93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 04

پچھلے دو دن سے بدر بن پانی کی مچھلی کی مانند تڑپ رہا تھا۔اس نے بھاری مقدار میں پیسہ لگا کر بہتر سے بہترین ہیکر کو ہائر کیا تھا لیکن ان سب نے جو اسے بتایا تھا وہ نا قابل یقین تھا۔اب بھی وہ سر پکڑے اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔
“میری انفارمیشن کے مطابق ان کا تعلق آئ۔ایس۔ائی سے ہے”
“وہ ایک ریٹائرڈ میجر ہے۔”
“اس کا تعلق تو کبھی آئی۔ایس۔آئی سے تھا ہی نہیں….”
“سن 2022 سے وہ ملیشیاء کے ایک گروہ کے لیے کام کر رہا ہے۔ائی۔ایس۔آئی سے اس کا کوئی لنک شو نہیں ہو رہا۔”
“سن 2020 سے وہ فرانس کے ایک جانے مانے گروہ کے ساتھ سمگلنگ میں ملوث ہے۔”
“پاکستان میں رہ کر وہ امریکہ کے لیے کام کرتا ہے۔یہ تمام پراپرٹی اس بات کامنہ بولتا ثبوت ہے۔”بدر نے غصے سے ساتھ پڑی میز الٹ دی تھی۔
“نائل آفندی!تم آخر ہو کون؟”اب وہ کمرے کی چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹخ رہا تھا۔
“میں اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا ہوں۔میں نے شاہین کے بجائے تمہیں کیوں نہیں کھوجا،کیوں…..؟”اس نے گلدان ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر دے مارا تھا۔
“تم کوئی سپائے نہیں ہوں۔میں یہ کیوں نہیں سمجھ سکا؟مجھے لگتا تھا کہ تم سامنے اس لیے ہو کیونکہ تم شاہین کو بچا سکو لیکن درحقیقت تم خود کو بچا رہے تھے۔”اب کہیں جا کر کڑیوں سے کڑیاں جڑنے لگی تھیں۔
دروازہ ناک ہونے کی آواز سے وہ چونکا تھا۔
“آو عارف آؤ،بتاؤ کیا پتا چلا؟”اس نے جس سے بھی پتا کروایا تھا۔تقریبا سب کے ہی بیانات مختلف تھے۔آخری امید عارف ہی تھا۔وہ ایک ٹین ایجر لڑکا تھا لیکن بچپن سے ہی ان ہی لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔وہ ٹیکنالوجی میں خاصی مہارت رکھتا تھا۔
“نائل ایک سپائے نہیں ہے۔اس نے آئی۔ایس۔آئی تب ہی چھوڑ دی تھی جب وہ ایکسپوز ہوا تھا۔مجھے لگتا ہے کہ وہ آئی۔ایس۔آئی کا نام استعمال کر کے کوئی بہت بڑی پلاننگ کر رہا ہے جو ہم لوگ سمجھ نہیں پا رہے۔”
“اور شاہین،اس کے بارے میں کیا پتا چلا؟”
“کچھ نہیں!بس اتنا کہ وہ نائل کا دوست ہے۔اسفند نام ہے اس کا،مگر کیسا دکھتا ہے،کہاں ہے،یہ نہیں پتا۔”عارف نے بےبسی سے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے،تم جاؤ یہاں سے….”بدر کا دماغ اس وقت کافی الجھا ہوا تھا۔وہ کچھ دیر ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں تمہیں کبھی ایسا کچھ کرنے کے لیے نہیں کہوں گا جو تم نہیں کرنا چاہتی۔میرے لیے میری نین اہم ہے۔”وہ بستر پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ حاتم گھٹوں کے بل زمین پر بیٹھا اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے تھا۔
“میں بس یہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں مل کر اس ملک کے لیے کچھ کریں۔لیکن اگر تم نہیں کرنا چاہتی تو کوئی بات نہیں….”
“میں کروں گی۔تم جو کہو گے میں وہ کروں گی۔”حاتم نے چونک کر اس کے سپاٹ چہرے کی جانب دیکھا تھا۔
“عمر نین کے لیے یہ سب کرے نا کرے لیکن وانیہ آفندی شاہین کے لیے یہ ضرور کرے گی۔”اس کی جانب دیکھے وہ مدھم سا مسکرائی تھی۔
“Thank you!
Thank you so much.”
حاتم کی آنکھوں میں خوشی کی چمک ابھری تھی۔
مزید کسی بھی گفتگو سے پہلے اس کا فون وائبریٹ ہوا تھا۔نائل کا وائس میسیج دیکھ اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔وہ عینین سے ایکسکیوز کرتا کمرے سے باہر گیا تھا۔
ماتھے پر تیوری چڑھائے اس نے ناگواری سے وائس میسج کھولا تھا۔وہ جیسے جیسے سنتا جا رہا تھا،اس کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچتا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ابھی گھر لوٹا تھا۔کمرے میں داخل ہوتے اسے ٹاول سے بال رگڑتی اپنی شریک حیات دکھی تھی۔
“یہ کون سا وقت ہے شاور لینے کا؟”اس کی بات پر وہ پلٹی تھی۔گیلے،گھنے بال پشت پر بکھر گئے تھے۔
“شاور لینے کا کوئی وقت ہوتا ہے کیا؟”سنیہا نے الٹا استفسار کیا تھا۔
“مجھے ایسا لگتا ہے تم نے یہ جان کر کیا ہے۔مجھے قابو میں کرنا چاہتی ہو نا؟”بیگ سائیڈ پر رکھے،کوٹ کا بٹن کھولے وہ مسکرا کر اس کی جانب بڑھا تھا۔
“کیوں،ایسے قابو آ جائے گے آپ؟”اس کے قریب جاتے سنیہا نے مسکرا کر اس کی گردن میں باہیں ڈالی تھیں۔
“تمہارے ارادے مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے؟”نائل نے اسکے گرد بازو ڈالتے اسے مزید قریب کیا تھا۔
“میرے ارادے بالکل ٹھیک ہیں۔”اس نے مسکرا کر اپنی سیاہ آنکھیں اس کی سنہری آنکھوں میں گاڑھی تھیں۔
“اچھا جی….”نائل نے دوسرے ہاتھ کی پشت سے اس کی گال سہلائی تھی۔
“آپ اب بھی کہے گے کہ آپ کو مجھ سے محبت نہیں؟”اس کا خوشگوار موڈ دیکھ سنیہا نے موقعے پر چوکا لگایا تھا۔
“مجھے تم سے محبت…..”نائل کی نگاہوں نے اس کی صراحی دار سے چہرے تک کا طواف کیا تھا پھر اس کی آنکھوں پر آ کر اس کی نظریں ٹھہر گئی تھیں۔اس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ کہیں غائب ہوئی تھی۔اس نے ایک جھٹکے سے سنیہا کو خود سے دور کیا تھا۔
رخ موڑے اب وہ گہری گہری سانسیں لے رہا تھا۔وہ بالکل ہکا بقا رہ گئی تھی۔
“نائل کیا ہوا؟آپ کی طبیعت….”سنیہا نے اس کا بازو پکڑا تھا جسے وہ فورا جھٹک گیا تھا۔
“جاؤ یہاں سے….”کوٹ اتارے اس نے حد درجہ نرم لہجے میں کہا تھا۔
“جی….؟”وہ نہیں سمجھی تھی۔
“میں نے کہا ابھی اور اسی وقت نکلو میرے کمرے سے….”اس کی دھاڑ پر وہ سہم گئی تھی۔
“نائل آپ….”اس کی آواز بھرا گی تھی۔
“تمہیں ایک بار میں کہی بات سمجھ نہیں آتی؟”وہ شدید مشتعل انداز میں گویا ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے مت جاؤ،میں ہی چلا جاتا ہوں۔”وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“اور دوبارہ یہ چونچلے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں ان سے متاثر نہیں ہوتا۔”دھڑام سے دروازہ بند کرتے وہ چلا گیا تھا۔سنیہا کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی تھیں۔
وہ شخص اس کی سمجھ سے باہر تھا۔اگر وہ اسے عرش پر بٹھانا جانتا تھا تو فرش پر پٹخنا بھی جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاتم شدید غصے کی حالت میں بدر کے گھر گیا تھا۔
“بابا،بابا….”وہ مسلسل چلاتا ہوا اس کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
“کیا ہوا ڈیوڈ؟”اس کا اشتعال انگیز روپ دیکھ بدر پریشان ہو گیا تھا۔
“یہ سب کیا ہے بابا؟”حاتم نے سرخی مائل آنکھوں سے ریکارڈنگ پلے کی تھی۔
“کیا کر لو گے،ہاں بولو…..؟اس کے بعد میں تمہاری بہن کو اٹھواں گا۔جو کرنا ہے کر لو۔”ریکارڈنگ سنتے بدر کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔
“آپ میری نین کے بارے میں ایسا کیسے بول سکتے ہیں،بتائیں بابا؟”وہ بالکل آپے سے باہر ہوا تھا۔
“تم غلط سمجھ رہے ہو بیٹا،میں تو بس نائل کو دھمکانے کے لیے…..”
“وہ خاص مہمان اس کی بیوی تھی نا؟”بدر خاموش رہا تھا۔
“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں بابا،عورتوں کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟”غصے سے اس کی رگیں تن گئی تھیں۔
“میں تو لڑکیوں کی سمگلنگ کے بھی خلاف ہوں۔اور آپ اس کی بیوی اور میری بیوی کو درمیان میں لے آئے؟”
“تم اس وقت غصے میں ہو۔ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”بدر نے اسے چھونے کی کوشش کی تھی۔
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی،آپ اگر میرے بابا نا ہوتے نا تو میں اس حرکت پر آپ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کے آگے ڈال دیتا۔”بدر سانس نہیں لے سکا تھا۔اس کی قوت صلاحیت جیسے سلب ہوئی تھی۔تو کیا وہ اتنے عرصے ایک سانپ کو دودھ پلاتا رہا تھا؟؟
“بہت کام کر لیے آپ نے،آج کے بعد آپ صرف آرام کرے گے۔آپ ملائشیا جائیں گے اور اب ساری زندگی ایک گھر تک ہی محدود رہے گے۔آپ کی عمر کام کرنے کی نہیں تسبیحاں پڑھنے کی ہے۔”بدر تو اس کی بات سن بالکل ہکا بقا رہ گیا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ڈیوڈ؟”
“وہی جو آپ نے سنا،اج کے بعد صرف میری حکومت ہو گی،بلیک مونسٹر کی…..اپنا سامان پیک کر لیں۔”اپنی سنائے وہ چلتا بنا تھا۔
“ایک ہفتہ،صرف ایک ہفتہ…جب طلب پوری نہیں ہو گی تو تم خود آؤ گے میرے پاس،میرے قدموں میں گر کر معافی مانگو گے مجھ سے….”وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا بنا رہی ہو؟”وہ کچن میں کھڑی کام کر رہی تھی جب نائل نے خوشگواریت سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔
“کھانا…..”یک لفظی جواب آیا تھا۔
“وہ تو مجھے بھی دکھ رہا ہے۔کھانے میں کیا خاص بنا رہی ہو؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے وہ مسکرا کر گویا ہوا تھا۔
“ایک بات کہوں آپ سے؟”رخ موڑے اس نے نظریں جھکائے کہا تھا۔
“ہممم….”
“آپ برا تو نہیں مانیں گے؟”اس کے لہجے میں خوف تھا۔
“یہ تو تمہاری بات پر منحصر کرتا ہے۔”سنیہا نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری تھی۔
“آپ کو پتا ہے نائل،کبھی کبھار زندگی میں کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہم کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتے،یہاں تک کہ اپنے لائف پارٹنر سے بھی….ایسے میں ہمیں کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ہماری مدد کر سکے۔”وہ ایک ایک لفظ بہت سوچ سوچ کر اور ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟”ماتھے پر بل ڈالے اس نے سنیہا کی جانب دیکھا تھا۔
“میری بات کا برا مت مانیں گا مگر مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کسی اچھے سائیکیٹریسٹ کے پاس جانا چاہیئے۔”وہ دو قدم پیچھے ہٹتی منمنائی تھی مبادا کہیں ایک چماٹ ہی نا پڑ جائے۔
“میرا نہیں خیال کہ تمہارا علاج ممکن ہے۔”نائل نے اس کی بات مذاق میں اڑائی تھی۔
“میں اپنی بات نہیں کر رہی۔”وہ دو قدم مزید پیچھے ہٹی تھی۔
“تو پھر کس کی بات کر رہی ہو؟”اب کی بار اس کے لہجے میں کچھ برہمی تھی۔
“بلاوجہ غصہ ہو جانا،پھر نارمل ہو جانا…..”وہ دو کے بجائے چار قدم پیچھے ہٹی تھی۔اس نے ہمت کر کے کہہ تو ڈالا تھا مگر نتائج بھگتنے کی سکت اس میں نہیں تھی۔
“تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں پاگل ہوں؟”نائل نے ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا۔وہ گھبرا کر پچھے سلیب سے لگی تھی۔
“نن…نہیں تو….”لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ سنیہا نے زور و شور سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
کچھ جلنے کی سمیل سے دونوں کا دھیان چولہے کی جانب گیا تھا۔چولہا آف کیے نائل اس کی جانب بڑھا تھا۔سنیہا بیچاری کی تو ہوائیاں ہی اڑ گئی تھیں۔
“میں پاگل نہیں ہوں سنیہا….”اس کے قریب جاتے نائل نے اس کے کان قریب سرگوشی کی تھی۔وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
“میں صابر ہوں۔”اپنی کہے وہ چلا گیا تھا۔وہ کافی دیر خالی الذہنی کی حالت میں وہیں کھڑی رہی تھی۔ہمیشہ کی طرح آج بھی نائل کی بات اس کے سر سے گزری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گارڈز کے بٹن دبانے کے بعد دروازہ کھلا تھا۔وہ زینے پھلانگتا مغرورانہ چال چلتا نیچے اترا تھا۔ہر سمت اندھیرا چھایا ہوا تھا۔دیواروں پر جگہ جگہ مشعلیں روشن تھیں۔
“میں تنگ آ گیا ہوں اس سب سے،اب اس کھیل کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔تمہاری سزا پوری ہوئی اب موت کا وقت آ پہنچا ہے۔”ڈیوڈ نے زمین پر بےسود پڑے وجود کو ٹھڈا مار کر اٹھایا تھا۔
“میری بیوی کو بیواقوف بناتے تھے۔اس سے کام نکلواتے رہے ہو۔تمہاری جرات کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ یہ کرنے کی…..؟”اسے بالوں سے دبوچتے حاتم نے اسے کھڑا کیا تھا۔
پھر حاتم نے زہر کی بوتل منگوائی تھی اور اس کا منہ دبوچے زہر اس کے اندر اتارا تھا۔
وہ زمین پر گرا تڑپ تڑپ کر مر رہا تھا۔اس پر ایک تنفر بھری نگاہ ڈال کر وہ وہاں سے گیا تھا۔اسے آج کسی اور کو بھی کیفل کردار تک پہنچانا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک پہاڑی کے قریب حاتم نے گاڑی روکی تھی۔ارد گرد جنگل ہی جنگل تھا۔اس کے ساتھ والی سیٹ پر ماہم بیٹھی ہوئی تھی۔
“تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟”یہ وہی جگہ تھی جہاں نینا کا ریپ ہوا تھا اور صوفی کی موت….
“تمہیں ایک آخری موقع دینے،بھاگ جاؤ،میں وعدہ کرتا ہوں کہ کبھی تمہارے پیچھے نہیں آؤں گا۔لیکن اگر تم نہیں بھاگی تو پھر میں تمہیں تا عمر زندہ رکھوں گا۔اور وہ اذیت پہنچاؤں گا کہ تمہاری روح کانپ اٹھے۔”حاتم کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی۔
“بھاگ جاؤ۔”دروازے کا لاک کھولے حاتم نے ایک بار پھر کہا تھا۔وہ سہم کر وہیں بیٹھی رہی تھی۔
“میں نے کہا بھاگو۔”اس کی غراہٹ پر وہ ہڑبڑاہت میں دروازہ کھولے باہر بھاگی تھی۔
وہ بھاگتے بھاگتے کافی دور آ گئی تھی۔وہ اسے بہت دور سے دیکھ رہا تھا۔یہی وہ سڑک تھی جہاں اس کی بہن خون میں لت پت وجود کے ساتھ پڑی تھی۔حاتم نے غصے سے گاڑی میں چابی گھمائی تھی۔گاڑی کو فل سپیڈ سے چلائے وہ ماہم کے پیچھے گیا تھا۔اپنے پیچھے اسے آتا دیکھ ماہم کی سپیڈ مزید تیز ہوئی تھی۔وہ جتنا تیز بھاگ سکتی تھی،اتنا تیز بھاگی تھی۔اچانک ہی اس کا پیر پھسلا تھا۔وہ سڑک کے بیچوں بیچ گری تھی۔حاتم فل سپیڈ سے گاڑی چلائے اس کی جانب بڑھا تھا۔موت کے خوف کے احساس سے اس کی سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔اس کے قریب آ کر حاتم نے گاڑی کو بریک لگائی تھی۔
گاڑی کا شیشہ نیچے کیے وہ پھر غرایا تھا۔
“بھاگو ماہم،اگر میرے قہر سے بچنا ہے تو بھاگ جاؤ۔”وہ پھولے تنفس کے ساتھ بامشکل اٹھ کر بھاگی تھی۔
یہ کھیل اگلے آدھے گھنٹے تک چلتا رہا تھا۔ایک جگہ آ کر وہ تھک ہار کر سڑک پر بیٹھ گئی تھی۔اس کی سکت اب ختم ہوئی تھی۔اس نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے تھے۔وہ اسے گھما پھرا کر واپس اسی سڑک پر لے آیا تھا۔
اس کی بےبسی سے محظوظ ہوتے وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا۔اب اس نے گاڑی کی چابی زمین پر پھینکی تھی۔
“زندگی یا موت…..؟”گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے حاتم نے پر سکون انداز میں پوچھا تھا۔
“موت….”وہ ہاتھ جوڑے سسکی تھی۔
“گاڑی کی چابی اٹھاؤ اور گاڑی میں جا کر بیٹھو۔”ماہم نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ وہی پہاڑی ہے نا؟آج تم خود یہاں سے گاڑی سمیت کودو گی۔”ماہم نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“اٹھو….”حاتم کی دھاڑ پر وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔اس نے ایک رحم طلب نگاہ اس پر ڈالی تھی جس کی ڈکشنری میں رحم نام کا لفظ ہی نہیں تھا۔