93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 17)

نائل محسن کے ساتھ کسی بزنس پارٹی میں گیا تھا۔اس پارٹی میں شہر کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکون انوائیڈڈ
تھے۔نائل کسی کے ساتھ محو گفتگو تھا جب اسے اپنے عقب سے جانی پہچانی آواز سنائی دی تھی۔
“ہائے سالے صاحب!”ڈیوڈ نے اس قدر آہستگی سے کہا تھا کہ صرف نائل ہی اس کی آواز سن سکے۔نائل نے گہری سانس خارج کیے اپنے غصے پر قابو پایا تھا۔اس کی یہاں آمد متوقع تھی۔
“کیسے ہیں آپ مسٹر نائل؟”اس کے سامنے آتے ڈیوڈ نے مسکرا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“بالکل ٹھیک ہوں مسٹر داؤد!”نائل نے بھی بظاہر گرم جوشی سے اس سے ہاتھ ملایا تھا۔
ڈیوڈ کے اشارہ کرنے پر وہ دونوں ہی باقی سب سے تھوڑا الگ ایک سائیڈ پر گئے تھے۔
“وانیہ کے ساتھ تم نے بہت غلط کیا ہے۔اس کی قیمت چکاو گے تم…!”وہ دبا دبا سا غرایا تھا۔
“مگر ابھی تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ٹرسٹ می!”ڈیوڈ نے چہرے پر سنجیدگی سجائے نائل کو یقین دلانا چاہا تھا۔
“میں تمہیں وارن کر رہا ہوں،میری بہن سے دور رہو۔وہ معصوم ہے۔”نائل نے انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دی تھی۔
“تو کیا میں معصوم نہیں تھا؟آپ نے اور آپ کی آئی۔ایس۔آئی ٹیم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا۔کیا وہ ٹھیک تھا؟”یہ
وہ سوال تھا جس پر نائل نظریں چرانے پر مجبور ہو گیا تھا۔
“میں مانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ غلط ہوا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس ملک کے ہر خاندان کو ہی تباہ کر
دو۔”
“میں نے کیا کیا ہے مسٹر نائل آفندی!میں تو بس ایک معمولی سا بزنس مین ہوں۔”ڈیوڈ نے لاپروائی سے کندھے
اچکائے تھے۔
“میں جانتا ہوں کہ تم ہی بلیک مونسٹر ہو۔”اس کے قریب آتے نائل نے سرخی مائل آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑے
کہا تھا۔
“کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟”ڈیوڈ نے ایک تیکھی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی۔
“بہت جلد مل جائے گا۔”
“ویسے ایک چیز میں بھی جانتا ہوں۔”اس کے قریب آتے ڈیوڈ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔نائل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“میں جانتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ شاہین کون ہے۔”اس کے کان کے قریب سرد سرگوشی کرتے ڈیوڈ پیچھے ہٹا تھا۔
“شاہین سے کہیں کہ اگر اتنی ہی ہمت ہے تو سامنے آئے۔یوں پیٹ پیچھے بزدلوں کی طرح وار نا کرے۔”اس کی بات پر نائل کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
“اول تو وہ بزدل نہیں ہے اور دوم تمہارا پیغام اس تک پہنچا دوں گا لیکن سوال یہ ہے کہ تم اسے پہچانو گے کیسے؟”نائل نے اس کا تمسخر اڑایا تھا۔اب کی بار ڈیوڈ کی آنکھوں میں لہو اترا تھا۔
“وہ تمہاری رگ رگ میں بس چکا ہے۔لیکن تم اسے پہچان نہیں سکتے۔”نائل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے گو کہ تسلی دی تھی۔
“دیکھ لوں گا میں تمہیں بھی اور اس شاہین کو بھی…!”نائل وہاں سے جا چکا تھا جبکہ ڈیوڈ کا غصے سے
برا حال تھا۔

گھر شفٹ کرنے کے بعد حاتم کا تکان سے برا حال تھا۔وہ چھپتے چھپاتے بہت مشکل سے وہاں سے نکلا تھا کیونکہ گھر پر ہونے کی صورت میں اسے نا صرف کام کرنے پڑتے بلکہ ساتھ ہی ساتھ ہٹ دھرمی کے طعنے بھی سننے پڑتے۔اس لیے وہاں سے جانا ہی بہتر تھا۔کچھ دیر وہ کالونی میں ادھر سے ادھر گھومتا رہا تھا۔یہ جگہ بہت ہی پرامن اور خوبصورت تھی۔یہاں پر تقریبا شہر کے بڑے بڑے بزنس ٹائیکونز کے بنگلے تھے۔کچھ دیر چلنے کے بعد اس کے قدم
بےاختیار رکے تھے،وجہ سامنے موجود وہ سٹائلش اور قدیم طرز کی حویلی تھی۔ہاں وہ سٹائلش ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ روایتی طرز کی بھی تھی۔وہ بےاختیار قدم آگے بڑھا گیا تھا۔
ابھی وہ اس حویلی کی خوبصورتی میں ہی کھویا ہوا تھا کہ اسے کہیں بہت پاس سے کسی کے کھلکھلانے کی آواز آئی تھی۔
“ٹڈی…؟”مانو کو باہر پارک میں کھیلتے دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
اس حویلی کے بالائی حصے میں ایک چھوٹا مگر خوبصورت قسم کا پارک بنایا گیا تھا۔جس میں مختلف قسم کے جھولے بھی تھے۔کھیلتے کھیلتے اس کی نظر حاتم پر پڑی تھی۔پہلے پہل تو خوشی کے مارے اس کی چیخ ہی نکلی تھی پھر اچانک ہی وہ بھاگتی ہوئی اپنے بڑے سائز کے ٹیڈی بیئر کے پیچھے چھپی تھی۔اس کی اس حرکت پر حاتم کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔آخر وہ کیوں اس سے چھپ رہی تھی؟
وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب گیا تھا۔
“نور…!”حاتم نے آہستگی سے اسے پکارا تھا۔
“کون نور…؟”اپنی بےقابو زبان کو اس نے دانتوں تلے دبایا تھا۔
“میرا مطلب ہے ماہ نور…!”حاتم نے فورا تصحیح کی تھی۔
“میں ٹیڈی بئیر ہوں۔”خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے مانو نے سرگوشی کی تھی۔
“اوہ…!”حاتم نے لبوں کو گول کرتے سر ہلایا تھا۔
“ٹیڈی بئیر کے پیچھے کون ہے؟”حاتم اس کے پاس گھاس پر بیٹھا تھا۔
“کوئی بھی نہیں…!”
“اچھا صحیح!”حاتم نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“یہ گھر ٹیڈی بئیر کا ہے؟”حاتم نے سامنے موجود حویلی کی طرف دیکھا تھا۔
“نہیں!مانو کا بھی ہے۔”اس کی زبان کبھی رکتی نہیں تھی۔
“مانو کون…؟”حاتم نے وہ ٹیڈی بئیر اس کے آگے سے ہٹایا تھا۔مانو نے فورا اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔
“تم مجھ سے کیوں چھپ رہی ہو؟”حاتم نے اس کے ہاتھ اس کے چہرے پر سے ہٹائے تھے۔
“ہاتھ مت لگاؤ۔”وہ غصے سے پیچھے ہٹی تھی۔
“تم مجھ سے ناراض ہو؟”مانو کا رویہ حاتم کی سمجھ سے باہر تھا۔وہ تو ہمیشہ ہی اس سے چپکتی تھی تو آج اس گریز کی وجہ…؟
“نہیں!میں ناراض نہیں ہوں لیکن اجنبیوں سے زیادہ بات نہیں کرتے اور نا ہی انہیں خود کو چھونے دیتے ہیں۔”حاتم
نے بغور اس ٹڈی کو دیکھا تھا۔جو کہ خود ہی ہر وقت اس سے چپکتی تھی اور آج اسے لیکچر دے رہی تھی۔یقینا اس کے گھر والوں نے اسے سمجھایا ہو گا تبھی وہ یہ سب کہہ رہی تھی۔
“اسی لیے مجھ سے چھپ رہی تھی؟”
“نہیں وہ تو میں کاؤنٹنگ…!”مانو کی زبان کو فورا ہی بریک لگی تھی۔مجال تھی جو وہ خاموش رہ سکے۔
“ہاں تم تو مجھے کاؤنٹنگ سکھا رہی تھی نا…؟”حاتم کو اب جا کر کہیں معاملہ سمجھ آیا تھا۔
“بہت مشکل ہے،تم نہیں یاد کر سکتے۔”اپنی کہی بات پر وہ بےحد پچھتائی تھی۔
“میں پوری کوشش کروں گا۔”لب دبائے وہ فل موڈ میں تھا۔
“اچھے بچے ضد نہیں کرتے۔”مانو نے بڑوں کی طرح اسے جھڑکا تھا۔
“تو پھر اچھے بچے کیا کرتے ہیں؟”
“اچھے بچے بڑوں کی بات ماننے ہیں۔”
“مگر تم تو ابھی چھوٹی سی ہو۔”
“میں بہت بڑی ہوں۔وہ تو بس میرا قد تھوڑا چھوٹا ہے۔”مانو نے گو کہ ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“اچھا!ویسے کتنے سال کی ہو تم؟”
“میں پورے آٹھ سال کی ہوں۔”مانو نے انگلیوں کی مدد سے اسے دکھایا تھا۔
“واہ تم تو بہت بڑی ہو۔”حاتم تو اس کے اعتماد کو سراہے بنا نہیں رہ سکا تھا۔
“تم کتنے سال کے ہو؟”مانو کو اچانک ہی اس کی عمر پوچھنا یاد آیا تھا۔
“میں پندرہ سال کا ہوں۔”مانو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔اب وہ اپنی انگلیوں پر مسلسل حساب کتاب کر رہی تھی۔
“سات سال بعد میں بھی تمہارے جتنی ہو جاؤں گی۔”
بامشکل وہ صحیح حساب لگانے میں کامیاب ہو ہی گئی تھی۔
“لیکن میں تو تب تک اور بڑا ہو جاؤں گا۔”حاتم نے لب دبائے شرارت سے کہا تھا۔
“تو تم مت بڑے ہونا نا!ہم ساتھ میں بڑے ہو گے۔”حاتم کا قہقہ فلک شگاف تھا۔یہ لڑکی یا تو بہت زیادہ بیواقوف تھی یا پھر وہ حاتم کو بیواقوف بنا رہی تھی۔لیکن جو بھی تھا،حاتم اس کی باتوں سے محظوظ ضرور ہوتا تھا۔

محسن نے اگلے ہی دن اپنی بات پر عمل کرتے وانیہ کے لیے کئیر ٹیکر بھیج دی تھی۔سعدیہ ہر وقت سایے کی طرح
اس کے ساتھ رہتی تھی۔محسن نے سعدیہ کو اس پر نظر رکھنے کا کہا تھا۔اور وہ یہی کر رہی تھی مگر اسے وانیہ میں کچھ بھی مشکوک نہیں لگا تھا۔وہ تو ایک نارمل روٹین گزار رہی تھی۔اس کی زندگی بالکل عام لوگوں جیسی تھی۔بس وہ اپنی چیزوں کو لے کر کچھ زیادہ ہی پوزیسو تھی،مگر یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔
“سعدیہ کیا آپ میرے لیے جوس لے آئے گئیں؟”وانیہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔
“جی میم!میں ابھی لاتی ہوں۔”وانیہ کی معصوم صورت،اس کا احترام بھرا لہجہ سعدیہ کو بہت بھاتا تھا۔
“آپ پلیز مجھے میم مت کہا کریں۔مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔”وانیہ کے ہونٹوں پر اب بھی وہی نرم مسکراہٹ تھی۔
سعدیہ بھی جوابا مسکرائی تھی۔
“اچھا مجھے نا انار کا جوس پینا ہے۔بہت دل چاہ رہا ہے۔”وانیہ نے چہرے پر ازلی مسکراہٹ سجائے کہا تھا۔
“میں ابھی لاتی ہوں۔”سعدیہ مسکرا کر کمرے سے باہر گئی تھی۔
“بائے بائے سعدیہ…”اس کے جانے کے بعد وانیہ دل کھول کر ہنسی تھی۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ لال رنگ دیکھ کر اس کی حالت خراب ہو جاتی تھی۔اور نائل تو اس وقت گھر پر موجود تھا۔وانیہ کی خراب حالت دیکھ کر وہ سعدیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کرے گا۔تھوڑی دیر بعد سعدیہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ میں موجود ٹرے کو دیکھ کر وانیہ کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
ٹرے میں ایک بند جوس کا ڈبہ تھا جس میں سٹرا لگا ہوا تھا۔
“مجھے فریش جوس چاہیئے تھا۔”وانیہ اچھا خاصا بےچین ہوئی تھی۔
“میم یہ فریش جوس ہی ہے۔میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔”وانیہ نے بدقت ہونٹوں کو مسکراہٹ میں ڈھالے اس کے ہاتھ سے وہ گلاس پکڑا تھا۔
“محسن بھائی!اب آپ اپنی خیر منائیں۔”سٹرا سے جوس پیتے وہ پکا عہد کر چکی تھی۔

محسن نائل کے ساتھ کار میں بیٹھا ہوا تھا۔وہ لوگ کسی ضروری کام سے باہر جا رہے تھے۔موبائل کی بیپ پر اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تھا۔موبائل پر میسیج دیکھ محسن سکتے میں چلا گیا تھا۔اس کی غائب دماغی کو محسوس کرتے نائل نے اسے پکارا تھا۔
“محسن!کیا ہوا…؟”محسن تو سننے کی صلاحیت سے جیسے محروم ہی ہو گیا تھا۔
“محسن…!”نائل نے اسے کندھے سے ہلایا تھا۔اب کہیں جا کر اسے ہوش آیا تھا۔
“نائل…!”اس کے گلے سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون نائل کی جانب بڑھایا
تھا۔
“میں برباد ہو گیا۔”محسن نے بےاختیار اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا۔وہ دل میں درد محسوس کر رہا تھا۔
“محسن…!”نائل نے فورا گاڑی کو بریک لگائی تھی۔
“اکاؤنٹ خالی ہے۔کچھ بھی نہیں ہے۔”دل کے مقام پر ہاتھ رکھے وہ جیسے بےبس ہوا تھا۔نائل نے فورا پانی کی بوتل اس کے لبوں سے لگائی تھی۔وہ تیزی سے گاڑی ہسپتال کی جانب بڑھا گیا تھا۔نائل کا تعلق اپر کلاس سے تھا مگر محسن….وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتا تھا۔اس کے بیٹے کو کینسر تھا۔اس نے اور ساشا نے نجانے کتنے جتن کر کے ایک
بہت بڑی رقم اکھٹی کی تھی اور آج اپنے اکاؤنٹ میں زیرو بیلنس دیکھ کر اس کی حالت خراب ہو گئی تھی۔وہ ہوش سے کام لیتا تو باآسانی سب ری کور کروا سکتا تھا مگر فلحال جذبات غالب آئے تھے۔
ہسپتال پہنچتے ہی محسن کا چیک اپ کیا گیا تھا۔اسے ہارٹ اٹیک آتے آتے بچا تھا۔ساشا کو جیسے ہی معلوم ہوا
تھا،وہ فورا ہسپتال پہنچی تھی۔اس نے محسن کو یقین دلایا تھا کہ وہ بہت جلد نا صرف اس شخص تک پہنچ جائے گی بلکہ سارے پیسے بھی ریکور کروا لے گی مگر محسن کسی صورت مطمئن نہیں تھا۔دو دن بعد اس کے بیٹے کا آپریشن تھا اور اگر دو دنوں میں پیسے ریکور نا ہوئے تو…اس کے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔نائل نے بھی مدد کا کہا تھا کہ پیسے وہ دے گا مگر محسن اس پر راضی
نہیں ہوا تھا۔
نائل اور محسن دونوں ہی اس بات پر حیران تھے کہ آخر کون ایک سیکریٹ ایجینٹ کا بینک آکاونٹ ہیک کر سکتا
ہے،وہ بھی تب جب ساشا نے اسے ہر طرح سے سیکیور کر رکھا ہو۔

پارٹی کے بعد ڈیوڈ سب کی نظروں سے بچ کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔مختلف راستوں سے گاڑی کو گزارے وہ نہایت محتاط انداز میں شہر سے کافی دور ایک سنسان جگہ پر پہنچا تھا۔وہ دس منٹ گاڑی میں بیٹھا کسی کا انتظار کرتا رہا تھا۔ٹھیک دس منٹ بعد کوئی شخص گاڑی
کا دروازہ کھولے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا۔
“کون ہو تم…؟”ڈیوڈ نے حیرانی سے پوچھا تھا۔
“زندگی…!”جواب سنتے ہی ڈیوڈ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔مقابل بیٹھے ماسک لگائے شخص کی بھوری آنکھیں بھی مسکرائی تھیں۔
“مشن کمپلیٹڈ بلیک مونسٹر…!”اس نے ماسک اتارے ڈیوڈ کی طرف دیکھا تھا۔
“شاباش!مجھے تم سے یہی امید تھی اسفند!اس دنیا میں اگر میں کسی شخص پر بھروسہ کر سکتا ہوں تو وہ صرف تم ہو۔”وہ سچے دل سے خوش ہواتھا۔
“آپ کی کرم نوازی ہے۔”اسفند نے سر کو ہلکا سا خم دیے ادب سے کہا تھا۔لہجے میں ادب تو تھا مگر جھکاؤ اور عاجزی نہیں تھی۔
“اگلا مشن کیا ہے؟”
“شاہین!اسے ڈھونڈھنا ہے۔مجھے کسی بھی حال میں وہ چاہیئے۔”بھوری آنکھیں ایک لمحے کے لیے چونکی تھیں۔لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جسے وہ فورا چھپا گیا تھا۔
“میں پوری کوشش کروں گا۔”
“کوشش نہیں!مجھے ہر حال میں وہ چاہیئے۔مجھے تمہارے سوا کسی پر بھروسہ نہیں ہے۔الیکس،ماریہ،جیمز یہ سب کسی بھی وقت مجھے ڈس سکتے ہیں مگر تم…تم پر مجھے پورا اعتماد ہے۔”اسفند نے دو سال پہلے ایک دفعہ ڈیوڈ کی جان بچائی تھی۔اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ ڈیوڈ کے لیے نجانے کیا کچھ نہیں کر چکا تھا۔ڈیوڈ نا صرف اس پر مکمل طور پر اعتماد کرتا تھا بلکہ مکمل طور پر اس پر انحصار بھی کرتا تھا۔
“میں آپ کا اعتماد کبھی نہیں توڑوں گا بلیک مونسٹر…”
اسفند نے اسے یقین دلایا تھا۔ڈیوڈ خاصا مطمئن تھا۔
یہاں سے سیدھا وہ اپنے گھر گیا تھا۔شاور لینے کے بعد وہ نائٹ ڈریس پہنے لائٹ آف کیے بستر پر لیٹا تھا۔تقریبا آدھے گھنٹے بعد اس کی آنکھ لگی تھی۔رات کے تقریبا اڑھائی بجے کے قریب کسی چیز کے گرنے کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔
ڈیوڈ فورا لائٹ آن کیے بستر سے اٹھا تھا۔ڈریسنگ ٹیبل کے پاس واس گرا ہوا تھا۔ڈیوڈ نے فورا اپنی گن اٹھائی تھی۔
ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر لال رنگ سے کچھ لکھا ہوا تھا۔
“میں تمہارے بےحد قریب ہوں شاہین!”پڑھتے ساتھ ہی ڈیوڈ کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
اگلے دس منٹ میں ڈیوڈ نے اپنی پوری فوج کو اکھٹا کر لیا تھا۔پورے بنگلے کا ایک ایک کونہ چھان مارنے کے بعد بھی وہاں کسی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ڈیوڈ تو غصے سے بالکل پاگل ہو چکا تھا۔آخر کیسے وہ شخص اس کے گھر اور اس کے کمرے تک پہنچ سکتا تھا۔
ڈیوڈ نے گھر کے تمام سی سی ٹی وی فوٹج چیک کیے تھے۔ایک شخص کو ہڈی میں دیوار پھلانگتے دیکھا گیا تھا۔اس کی ہڈی کی بیک سائیڈ پر عقاب بنا ہوا تھا۔
“شاہین…!”شدید غصے کی حالت میں اس نے اپنے ہی دو آدمیوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔یہ شخص اس
کی جان کا عذاب بنا ہوا تھا۔کب آتا تھا،کیسے آتا تھا،اسے خبر ہی نہیں ہوتی تھی۔

نائل محسن کے پاس ہی تھا جب فارم ہاؤس سے ملازمہ نے اسے سنیہا کے سیڑھیوں سے گرنے کی خبر دی تھی۔وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فورا فارم ہاؤس پہنچا تھا۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ کتنی دیر اس کے سر پر کھڑا اسے گھورتا رہا تھا۔وہ اس کی نظروں سے شدید کوفت محسوس کر رہی تھی۔مگر اب خود سے اس شخص کو مخاطب کرنا وہ چھوڑ چکی تھی۔نجانے کیسے سنیہا کی عزت نفس جاگ چکی تھی۔
“یہ سب تم میری توجہ حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہو نا؟”سنیہا نے چونک کر سامنے کھڑے بےحس شخص کی جانب دیکھا تھا۔
اس نے ایک بار بھی اس کی خیریت نہیں پوچھی تھی۔ایک بار بھی اس نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ آخر گری کیسے…؟پوچھا تھا بھی تو کیا…سنیہا نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں۔اس کے لب نیم وا تھے۔وہ الفاظ کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی تھی مگر وہ الفاظ نہیں ڈھونڈھ پائی تھی۔ٹانگ پر آئی چوٹ کا درد اس وقت حواسوں پر غالب آیا تھا لہذا اس نے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے…؟”بےحسی اور سنگدلی کی انتہا تھی۔
“میں اس وقت سونا چاہتی ہوں۔”اپنی بھرائی آواز پر قابو کرتے اس نے فورا ہی خود کو مضبوط کیا تھا۔
“ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے سنیہا!میں نائل آفندی ہوں،کوئی عام انسان نہیں…تم مجھے اس طرح نظرانداز
نہیں کر سکتی۔”نائل کے لہجے میں ہنوز سختی تھی۔سنیہا تو بس اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔کہاں تھا وہ احساس،وہ شرمندگی،وہ معافی…؟وہ شخص اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
“نائل پلیز!میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں۔”وہ واقعی شدید درد محسوس کر رہی تھی۔اور اس وقت نائل کی جلی کٹی سننے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو کہ میں بحث کرتا ہوں؟”نائل کو شاک لگا تھا۔سنیہا نے گہری سانس خارج کیے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔
“میں تمہیں وارن کر رہا ہوں۔آج کے بعد تم مجھے نظرانداز نہیں کرو گی۔یہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔”سنیہا کا سارا ضبط یہی ٹوٹا تھا۔جو کچھ وہ برداشت کر چکی تھی اس کے بعد اب صبر کا دامن تھامنا ناممکن تھا۔
“تمہیں برداشت کرنا ہو گا بالکل اسی طرح جس طرح میں نے سب برداشت کیا۔میرے باپ کا مجھے تم جیسے شخص کے ہاتھوں بیچنا،تمہارا ہر ظلم برداشت کرنا،تمام طعنے سننا
اور یہاں تک کہ ایک پاک رشتے کی قیمت لگا کر اسے گالی دینا…”نائل ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔سارے جواب جیسے ختم ہو گئے تھے۔
“تم پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔تم بالکل بھی اچھے شوہر نہیں ہو بلکہ تم تو شاید اچھے انسان بھی نہیں ہو۔”آنکھیں بند کیے سنیہا نے سسکتے ہوئے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے!یہی پڑی رہو۔”وہ غصے سے سر جھٹکتا وہاں سے گیا تھا۔