93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 56)

وانیہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ ڈیوڈ اس کے پاس بیٹھا ہوا اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا رہا تھا۔ڈاکٹر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اس کی مرہم پٹی کر کے گئی تھی۔
حاتم نے اس کے چہرے کے ہر اک نقش کو اپنی آنکھوں میں سمایا تھا مگر اس کی نظریں ہمیشہ کی طرح اس تل پر آ ٹھہری تھیں۔تھوڑی کے درمیان وہ سیاہ تل….
پل بھر میں اس کا ذہن کہیں اور پہنچا تھا۔
صوفے پر بیٹھا پندرہ سالہ حاتم،تھوڑے فاصلے پر بیٹھی مانو اور مولوی صاحب کے القابات…..
“حاتم خانزادہ ولد ہارون خانزادہ آپ کا نکاح عینین آفندی ولد مصطفی آفندی کے ساتھ حق مہر پندرہ لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔کیا آپ کو قبول ہے؟”اس کے نام پر وہ چونکا تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا یہ نام ہو سکتا ہے۔مانو اور عینین میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
اس نے نظر اٹھا کر اپنے عقب میں بیٹھی اس ٹڈی کو دیکھا تھا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔اگر وہ کہتی تھی کہ اسے اپنا نام بولنا نہیں آتا تو وہ ٹھیک کہتی تھی۔
“قبول ہے…..”حاتم کے لب ہلے تھے۔
“نین…..”اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے حاتم نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ تمہیں سب مانو کیوں بلاتے ہیں؟عینین اور مانو میں تو بہت فرق ہے۔”وہ سچ میں جاننا چاہتا تھا۔
“میں مانو بلی کی طرح کیوٹ ہوں نا اس لیے….”نظریں جھکائے وہ شرمائی تھی۔اس کی شرماہٹ دیکھ حاتم تو عش عش ہی کر اٹھا تھا۔وہ کہیں سے بھی آٹھ سال کی نہیں لگتی تھی۔
“تم نے میرے ہاتھ پر ماہ نور کیوں لکھا تھا؟”
“یہی لکھنا آتا تھا مجھے…..”
“واہ!ساری دنیا کے نام پتا ہیں تمہیں سوائے اپنے نام کے…..”حاتم نے آنکھیں گھمائے طنز کیا تھا۔
“اپنا نام پتا ہے مجھے بس…..”
“بولنا نہیں آتا۔”حاتم نے جملہ مکمل کیا تھا۔
“اچھا ویسے ایک بار بول کر تو دکھاؤ۔”
“نہیں آتا…..”مانو نے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“میں سکھاتا ہوں تمہیں….”وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔
“بولو!ع۔ی….نین….”حاتم نے ہجے کیے تھے۔
“غیعن….”مانو نے معصومیت سے اس کے کہے الفاظ دہرائے تھے۔
“تم نے تو اسے اور مشکل کر دیا ہے۔”وہ جھنجھلایا تھا۔
“یہ عینین ہے۔”وہ دنیا کا پہلا شوہر تھا جو اپنی بیوی کو اس کا نام بولنا سکھا رہا تھا۔
“غعن…..”اس نے ایک بار پھر اپنے نام کا جنازہ نکالا تھا۔
حاتم دانت پیس کر رہ گیا تھا۔
اچانک ہی اس کے دماغ میں ایک زبردست آئیڈیا آیا تھا۔
اس نے مانو کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔
“آج سے تم نا تو عینین ہو اور نا مانو….تم صرف نین ہو۔”اس نے مسکرا کر مسئلے کا حل پیش کیا تھا۔
“نین…..”مانو کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔
“میں نین ہوں۔”وہ خوشی سے اچھلی تھی۔اسے یہ نام پسند آیا تھا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟”وہ اس کا نام بار بار بھول جاتی تھی۔
“میرا نام حاتم ہے۔”جہاں حاتم مسکرایا تھا وہیں نین کا منہ بن گیا تھا۔
“اچھا نام نہیں ہے یہ…..”
“اتنا اچھا نام تو ہے۔حاتم خانزادہ،بالکل رائل…..”وہ برا منا گیا تھا۔
“رائل مطلب…..؟”
“رائل مطلب شاہی….”
“شاہی مطلب….؟”
“میرا سر…..”وہ چڑا تھا۔
“تمہارے سر کا نام شاہی ہے؟”
“سر کا تو پتا نہیں لیکن میرے سر درد کا نین ہے۔”وہ اسے ہمیشہ ہی زچ کر دیتی تھی۔
“مگر تم نے تو کہا ہے کہ نین میرا نام ہے بین؟”دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اس نے جتنی معصومیت سے استفسار کیا تھا،حاتم کا دماغ اتنا ہی گھوما تھا۔
“میرا نام بین نہیں ہے۔”اسے گھوری سے نوازتے حاتم نے غصے سے کہا تھا۔وہ جب جب اسے اس نام سے مخاطب کرتی تھی حاتم کو ایسا لگتا تھا جیسے وہ اسے کارٹون کہہ رہی ہو۔
“بین اچھا نام ہے۔”مانو نے جیسے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
“اچھاااا!تو پھر ٹڈی بھی بہت اچھا نام ہے۔”عینین کو یہ نام بالکل پسند نہیں تھا۔
“نہیں نین اچھا نام ہے،ٹڈی نہیں،تم مجھے نین بلانا…..
“ٹھیک ہے تو پھر تم بھی وعدہ کرو کہ تم مجھے بین نہیں بلاؤ گی۔”حاتم نے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑے اس کے آگے ہاتھ پھیلایا تھا۔
“تو پھر کیا بلاؤں؟”اس نے منہ بسورے پوچھا تھا۔
“حاتم…..”
“یہ نام اچھا نہیں ہے۔”مانو نے ہاتھ لپیٹے کہا تھا۔حاتم بیچارہ بس صبر کے گھونٹ ہی بھر سکا تھا۔
“میں نا تمہارے لیے ایک اچھا سا نام سوچوں گی۔”وہ پرجوش ہوئی تھی۔حاتم نے سرد آہ بھری تھی۔آخر کیا برائی تھی اس کے نام میں جو اس شہزادی کو پسند ہی نہیں آ رہا تھا۔
“بس بہت ہو گیا۔اب تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔نائل تمہاری حفاظت نہیں کر سکتا۔میں تمہیں اس بار واپس نہیں بھیجوں گا۔”وہ خود سے مخاطب ہوا تھا۔
“فلحال ضروری کام سے جانا ہے مجھے۔آ کر تفصیلی ملاقات ہو گی۔”حاتم نے اس کے اوپر کمبل درست کیا تھا۔
نجانے اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ کیسا برتاؤ گی۔اسے کچھ یاد نہیں،یہ تو حاتم بھی اچھے سے جانتا تھا مگر جو بھی تھا اب وہ اپنی نین کو خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی گرم چیز کی تپش سے اسفند کی آنکھ کھلی تھی۔اپنے سر کے نیچے کھولتا ہوا گرم پانی دیکھ کر اس کی چیخیں نکل گئی تھی۔
“ہائے اسفند!”پاس سے جانی پہچانی آواز سنتے اس نے چونک کر اس جانب دیکھا تھا۔ڈیوڈ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔اسفند کو وہ الٹا دکھ رہا تھا کیونکہ اسے رسی کی مدد سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔اس کی ٹانگیں اوپر تھیں اور سر نیچے،جبکہ سر کے نیچے ایک بہت بڑے کنٹینر میں کھولتا ہوا گرم پانی تھا۔اس کے سر اور اس کنٹینر کے درمیان کافی فاصلہ تھا مگر پھر بھی اس گرم بھاپ کی تپش کو برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔
“میرا مطلب ہے اسفند عرف شاہین…..آخرکار تم میرے شکنجے میں پھنس ہی گئے۔”ڈیوڈ نے انگلیوں کی مدد سے ٹیبل پر رکھا گلوب گھمایا تھا۔
“بلیک مونسٹر……”وہ جیسے یقین نہیں کر پا رہا تھا۔
“میں تو بلیک مونسٹر ہی ہوں مگر تم کون ہو؟آئی۔ایس آئی کے پالتو کتے…..تمہیں کیا لگا تھا کہ مجھے،بلیک مونسٹر کو بیواقوف بنا لو گے؟”اس نے قہر برساتی نگاہ اسفند پر ڈالی تھی۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بلیک مونسٹر؟میرا آئی۔ایس۔آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
“اچھاااا”ڈیوڈ نے کہتے ساتھ ہی اپنے ایک بندے کو اشارہ کیا تھا۔اس نے رسی ڈھیلی چھوڑ دی تھی۔اس کھولتے ہوئے پانی میں جیسے ہی اسفند کے سر کے بالوں کا کچھ حصہ لگا تھا وہ بلبلا اٹھا تھا۔
ڈیوڈ کے اشارے پر رسی واپس اوپر کی جانب کھینچی گئی تھی۔
“میرے پاس ضائع کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔میری بیوی میرا انتظار کر رہی ہے۔میرے پانچ گننے تک یا تو تم چپ چاپ سب قبول کر لو یا پھر اس کھولتے ہوئے لاوے میں جھلس کر مر جاؤ۔”وہ اس وقت شدید بیزار ہوا تھا۔اس وقت اسے صرف اپنی نین کا چہرہ دیکھنا تھا مگر دیکھنا اس منہوس کا پڑ رہا تھا۔
“ایک…..
دو…..
تین…..
چار….”وہ جیسے جیسے گنتا جا رہا تھا،ویسے ویسے رسی ڈھیلی ہوتی جا رہی تھی۔
“پا…..”
“بتاتا ہوں،سب بتاتا ہوں۔”اپنی دردناک موت کو سامنے دیکھ اسفند کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔
“بتاؤ…..”ڈیوڈ کے اشارے پر رسی کو واپس اوپر کھینچا گیا تھا۔اگر اسفند کو یہ لگا تھا کہ وہ اسے اپنے سامنے بٹھا کر کچھ پوچھے گا تو یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔
“میں نے آئی۔ایس۔آئی جوائن صرف اس لیے کی تھی تا کہ میں وہاں کے راز باہر پہنچا سکوں لیکن پھر جب مجھے پتا چلا کہ وہ ایک بہت ہی اہم کیس پر کام کر رہے ہیں تو میں نے اس کیس پر ریسرچ کی۔اور پھر میرے دل میں بلیک مونسٹر بننے کی خواہش جاگی۔اس لیے تمہارے ساتھ کام کرتا رہا۔”
“ہو گئی بکواس….؟جیسے میں تو جانتا ہی نہیں ہوں نا کہ تم آئی۔ایس۔آئی کے پالتو ہو۔تم شاہین ہو۔وہ شاہین جس نے ہمیشہ ہی میرا سارا کھیل خراب کیا ہے۔”ڈیوڈ نے دانت پر دانت جمائے سرخی مائل آنکھوں سے کہا تھا۔
“میں شاہین نہیں ہوں بلکہ میں تو اسفند بھی نہیں ہوں۔”وہ بےبسی سے چیخا تھا۔
ڈیوڈ کے ایک اور اشارے پر رسی پھر ڈھیلی چھوڑی گئی تھی۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں۔میرا نام یوسف ہے۔نائل نے کہا تھا کہ اسفند بن کر تمہارے سامنے جاؤں۔شاہین بن کر تمہارے گھر جاؤں اور وہ نوٹ….”موت کے خوف سے اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو۔”ڈیوڈ کے اشارے پر ایک بار پھر رسی ڈھیلی چھوڑ دی گئی تھی۔اس کے بال ابھی پانی میں لگے ہی تھے اس تہہ خانے میں یوسف کی دردناک چیخیں گونجی تھیں۔
“رسی واپس کھینچو…..”اس کے حکم پر ایک بار رسی اوپر کی جانب کھینچی گئی تھی۔
“واپس چھوڑو…..”یہ عمل تین بار دہرایا گیا تھا۔یوسف کا سارے بال جھلس گئے تھے۔
“پھر ملاقات ہو گی۔”یوسف کو اب نیچے اتارا گیا تھا۔اس کے بیہوش وجود پر نظر دوڑاتے وہ اجلت بھرے انداز میں باہر گیا تھا۔
“اس کی مرہم پٹی کرو۔یہ مرنا نہیں چاہیئے۔”ڈیوڈ کے حکم پر جیمز نے ادب سے سر جھکایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا!میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ایسے کیسے نا جاتا میں وہاں پر؟میری بیوی ہے وہ…..”وہ بدر کے ساتھ فون پر محو گفتگو تھا۔
“اگر تمہیں کچھ ہو جاتا پھر….”بدر کافی خفا تھا۔
“آپ کو لگتا ہے کہ میں موت سے ڈرتا ہوں؟”لہجہ تمسخرانہ تھا۔
“جو بھی ہے تم دوبارہ اس قسم کی حرکت مت کرنا۔”
“اوکے!”وہ فورا مان گیا تھا۔ڈیوڈ بدر کی بہت عزت کرتا تھا۔اس کی کوئی بھی بات وہ نہیں ٹال سکتا تھا۔
“ویسے آپ کو پتا ہے میں آج بہت خوش ہوں۔آخرکار ہمارا دشمن اب ہماری پکڑ میں ہے لیکن کمینہ مان ہی رہا کہ وہ ہی شاہین ہے۔”
“وہ ٹھیک کہہ رہا ہے ڈیوڈ!اس لڑکے کی تصویر دیکھی ہے میں نے…..یہ شاہین نہیں ہو سکتا۔”
“کیا….کیوں نہیں ہو سکتا؟؟”اسے شدید دھچکا پہنچا تھا۔
“کیونکہ میری معلومات کے حساب سے شاہین نائل کا ساتھی ہے۔اس حساب سے اس کی عمر تیس سے پینتیس سال کے درمیان ہونی چاہیے،یہ تو مشکل سے چوبیس سے پچس سال کا ہو گا۔”
“حد ہے۔شاہین،شاہین،شاہین…..اس شخص نے مجھے ذلیل کر کے رکھا ہوا ہے۔آخر ہے کون یہ شاہین….؟”وہ سخت جھنجھلایا تھا۔
فون رکھنے کے بعد وہ اپنے غصے کی شدت کو کم کرنے کے لیے ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔
“یہ شاہین کون ہو سکتا ہے؟”جیمز سائیڈ پر ادب سے کھڑا کب سے اس کی بےربط باتوں کو سن رہا تھا۔کچھ کہنے یا وہاں سے جانے کی گستاخی تو وہ کر ہی نہیں سکتا تھا۔
اچانک ہی ڈیوڈ کے دماغ میں جھماکہ ہوا تھا۔
ذہن پر کسی کا چہرہ ابھرا تھا۔
نائل کا دوست،عینین کے ساتھ کھڑا وہ شخص….
“اسفند،اسفند نام تھا نا اس کا…..؟”وہ گہری سوچ میں پڑا تھا۔
“کیسا دکھتا تھا وہ…..؟”اپنی پیشانی مسلتے وہ اب سوچ رہا تھا۔
“جیمز!مجھے ایک سکیچ بنوانا ہے۔”وہ جلد از جلد اس شاہین نامی مصیبت سے چھٹکارا چاہتا تھا جس نے اس کا سارا سکون برباد کر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔