Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 01)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 01)
قسط نمبر 1
عصر کے وقت تقریبا مطلع صاف تھا۔افق سے بادل اب جھٹ چکے تھے۔برسات کی وجہ سے درخت زمرد رنگ کے دکھائی دے رہے تھے۔ہیرے کی طرح جگمگاتی پانی کی لڑیاں گھاس پر بکھر گئی تھی۔
وہ مغرور چال چلتا اس صاف شفاف میدان سے گزر رہا تھا۔اس کے پیچھے دو اور آدمی تھے۔جو جھکے ہوئے سر کے ساتھ نہایت تابعداری سے اس کے قدموں کی پیروی کر رہے تھے۔اس کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی نا تو کسی میں جرات تھی اور نا ہی وہ کسی کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیتا تھا۔
تھوڑا آگے جا کر اس کے قدم رکے تھے۔پیچھے موجود ایک شخص نے فورا گھاس پر جھکتے بٹن دبایا تھا۔راستہ کھل چکا تھا۔اب دوسرے نے فورا بھاگتے ہوئے راستے سے سارے
کانٹے اور جھاڑیاں ہٹائی تھیں۔ہاتھ زخمی ہو چکے تھے مگر اس نے پرواہ نا کی تھی۔آنکھوں پر سے گوگلز ہٹائے وہ تیزی سے اس تہ خانے کے اندر داخل ہوا تھا۔اب وہ تنی ہوئی گردن کے ساتھ زینے پھلانگتا نیچے اتر رہا تھا۔وو دونوں شخص بھی فورا اس کے پیچھے گئے تھے۔ان کی ٹریننگ اس قدر سخت تھی کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر درد محسوس نہیں کرتے تھے۔اور وہ مغرور شہزادہ اپنے سامنے کسی کو کراہنے کی اجازت کہاں دیتا تھا۔
دن کا وقت ہونے کے باوجود بھی اس تہ خانے میں رات کا منظر تھا۔ہر طرف تاریکی اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔سیڑیوں سے راہداری کے راستے میں بیش قیمتی کالین بچھا ہوا تھا۔راہداری کو مشعلوں سے روشن کیا گیا تھا۔دیواروں پر
مختلف اور قدیم طرز کے نقوش بنے ہوئے تھے۔یہ جگہ قدیم اور کافی پرانی تھی۔یہ سارا علاقہ ان کے زیر استعمال تھا۔یہاں ان لوگوں کے علاؤہ کسی شخص کا انا ناممکن تھا۔اس میدان میں قدم رکھنا فرشتہ اجل کو دعوت دینےکے مترادف تھا۔
یہاں خفیہ جگہ صدیوں پرانی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کافی تبدیلیاں کی گئی تھیں مگر آج بھی یہ جگہ ان کے کالے کارناموں کا اڈا تھی۔
اس تہ خانے میں بہت لوگوں کی سسکیاں اور آہیں دفن تھیں۔
کوٹ کا بٹن کھولتے وہ شاہانہ چال چلتے راہداری سے گزر رہا تھا۔کالے رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس،سفید رنگ کی شرٹ کے اوپر کالے رنگ کی ٹائی لگائے وہ کسی سلطنت
کا شہزادہ لگ رہا تھا۔تیکھے نقوش،کھڑی ناک،سیاہ مگر سرد مہر آنکھیں،کسرتی جسامت…
وہ کسی کو بھی چت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
راہداری میں اس کے گارڈر ہاتھ باندھے،نظریں جھکائے کھڑے تھے۔یہ ادب تھا یا خوف…لیکن یہ ان کا معمول تھا۔وہ جب بھی یہاں آتا تھا تو ہر دل ہی کانپ اٹھتا تھا کیونکہ اسکی سفاکی اور بےرحمی سے سب ہی اچھی طرح واقف تھے۔
تھوڑا آگے جاتے اس کے قدم رکے تھے۔اس کے جوتوں کی چھاپ رکتے ساتھ ہی ہر دل لرز گیا تھا۔اس کا اس طرح یوں رکنا کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔اس نے وہی کھڑے سر کو ہلکی سی جنبش دیے اپنے پیچھے موجود شخص کو اشارہ کیا تھا،جس پر اس شخص نے فورا گن نکال کر لوڈ کیے نہایت ادب سے اس مغرور شہزادے کے سامنے پیش کی تھی۔گن کے لوڈ ہونے کی آواز ہر طرف گونجی تھی۔وہاں موجود سب افراد نے اپنے قدم فرش پر مضبوط کر لیے تھے۔اب کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
سامنے دیکھتے اس نے ہاتھ میں گن پکڑے سائیڈ پر کھڑے ایک گارڈ کے پاؤں پر ماری تھی۔
“ٹھاہ…!”گولی کی آواز سے ایک خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوئی تھی۔اس نے نشانہ اس گارڈ کی طرف دیکھے بغیر لیا تھا۔وہ اس کام میں ماہر تھا۔بغیر دیکھے بھی وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اسے کسے اور کہاں گولی مارنی ہے۔
راہداری میں ایک بار پھر قدموں کی آواز گونجی تھی۔وہ قدم قدم چلتا اس گارڈ کے بالکل سامنے آ رکا تھا۔
اس گارڈ کے پیر سے خون فوارے کی طرح چھوٹ کر زمین پر گر رہا تھا مگر اس سب کے باوجود بھی وہ سر جھکائے نہایت ادب سے کھڑا تھا۔اس کے چہرے پر درد کا کوئی تاثر نہیں تھا۔
دو منٹ اپنے گارڈ کے پاس کھڑے ہونے کے بعد اس نے اپنے بوٹ کو بہت زور سے اس کے بوٹ کے اوپر رکھا تھا۔خون اس بار اپنے پورے پریشر سے بہہ کر باہر فرش پر گر رہا تھا۔
“آج کے بعد جب میرے ادب میں کھڑے ہو تو دونوں پیر برابر رکھنا….”اس کے کان کے پاس سرد سرگوشی کرتے وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا۔اس کے گزرنے تک وہاں خاموشی چھائی ہوئی تھی،قبرستان جیسی خاموشی…
اس بات کا یقین کرتے کہ وہ وہاں سے جا چکا ہے،سب کی ہی جان میں جان آئی تھی۔
وہ گارڈ درد سے کراہتا ہوا فرش پر بیٹھ گیا تھا۔اس سفاک شہزادے کے سامنے کراہنے کا مطلب صرف موت تھا،دردناک موت…..
ان میں سے کسی کو بھی موت کا خوف نہیں تھا مگر جس انداز سے وہ موت دیتا تھا،سب ہی اس سے پناہ مانگتے تھے۔
ایک کمرے کے باہر رکتے ہی ایک شخص دوڑتا ہوا اس تک آیا تھا۔نہایت احترام سے اس کے سامنے نئے جوتوں کا ایک سیٹ سامنے رکھا تھا جسے اس نے ناگواری سے پہنا تھا۔جوتے پہننے کا کام وہ خود ہی کرتا تھا۔
“سر!”اس سے پہلے کہ پیچھے موجود گارڈ اس کے لیے کمرے کا دروازہ کھولتے،ایک شخص اندر سے دروازہ کھولتے باہر آیا تھا۔اپنے سامنے اپنے مالک کو دیکھ اس نے سر جھکائے ادب سے اس کی خدمت میں سلام پیش کیا تھا۔
“کیا بتایا اس نے…؟”بھاری گھمبیر آواز تہ خانے کی در و دیوار سے ٹکرائی تھی۔
“کک…کچھ نہیں…!”ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔آنکھیں قہر برسانے لگی تھیں۔
“تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ کل رات سے یہاں موجود ہے اور اس نے ابھی تک زبان نہیں کھولی؟”وہی سرد اور سفاک لہجہ…
“ہم!ہم نے بہت ٹارچر کیا مگر…!”اٹکی سانس کو بحال کرتے ابھی جارج نے جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ بلیک مونسٹر نے اسے گردن سے دبوچے اس کا سر دیوار
میں دے مارا تھا۔
“کیا فائدہ تم جیسے نکموں کی فوج کا،جب ایک شخص کی زبان ہی نہیں کھلوا سکتے….؟”وہ اب پہ در پہ اس کا سر دیوار میں مار رہا تھا۔اس شخص کا ماتھا،ہونٹ اور ناک خونم خون ہو چکے تھے مگر دوسری طرف سفاکی کی انتہا تھا۔رحم نام کا لفظ تو اس شخص کی ڈکشنری میں ہی نہیں تھا۔
تقریبا سات منٹ کے بعد بلیک مونسٹر نے اسے چھوڑا تھا۔وہ آدھ مری سی حالت میں زمین پر ڈھے گیا تھا۔ظالم شہزادے نے اپنا بوٹ بہت زور سے اس کے چہرے پر رکھا تھا۔وہ تڑپتا،سسکتا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر بلیک مونسٹر کے آگے ساری مزاحمتیں بےکار تھیں۔
اس شخص کی آخری سانس لینے کے بعد اس نے اپنے بوٹ سے اسے ٹھوکر مار کر پرے دکھیلا تھا۔
“آخر کب تک اپنے ہی لوگوں کو اس طرح سزا دیتے رہو گے؟”جیمز جو ابھی ابھی وہاں پہنچا تھا،اپنے سامنے اس قدر اہم بندے کو مردہ دیکھ اس نے افسوس سے کہا تھا۔
“میں نے سزا نہیں آزادی دی ہے۔اگر سزا دینی ہوتی تو اسے زندہ رکھتا۔”نفرت سے اس کی لاش کو ٹھڈا مارتے وہ آگے بڑھا تھا۔
“نئے جوتے لے کر آؤ۔”ایک آدمی کو کہتے جیمز نفی میں سر ہلاتے بلیک مونسٹر کے پیچھے گیا تھا۔وہ باقی سب کی نسبت اس اکھڑ مزاج شخص سے کافی قریب تھا جس وجہ سے وہ اس سے کھل کر بات کرنے کی جسارت کر سکتا تھا مگر اس کا انحصار بھی بلیک مونسٹر کے موڈ پر تھا۔وہ کبھی اسے عرش پر بٹھا دیتا تھا تو کھبی فرش پر لا پٹختا تھا۔
“میرے خیال سے وہ شاہین ہی ہے۔”اس کے پیچھے چلتے جیمز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
“شاہین اتنا بےوقوف نہیں ہے کہ میرے گھر تک ہی پہنچ جائے۔”بلیک مونسٹر نے اس کی بات ہوا میں اڑائی تھی۔
“ہو سکتا ہے یہ اس کی کوئی چال ہو یا پھر یہ سب اس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کیا ہو۔”ایک دیوار پر سے پینٹنگ ہٹائے جیمز نے بٹن دبایا تھا۔دیوار دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔
“اگر ایسا ہے تو پھر اس نے خود پر اور ائی۔ایس۔ائی والوں پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔”بلیک مونسٹر نے تمسخرانہ ہنستے ہوئے قدم آگے بڑھائے تھے۔دونوں کے درمیان وقتا فوقتاً کوئی نا کوئی بات ہوتی رہی تھی۔یہاں سے جیل تک کا سفر کافی لمبا تھا۔یہ تہ خانہ جتنا قدیم تھا اتنا ہی بڑا اور پیچیدہ تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ ایک بھول بھلیا ہو۔ہر دروازے کے پیچھے ایک اور راستہ،ہر راستے کے آگے ایک نیا سفر…یہاں پر ایک الگ دنیا قائم تھی،ظلم اور جبر کی دنیا…اس دنیا کا مالک ایک ظالم اور مغرور شہزادہ تھا۔سب اسے بلیک مونسٹر کے نام سے جانتے تھے۔
تھوڑا آگے جاتے اس کا فون وائبریٹ ہوا تھا۔
جیب سے فون نکالے اس نے سکرین کی جانب دیکھا تھا۔اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔جیمز نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیا تھا۔وہاں کوئی غصہ،کوئی سرد مہری
نہیں تھی۔
“میم کی کال ہے؟”وہ اس کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دیتا تھا اور نا ہی بلیک مونسٹر اسے اس بات کی اجازت دیتا تھا مگر اس بار نجانے کیوں وہ خاموش نہیں رہ سکا تھا۔
موبائل کی سکرین سے نظر ہٹائے اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تھا۔جیمز کی سانس وہی رک گئی تھی۔اس کی پیشانی لمحے بھر میں پسینے سے تر ہوئی تھی۔
“نہیں!صرف ایک ریمائینڈر تھا۔آج اس کی سالگرہ ہے نا….!”
مسکرا کر ایک بار پھر موبائل کی سکرین کو محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے اس نے فون واپس کوٹ کی جیب میں رکھا تھا۔
“پھر تو آپ کو اس وقت ان کے پاس ہونا چاہیئے۔”جیمز کے کندھوں سے جیسے بوجھ اترا تھا۔صد شکر کہ اس مغرور شخص نے برا نہیں منایا تھا ورنہ ابھی تک وہ اس کا سر دیوار میں مار چکا ہوتا۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھ گیا تھا یعنی جیمز کے سوال کی اس کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی۔جیمز نے بھی کوئی اور سوال پوچھنے کی غلطی ہر گز نہیں کی تھی۔
اپنی جان جہاں کا ناراض اور پھولا ہوا چہرہ یاد کرتے اس کے لب ایک بار پھر مسکرائے تھے۔آج کا سارا دن انہیں ساتھ گزارنا تھا لیکن مصروفیت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔مگر آج رات وہ ایک یادگار رات بنانا چاہتا تھا جس کا سارا انتظام وہ پہلے ہی کر چکا تھا۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم…؟”اس کے سینے پر سر رکھے وہ مسلسل اس کے موبائل پر مصروف تھی۔
“میری سالگرہ آنے والی ہے۔”اس نے ڈیٹ کے ساتھ ریمائینڈر بھی سیٹ کیا تھا۔
میں جانتا ہوں۔”اس کے گرد حصار قائم کرتے اس نے نین کو خود سے مزید قریب کیا تھا۔
“تم بھول جاؤ گے۔”موبائل اس کی جانب بڑھائے اس نے شکوہ کیا تھا۔
“پنی نین کی سالگرہ میں کیسے بھول سکتا ہوں؟”اپنے سینے پر سے اس کا سر ہٹائے اس نے بہت محبت سے اس کا سر تکیے پر رکھا تھا۔اب وہ فرصت سے اس کے چہرے کے ہر نقش کو حفظ کر رہا تھا۔
“نا بھی بھولو تب بھی کوئی نا کوئی کام یاد آ جائے گا تمہیں۔”اس نے آنکھیں گھمائے شکوہ کیا تھا۔
“ٹھیک ہے تو پھر میں وعدہ کرتا ہوں،تمہاری سالگرہ کا سارا دن ہم ساتھ گزاریں گے۔اور میں اس دن کو تمہارے لیے یادگار بنا دوں گا۔تم چاہ کر بھی کبھی نہیں بھول پاؤ گی۔”عمر نے جذبات سے چور انداز میں اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی۔وہ سرخ رخساروں سمیت مسکرا دی تھی۔
جیل کے سامنے پہنچتے جیمز نے لاکر کھولا تھا۔بلیک مونسٹر نے ایک طائرانہ نظر اس خالی جیل پر ڈالی تھی۔
“اجازت ہے…؟”جیمز نے سر جھکائے اجازت طلب کی تھی۔اس مغرور شہزادے نے سر کو ہلکا سا خم دیے اسے اجازت دے دی تھی۔
جیمز نے کچھ دیر ٹٹولنے کے بعد ایک جلتی مشعل کو الٹا کیا تھا۔ایک مخصوص جگہ پر اپنا انگوٹھا لگائے و تھوڑا پیچھے ہٹا تھا۔دیوار ایک بار پھر دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی۔بلیک مونسٹر کے اندر داخل ہونے کے بعد جیمز بھی اندر داخل ہوا تھا۔
کرسی پر نیم بیہوشی کی حالت میں پڑے شخص کو دیکھ وہ نخوہت سے ہنسا تھا۔
پاس پڑی کرسی کو گھسیستے وہ اس کے سامنے آ کر بیٹھا تھا۔اس بند کمرے میں بہت سے ہتھیار پڑے تھے۔وہاں بھی بہت سے گارڈز ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے ایک گارڈ کو اپنے پاس بلایا تھا۔تابعداری کا مظاہرہ کرتے گارڈ نے پاس پڑا پانی کا گلاس اس نیم بیہوش شخص کے منہ پر الٹا دیا تھا۔یخ ٹھنڈے پانی کے منہ پر پڑتے ہی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔
“زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس۔بس چند سوالوں کے جواب چاہیئے۔”اس شخص نے سوجھی آنکھوں سے بامشکل سامنے بیٹھے شخص کو پہچاننے کی کوشش کی تھی۔
اسے کل رات سے اتنا ٹارچر کیا گیا تھا کہ وہ اب ایک انگلی ہلانے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا۔
“دو منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔سب کچھ اگل دو۔وعدہ کرتا ہوں انعام کے طور پر تمہیں موت دے دوں گا۔”ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے اس نے اجلت سے اپنے ہاتھ میں موجود ریسٹ واچ کی طرف دیکھا تھا۔
“میں….میں بس…بس ایک سٹوڈنٹ ہوں۔مجھے کک…کچھ نہیں پتا۔”گلے سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔وہ اس کی بات پر دھیان دیے بغیر مسلسل گھڑی کی چلتی سوئیوں کو دیکھ رہا تھا۔اسے اب اس کی زبان سے کوئی سروکار نا تھا اسے اب بس اپنے دیے گئے وقت کے گزرنے کا انتظار تھا۔
ٹھیک دو منٹ بعد اس نے ایک بار پھر اپنے گارڈ کو اشارہ کیا تھا۔گارڈ نے اپنے مالک کا حکم بجا لاتے اس شخص کا ہاتھ ٹیبل پر رکھا تھا۔ٹیبل کے ایک طرف وہ شخص تھا تو دوسری طرف بلیک مونسٹر…
“چلو ایک کھیل کھیلتے ہیں۔”اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک تیز دھار چاقو نکالتے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔سامنے بیٹھے شخص کی سانس سوکھ گئی تھی۔اس نے حرکت کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے جسم نے اس کا ساتھ نا دیا تھا۔
“فکر مت کرو میں اس کھیل میں ماہر ہوں۔”اس شخص کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر وہ اچھا خاصا محظوظ ہوا تھا۔
اب وہ بہت آہستگی سے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان سے چاقو گزار رہا تھا۔آہستہ آہستہ اس کے ہاتھوں کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی۔اس شخص نے بےبسی سے آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کی تھی۔بلیک مونسٹر نے ایک تیکھی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالے ایکدم ہی چاقو پوری قوت سے اس کے ہاتھ میں کھبو دیا تھا۔چاقو اس کے ہاتھ سے سفر کرتا میز سے آر پار ہوا تھا۔
”آہ…..”ایک دردناک چیخ تہ خانے میں گونجی تھی۔
اس مغرور شہزادے نے ایک بار پھر اشارہ کیا تھا۔اس کا اشارہ سمجھتے اس گارڈ نے اس کے سامنے ایک شیشی لا کر رکھی تھی۔کرسی پر بیٹھا شخص اس کی اگلی کاروائی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔اس ظالم شخص کی مسکراہٹ اسے بہت کچھ سمجھا رہی تھی۔وہ ہنستا نہیں تھا،اس کے چہرے پر ہمیشہ سنجیدگی ہی ہوتی تھی مگر جب سے نین اس کی زندگی میں آئی تھی اس کی زندگی کافی حد تک تبدیل ہو چکی تھی۔
“ویسے یہ میرے اصولوں کے خلاف ہے لیکن پھر بھی تمہیں آخری موقع دیتا ہوں۔”اس نے شیشی کا ڈھکن ہٹائے قہر برساتی آنکھوں سے کہا تھا۔
“نام کیا ہے تمہارا؟”اس کے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کے ناخن پر تھوڑا سا تیزاب ڈالتے سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا۔ایک بار پھر چیخیں گونجی تھیں۔دردناک چیخیں…..
اس شخص کا ہاتھ بہت بری طرح میز میں پیوست تھا۔وہ ہاتھ نہیں ہلا سکتا تھا۔
“میرے گھر کیا کرنے آئے تھے؟”اس کی دوسری انگلی کے ناخن پر تھوڑا سا تیزاب ڈالتے اگلا سوال کیا گیا تھا۔جیمز ایک سائیڈ پر کھڑا اس شخص کی قسمت پر افسوس کر
رہا تھا۔اگر وہ پہلے منہ کھول دیتا تو پھر بھی سکون کی موت نصیب ہوتی مگر اب….اب اسے موت نہیں زندگی ملنے والی تھی،بلیک مونسٹر کی دی ہوئی زندگی….موت سے بھی بدتر زندگی….
“کس کے لیے کام کرتے ہو؟”اس کے چیخنے چلانے کی پرواہ کیے بغیر مغرور شہزادے نے اس کے تیسرے ناخن کو نشانہ بنایا تھا۔
“ائی۔ایس۔آئی کے لیے…؟”چوتھی انگلی کے ناخن کو جھلسایا گیا تھا۔تیزاب گرنے کی وجہ سے اس کا ناخن موم کی طرح پگھل کر گر رہا تھا۔
“یا پھر را کے لیے…؟”آخری انگلی پر تیزاب گراتے بلیک مونسٹر نے سوال کیا تھا۔وہ درد سے چیختا چلاتا ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو چکا تھا۔
تین گھنٹے بعد اس کے دوسرے ہاتھ کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلنا۔جیمز کو آڈر دیے وہ وہاں سے اٹھا تھا۔
دھیان رہے کہ اس وقت یہ پورے ہوش و ہواس میں ہو۔جیمز نے ادب سے سر جھکایا تھا۔
••••••••••••••
وہاں سے باہر نکلتے اب اس کا رخ انچارج روم کی طرف تھا۔وہاں ان کے سارے کالے کارناموں کا ریکارڈ درج تھا۔سارے اکاؤنٹس کو وہیں سے ہینڈل کیا جاتا تھا۔
موبائل کے ایک بار پھر وائبریٹ ہونے پر اس کے قدم رکے تھے۔
“یہ لڑکی بھی نا….!”اب کی بار اس نے موبائل سے سارے ریمائنڈرز ہٹائے تھے۔
نین نے نجانے کتنے ریمائندڈز سیٹ کیے تھے۔وہ ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ عمر اس کی سالگرہ بھولے۔
“میں تمہیں سارے گھر میں ڈھونڈھ رہا ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو۔”اپنا کوٹ کرسی پر رکھتے وہ اس کے پاس جھولے پر بیٹھا تھا۔وہ ٹیرس پر گول بڑے سائز کے جھولے پر اپنا فراک پھیلائے ٹانگیں اوپر کیے بیٹھی بہت سکون سے نیک پینٹ لگا رہی تھی۔
“اٹھو یہاں سے،تم اسے توڑ دو گے۔”اس نے بہت زور سے اپنا پیر عمر کو مارا تھا۔
“نین….!”عمر نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔اسے نین کی یہ حرکت بالکل پسند نا آئی تھی۔
“کیا نین….؟اتنے موٹے ہو تم،میرا جھولا ٹوٹ جائے گا۔”نین نے منہ پھلائے اسے بھی گھوری سے نوازا تھا۔
“میں موٹا نہیں ہوں،اور تم نے دوبارہ اس طرح پیر چلائے نا تو میں تمہارے یہ پیر کاٹ دوں گا۔”اس کے پیروں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے سہلاتے عمر نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گی اگر تم نے بری نگاہوں سے میرے پیروں کی طرف دیکھا بھی تو۔۔۔!”اپنے پیر سمیٹتے وہ پھر سے نیل پینٹ لگانے میں مصروف ہو گئی تھی۔
“لاو میں لگا دیتا ہوں۔”عمر نے اس کا ہاتھ تھامتے پاس پڑی نیل پینٹ اٹھائی تھی۔فلحال وہ اس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
“سچ سچ بتاؤ،آج سے پہلے کس کس کو نیل پینٹ لگائی ہے تم نے…؟”اس کے کام کی پرفیکشن دیکھ نین نے مشکوک انداز سے اسے گھورا تھا۔
“ٹھیک سے یاد نہیں ہے اب۔”نین نے فورا اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا۔
“میری جان!میں اس نیل پینٹ کی بات نہیں کر رہا۔یہ تو میں صرف تمہیں ہی لگاؤں گا۔”اس کا ہاتھ واپس اپنی گرفت میں لیتے عمر مسکرا دیا تھا۔
“مجھے بھی وہی نیل پینٹ لگاؤ جو تم دوسروں کو لگاتے ہو۔”نین کی فرمائش پر وہ ایک لمحے کے لیے چونک گیا تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دیا۔
اس کی مسکراہٹ ٹھہری ہوئی اور بےحد دل فریب تھی۔ہنسنے کی وجہ سے اس کے بائیں گال میں ہلکا سا گڑھا ابھرا تھا۔نین کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“یہ ظلم میں تمہاری ننھی سی جان پر نہیں کر سکتا۔”اس کا گال تھپتھاتے وہ وہاں سے اٹھا تھا۔
“پاؤں ابھی رہتے ہیں۔”نین نے اسے یاد دلایا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے،تمہارے پیر ایسے ہی اچھے لگ رہے ہیں۔”وہ نیل پینٹ اٹھاتے وہاں سے گیا تھا۔
سر جھٹکتے اپنے چہرے پر واپس وہی سختی لائے وہ ناب گھمائے کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔
وہاں موجود سب لوگ ہی ادب سے کھڑے ہوئے تھے۔
“کیا پتا چلا۔۔۔؟”وہی سختی،وہی سرد مہری…
“سر کالز کا سارا ڈیٹا میں کل ہی نکال چکی تھی مگر کچھ کنفیوژن تھی بس اسی وجہ سے آپ کو نہیں بتایا۔”کرسی سے اٹھتے ماریہ نے نظریں جھکائے ادب سے کہا تھا۔
اس کمرے میں فائلز کا انبار لگا ہوا تھا۔ہر طرف کمپیوٹرز اور مختلف ڈیوائسز رکھی گئی تھیں،وہ لوگ یہی سے سب آپریٹ کرتے تھے۔
“کیسی کنفیوژن۔۔۔؟”اس کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
“بلیک مونسٹر وہ….!”اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ماریہ نے انہیں سختی سے مس کیا تھا۔
“کیا وہ….؟”اب کی بار وہ دھاڑا تھا۔سب کے دل ہی کانپ اٹھے تھے۔
“وہ…آخ…آخری کال آپ…آپ کے گھر سے کی گئی تھی۔”
سختی سے آنکھیں میچے ماریہ نے کہہ ہی ڈالا تھا۔
“کیا بکواس کر رہی ہو تم….؟”پاس پڑی کرسی کو پٹختے وہ غرایا تھا۔
جیمز کو ابھی ابھی باہر عارف نے ساری صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔وہ بھاگتا ہوا انچارج روم کی طرف بڑھا تھا مگر اس نے آنے میں دیر کر دی تھی۔
“یہ سچ ہے۔”ماریہ منمنائی تھی۔
“اگر یہ جھوٹ ہوا تو اپنے انجام سے تم اچھی طرح واقف ہو۔”اس کے لہجے میں ہنوز سختی تھی۔
اسی انجام کے خوف سے وہ کل سے ایک ہزار بار فون ریکارڈ چیک کر چکی تھی۔وہ اپنے کام میں بہت ماہر تھی مگر جس حقیقت کا انکشاف اس پر ہوا تھا اس کا یقین کرنا بےحد مشکل تھا۔
“کون ہے وہ….؟کس ملازم میں اتنی ہمت ہے کہ میرے ساتھ غداری کرے؟”ماریہ کا دل بس باہر آنے کو تھا۔جو انکشاف اس پر ہوا تھا،وہ سامنے کھڑے درندے کو بتانا بےحد مشکل تھا،مگر اسے بتانا ضروری بھی تھا۔
“کال آپ…آپ کے گھر کے لین لائن سے کی گئی ہے۔”اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ماریہ اس بار بہت آہستگی سے منمنائی تھی۔
“کون ہے وہ….؟بولو کون ہے وہ….؟”جیمز نے نفی میں سر ہلاتے ماریہ کو کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
“بولو کون ہے وہ….؟”اس دھاڑ پر تو جیمز بھی سہم گیا تھا۔
“کوئی لڑکی ہے۔”اس کی آواز بھرا گئی تھی۔اتنی سخت ٹریننگ کے باوجود بھی آج ماریہ کو اپنے انجام سے ڈر لگ رہا تھا۔وہ چاہ کر بھی وہ نام نہیں لے پا رہی تھی۔
“نام تو ہو گا نا…؟بتاؤ کیا نام ہے اس کا…؟”اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا۔
اگر ماریہ اس کے قریبی ساتھیوں میں سے نا ہوتی تو اب تک وہ اسے گولیوں سے بھون چکا ہوتا۔
“ن…نین…!”ماریہ کی زبان کھولنے کی دیر تھی،بلیک مونسٹر نے اسے گلے سے دبوچے دیوار سے لگایا تھا۔
“کس کا نام لیا ہے تم نے….ہاں….؟”وہ بالکل آپے سے باہر ہو گیا تھا۔ماریہ کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی۔
“ماریہ سچ کہہ رہی ہے بلیک مونسٹر….!”عارف کی آواز پر اس کے ہاتھوں کی گرفت ایک لمحے کے لیے ڈھیلی پڑی تھی۔
“ہمارے پاس ریکاڈنگ بھی ہے۔”
“کہاں ہے وہ ریکاڈنگ….؟”ماریہ کو پرے دھکیلتے وہ تیزی سے عارف کی جانب بڑھا تھا۔
عارف نے خاموشی سے آگے بڑھ کر کمپیوٹر پر ریکارڈنگ آن کی تھی۔نسوانی آواز سنتے وہ ساکت ہو گیا تھا۔ٹھیک دو منٹ بعد عارف نے ریکاڈنگ بند کی تھی۔
اب سب کی نظریں ہی اس ظالم اور سفاک شہزادے پر تھی جو کہ بالکل خاموش کھڑا تھا۔
اچانک ہی اپنی مٹھیوں کو بھینچے وہ تیزی سے باہر گیا تھا۔اس کی رگیں تنی ہوئی تھیں،آنکھیں آگ برسا رہی تھیں۔وہاں موجود سب افراد ہی اس معصوم،فرشتہ صفت لڑکی کے انجام پر افسردہ تھے۔
•••••••••••••••
