Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 36)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 36)
“یہ تم کیا کر رہی ہو؟”ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے اس نے دلچسبی سے استفسار کیا تھا۔
“پنکھے صاف کر رہی ہوں۔دیکھو کتنے گندے ہیں۔”مدہوشی کی وجہ سے اس سے ٹھیک سے بولا تک نہیں جا رہا تھا۔
“چھوڑو اسے….نیچے آؤ۔”اس کا ہاتھ تھامتے ڈیوڈ نے اسے بستر سے نیچے اتارا تھا۔وہ بھی چپ چاپ نیچے اتر آئی تھی۔
“مسٹر کڈنیپر!تم اچھے دکھتے ہو۔”وانیہ نے اس کی ہلکی بڑھی بیئرڈ کو چھوتے کہا تھا۔
اس کے اس طرح چھونے پر ڈیوڈ کے دل کی ڈھرکنیں ایک بار پھر معمول سے تیز ہوئی تھیں۔
“تم بھی اچھی دکھتی ہو۔”ڈیوڈ نے اس کی ٹھوڑی پر موجود تل پر نظریں جمائے کہا تھا۔
“مجھے پارٹی میں جانا ہے۔”اس کو گریبان سے پکڑے وانیہ نے بچوں کی طرح ضد کی تھی۔
اسے واپس اسی بات پر آڑتے دیکھ ڈیوڈ نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“چپ چاپ سو جاؤ۔”اس نے نہایت ضبط سے کہا تھا۔
“میں نے نہیں….”
“اگر تم نے میری بات نہیں مانی نا…تو میں تمہیں ایک اندھیرے کمرے میں چھوڑ آؤں گا۔جہاں ہر طرف سانپ،بچھو اور کاکروچ ہوں گے۔”ڈراوہ تو بہت اچھا تھا مگر دیا غلط شخص کو تھا۔
“سچی….؟”وانیہ خوشی سے اچھلی تھی۔
“چلو جلدی چلو….مسٹر کڈنیپر وہاں چھپکلی تو ہو گی نا….؟اور سانپ کس نسل کے ہو گے؟”وہ بولنے پر آئی تھی تو بولتے ہی چلی گئی تھی۔
“میری نسل کے ہوں گے۔”ڈیوڈ نے آج اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ انسان ہے ہی نہیں….بلکہ وہ کوئی عجیب ہی مخلوق ہے۔
“تم سانپ ہو….؟”وانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔
“ہاں ہوں۔”وہ اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
“ؤاووو….!”وانیہ نے ستائشی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“تمہاری نسل کہاں ہے؟”ایک اور بےتکے سوال پر ڈیوڈ کا دماغ گھوما تھا۔
“ابھی اس دنیا میں نہیں آئی۔”اگر وہ وانیہ تھی تو وہ بھی ڈیوڈ تھا۔اس کے ہر الٹے سوال کا جواب دینا اس پر جیسے فرض تھا۔
“کب آئے گی؟”وانیہ نے تجسس سے پوچھا تھا۔
“جب تم مجھ سے شادی کرو گی تب….”ڈیوڈ نے اس کے گرد مضبوط حصار باندھا تھا۔
“میں کیوں ایک سانپ سے شادی کروں؟میں تو انسان ہوں۔”اس نے نہایت منطقی جواب دیا تھا۔
“شادی تو تمہیں کرنی پڑے گی ورنہ….”ڈیوڈ اس کے مزید قریب ہوا تھا۔دونوں کے درمیان اب ایک انچ سے بھی کم فاصلہ تھا۔
“ورنہ میں تمہیں ڈس لوں گا۔”جذبات سے چور انداز میں وہ اس کی ٹھوڑی پر جھکا تھا۔
“ڈس لو….”اسے پیچھے دکھیلتے وانیہ نے لاپروائی سے کہا تھا۔
“مر جاؤں گی۔”ڈیوڈ نے جتاتی نگاہوں سے کہا تھا۔
“سانپ کے کاٹنے سے میں نہیں مروں گی۔”اس نے بات کو گویا تمسخر میں اڑایا تھا۔
“چلو اب شاباش سو جاؤ۔”ڈیوڈ نے نہایت محبت سے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے مگر پھر پہلے تم سو گے۔”اس بات پر ڈیوڈ کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔
“لڑکی خود پر اتنا ہی ظلم کرو جتنا تم صبح برداشت کرسکو۔”اس کا اشارہ صبح اس کے ہوش میں آنے پر تھا۔
“تم میرے پاس رہو گے تو ہی میں سووں گی۔”وہ بضد تھی۔
“ٹھیک ہے۔”وہ کسی کی نا سننے والا آج اس لڑکی کی ضد کے آگے ہار گیا تھا۔
وانیہ بستر پر لیٹ گئی تھی اور ڈیوڈ اس کے پاس بیٹھا تھا۔
“میری جان!سو جاؤ اب….”ڈیوڈ نے نہایت محبت سے کہا تھا۔
“میں تمہاری جان نہیں ہوں۔”تڑک کر جواب آیا تھا۔
“اچھا…!تو پھر کس کی جان ہو؟”اس پر تھوڑا سا جھکتے ڈیوڈ نے دلچسبی سے پوچھا تھا۔
“میں….میں….ہاں!میں صرف اپنے بھائی کی جان ہوں۔”اس جواب پر ڈیوڈ ہتھے سے اکھڑ گیا تھا۔
“تمہارے بھائی کی ایسی کی تیسی….کمینہ،سالا!ہر وقت بیچ میں آ جاتا ہے۔سارے موڈ کو بیڑا غرق کر دیا۔”وہ غصے سے پیچھے ہٹا تھا۔
“تم میرے بھائی کو برا نہیں کہو۔تم کہتے ہو تو میں تمہیں بھی بھائی بنا….”اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈیوڈ نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“ایک اور لفظ بولا تو زبان کاٹ دوں گا تمہاری…ساری محبت کی ایسی کی تیسی کر دی۔”اس نے وانیہ کو گھوری سے نوازتے ہاتھ ہٹایا تھا۔
“تم بہت برے ہو مسٹر کڈنیپر!
I hate you!”
بالآخر مسلسل بڑبڑاتے ہوئے اس کی آنکھیں بند ہو ہی گئی تھیں۔ڈیوڈ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
لائٹ آف کرتے وہ ابھی کمرے سے باہر ہی آیا تھا جب اس کا فون ایک بار پھر بجا تھا۔نائل کی پندرہ مسڈ کالز دیکھ کر ڈیوڈ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
اس نے نائل پر گویا احسان کرتے ہوئے اس بار فون اٹھا ہی لیا تھا۔
“دیکھو ڈیوڈ میری بات سنو!وانیہ معصوم ہے۔تم کیوں اسے بخش نہیں دیتے؟”اس کے لہجے میں بےبسی تھی۔
“میری بہن بھی بہت معصوم تھی۔”مقابل کے جواب پر نائل کے ڈرائیو کرتے ہاتھ ایک لمحے کے لیے ڈھیلے پڑے تھے۔
“میں نے اسے نہیں مارا۔اسے میری گاڑی نے ہٹ ضرور کیا تھا مگر گاڑی میں میں نہیں تھا۔میرے وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گئی تھی۔”نائل نے ایک بار پھر اسے حقیقت بتائی تھی جسے وہ تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“آپ کہے گے اور میں مان لوں گا؟”وہ ہنسا تھا۔
“میں تم سے جھوٹ نہیں بول رہا۔تمہاری بہن کی موت کے پیچھے میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔”نائل کو اس وقت صرف وانیہ کی فکر تھی۔
“اچھا….!چلیں مان لیتے ہیں لیکن میرے ماں باپ کی موت کا کیا….؟کہہ دیں کہ اس کے پیچھے بھی آپ کا اور آپ کی آئی۔ایس۔آئی ٹیم کا کوئی ہاتھ نہیں….”اس کے لہجے میں صرف کرب تھا۔
“تمہیں دکھتا کیوں نہیں ہے کہ یہ سب ایک سازش تھی۔یہ سب ان ہی لوگوں کا کیا دھرا ہے جن کے ساتھ تم ہو۔”نائل نے ہمیشہ کی طرح اسے آج بھی سمجھانا چاہا تھا۔
“ٹھیک ہے تو پھر ثابت کریں۔اگر آپ نے ثابت کر دیا تو میں نا صرف سیرینڈر کروں گا بلکہ سارے راز بھی آئی۔ایس۔آئی کو دینے کو تیار ہوں لیکن اگر آپ ثابت نا کر سکے تو…”اس نے وقفہ لیا تھا۔نائل کچھ لمحے اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا تھا۔
“تو پھر وانیہ میری….آپ خود اسے مجھے سونپے گے۔”نائل کا دل ایک لمحے کے لیے بند ہوا تھا۔
“کیا ہوا مسٹر نائل….؟خاموش کیوں ہو گئے؟اگر آپ سچے ہیں تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟”وہ واضح طور پر نائل کا مذاق اڑا رہا تھا۔
“مجھے منظور ہے۔”نائل نے دل پر پتھر رکھے کہا تھا۔یہ سارے راز حاصل کرنے اور ڈیوڈ کو راہ راست پر لانے کا آخری موقع تھا۔وہ اسے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔
“فلحال تو ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں۔آ کر اپنی مصیبت…میرا مطلب ہے کہ اپنی لاڈلی کو لے جاؤ۔”اس نے کہتے ساتھ ہی ناگواری سے فون کاٹا تھا۔
“دو گھنٹے تو سنبھلی نہیں مجھ سے…ساری زندگی کیسے سنبھالوں گا؟”دماغ کے کسی کونے سے آواز آئی تھی۔
“نہیں نہیں وہ تو بہت معصوم ہے۔تنگ تھوڑی کرے گی۔ابھی تو نشے میں ہے نا اس لیے….”دل نے فورا تسلی بخش جواب دیا تھا۔
اب کس نے کسے اور کتنا تنگ کرنا تھا یہ تو آنے والے وقت نے خود طے کرنا تھا۔
