93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 18)

محسن ہسپتال کے بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا تبھی ساشا دروازہ کھولے اندر داخل ہوئی تھی۔
“محسن…!”اس کے پکارنے پر محسن نے آہستگی سے آنکھیں کھولی تھیں۔
“آکاؤنٹ میں پیسے موجود ہیں۔میں نے ابھی چیک کیا ہے۔”ساشا نے موبائل محسن کے سامنے کیا تھا۔اس کا دماغ
صحیح معنوں میں چکرایا تھا۔
“نہیں!مجھے خوو زیرو بینک بیلنس کا میسیج آیا تھا۔”
محسن نے اپنا موبائل ساشا کو دیا تھا۔کچھ دیر سکرول کرنے کے بعد اس نے سکرین محسن کے سامنے کی تھی۔وہ ہکا بقا رہ گیا تھا۔وہاں کوئی میسیج نہیں تھا۔
“یہ نا ممکن ہے۔”اسے اپنے دماغ میں ہتھوڑے بجتے سنائی دے رہے تھے۔یعنی جس میسج نے اسے ہسپتال کے بستر تک پہنچا دیا تھا،وہ میسج در حقیقت تھا ہی نہیں…
“نائل!نائل نے بھی تو دیکھا تھا نا…!”اسے سو فیصد یقین تھا کہ میسج تھا۔مگر سوال یہ تھا کہ اب میسج کہاں گیا؟
نائل کے آنے کے بعد محسن نے پہلا سوال اس سے میسیج کا ہی پوچھا تھا۔
“نائل!تم نے میرے فون میں وہ میسج دیکھا تھا نا…؟”
“نہیں!میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔اس وقت سچویشن ایسی تھی کہ مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آیا۔”ساشا اور
نائل نے اسے تسلی دی تھی کہ شاید اس نے اپنے بیٹے کے آپریشن کو کچھ زیادہ ہی سر پر سوار کر لیا ہے مگر محسن مطمئن نہیں تھا۔اسے اچھے سے یاد تھا کہ اس نے میسج دیکھا تھا۔تھوڑی دیر بعد وانیہ ماہم کے ساتھ محسن سے ملنے آئی تھی۔نائل کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اس نے محسن سے ملنے کی بہت ضد کی تھی،اور وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی بہن کی ضد کے آگے ہار گیا تھا۔
“محسن بھائی کیسے ہیں آپ؟”وانیہ نے گلاب کے پھولوں کا دستہ اس کی جانب بڑھایا تھا۔محسن نے مسکرا کر وہ گلدستہ تھاما تھا۔
“اچانک سے کیا ہو گیا آپ کو؟”اس کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
“کچھ خاص نہیں!اب ٹھیک ہوں میں…!”محسن نے عام سے انداز میں کہا تھا۔
“ٹھیک تو ہونا ہی تھا نا!آخرکار پھول جو لے کر آئی ہوں میں آپ کے لیے…”وانیہ کے شاکی انداز پر ساشا مسکرا
دی تھی۔
“پھول لانے والی واقعی بہت خاص ہے۔”فروٹس کی پلیٹ کو محسن کی طرف بڑھتے ساشا نے نرمی سے کہا تھا۔
“پھول بھی بہت خاص ہیں۔پورے پچاس لاکھ ساٹھ ہزار اکیس روپے کے پھول ہیں یہ…!”جہاں وانیہ کی بات پر ساشا کھلکھلائی تھی وہیں محسن کی رنگت اڑی تھی۔اس نے چونک کر وانیہ کی جانب دیکھا تھا۔اس کے اکاؤنٹ میں اتنی ہی رقم موجود تھی۔
“تو کیا اس سب کے پیچھے وانیہ…؟”محسن نے بےاختیار اپنی پسینے سے تر پیشانی کو چھوا تھا۔
“وانیہ ہیکر ہے۔”اس کے دماغ نے فورا ہی گھتی سلجھا دی تھی۔
“مگر کیسے؟؟”وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔وانیہ کا موبائل ٹریس نا ہونا،اپنی چیزوں کو کسی کو نا چھونے دینا،اکاؤنٹ سے پیسے غائب ہونا پھر اچانک ہی واپس آ جانا…یہ سب چیزیں تو یہی بتا رہی تھیں کہ وہ کوئی عام ہیکر بھی نہیں ہے۔مطلب صاف
ظاہر تھا کہ وانیہ پروفیشنل تھی۔وہ ساشا سے زیادہ جانتی تھی۔
“میں تمہیں ایکسپوز کر کے رہوں گا وانیہ…”محسن نے عہد کیا تھا۔وہ لڑکی کس حد تک اور کیا کیا کر سکتی تھی، محسن یہ جاننا چاہتا تھا۔

محسن کی حالت ٹھیک ہونے کے بعد وہ لوگ گھر آئے تھے۔نائل بھی اس کے ساتھ آیا تھا جبکہ دماغ میں صرف سنیہا ہی گھوم رہی تھی۔کتنی آسانی سے اس نے کہہ دیا تھا کہ
وہ اچھا شوہر تو دور کی بات اچھا انسان بھی نہیں ہے۔حالانکہ نائل نے تو معافی بھی مانگ لی تھی۔
“محسن!کیا تمہارے اور ساشا کے درمیان کبھی جھگڑا ہوا ہے؟”
“روز ہی ہوتا ہے۔”محسن نے اس انداز سے کہا تھا جیسے یہ کوئی بڑی بات نا ہو۔
“میرا مطلب ہے اس نے تم سے کبھی کہا ہے کہ تم بالکل بھی اچھے شوہر نہیں ہو۔”وہ غیر محسوس انداز میں نا صرف سنیہا کے بارے میں سوچنے لگا تھا بلکہ اس کی باتوں کو بھی اہمیت دینے لگے تھا۔
“وہ تو روز ہی کہتی ہے۔خیریت تو ہے نا؟”محسن کو اس کا اسطرح سوال جواب کرنا بہت عجیب لگ رہا تھا۔
آج سے پہلے تو نائل نے کبھی اس سے اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔
“اگر ساشا کبھی تم سے ناراض ہو جائے تو تم اسے کیسے مناتے ہو؟”اس سوال پر محسن کے لب مسکرائے تھے۔اب
کہیں جا کر معاملہ اسے سمجھ آنے لگا تھا۔
“میں اسے شاپنگ پر لے کر جاتا ہوں۔”نائل کے چہرے پر ڈھیروں سکون چھایا تھا۔یہ چیز اس نے پہلے کیوں نہیں
سوچی تھی۔شوپنگ تو لڑکیوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وانیہ کو بھی تو شاپنگ بہت پسند تھی۔یقینا ہر لڑکی کو ہوتی ہے۔
اس کا مسئلہ تو جیسے حل ہی ہو گیا تھا۔
کچھ دیر خیالوں میں ڈوبے رہنے کے بعد اس کی نظر محسن پر پڑی تھی جو کہ نہایت دلچسب نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کیا ہے؟”نائل نے جھنجھلا کر پوچھا تھا۔
“زن مریدی مبارک ہو۔”محسن نے اسے سلیوٹ پیش کیا تھا۔
“Shut up!”
اسے جھڑکتے وہ سر جھٹکتے وہاں سے اٹھا تھا۔اس کے جانے کے بعد محسن کا قہقہ چھت پھاڑ تھا۔
یہاں سے سیدھا وہ فارم ہاؤس گیا تھا۔سنیہا کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے فورا لائٹ آن کی تھی۔کمرے میں اچانک روشنی ہونے کی وجہ سے سنیہا کی آنکھ کھل گئی تھی۔اصل جھٹکا تو اسے نائل کو اپنے سامنے دیکھ کر لگا تھا۔کم از کم وہ آج دوبارہ اس کی آمد کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
“اٹھو چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ۔”نائل نے ریسٹ واچ کی طرف دیکھے اجلت بھرے انداز میں کہا تھا۔
اس بیچاری کی تو آنکھ بھی صحیح سے نہیں کھلی تھی۔بہت مشکل سے وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“چلو چلو جلدی کرو!ہمیں شاپنگ پر جانا ہے۔”
“جی…؟؟”سنیہا نے اپنی آنکھیں مسلی تھیں۔یہ خواب تھا یا حقیقت..خواب میں تو وہ شخص کبھی اسے شاپنگ پر نہیں لے جا سکتا تھا اور حقیقت میں تو یہ بالکل ناممکن تھا۔
“ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں۔تم جلدی سے تیار ہو جاؤ۔”نائل نے بہت عام سے انداز میں کہا تھا۔سنیہا تو بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔کیا وہ اس کی اس حالت کا مذاق اڑا رہا تھا؟یقینا وہ یہی کر رہا تھا۔
“میرے پیر پر فیکچر ہے۔میں اس وقت بیڈ ریسٹ پر ہوں۔”صبر کے گھونٹ بھرتے سنیہا نے دانت کچلاتے ہوئے کہا
تھا۔
“تو…؟”نائل نے لاپروائی سے کندھے اچکائے تھے۔سنیہا کا منہ بےاختیار کھل گیا تھا۔
“دیکھو!میں کچھ نہیں جانتا،تم جلدی سے تیار ہو۔ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں۔”یہ حتمی فیصلہ تھا۔وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہی تھی۔
“کیا یہ اذیت پہنچانے کا نیا طریقہ تھا؟ہاں!ایسا ہی تھا۔”اس نے فورا اپنے خیال کی تصدیق کی تھی۔
“تمہیں سنائی نہیں دے رہا؟”اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔وہ اپنی عادت سے مجبور تھا۔لڑکیوں سے پیار
سے بات کرنا تو اسے آتا ہی نہیں تھا۔اب تک اس کی جتنی بھی گرل فرینڈز اور نام نہاد بیویاں تھیں،وہ اس کے اسی ایٹیٹیوڈ اور لکس پر تو فدا تھیں۔مگر سنیہا اس سب سے متاثر ہر گز نہیں ہوتی تھی۔
“میں اس حالت میں ایک انچ بھی نہیں ہل سکتی۔تو شاپنگ پر کیسے جاؤں؟”یا تو سامنے کھڑا شخص پاگل تھا یا پھر وہ اسے پاگل بنا رہا تھا۔
“تمہیں پتا ہے تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟”نائل غصے سے اس کی جانب بڑھا تھا۔
“تم نا چاہتی ہی نہیں ہو کہ میں اچھا شوہر بن سکوں۔”وہ تپے ہوئے انداز میں اس کے قریب ہی بستر پر بیٹھا تھا۔
“اچھا شوہر…؟”سنیہا ناسمجھی سے بڑبڑائی تھی۔
“دیکھو!مجھ سے نا یہ بیویوں کے بلاوجہ کے چونچلے نہیں اٹھائے جاتے تو پھر تم مجھ سے ایسی کوئی امید مت رکھنا۔”وہ بیچاری حیران و پریشان سی اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔اس نے کب کوئی فرمائش کی تھی؟اس نے کب بیویوں والے نخرے دکھائے تھے؟
“میں ہمارے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن شاید تم یہ نہیں چاہتی۔”وہ غیر محسوس انداز میں اس کے مزید قریب ہوا تھا۔پہلی بار شاید ان دونوں کے درمیان کوئی نارمل گفتگو ہو رہی تھی۔نائل کا یہی خیال تھا جبکہ سنیہا کا تو دماغ بالکل گھوم کر رہ گیا تھا۔
“مطلب…؟”یہ لفظ اس کی زبان سے خودبخود ادا ہوا تھا،کیونکہ اس وقت دماغ سے تو وہ کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔
“مطلب صاف ہے کہ تم میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی۔ایک میں ہوں جو تمہیں شاپنگ پر لے کر جانا چاہتا ہوں تا کہ تم خوش ہو سکو اور ایک تم ہو کہ…”نائل نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔سنیہا نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے چکراتے سر کو تھاما تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟”اسے اپنا سر تھامتے دیکھ نائل کو تشویش ہوئی تھی۔
“نہیں!میں بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں۔تم پلیز مجھے کسی پاگل خانے میں ایڈمٹ کروا آؤ۔”اس کی آنکھ سے آنسو گرا
تھا۔ایک تو پاؤں کی تکلیف،اوپر سے اس پاگل شخص کی بےبنیاد باتیں…
“تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔میں ابھی کال کرتا ہوں۔”نائل نے باقاعدہ اپنا فون جیب سے نکالا تھا۔اس کے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر سنیہا کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔
“تم بہت برے شوہر ہو۔”آنکھوں میں آنسوؤں کا ریلہ امڈ آیا تھا۔سنیہا نے انہیں بہنے دیا تھا۔
“اب کیا کر دیا میں نے؟”نائل سخت جھنجھلایا تھا۔ایک تو وہ اچھا شوہر بننے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کی بیوی کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے۔
“تم پلیز چلے جاؤ یہاں سے…!”وہ ہچکیوں کے درمیان بامشکل کہہ سکی تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ!”وہ اپنے اچھے شوہر بننے کے ارادے پر لعنت بھیجتا غصے سے وہاں سے اٹھا تھا۔
اب وہ مسلسل ٹیرس پر ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا۔
“یہ لڑکی عزت کے قابل ہی نہیں ہے۔”نائل کا غصے سے برا حال تھا۔غصہ تو اسے محسن پر بھی آیا تھا کہ اس نے اسے غلط مشورہ کیوں دیا تھا۔محسن سے وہ بعد میں نپٹنے کا ارادہ رکھتا تھا فالحال وہ اچھا شوہر بننے کی ایک اور کوشش کرنا چاہتا تھا۔لہذا اس نے اب کسی انسان سے مدد
لینے کے بجائے گوگل کی مدد لی تھی۔
“اچھے شوہر بننے کا طریقہ…”نائل نے باقاعدہ سرچ کیا تھا۔کسی اور کو اس کی اس حرکت کے بارے میں علم ہو جاتا تو یقینا اس نے غش کھا کر ہی گر جانا تھا۔
گوگل پر اتنے سارے آئیڈیاز کو وہ ریجیکٹ کر چکا تھا کیونکہ وہ سب کرنا تو سنیہا کو سر پر چڑھنانے کے مترادف تھے۔بہت ڈھونڈنے کے بعد اسے بالاخر ایک آئیڈیا پسند آ ہی گیا تھا۔

وہ رات کے اندھیرے میں لیمپ کی مدھم روشنی میں ایک بند کمرے میں کرسی پر بیٹھی مسلسل نوٹ پیڈ پر جھکی کچھ بنانے میں مصروف تھی۔بیسویں بار اس نے صفحہ پھاڑ پر پھینکا تھا۔تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے پھر پینسل اٹھائی تھی۔وہ سکیچ بنا رہی تھی۔اس شخص کا سکیچ جو اسے اس رات سڑک کنارے ملا تھا۔بہت محنت کرنے کے بعد بالآخر وہ سکیچ بنانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔اس نے خوشی سے اپنے بنائے گئے سکیچ کو دیکھا تھا۔ماسک میں موجود وہ پراسرار شخصیت…رات ک روشنی میں چمکتی سیاہ آنکھیں…
“شاہین…!”اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
“بس ایک بار،صرف ایک بار شاہین!کوئی ٹیکسٹ یا کوئی کال ہی کر لو۔تم دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نا چھپے ہو،وانیہ آفندی تم تک پہنچ جائے گی۔”وانیہ نے اس کی پر کشش آنکھوں کو چھو کر محسور کن انداز میں کہا تھا۔
اسے اب چیزیں یاد رہتی تھیں۔وجہ ان دوائیوں کا نا کھانا تھا جو نائل اسے لا کر دیکھتا تھا۔دیر سے ہی سہی وہ سمجھ چکی تھی کہ ان دوائیوں کے زیر اثر ہی اسے سب بھول جاتا تھا۔
ہاتھ میں سکیچ پکڑے اس نے دیوار پر پن کیا تھا۔یہ کمرہ وانیہ کے زیر استعمال تھا۔بظاہر وہ یہاں پینٹنگ کرتی تھی مگر درحقیقت وہ اسی کمرے سے اپنے سارے کارنامے سرانجام دیتی تھی۔
“بلیک مونسٹر،جیمز اور نینا…یعنی مما!”وانیہ نے دیوار پر لکھے سارے ناموں کو چھو کر دیکھا تھا۔
“باقی لوگ کون تھے؟ایک عورت اور دو آدمی،وہ شخص!کون تھا وہ؟جس نے مما کے ساتھ…”وانیہ نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں۔اس کی آنکھ سے آنسو بہا تھا۔
“ایک ایک کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ماروں گی۔”اس نے سرخی مائل آنکھوں سے دیوار پر لگے ناموں کی طرف دیکھا تھا۔
“اپنی ماں کا انتقام میں خود لوں گی۔”اس نے ایک عزم سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔
کچھ دیر وہاں رکنے کے بعد وانیہ باہر آئی تھی۔باہر آتے ساتھ ہی اس کی نظر سامنے کھڑی سعدیہ پر پڑی تھی۔اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔یہ مصیبت تو اسکے گلے ہی پڑ گئی تھی۔
“میم!اتنی دیر تک آپ کا جاگنا آپ کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے۔”وانیہ نے بدقت مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“کرتی ہوں تمہارا بندوبست…”منہ میں بڑبڑاتی ہوئی وہ کمرے میں گئی تھی۔

صبح کے وقت مصطفی آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“جاناں!ٹائی…”مصطفی نے اپنی بیگم کی طرف دیکھے محبت سے کہا تھا۔
“کوئی کام میرے بغیر بھی کر لیا کریں۔”وہ اپنے شوہر کو شکایتی نگاہوں سے گھورتی ٹائی باندھنے لگی تھی۔
“آپ کے بغیر تو مصطفی سانس بھی نا لے۔”اپنی بیوی کو کندھوں سے تھامتے مصطفی نے نرمی سے کہا تھا۔
“بس کر دیں اب تو،ہماری جوان اولاد ہے۔”سنہری آنکھوں میں شکوہ تھا۔
“اولاد سے یاد آیا،کہاں ہے آپ کا لاڈلہ؟کب تک واپسی کا پلین ہے؟”
“کل کی فلائیٹ ہے۔اور آپ پلیز میرے بیٹے کو بالکل بھی نہیں ڈانٹیں گے۔”
“جو حکم!”مصطفی نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھے تابعداری سے کہا تھا۔
“بیٹی کا بھی کچھ خیال کر لیں۔”مانو نے منہ پھلائے دروازہ ناک کیا تھا۔مصطفی بوکھلا کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔
“میں نے کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ اس طرح کسی کی باتیں نہیں سنتے۔”سونی نے اسے ڈپٹا تھا۔
“سونی!میری معصوم بیٹی کو کچھ مت کہا کریں۔”مصطفی نے مانو کو گود میں اٹھاتے اپنی بیوی کو مصنوعی گھوری سے نوازا تھا۔
“جی جی!ایک آپ معصوم اور ایک آپ کی بیٹی معصوم…”
سونی نے شکایتی نظروں سے اپنے شوہر کو گھورا تھا۔
“بھائی کب آ رہے ہیں؟”اپنے باپ سے لپٹتے مانو نے لاڈ سے پوچھا تھا۔
“کل…!”اپنی بیٹی کو گود میں اٹھائے وہ زینے اترتے ڈائینگ ٹیبل کی جانب بڑھ رہے تھے۔
“ڈیڈ!میں پندرہ سال کی کب ہوں گی؟”اس کی پٹر پٹر شروع ہو چکی تھی۔
“پندرہ سال کی کیوں ہونا ہے آپ نے…؟”مانو کو کرسی پر بٹھائے اب وہ اپنی بیگم کے آنے کا انتظار کر رہے تھے جو کہ زینے اترتے آہستگی سے نیچے آ رہی تھی۔
“مجھے بین جتنا بڑا ہونا ہے۔”
“کون بین…؟”مصطفی نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تھا۔
“میرا دوست بین ٹین…!”مانو نے شرما کر کہا تھا۔مصطفی کا قہقہ فلک شگاف تھا۔
“چلو!اب ہم ناشتہ کرتے ہیں۔”مصطفی نے اپنی بیٹی کی پلیٹ لگاتے کہا تھا۔
“سونی!میں نے آج اپنے دوست کو ان کی فیملی سمیت انوائیٹ کیا ہے۔رات کے کھانے کا خاص اہتمام کرنا۔”سونی نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔
“تمہیں یاد ہے ہم جب ان کے گھر گئے تھے ڈنر پر،وہ حال ہی میں یہاں پاس ہی میں شفٹ ہوئے ہیں۔”
“اچھا اچھا!”سونی کو یاد آ ہی گیا تھا۔اپنی بیٹی کی غلطی کی وجہ سے وہ پہلے ہی کافی شرمندہ تھی۔نجانے مانو کیوں ان کے بیٹے کی گاڑی میں چھپی تھی۔