؤ ہوا تھا۔اپنے سامنے ڈیوڈ کو دیکھ کر نائل کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
“What a pleasant surprise?”
ڈیوڈ کے چہرے پر خوشگواریت چھائی تھی۔
“سالے صاحب!کیسے ہیں آپ؟”ڈیوڈ کے مسکرا کر پوچھنے پر نائل کا خون کھولا تھا۔
“تم میرا پیچھا کر رہے ہو؟”نائل نے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ غصے سے کہا تھا۔
“آپ میری محبوبہ تھوڑی ہیں جو میں آپ کا پیچھا کروں گا؟”چہرے پر تپا دینے والی مسکراہٹ تھی۔
“بکواس بند کرو اور میرا راستہ چھوڑو۔” اس کا موڈ ڈیوڈ کو دیکھتے ساتھ ہی خراب ہو گیا تھا۔
“افف!اتنا غصہ…؟اتنا غصہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا سالے صاحب!”اسکےایک بار پھر اس نام سے مخاطب کرنے
پر نائل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“میری بہن کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو۔میں اپنی معصوم بہن کو کبھی بھی تم جیسے گھٹیا اور نیچ شخص کے حوالے نہیں کروں گا۔”نائل کے چہرے پر جس قدر غصہ تھا،ڈیوڈ کے چہرے پر اتنا ہی اطمینان تھا۔
“وہ میری تھی،میری ہے اور میری ہی رہے گی۔بہت جلد میں اسے اپنے پاس لے آؤں گا اور آپ کچھ نہیں کر سکے گے۔”اس کے لہجے کے اطمینان سے نائل تلملا اٹھا تھا۔
“ایسا کبھی نہیں ہو گا۔میں تم جیسے حیوان کا کبھی اپنی بہن پر سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا۔”نائل دبا دبا سا غرایا
تھا۔
“مجھے حیوان بنایا کس نے…؟”اس کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔آنکھوں میں اذیت اور کرب ابھرا تھا۔
“آپ نے…میں آج جو بھی ہوں اس کی وجہ آپ ہیں۔میں مشکل میں تھا۔میں نے آپ کو مدد کے لیے پکارا اور آپ نے کیا کیا؟مجھے تنہا چھوڑ دیا۔”اس کی نظروں میں خلفشار صاف واضح تھا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا۔مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ تم مشکل میں ہو۔”نائل کی بات پر وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
“جھوٹ!صاف جھوٹ…!”ڈیوڈ نفی میں سر ہلاتے پیچھے ہٹا تھا۔
“تمہیں پتا ہے،تم ایک دن بہت بری طرح پچھتانے والے ہو ڈیوڈ!”
“پچھتانے کی باری اب آپ کی ہے۔مجھ پر جو بیتنی تھی بیت گئی۔”
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں غلط ہوں تو مجھ سے بدلہ لو نا!اس ملک کو کیوں تباہ کر رہے ہو؟”
“کیونکہ اس ملک نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔میرا پورا خاندان اجاڑ دیا۔اب میں ہر ایک خاندان کو اجاڑ کررکھ دوں گا۔”اس کی بات پر نائل نے گہری سانس
خارج کی تھی۔وہ اسے نہیں سمجھا سکتا تھا۔وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اس کا برین اس حد تک واش کیا جا
چکا تھا کہ اسے نائل اپنا سب سے بڑا دشمن لگتا تھا۔
عبداللہ اپنے کسی دوست کے ساتھ گھر سے باہر جا رہا تھا جب مصطفی نے گاڑی تک پہنچتے ہی اسے آڑے ہاتھوں
لیا تھا۔
“کہاں…؟”ان کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“لنچ پر جا رہے ہیں۔”گاڑی کا دروازہ کھولتےکھولتے وہ رکا تھا۔
“السلام علیکم انکل!”گاڑی سے باہر نکلتے ہی اسفند نے خوشدلی سے انہیں سلام کیا تھا۔
“وعلیکم السلام!”انہوں نے اس پر گویا احسان کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔
“بیٹا جی!آپ کوئی کام وغیرہ نہیں کرتے
کیا؟”عبداللہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھی۔کم از کم وہ اسفند کے سامنے شرمندگی نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔
“میں سمجھا نہیں انکل؟”اس نے ناسمجھی سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
“بیٹا!اس عمر میں نا آپ کو یا تو اپنے والد کے ساتھ بزنس میں مدد کرنی چاہیئے یا پھر کم از کم اپنی پڑھائی پر دھیان دینا چاہیئے۔”عبداللہ نے عجیب نگاہوں سے اپنے باپ کی جانب دیکھا تھا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ سب اسے ہی سنایا جا رہا ہے۔حالانکہ وہ اپنی یونیورسٹی کا ٹاپر تھا۔مصطفی کو اس سے اصل شکایت یہ تھی کہ وہ بزنس میں دلچسبی نہیں لیتا تھا۔
“جی انکل!”اس نے ناسمجھی سے اپنے دوست کی جانب دیکھا تھا جس پر اس نے اپنی کنپٹی پر دائیں ہاتھ کی
شہادت کی انگلی رکھے گول گول گھمائی تھی۔آسان الفاظوں میں وہ اپنے باپ کو پاگل کہہ رہا تھا۔اس کی اس حرکت پر جہاں اسفند نے اپنے لب دبائے تھے وہیں دوسری طرف مصطفی کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔وہ اپنے بیٹے کی حرکت کو دیکھ چکے تھے۔
“بیٹا آپ اپنے گھر جائیں اور بیٹا جی آپ ذرا اندر تشریف لائیں۔”انہوں نے اپنے بیٹے کو خونخوار نگاہوں سے گھورا
تھا۔
اگلے آدھے گھنٹے تک اس کی پیشی چلتی رہی تھی۔وہ نہایت تحمل سے اپنے باپ کی ہر جلی کٹی سن رہا
تھا۔
“سونی سمجھا لو اپنے بیٹے کو۔اب یہ مجھے اپنے دوست کے سامنے یوں ذلیل کرے گا۔”اب توپوں کا رخ سونی کی جانب تھا۔
“مجھے تم سے اس حرکت کی امید نہیں تھی عبداللہ!”سونی نے ایک شکوہ بھری نگاہ اپنے بیٹے پر ڈالی تھی۔
“معافی مانگو اپنے ڈیڈ سے…!”اس نے عبداللہ کو ڈپٹا تھا۔
“I am sorry!”
چہرے پر ہمیشہ کی طرح آج بھی وہی سنجیدگی تھی۔
“معافی کا مطلب بھی پتا ہے تمہیں؟چہرے دیکھو اس کا…شرمندگی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے اس کے چہرے
پر…”وہ مزید بھڑکے تھے۔
“میں کوشش تو کر رہا ہوں نا…!”اس نے آہستگی سے کہا تھا۔
“کیس چیز کی…؟”مصطفی اور سونی دونوں نے ہی ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“شرمندہ ہونے کی…!”اس جواب پر جہاں سونی نے اپنا سر پیٹا تھا وہیں مصطفی کا پی بی ہائی ہوا تھا۔
“اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے سونی! یہ صرف تمہاری اولاد ہے اور ایک نمبر کی خبیث اولاد ہے۔میری صرف ایک
بیٹی ہے،بس!”وہ شدید غصے کی حالت میں وہاں سے گئے تھے۔
“اب میں نے کیا کر دیا؟”اس نے ناسمجھی سے اپنی ماں سے دیکھا تھا۔وہ بیچاری ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈال کر وہاں سے گئی تھی۔
