93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 40)

کافی دنوں بعد آج ایک بار پھر نائل اور اسفند کی ملاقات ہو رہی تھی۔یہ ملاقات گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی ہوئی تھی کیونکہ نائل کو جلدی تھی۔اسے کہیں اور جانا تھا۔

“میں چاہتا ہوں کہ تم کچھ ایسا کرو کہ ڈیوڈ کے سامنے ساری حقیقت کھل جائے۔کچھ ثبوت اکھٹے کرنے ہونے گے تمہیں….میں اس کے ذریعے پورے ڈارک ورلڈ تک رسائی چاہتا ہوں۔”

“آپ کو لگتا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے گا؟”نائل کا اسطرح ڈیوڈ کا ذکر کرنا اسفند کو ایک آنکھ نا بھایا تھا۔

“جب ساری حقیقت اس کے سامنے کھل جائے گی تو سوائے پچھتاوے کے اس کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔اور مجھے یقین ہے کہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ ہماری مدد ضرور کرے گا۔”نائل اچھی طرح جانتا تھا کہ ڈیوڈ دل کا برا نہیں ہے۔اسے ایسا بننے پر مجبور کیا گیا ہے۔

“آپ فکر مت کریں۔ایسا ہی ہو گا۔”چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے اس نے بامشکل کہا تھا۔

“تمہاری بھول ہے نائل!ایسا کبھی نہیں ہو گا۔میں اس کے دل میں تمہارے لیے نفرت بڑھا تو سکتا ہوں لیکن یہ دشمنی کبھی ختم نہیں ہو گی۔”وہ نائل اور ڈیوڈ کو کبھی بھی ایک نہیں ہونے دے سکتا تھا۔اتنی محنت سے تو اس نے

آئی۔ایس۔آئی اور ڈارک ورلڈ میں قدم جمائے تھے۔اب اپنی ہار اسے کسی صورت قبول نہیں تھی۔

وانیہ اور عائزہ آج ایک بار پھر لیکچر بنک کر کے کیفے میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔دنیا کا ہر اکاؤنٹ ہیک کرنے والی،مختلف چیزیں اور کیمیکلز ایجاد کرنے والی اپنی کورس کی کتابوں سے بھاگتی تھی۔اسے پڑھنا ایک آنکھ نا پسند تھا۔

“ویسے میں سوچ رہی تھی کہ یہ ڈراموں میں بلاوجہ فضول چیزیں دکھاتے ہیں۔خاص کر یہ چائنیز اور کورین ڈراماز….کوئی لاجک ہی نہیں ہوتا۔اب میں نے کل ہی ایک ڈراما دیکھا،اس میں جو ولن ہوتا ہے وہ سائیکو ہوتا ہے اور اسے لوگوں کو مارنے میں مزا آتا ہے۔حقیقت سے تو ان سب چیزوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔”چیپس کو دانتوں سے کترتے عائزہ نے اپنی مفید رائے دی تھی جو کہ فورا ہی رد ہو گئی تھی۔

“تمہیں کس نے کہا کہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے؟”وانیہ نے شاکی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تھا۔

“مطلب….؟”عائزہ نے ماتھے پر بل ڈالے ناسمجھی سے وانیہ کو دیکھا تھا۔

“یہ سائیکو پاتھ اصل زندگی کے سائیکو پاتھ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے۔ہم اپنے گھروں میں ایک سیو زون میں بیٹھے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ بس یہی دنیا ہے جبکہ حقیقت اس سے بہت زیادہ مختلف ہے۔تمہیں پتا ہے عائزہ اس دنیا کے علاؤہ بھی ایک دنیا ہے جسے ہم ڈارک ورلڈ یا پھر اور بھی بہت سے نام دے سکتے ہیں۔دنیا کے بڑے بڑے امراء اور بزنس مین اس میں شامل ہیں۔انٹرنیٹ پر ڈارک ویب سائٹس موجود ہیں۔ایسی ویب سائٹس جہاں عام لوگ رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔تمہیں پتا ہے وہاں کیا کیا ہوتا ہے؟”

“کیا….؟”عائزہ کی دلچسبی بڑھی تھی۔

“وہ سب کچھ جو ہماری سوچ سے پرے ہے۔وہ لوگ بچوں اور عورتوں کو کڈنیپ کرتے ہیں۔پھر یہ بڑے بڑے امیر زادے جو کہ درحقیقت سائیکو ہی ہوتے ہیں….یہ سب بولیاں لگاتے ہیں کہ فلاں خاتون یا بچے کو اس طرح سے ٹارچر کرو اور اس کی وڈیو ہمیں بھیجو تو ہم تمہیں اتنے پیسے دے گے۔پھر ان کی چیخ و پکار سے یہ لوگ محظوظ ہوتے ہیں۔کڑوروں رپوں میں ایک وڈیو خریدی جاتی ہے۔وہ لوگ مختلف قسم کے مظالم ڈھاتے ہیں….مثلا ناخن اتار کر مرچیں رکھ دینا،ڈرلر مشین سے کسی کے ہاتھ اور ٹانگ میں ہول کرنا….اور بھی بہت کچھ جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

زیادہ مظالم خواتین پر ڈھائے جاتے ہیں کیونکہ ان کی نسوانی چیخیں انہیں سکون پہنچاتی ہیں۔”وانیہ کی بات مکمل ہونے پر عائزہ نے جھرجھری لی تھی۔یہ سب تو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

“میری تو بس ایک ہی خواہش ہے کہ بس ایک بار اس دنیا کو دیکھ لوں،ایک نئے ایڈوینچڑ کے طور پر….”

“تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا….؟”عائزہ بیچاری کا تو منہ ہی کھل گیا تھا۔

“بالکل ٹھیک ہے۔بس ایک بار کسی سائیکوپاتھ  سے پالا پڑ جائے۔مزا ہی آ جائے گا۔”وہ ایکسائیڈڈ ہوئی تھی۔

“تم بھی ایک سائیکوپاتھ ہی ہو۔”عائزہ نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔

“ہاں شاید تم ٹھیک کہتی ہو۔”وانیہ نے تہے دل سے اقرار کیا تھا۔

“ویسے تمہیں نہیں لگتا کہ ان عورتوں اور بچوں کو انصاف ملنا چاہیئے بلکہ اس دنیا کے ہر اک مظلوم کو….؟”عائزہ کے دماغ میں اچانک ہی ایک ترکیب آئی تھی۔

“ملنا تو چاہیئے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔”وانیہ نے سٹرا کی مدد سے جوس پیتے ہوئے لاپروائی سے کہا تھا۔

“ٹھیک کہہ رہی ہو۔اس سب کے لیے تو ایک ایسی جگہ ہونی چاہیئے جہاں سب کو انصاف مل سکے۔”عائزہ کی آنکھوں میں چمک در آئی تھی۔

“ہاں مگر ایسی جگہ کہاں ملے گی؟”وانیہ کے لہجے میں اب بھی لاپروائی تھی۔

“آخرت….جہاں ہر ایک کو انصاف ملے گا۔اپنے اعمال کے عوض لوگ جنت یا دوزخ میں جائے گے۔”وانیہ کو زبردست کھانسی آئی تھی۔اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ عائزہ گفتگو کا رخ اس طرف موڑے گی۔

“تم ٹھیک کہتی ہو۔ایسی جگہ ہونی چاہیئے مگر ایسا کچھ ہو گا اس بات کا کیا ثبوت ہے؟جب کسی آنکھ نے یہ سب دیکھا ہی نہیں تو میں کیسے مان لوں کہ آخرت حقیقت میں ہو گی؟؟”خود کو کمپوز کرتے وانیہ نے عائزہ کو مشکل میں ڈال دیا تھا مگر اس بار اس کی تیاری بھی مکمل تھی۔

“تم نے کبھی دل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے یا پھر تم کبھی پیرس گئی ہو؟”

“نہیں….!”اس کے جواب پر عائزہ کی آنکھوں کی چمک مزید گہری ہوئی تھی۔

“پھر تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ تمہارے سینے میں دل دھڑکتا ہے یا پھر اس دنیا کے نفشے پر پیرس نام کی کوئی جگہ ہے؟”اس سوال پر وانیہ صحیح معنوں میں گڑبڑا گئی تھی۔وہ کچھ دیر جواب تلاش کرتی رہی تھی پھر اچانک ہی اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا۔

“میں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا مگر لوگوں نے تو دیکھا ہے نا….تصویرں موجود ہیں،تمام تر ثبوت موجود ہیں۔آخرت کے ہونے کا کیا ثبوت ہے؟کیا کبھی کسی نے آخرت کا سفر کیا ہے؟کیا کوئی تصاویر یا کوئی ثبوت موجود ہے؟؟”عائزہ کچھ دیر افسوس سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر اس نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔

“اللہ تمہیں ہدایت دے۔”اس نے بالآخر ہار مانی تھی۔وانیہ کے سوالات کے جوابات دینا اس کے بس سے باہر تھا۔

“اگر دعا دینی ہے تو میرے کام کی دو بلکہ تم رہنے دو میں خود ہی مانگ لیتی ہوں۔”اس نے کہتے ساتھ ہی آسمان کی جانب دیکھا تھا۔

“اے اللہ!میں نہیں جانتی کہ یہی سب غیر منطقی چیزیں ہیں یا نہیں لیکن مجھے تیری ذات پر بھروسہ ہے۔میں نے بہت بار دعا مانگی ہے اور میری ہر دعا ہی قبول ہوتی ہے۔آج ایک اور دعا مانگتی ہوں….جنت نا سہی مگر جہنم کا سفر تو کروا ہی دے مجھے….”عائزہ نے باقاعدہ اپنا سر پیٹا تھا۔وہ دعا مانگ بھی رہی تھی تو کیا….؟

لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں دوسروں کے تجربوں سے سیکھنا چاہیئے،عبرت حاصل کرنی چاہیئے۔مگر جو عبرت اور جو سبق انسان کو اپنے تجربے سے ملتا ہے وہ سبق انسان کبھی نہیں بھولتا۔وانیہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا تھا۔

زندگی نے اسے وہ سبق دینا تھا جسے وہ ساری زندگی نہیں بھول سکے گی۔

ماہم لاؤنچ میں بیٹھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی جب نائل گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔

“پھوپھو وانیہ کہاں ہے؟”وہ بہت زیادہ بےچین لگ رہا تھا۔

نائل نے وانیہ کے لیے ایک نئی کار خریدی تھی۔وہ وانیہ کو سرپرائیز دینا چاہتا تھا اسی وجہ سے وہ گھر جلدی واپس آیا تھا۔

“اپنے کمرے میں ہو گی۔”ماہم نے لاپروائی سے جواب دیا تھا۔نائل تیزی سے وانیہ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔

وہ اسے آوازیں دیتا رہا تھا مگر وہ وہاں نہیں تھی۔

“پھوپھو وانیہ کمرے میں نہیں ہے۔”وہ جھنجھلایا تھا۔

“پھر اپنے پینٹنگ روم میں ہو گی۔کہہ تو رہی تھی کہ کوئی نئی پینٹنگ بنانی ہے۔”اس کا دھیان اب بھی کتاب کی طرف ہی تھا۔

“اچھا میں دیکھتا ہوں۔”

“مت جاؤ نائل!تمہیں پتا تو ہے کہ وانیہ کو کسی کا بھی وہاں جانا پسند نہیں ہے۔”

“سب ٹھیک ہے نا پھوپھو؟”وہ ان کے لہجے میں بیزاری کو محسوس کر چکا تھا۔

“ہاں ٹھیک ہے۔”کتاب سائیڈ پر رکھے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔

“پھوپھو!مجھے سچ سچ بتائیں کہ کیا ہوا ہے؟”نائل قدم قدم چلتا ماہم تک گیا تھا۔

“کچھ خاص نہیں!بس میں نے وانیہ سے کہا تھا کہ مجھے بھی اپنی نئی پینٹنگ دکھاؤ مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔”

“او ہو پھوپھو!آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ہو سکتا ہے کہ وہ مکمل ہونے سے پہلے کسی کو نا دکھانا چاہتی ہو۔چلیں آئیں!ہم دونوں مل کر کلاس لیتے ہیں وانیہ کی….”ماہم کو خود سے لگائے نائل نے بہت محبت سے کہا تھا۔

“میں اس کمرے میں نہیں جاؤں گی۔تمہیں جانا ہے تو جاؤ۔”وہ اب بھی خفا خفا سی لگ رہی تھیں۔

“ٹھیک ہے میں ہی چلا جاتا ہوں اور کان پکڑ کر لے کر آتا ہوں اسے….”نائل نے مسکراتے ہوئے قدم آگے بڑھائے تھے۔

اس کمرے تک پہنچتے نائل نے دروازہ کھولا تھا۔ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تھی۔ایک دم ہی پورے کمرے میں روشنی پھیل گئی تھی۔نائل نے متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھا تھا مگر وانیہ اسے کہیں نہیں دکھی تھی۔اس نے دو،تین بار اسے آواز بھی دی تھی مگر کوئی جواب نہیں ملا تھا۔

“یہ لڑکی بھی نا….!”وہ سر جھٹکتے آگے بڑھا تھا۔ایک طرف پینٹ برشز اور پینٹ پڑے ہوئے تھے۔

دیواروں پر مختلف قسم کی خوبصورت پینٹنگز بنی ہوئی تھیں۔

وہ زیادہ تر قدرت پر پینٹنگ بناتی تھی۔کسی خوبصورت جگہ،پھول یا پھر کسی خوبصورت منظر کی….

نائل نے ایک نظر دیوار پر لگی پینٹنگز کو دیکھا تھا۔اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔یہ پینٹنگز تو تقریبا دو سال پرانی تھیں پھر وہ دن رات پینگنگز کا کہہ کر یہاں کیا کرتی رہتی تھی؟؟

اس نے آگے بڑھتے ہوئے ایک کینوس سے پردہ ہٹایا تھا۔وہ خالی تھا۔ایک کے دوسرا،دوزرے کے بعد تیسرا….سب ہی خالی تھے۔وہ کچھ نیا نہیں بنا رہی تھی پھر اس نے ماہم سے کیوں جھوٹ بولا….؟

وہ زیرک نگاہیں رکھتا تھا۔وہ ایک آئی۔ایس۔آئی ایجنٹ تھا مگر اس کے باوجود بھی اسے کبھی وانیہ پر شک نہیں ہوا تھا۔وجہ صرف یہ تھی کہ وہ اس کی بہن تھی….چھوٹی اور معصوم بہن….اس کی آنکھوں پر اعتماد اور محبت کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔

ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی سماعتوں سے موبائل کی رنگ کی آواز ٹکرائی تھی۔ یہ آواز دیوار کے پیچھے سے آ رہی تھی۔نائل اچھی طرح جانتا تھا کہ یہاں ایک خفیہ کمرہ ہے مگر وہ تو کسی کے زیر استعمال نہیں تھا۔اس نے خود بہت عرصے پہلے اسے لاک کیا تھا تو پھر وہاں سے فون کی گھنٹی کی آواز….؟

نائل نے قدم آگے بڑھا کر دیوار کے ایک طرف ہاتھ رکھا تھا۔دروازہ اس کے سامنے تھا مگر لاک تھا۔کچھ دیر ادھر ادھر ڈھونڈھنے کے بعد وہ چابیاں ڈھونڈھنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

دروازے میں چابی گھمائے اس نے اندر قدم رکھا تھا۔کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔نائل نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کرتے سوئچ تلاش کیا تھا۔

بٹن دباتے کمرے میں مدھم مدھم سی نیلی روشنی ہو گئی تھی۔اس روشنی میں سب واضح تھا۔ نائل کی آنکھیں حیرت کے مارے کھل گئی تھیں۔جو وہ دیکھ رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔

ایک طرف مختلف قسم کے کمپیوٹرز رکھے ہوئے تھے۔تاروں کی مدد سے سارا سسٹم سیٹ کیا گیا تھا۔نائل نے شاک کی کیفیت میں قدم آگے بڑھائے تھے۔اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ یہ ساری ڈیوائس اور کمپیوٹرز ہیکنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ابھی وہ اسی شاک سے باہر نہیں نکلا تھا جب اس کی نظر دوسرے کونے پر پڑی تھی۔اس نے میز کا سہارا لیے اپنی حیرانگی پر قابو پانے کی کوشش کی تھی۔وہاں کیمیکلز کے ساتھ ساتھ سانپ،بچھو اور بھی نجانے کیا کیا تھا۔ان کانچ کے شیشوں سے وہ باآسانی سب دیکھ سکتا تھا۔

نائل کو زبردست چکر آئے تھے۔یہ سب اس کی سوچ سے پڑے تھا۔یہ سب کون کر سکتا تھا؟یہاں پر تو کوئی نہیں آتا تھا تو پھر یہ سب….؟

اس کا دماغ اسے سب بتا اور سمجھا چکا تھا مگر اس کا دل

اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

“نہیں!وانیہ نہیں….!”اس کے لب اپنے آپ ہلے تھے۔وہ فورا قدم باہر کی جانب بڑھا گیا تھا۔

اس کمرے سے نکلتے اب وہ مسلسل وانیہ کو آواز دیتے ایک بار پھر اس کے کمرے میں گیا تھا۔وہ وہاں نہیں تھی۔

کچھ دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد نائل نے اس کے کمرے کی تلاشی لینا شروع کی تھی۔اگلے دس منٹ تک وہ اس کا سارا کمرہ الٹ چکا تھا۔وہاں ایسی ویسی کوئی چیز نہیں تھی جو کہ وانیہ کو مشکوک ظاہر کرے۔

تھک ہار کر وہ بستر پر بیٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر کارپیٹ پر گری رپورٹس پر پڑی تھی۔وہ وانیہ کی رپورٹس تھیں۔

نائل نے اپنی جگہ سے اٹھتے ساتھ ہی جھک کر وہ رپورٹ اٹھائی تھی۔رپورٹس کو کھولے اس کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے رکی تھی۔

اس کے ہاتھ سے رپورٹس نیچے گری تھیں۔ان رپورٹس کے مطابق وانیہ کی مینٹل ہیلتھ بالکل ٹھیک تھی۔

نائل نے اپنا ہاتھ اپنی تر پیشانی پر پھیرا تھا۔اچانک ذہن میں جھماکہ ہوتے ہی اس نے دراڑ کھولے اس میں سے وانیہ کی میڈیسن نکالی تھیں۔اب وہ موبائل نکالے کچھ دیر ان میڈیسنز کا نام سرچ کر رہا تھا۔

سرچ کرنے کے بعد اس کی آنکھوں میں سرخی اتری تھی۔لب بھینچے وہ غصے سے باہر کی جانب بڑھا تھا۔