Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 59)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 59)
“اس دن میں،مام اور آپی شوپنگ پر گئے تھے…..”عینین نے بولنا شروع کیا تھا۔
“ڈیڈ ساتھ ہوتے تو کتنا مزا آتا نا،اور بھائی بھی نہیں آئے ساتھ….”عینین منہ پھلائے ونڈو کے پار گزرتی چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔
“مانو آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتی۔ہر چیز میں مسئلہ….آپ کے ڈیڈ اور بھائی بزی ہیں نا…..”نینا نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی اور بات ہوتی نینا کا فون بجا تھا۔
فون سنتے ہی اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی۔
“مصطفی…..”اس کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر گرا تھا۔
“کیا ہوا آنٹی؟”صوفی سے فکرمندی سے پوچھا تھا۔
“گاڑی ہسپتال کی جانب موڑو۔”اس نے کپکپاتی آواز میں ڈرائیور سے کہا تھا۔
ڈرائیور کے گاڑی موڑتے ہی اچانک سے ان کی گاڑی کے سامنے ایک اور گاڑی آئی تھی۔
سنسان سڑک پر تین آدمی،جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔انہوں نے ان تینوں کو زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا تھا اور ڈرائیور کو وہ گولی مار کر وہیں پھینک گئے تھے۔
“مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے مام!”ان تینوں کو ایک گھنڈر نما کمرے میں بند کیا گیا تھا۔صوفی اور نین دونوں ہی نینا کے ساتھ چپکی بیٹھی تھیں۔
“ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سب ٹھیک ہو گا۔”وہ پہلے ہی مصطفی کو لے کر بہت پریشان تھی۔فون کال کے مطابق اس کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔
تھوڑی دیر بعد کسی کے قدموں کی چھاپ سے تینوں ہی سہم گئی تھیں۔
“کیسی ہو نینا؟”سمیر کو اپنے سامنے دیکھ وہ دنگ رہ گئی تھی۔
“آپ…..؟”وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی۔وہ شخص نجانے کتنے دنوں سے اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور اب یہ سب….
“بہت حسین ہو تم اور میری دلہن بن کر اور حسین لگو گی۔”سمیر نے نینا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔صوفی اور عینین دونوں کی آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
“چھوڑو مجھے ذلیل انسان!میرے شوہر تمہیں جان سے مار دے گے۔”نینا نے اپنا آپ چھڑوانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
“وہ زندہ ہو گا تو مجھے مارے گا نا…..”نینا کے سر پر آسمان گرا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔مصطفی نہیں…..!”وہ زمین پر گرتی چلی گئی تھی۔صوفی اور عینین روتے ہوئے اس سے لپٹے تھے۔
“اگر تم نہیں چاہتی کہ میں ان دونوں کو بھی مار دوں تو میری بات مان جاؤ۔اور مجھ سے نکاح کے لیے تیار ہو جاؤ۔”وہ یہ کہہ کر الٹے پاؤں واپس گیا تھا۔شاید وہ اسے تھوڑا وقت دے رہا تھا۔
وہ نجانے کتنی دیر اپنی بےبسی پر آنسو بہاتی رہی تھی پھر اچانک ہی وہ وہاں سے اٹھی تھی۔
نینا نے اس جگہ کا ہر ایک کونہ چھانہ تھا۔بہت ڈھونڈھنے پر اسے دیوار کا ایک حصہ دکھا تھا جو کہ نیچے سے تھوڑا ٹوٹا ہوا تھا۔
نینا نے وہاں سے جھانک کر باہر دیکھا تھا۔باہر جنگل تھا۔
صوفی اور عینین بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی تھیں۔
“صوفی میری بات سنو!تم لوگوں کو یہاں سے بھاگنا ہو گا۔مجھے پورا یقین ہے کہ نائل تم لوگوں تک پہنچ جائے گا۔”
“لیکن آنٹی…..”
“میرے ساتھ جو ہو گا وہ ہو گا لیکن میری بیٹیوں کی عصمتوں پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیئے۔”نینا نے ادھر ادھر نظریں گھمائی تھیں۔ایک لوہے کے ٹوٹے ہوئے،زنگ آلود اوزار سے اس نے وہ دیوار ٹوڑنا شروع کی تھی۔وہ دیوار بہت زیادہ مضبوط نہیں تھی اسی لیے اسے زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی تھی۔کچھ ہی دیر کی محنت کے بعد وہ ایک بڑا سوراخ کرنے میں کامیاب ٹھہری تھی۔وہ وہاں سے نہیں جا سکتی تھی مگر عینین اور صوفی جا سکتی تھی۔صوفی ایک دبلی،پتلی لڑکی تھی اور عینین تو ویسے ہی بہت چھوٹی تھی۔
“چلو جاؤ تم لوگ،اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے۔”
“آنٹی ہم آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گے۔”صوفی روتے ہوئے نینا کے گلے لگی تھی۔
“یہ ضد کرنے کا وقت نہیں ہے صوفی،اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے۔بھاگ جاؤ یہاں سے…..اور وعدہ کرو تم مانو کا بہت خیال رکھو گی۔”آٹھ سالہ عینین چپ چاپ کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی۔اس کا ننھا دماغ ساری صورت حال سمجھنے سے قاصر تھا مگر وہ کچھ عجیب ضرور محسوس کر رہی تھی۔
صوفی کی لاکھ ضد کے باوجود نینا نے اسے قائل کر ہی لیا تھا۔
“چلو نین….”صوفی نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔وہ پہلے پہل تو حاتم کو چھیڑنے کے لیے اسے نین کہہ کر پکارتی تھی کیونکہ وہ برا مان جاتا تھا۔پھر اسے عادت ہو گئی تھی۔
“میں نہیں جاؤں گی۔”اس کا ہاتھ جھٹکتی وہ اپنی ماں سے لپٹی تھی
“میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی مام۔”وہ رو دی تھی۔
“میرا بچہ…..”نینا نے جھک کر اس کے چہرے کے ہر ایک نقش کو چوما تھا۔
“مام کی بات مانو اور آپی کے ساتھ چلی جاؤ۔”
“میں نہیں جاؤں گی۔آپ بھی چلیں ہمارے ساتھ…..”وہ مسلسل سسک رہی تھی۔
کسی کے قدموں کی چھاپ سے وہ تینوں ہی چونکی تھی۔
“جلدی جاؤ یہاں سے…..”انہوں نے زبردستی عینین کا ہاتھ صوفی کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔
“میں آپ کے پاس رہوں گی مام!”صوفی اسے گھسیٹتے ہوئے آگے لے کر جا رہی تھی جبکہ وہ مسلسل چیخ چلا رہی تھی۔
دروازہ کھلنے تک وہ دونوں باہر جا چکے تھے۔
“مجھے نہیں جانا…..”عینین ابھی بھی ضد پر آڑی ہوئی تھی۔
“بھاگ جاؤ نین،بھاگ جاؤ۔”نینا اپنی پوری قوت سے چلائی تھی۔
“مجھے نہیں جانا،مجھے نہیں جانا۔”وہ آنکھیں بند کیے مسلسل سسک رہی تھی۔حاتم اس کے ساتھ کھڑا تھا جبکہ اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
“پھر کیا ہوا عینین،یاد کرو۔اس کے بعد کیا ہوا تھا؟”
“اس کے بعد ہم بھاگ گئے تھے۔ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا،میں تھک گئی تھی،بہت تھک گئی تھی۔
“نین چلو جلدی کرو۔”ان لوگوں کو دن کے وقت اغوا کیا گیا تھا اور اب دوسری صبح بھی چڑھ چکی تھی۔
“آپی میں بہت تھک گئی ہوں۔اب اور نہیں بھاگ سکتی۔”دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ مسلسل ہانپ رہی تھی۔
اچانک ہی ان دونوں کو کسی گاڑی کی آواز سنائی دی تھی۔
“نین….”نین کا ہاتھ پکڑتے صوفی ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گئی تھی۔
اس ویرانے میں گاڑی روکے چار لوگ باری باری باہر نکلے تھے۔
ایک شخص بھورے پینٹ کوٹ میں ملبوس سگریٹ سلگاتا ہوا گاڑی کی ڈکی کی جانب بڑھا تھا۔
گاڑی کی ڈکی کھولے اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
“Poor woman…”
اس نے خون میں لت پت لڑکی کو ترس بھری نگاہ سے دیکھا تھا۔اب وہ سر جھٹکتا آگے بڑھا تھا۔
“ڈکی خالی ہے۔وہ بھاگ گئی ہے۔”وہ تینوں باتوں میں مصروف تھے جب ایک عورت کے چیخنے کی آواز سے وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
“کیسے بھاگ گئی؟وہ تو مر گئی تھی۔”بھورے پینٹ کورٹ میں موجود شخص بھاگتا ہوا ڈکی کی طرف آیا تھا۔
“بلیک مونسٹر ہماری جان لے لے گا۔”اس عورت نے خوفزدہ لہجے میں کہا تھا۔انہیں یہ گاڑی لڑکی سمیت پہاڑ سے نیچے پھینکنے کا حکم ملا تھا۔
“بڑی کوئی ڈھیٹ عورت ہے۔رات سے صبح ہو گئی مگر ابھی تک نہیں مری۔جاو ڈھونڈھو جا کر اسے…اس حالت میں وہ زیادہ دیر نہیں بھاگ سکتی۔”اس شخص نے غصے سے حکم صادر کیا تھا۔
“پھر کیا ہوا عینین…..؟”ڈاکٹر کے پوچھنے پر اس نے ایک بار پھر گہری گہری سانسیں لیے سب بتانا شروع کیا تھا۔
“آپی نے کہا کہ میں وہاں چھپ جاؤں۔وہ مدد لے کر آئے گی۔اور یہ سب صرف ڈرامہ ہے۔وہ لوگ مام کے دوست ہیں اور یہ صرف ایکٹنگ ہے جیسے موویز میں ہوتی ہے۔”وہ تکلیف کی شدت سے رو دی تھی۔حاتم نے بھی اپنی آنکھ کے کنارے سے ایک اشق چنا تھا۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے اپنوں نے اتنی تکلیف اٹھائی ہو گی۔
“آگے کیا ہوا،یاد کرو…..”
“پھر…..”وہ اپنے ذہن پر مکمل زور ڈال رہی تھی۔
اچانک ہی اس کی نظر ڈکی سے باہر بہتے خون پر پڑی تھی۔اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ بکھری تھی۔اس خون کی پیروی کرتے وہ مسلسل گنگناتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔تھوڑا آگے جا کر اس کے قدم رکے تھے۔
“تو تم زندہ ہو۔”ایک درخت کے قریب بیٹھتے اس نے دلچسبی سے کہا تھا۔
وہ جو درخت کے ساتھ بیٹھی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔اپنے سامنے اس ظالم شخص کو دیکھ بری طرح گھبرا گئی تھی۔اس کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں۔
“آپ پر پہلی نظر میری پڑی تھی بھابھی جی!تو پھر آخری لمس بھی میرا ہونا چاہیئے نا…”ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے وہ
اپنا خون روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔اس کی آنکھوں میں التجا تھی۔اس کے لب نیم وا تھے۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی،التجا کرنا چاہتی تھی مگر تمام الفاظ تو جیسے زنجیر ہوئے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ شیطان اس معصوم اور پاکیزہ عورت پر جھکتا،جیمز کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔
“یہ تم کیا کر رہے ہو؟اسے پہاڑی سے پھینکنے کا حکم ملا ہے۔”وہ غراتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔
“پھینک دیتے ہیں،اتنی بھی کیا جلدی ہے؟”وہ خباثت سے مسکرایا تھا۔
“یہ مرنے والی ہے۔”جیمز نے اسے یاد دلایا تھا۔
“مری تو نہیں ہے نا…ہم تو وہ شیطان ہیں جو مردہ کو بھی نہیں چھوڑتے،یہ تو پھر زندہ ہے۔”ایک ایک لفظ اس کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا۔اس نے شدت
سے دعا کی تھی کہ کاش اسے ابھی اور اسی وقت موت آ جائے۔وہ جو کچھ سہہ چکی تھی اس کے بعد مزید کچھ بھی سہنے کی اس میں سکت نہیں تھی۔
“تم…!”
“جیمز!میں جو کر رہا ہوں،مجھے کرنے دو۔آخرکار اس پر بلیک مونسٹر سے پہلے میری نظر پڑی تھی۔”جیمز نے ایک نظر افسوس سے اسے دیکھا تھا۔
“ٹھیک ہے جو کرنا ہے جلدی کرو۔”اس نے گہری سانس خارج کرتے ہار مانی تھی۔اب وہ نفی میں سر ہلاتا وہاں سے چلا
گیا تھا۔
عینین کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔
“میری ماں کے ساتھ…..!”اس کا جسم جھٹکے کھانے لگا تھا۔
“نین….”حاتم نے چیختے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“ٹھیک ہے عینین!بس اب آگے کچھ مت سوچو،کچھ یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔واپس آ جاؤ۔ریلیکس ہو جاؤ۔”اسے ریلیکس ہونے میں کافی وقت لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“Thanks!”
واپسی کے سفر میں یہ پہلا لفظ تھا جو اس نے کہا تھا۔
“کس لیے….؟”
“اچھا محسوس کر رہی ہوں میں…..”
“میں بھی اچھا محسوس کرنا چاہتا ہوں۔”
“تمہیں بھی ایک سیشن لینا چاہیئے۔”
“مجھے سیشن کی نہیں اپنی بیوی کی ضرورت ہے۔میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔”
“ہم ساتھ تو ہیں۔”
“ایسے نہیں،میں تمہیں ہر پل،ہر گھڑی محسوس کرنا چاہتا ہوں۔مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تمہیں مجھ سے کوئی چھین نا لے۔میں نہیں چاہتا کہ تم اب نائل کے پاس واپس جاؤ۔”
“میں کہیں نہیں جا رہی۔یہی ہوں،تمہارے پاس…..”وہ مدھم سا مسکرائی تھی۔
“نکاح کرو گی مجھ سے….؟”اس کے کچھ دیر بعد کہے جملے سے وہ ساکت ہو گئی تھی۔
“میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔”
“یہ جاننے کے باوجود بھی کہ میری دماغی حالت….”
“تم بالکل ٹھیک ہو نین!بالکل ٹھیک،اگر نہیں ہو تو بہت جلد ہو جاؤ گی۔اپنی محبت پر بھروسہ ہے مجھے۔”حاتم نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“بہت لگا لیے کوئے یار کے چکر
اب وصل یار کا وقت ہے۔”اس کی بےباک گفتگو پر بری طرح جھنپ گئی تھی۔
“اسلام آباد جاتے ہی ہم نکاح کر لے گے۔”نین نے کچھ نہیں کہا تھا۔وہ بس سرخ چہرے کے ساتھ کھڑکی کے پار گزرتی چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔
“عینین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی دماغی مسئلہ نہیں تھا۔وہ کوئی ذہنی مریضہ نہیں ہے۔انہیں ایسا بنایا گیا ہے۔ان کی رپورٹس کے مطابق ان کے بلڈ میں بہت زیادہ مقدار میں نشہ آور ادویات ملی ہیں۔آپ باقاعدگی سے انہیں میرے پاس لے کر آئیں۔کچھ سیشنز اور میڈیسنز کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے گی لیکن اس بات کا خیال رکھیں گا کہ ان کے دماغ کو کسی قسم کا کوئی دھچکہ نا پہنچے۔انہیں آپ کی محبت اور توجہ کی ضرورت ہے۔”ڈاکٹر کی بات یاد کرتے حاتم کی آنکھوں میں شعلے دھکنے لگے تھے۔
“نین پہلے بھی کسی سائیکیٹریسٹ کے پاس جاتی رہی ہے تو پھر وہ ٹھیک کیوں نہیں ہوئی؟”
“عینین کا کیس بہت سمپل ہے۔ایک آٹھ سالہ بچی اگر اپنا سارا بچپن بھول سکتی ہے تو یہ واقعہ بھی بھول سکتی ہے۔وہ بھی جب گھر،پہچان یہاں تک کہ نام بھی تبدیل کر دیا گیا ہو۔اس سب سے تو یہی اخذ ہوتا ہے کہ اسے صحیح ٹریٹمنٹ نہیں دیا گیا۔اور یقینا اس سب کے پیچھے کوئی گھر کا ہی شخص ہو گا۔”حاتم گہری سوچ میں پڑا تھا۔نائل تو یہ نہیں کر سکتا تو پھر کون…..؟
اب اسے بس اتنا ہی پتا لگانا تھا کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔پھر ساری گھٹیاں خود ہی سلجھ جانی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“عمر مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔”
“نین بلاوجہ ضد مت کرو۔ابھی دو تین دن بعد اگلا سیشن….”اس نے کل سے ضد لگائی ہوئی تھی کہ وہ ڈاکٹر کے پاس جائے گی۔
“دیکھو میں تمہیں اذیت میں نہیں دیکھ سکتا۔”
“مجھے نہیں پتا،مجھے بس ٹھیک ہونا ہے۔پھر ہمیں شادی بھی تو…..”اس نے زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔
“یعنی یہ ساری محنت اسی لیے ہو رہی ہے۔”وہ اسے کمر سے کھینچ کر ایک بار پھر اپنے قریب کر گیا تھا۔
“دیکھو ابھی ہمارا نکاح نہیں ہوا۔”اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ اسے دکھیلنے ہی والی تھی جب عمر نے اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیے اس کی کمر کے پیچھے پن کیے تھے۔
“تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔”اس کی آواز میں نمی گھلی تھی۔
“نین!”عمر فورا اس سے دور ہٹا تھا۔
“میں مذاق کر رہا تھا۔”
“تو میں کون سا سیریس تھی۔”وہ اسے زبان چڑاتے وہاں سے بھاگی تھی۔حاتم کچھ دیر ہکابقا وہاں کھڑا رہا تھا پھر وہ بھی بھاگتا ہوا اس کے پیچھے گیا تھا۔
“ٹڈی کہیں کی….”
“یہاں آؤ……”لاؤنچ میں داخل ہوتے عمر نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔
“کیوں آؤں؟”وہ صوفے کے پیچھے کھڑی اب بھی بھاگنے کے لیے پر تول رہی تھی۔جیسے ہی وہ ایک قدم بڑھاتا وہ فورا بھاگ جاتی۔
“تمہارے پیچھے چھپکلی ہے۔”حاتم نے اسے ڈرانے کے لیے کہا تھا لیکن شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ سامنے کون سی بلا ہے۔
“کہاں ہے؟کہاں پر ہے؟”وہ فورا چہکتی ہوئی پلٹی تھی۔اب وہ چھپکلی ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“یہاں پر تو کچھ بھی نہیں ہے۔”اس کے چہرے پر مایوسی دیکھ حاتم نے بےاختیار پیشانی مسلی تھی۔
کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید چیخیں مار مار کر گھر سر پر اٹھا لیتی مگر سامنے تو اس کی ٹڈی تھی،بہادر ٹڈی…..
“عمر تم نے جھوٹ….”ابھی اس کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب عمر نے ایک بار اسے اپنی دسترس میں لیا تھا۔
“ڈرامے باز کہیں کی….”عمر نے اسے گھورا تھا۔
“مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔مجھے جلدی سے ٹھیک ہونا ہے۔”وہ نظریں ادھر ادھر گمائے راہ فرار کا راستہ ڈھونڈھ رہی تھی۔
“اور پھر شادی کرنی ہے۔”عمر نے لب دبائے شرارت سے کہا تھا۔
“جی نہیں…..!”اس کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔
“تو کیا نہیں کرنی؟”اس کی بوکھلاہٹ اسے محظوظ کر رہی تھی۔
“پتا نہیں…..”وہ زچ ہوئی تھی۔
“پتا نہیں ہے تو پتا کیجیے نین صاحبہ،دن کم رہ گئے ہیں۔”اس نے بےحد نرمی سے اسے چھوڑ دیا تھا۔
“تم مجھے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جاؤ گے؟”گھڑی کی سوئی پھر وہیں آ کر رکی تھی۔
“ایک شرط پر…..”
“کیسی شرط…..؟”
“تمہیں مجھے ایک کپ کافی بنا کر پلانی ہو گی۔”نین کے چہرے کا رنگ بالکل زرد پڑا تھا۔
“کافی…..؟”اس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرائے تھے۔
“ہاں کافی!تم تو ایسے ڈر رہی ہو جیسے میں نے گن چلانے کا بولا ہو۔”وہ پھر غلط شخص سے غلط بات کر گیا تھا۔سامنے کھڑی آفت کے لیے گن چلانا آسان جبکہ کافی بنانا بےحد مشکل تھا۔
“مجھے بنانی نہیں آتی۔”
“میں نے کبھی کچن کے کام نہیں کیے۔”
“اندازہ تھا مجھے،کوئی بات نہیں ہم مل کر بناتے ہیں۔”عمر اس کا ہاتھ تھامے کچن کی جانب بڑھا تھا۔
“نہیں عمر پلیز!”عینین کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔
آگ کو دیکھ کر اسے ایک بار پھر اٹیک ہونا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ سب عمر کے سامنے ہو۔
“میں کچھ نہیں سنوں گا۔ہم کافی بنا رہے ہیں بس!”اس کی لاکھ منتوں کے باوجود وہ اسے کچن میں لے آیا تھا۔
جیسے ہی عمر نے چولہا آن کیا تھا،نین نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“وہاں سے کپ اٹھاؤ۔”عمر کی آواز ہر اس نے آنکھیں کھولی تھیں۔وہاں کوئی آگ نہیں تھی۔چولہا الیکٹرک تھا۔نین کی رکی سانس بحال ہوئی تھی۔
“نین دو نا…..؟”
“ہاں…..!”اس نے مسکرا کر عمر کو کپ تھمایا تھا۔
ناشتے کے بعد وہ لوگ ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔حاتم کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ جان بوجھ کر ہیپناٹائز ہوئی تھی۔وہ کل کی طرح آج بھی سکون حاصل کرنا چاہتی تھی۔
لیکن آج حاتم نے ڈاکٹر سے اکیلے میں بات کر کے کہا تھا کہ وہ اس سے لندن میں ہوئے واقعے کے بارے میں پوچھے نا کہ اس کے بچپن والے سانحے کے….
عینین نے ساری آپ بیتی سنا دیتی تھی۔حاتم جیسے جیسے سنتا جا رہا تھا اس کی آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑکنے لگے تھے۔
“عینین وہ عورت کون تھی؟”حاتم نے اس سے پوچھا تھا۔وہ مسلسل رو اور سسک رہی تھی۔
“عینین مجھے بتاؤ کس نے کیا یہ سب؟”
“پھوپھو،الیکس….”وہ بس اتنا ہی بولی تھی۔
حاتم نے سختی سے لب بھینچے تھے۔اس کا پورا وجود غصے سے سرخ پڑا تھا۔آنکھوں میں لپٹے شعلوں نے آج سب کو بھسم کرنا تھا۔آج ہر چیز کا انتساب ہونا تھا۔وہ نین کے ساتھ ہوئے ہر ایک ظلم کا انتقام لینے کا پیماں کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل اضطراب کی حالت میں لان میں موجود کرسی پر بیٹھا تھا جبکہ محسن ساتھ والی کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے مزے سے باداموں کے ساتھ انصاف کر رہا تھا۔
“نا تو بیوی راضی ہے اور نا ہی بہن…..مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں آخر کیا کروں؟”
“بادام کھاؤ۔”محسن نے اسے مفید مشورے سے نوازا تھا۔
“تم میرے گھر بادام کھانے آئے ہو؟”نائل کو اس کا اطمینان زہر لگا تھا۔
“ایک آئیڈیا ہے میرے پاس،تھوڑا فلمی ہے مگر….”
“بتاؤ…..”
“تم وانیہ کو گھر لانا چاہتے ہو نا تو تم ڈیوڈ سے کہو کہ وہ تمہیں تمہاری بہن واپس دے دے۔”
“تم جب بھی کرنا بکواس ہی کرنا۔میں کہوں گا اور وہ عزت سے اسے یہاں چھوڑ جائے گا۔اور تو اور وہ تو خود اپنے سرتاج اور میرے سردرد کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔”محسن کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“تم اس سے کہو کہ وہ تمہیں تمہاری بہن واپس کر دے اور بدلے میں اپنی بہن لے جائے۔دیکھنا خود چھوڑ کر جائے گا وانیہ کو…..”
“تمہارا دماغ سیٹ ہے؟”نائل کو اس وقت وہ پاگل لگا تھا۔
“کہاں سے لے کر آؤں اس کی بہن کو،قبر سے…..؟”وہ اچھا خاصا تپا تھا۔
“صرف کہنے سے کیا ہوتا ہے۔جب وانیہ یہاں آ جائے تو تب کی تب دیکھی جائے گی۔”
“تمہیں لگتا ہے کہ وہ اتنا بیواقوف ہے۔”نائل کو اس کا آئیڈیا بالکل بھونڈا لگا تھا۔
“تمہارے پاس اس سے بہتر آئیڈیا ہے تو اس پر عمل کر لو۔”
“تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میں اس سے کہوں کہ صوفی زندہ ہے۔”
“صوفی زندہ ہے؟”اپنے پیچھے سنیہا کی آواز سنتے وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا۔
“مجھے پہلے ہی پتا تھا،آپ ایک نمبر کے دھوکے باز انسان ہیں۔”وہ روتے،پیر پٹختے وہاں سے گئی تھی۔
نائل نے خونخوار نگاہوں سے محسن کو گھورا تھا۔
“یہ میرا قصور نہیں ہے۔”محسن نے ہاتھ اٹھائے کہا تھا۔
“مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ تم میرے سب سے بڑے دشمن ہو۔خود تو بسا لیا ہے اپنا گھر، میرا نا بسنے دینا۔”
“اب جا کر بتاؤ اسے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔میری زندگی میں صرف سنیہا ہے،صوفی نہیں…..”
“دیکھو یہ تمہارا پرنسنل میٹر ہے۔مجھے ویسے بھی دیر ہو رہی ہے۔”
“محسن…..”نائل نے اسے آواز دی تھی مگر وہ نو دو گیارہ ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
