93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 46)

“سمجھتا کیا ہے خود کو….؟”اپنے کمرے میں چکر لگاتے لگاتے وانیہ کا سانس پھول چکا تھا مگر غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔
“میری طرف دیکھنے سے ایمان خراب ہوتا ہے صاحب کا….تو مت دیکھے نا۔”پھولے تنفس کے ساتھ وہ تھک ہار کر بستر پر بیٹھی تھی۔
“کہیں لائن وائن تو نہیں مار رہا تھا؟”
“نہیں نہیں!ایسا لگتا تو نہیں ہے۔”وانیہ نے اپنی سوچ کی تردید کی تھی۔
“مگر ہے تو نہایت بے مروت اور فضول شخص….مومن عورتیں یہ کرتی ہیں،وہ نہیں کرتی،بڑا آیا مومن مرد….”وانیہ نے ہاتھ آگے بڑھا کر ہاتھ میں کشن دبوچا تھا۔
“وانیہ آفندی کو للکار کر تم نے ٹھیک نہیں کیا مسٹر انڈین!جواب تو منہ توڑ دوں گی میں تمہیں….”اس نے کشن کو زور سے بھینچتے تہیہ کیا تھا۔
کچھ دیر اپنے کمرے میں رہنے کے بعد اچانک ہی وانیہ کے ذہن نے کام کرنا شروع کیا تھا۔
“بڑا آیا مجھے مومن عورتوں کی صفات بتانے والا…..تمہاری ہی کتاب سے تمہیں مومن مردوں کی صفات بتا کر شرمندہ نا کیا نا تو میرا نام بھی وانیہ آفندی نہیں….”کشن سائیڈ پر اچھالتے وہ بھاگتے ہوئے باہر گئی تھی۔
ماہم تو اس وقت گھر پر موجود نہیں تھی مگر ملازمہ کے پاس ضرور قرآن پاک ہو سکتا تھا۔
“تمہارے پاس قرآن پاک ہے؟”وہ کچن میں برتن دھوتی ملازمہ کے سر چڑھی تھی۔
“جی ہے۔”وہ شکل سے ہی وانیہ کو کافی مذہبی لگتی تھی۔
“ترجمے والا ہے؟”آنکھوں میں کسی کو شکست دینے کی چمک لیے اس نے اگلا سوال پوچھا تھا۔
“ترجمے والا تو نہیں ہے۔”اس جواب پر اسے مایوسی ہوئی تھی۔
“اچھا چلو جو ہے وہ لا دو۔”ملازمہ نے وانیہ کو قرآن پاک لا کر دیا تھا جسے وہ ایک ہی جھٹکے سے جھپٹتی کمرے میں کہیں گم ہوئی تھی۔
ملازمہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔اسے وانیہ پر شدید غصہ بھی آیا تھا،آخر کیسے وہ بغیر سر پر کچھ اوڑھے اس مقدس کتاب کو چھو سکتی تھی۔
“اب میں بتاتی ہوں تمہیں مومن مردوں کی صفات….مومن مرد بھی کسی غیر عورت سے بات نہیں کرتے،مگر یہ بات تو ریفرینس سے ہی بتاؤں گی میں تمہیں….”ایک کرسی پر بیٹھتے وانیہ نے آکسائیٹڈ ہوتے قرآن پاک کھولا تھا۔
وانیہ نے سادہ طرز کے سرخ گلاف میں لپٹی وہ کتاب کھولی تھی۔
خوبصورت طرز کی جلد،کالے رنگ میں لکھے گئے وہ حروف،وہ قدیم زبان….وہ ایک پل کے لیے مسمرائیز ہو گئی تھی۔اس قدیم کتاب نے پہلی بار اس پر سحر قائم کیا تھا یا پھر شاید وانیہ نے پہلی بار اس کتاب کو کھولا تھا۔
وانیہ نے قرآن پاک اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا۔اب وہ اس کے پنے پلٹتی مسلسل ان حروفوں پر نظر دوڑا رہی تھی۔وہ کبھی قرآن پاک درمیان سے کھولتی،کبھی آخر سے تو کبھی کہیں سے….مزید دو منٹ گزرنے کے بعد ایک آواز نے اس کے تخیل میں خلل ڈالا تھا۔
“اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ ، اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ”ہواؤں نے مؤذن کی آواز کو اس بند کمرے تک پہنچایا تھا۔یہ عصر کا وقت تھا۔ان کے فلیٹ کے پاس ہی ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں پر بغیر سپیکر کے آذان دی جاتی تھی مگر کھڑکی کھلے ہونے کی وجہ سے وہ آواز باآسانی وانیہ کے کمرے تک پہنچ جاتی تھی۔
وانیہ نے لاشعوری طور پر قرآن پاک کو بند کر کے میز پر رکھا تھا۔اب اس کا رخ کھڑکی کی جانب تھا جہاں سے تیز ہواؤں کے ساتھ اذان کی صدائیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔وہ غیر محسوس انداز میں کھڑکی کے پاس جا رکی تھی۔
تیز ہوا کے جھونکے اس کی زلفوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہے تھے۔آنکھیں بند کیے اس نے کھڑکی کے پٹ کو سختی سے پکڑا تھا۔موذن کی ہر صدا کے ساتھ وہ اپنے اندر ایک سکون اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
آذان کے مکمل ہوتے ہی اس نے پٹ آنکھیں کھولی تھیں۔اس کے دل کی ڈھرکنیں معمول سے تیز ہوئی تھیں۔
اس کے جسم میں خون تیزی سے سرایت کرنے لگا تھا۔یہ انجانہ احساس وہ آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کر پائی تھی۔گہری سانس اندر کھینچتے وہ واپس اپنی جگہ پر گئی تھی۔وانیہ نے ایک بار پھر قرآن پاک اٹھایا تھا۔اب کی بار اس نے قرآن کو درمیان یا آخر سے نہیں کھولا تھا بلکہ اس نے ابتدائیہ صفحہ کھولا تھا۔
“بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞”اس کالی سیاہی سے لکھے حروف کو چھوتے وانیہ کے لب ہلے تھے۔
“اَلْحَمْدُ….”
“یہ میں کیا کر رہی ہوں۔اس لڑکے کو جواب دینا تھا میں تو یہ پڑھنے ہی بیٹھ گئی۔”اس نے ایک جھرجھری لیتے قرآن پاک کو بند کیا تھا۔
قرآن کو وہیں میز پر چھوڑے وانیہ اپنے بستر کی جانب بڑھی تھی۔اس پر نیند غالب آئی تھی۔اس نے اس وقت نیند کو قرآن پر ترجیح دی تھی۔اس لڑکے کو سبق سکھانے کا تو وہ کوئی اور راستہ بھی نکال سکتی تھی،اس کے لیے قرآن پڑھنا ضروری نہیں تھا۔
زندگی کے سفر میں بعض حادثات ضروری
ہوتے ہیں….
اک سبق،اک تجربہ،اک ٹھوکر….
الحمد سے سفر کا آغاز ہو چکا تھا….
اب والناس تک منزل کی تکمیل ہونا
باقی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور وحشت زدہ رات میں وہ بستر پر ڈری سہمی بیٹھی تھی۔وانیہ نے دوائی کھانا چھوڑ دی تھی جس وجہ سے اس کی حالت مزید خراب ہو رہی تھی۔وہ آواز تو اسے سنائی دینا کب کی بند ہو چکی تھی مگر اس آواز کا خوف اس کے دل سے گیا نہیں تھا۔وہ اتنے سالوں تک جس اذیت سے گزرتی رہی تھی،اسے بھولنا اتنا آسان نہیں تھا۔
“میں سونا چاہتی ہوں۔”بےبسی سے روتے ہوئے اس نے اپنا سر گھٹنوں میں دیا تھا۔
“پلیز مجھے سونے دو۔”ذہن میں اب بھی وہی ہولناک آواز گردش کر رہی تھی۔
“میں سونا چاہتی ہوں۔”بستر پر لیٹتے وہ ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“یا اللہ!میں سونا چاہتی ہوں۔”اپنی دھن میں وہ یہ جملہ تین بار دھرا چکی تھی پھر اچانک ہی اپنے کہے گئے جملے پر غور کرتے وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
یہ پہلی بار نہیں تھا،وہ پہلے بھی کئی بار اللہ کو ایسے ہی پکارتی تھی۔
مشکل کے وقت تو انسان کو اللہ ہی یاد آتا ہے۔وانیہ کو بھی
اللہ ہی یاد آتا تھا مگر اس کا ذہن اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کرتا تھا کہ وہی ذات برحق ہے۔شاید یہ منافقت تھی مگر وانیہ کی ذہنی کیفیت اس وقت کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔
وہ کچھ دیر کانپتے وجود کے ساتھ وہاں بیٹھی رہی تھی پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال آیا تھا۔وانیہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا فون اٹھایا تھا۔
آذان ڈاؤن لوڈ کیے وانیہ نے پلے کا بٹن دبایا تھا۔موبائل کو اپنے سرہانے رکھے اس نے کسی چھوٹے بچے کی طرح کمبل سر تا پیر تانا تھا۔تقریبا بیس بعد ہی اس پر نیند غالب آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وانیہ اس انڈین شخص کو ڈھونڈھنے کی جہدوجہد میں ساری یونیورسٹی چھان چکی تھی۔
“کہاں گیا ٹھرکی انڈین….؟”وانیہ نے آخری بار متلاشی نگاہوں سے اردگرد نظر گھمائی تھی۔اسے وہ سامنے آڈیٹوریم سے آتا دکھ گیا تھا۔
آنکھوں میں چمک لیے وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف گئی تھی۔
“ہائے مسٹر ٹھرکی انڈین!”احمر کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔
“میرا مطلب ہے مسٹر انڈین!”اس کی گھوری وانیہ کو اپنا بیان بدلنے پر مجبور کر گئی تھی۔
“کیسے ہو؟”وہ ایسے گویا ہوئی تھی جیسے ان دونوں کے درمیان گہری دوستی ہو۔
احمر نے سر جھٹکتے اپنا راستہ ناپا ہی تھا جب وانیہ کالی بلی کی طرح اس کی راہ میں رکاوٹ بنی تھی۔
“دیکھو ہمارے درمیان کل جو بھی ہوا اسے بھول جاتے ہیں۔میں تمہیں دوستی کی آفر کرتی ہوں۔”وانیہ نے مسکرا کر ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“میں آپ کی اس آفر کو رد کرتا ہوں۔”احمر نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا تھا۔
“گڈ اچھی بات ہے۔مجھے بھی تم سے دوستی کا کوئی شوق نہیں ہے میں تو بس تمہیں آزما رہی تھی کہ تم واقعی میں ٹھرکی ہو یا نہیں….”دانتوں کی بھرپور نمائش کرتے وہ اپنا بیان بدل گئی تھی۔
“آپ مجھے آزمانے والی ہوتی کون ہیں؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے اس نے سختی سے استفسار کیا تھا۔
“تمہاری ماں….”وہ دل ہی دل میں گویا ہوئی تھی۔اس کے آگے پیچھے گھومنے کا واحد مقصد اسے سبق سکھانا تھا۔
وہ ناصرف وانیہ کو ضد دلا گیا تھا بلکہ اسے ایک نیا ایڈوینچر بھی مل گیا تھا،ایک چٹان نما شخص کو ریزہ ریزہ کرنا…..یہ اس کا مشن بن گیا تھا۔وہ اسے اچھا خاصا زچ کرنا چاہتی تھی۔
“میرا راستہ چھوڑیں اور دوبارہ میرے راستے میں مت آئیں گا۔”احمر کا لہجہ کٹیلا تھا۔
“کیوں….؟کیا تم زچ ہو رہے ہو؟”
“جی بہت زیادہ…..”نجانے وہ کون سی گھڑی تھی جب اس مصیبت سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔وہ تو اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہی تھی۔
“بس پھر تو طے ہو گیا کہ آج کا سارا دن ہم ساتھ گزارے گے۔”وانیہ کو اب مزا آنے لگا تھا۔اوپر سے اس کھڑوس کے بگڑے زاویے….وہ حد سے زیادہ محظوظ ہوئی تھی۔
“آپ کیا ہر اجنبی کے سر پر ایسے ہی مسلط ہوتی ہیں یا پھر یہ خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟”وہ اس کی بےباکی پر دنگ رہ گیا تھا۔
“نہیں یہ خاص عنایت آپ ہی پر ہے کیونکہ آپ مومن مرد جو ٹھہرے….اور میں ایک بےحیا لڑکی….”احمر کو اب کہیں جا کر معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا تھا۔وہ اس سے کل والی بات کا انتقام لے رہی تھی۔
“مجھے لگتا ہے کہ مجھے آپ سے اسلام کے متعلق کچھ کلاسیز لینی چاہیئے۔ویسے نام کیا ہے آپ کا….؟”وہ آج احمر کو بخشنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
“میں آپ کو اپنا نام بتانے میں دلچسبی نہیں رکھتا۔”
“ایک بار نام بتائیں تو سہی….ساری کی ساری جنم کنڈلی نکال لوں گی۔”احمر نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
“کیا ہوا…؟تم تو مجھے ایسے دیکھ رہے ہو جیسے یہ لفظ پہلی بار سنا ہو؟انڈین ہی ہو نا یا پھر….جھوٹ بولا ہے؟”وہ بھی نائل کی طرح زیرک نگاہیں رکھتی تھی۔
“Shut up!”
وہ جھنجھلاتا ہوا آگے بڑھا تھا۔
وانیہ بھی اس کے پیچھے بھاگی تھی مگر وہ اس کے اٹھتے تیز قدموں کی پیروی نہیں کر سکی تھی۔ایک جگہ پہنچتے وہ کہیں گم ہو گیا تھا۔
“مسٹر انڈین….؟”وہ مسلسل اسے پکارتی ہوئی آگے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ایک جگہ پہنچتے احمر کی پشت دیکھتے وہ بھاگ کر اس جانب گئی تھی۔لیکن اس طرح بھاگ کر جانے کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نا رکھ سکی تھی اور بہت بری طرح زمین پر گری تھی۔اسطرح اوندھے منہ گرنے کی وجہ سے اس کا سر پھٹ چکا تھا۔
“آپ ٹھیک تو ہیں؟”احمر گھبرا کر اس کی جانب جھکا تھا۔
وانیہ نے اپنے ہاتھ سے اپنا سر تھاما تھا۔اس کا ہاتھ خون سے بھر چکا تھا۔
“آپ کا بہت خون بہہ چکا ہے۔فکر مت کریں۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”وہ حد سے زیادہ فکرمند ہوا تھا۔
یونیورسٹی کے جس حصے میں وہ لوگ موجود تھے وہاں تقریبا سٹوڈنٹس نا ہونے کے برابر تھے اور جو موجود تھے انہیں کسی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
“آپ چلیں میرے ساتھ….!”احمر نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر اپنے ہاتھ پر لگا ہوا خون دیکھ کر وانیہ کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔
“چار لوگ….ایک عورت،تین مرد….مام….نین….مار دیا،سب ختم کر دیا۔”وہ ہانپتے وجود کے ساتھ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔
“جھاڑیوں کے پیچھے….مار دیا۔”وہ اپنی پوری قوت سے چلاتی اگلے لمحے ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
احمر کا تو دماغ ہی ماؤف ہو چکا تھا۔وہ اس کے بےربط جملوں کے معنی تو نہیں سمجھ سکا تھا مگر اس کی حالت….احمر کو شدید خوف میں مبتلا کر گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ کی آنکھ رات کے آٹھ بجے کے قریب کھلی تھی۔وہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھی۔سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔وانیہ نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس وقت بہت زیادہ کمزوری محسوس کر رہی تھی۔
“آپ اٹھ گئیں بی بی جی!کچھ لے کر آؤں آپ کے لیے…؟”ملازمہ نے ہشاش بشاش لہجے میں پوچھا تھا۔
“بھائی….”اس نے آنکھیں بند کیے نائل کو پکارا تھا۔وہ جب سے یہاں آئی تھی تب سے نائل نے ایک بار بھی اس سے رابطہ نہیں کیا تھا۔
“بی بی کچھ چاہیئے آپ کو….؟”
“پھوپھو!پھوپھو کہاں ہیں؟”اس نے نیم غنودگی کی حالت میں پوچھا تھا۔
“وہ تو گھر پر نہیں ہیں جی….”وانیہ نے کرب سے آنکھیں موندی تھیں۔وہ لوگ جب سے یہاں آئے تھے تب سے ماہم کافی حد تک بدل گئی تھی۔اس کے پہننے اوڑھنے کا ڈھنگ اور آنے جانے کے اوقات ہر چیز ہی تبدیل ہو چکی تھی۔
“ٹھیک ہے!تم جاؤ یہاں سے….مجھے کچھ نہیں چاہیئے۔”وانیہ نے آنکھیں بند کیے رخ موڑا تھا۔
“سنو….!”ملازمہ کے جانے سے پہلے وانیہ نے اسے پکارا تھا۔
“جی….؟”وہ جاتے جاتے واپس پلٹی تھی۔
“مجھے یہاں کون لے کر آیا،میرا مطلب ہے کوئی اور تھا کیا میرے ساتھ؟”شاید احمر نے ہی اس کی مرہم پٹی کروائی تھی۔شاید وہ ہی اسے گھر چھوڑ کر گیا تھا۔
“جی جی!وہ لڑکا تھا نا….سارا دن آپ کے ساتھ ہسپتال میں رہا تھا۔ماہم بی بی تو بضد تھیں کہ آپ کو جلد از جلد گھر لے کر آئے مگر وہ لڑکا ڈٹا رہا تھا۔آپ کا بہت خیال رکھا جی!گھر آنے کے بعد بھی وہ کتنی دیر گھر کے باہر کھڑا رہا تھا۔ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آپ کی ٹھیک حالت کا یقین کرتے وہ یہاں سے گیا ہے۔”وانیہ کو شدید حیرت ہوئی تھی مگر اندر ہی اندر وہ کہیں نا کہیں خوش بھی تھی۔
اس کے بھائی کو اسکی کوئی پرواہ نہیں تھی۔اس پر جان چھڑکنے والی ماں جیسی پھوپھو بھی اسے تنہا چھوڑ گئی تھیں،شاہین کا بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا اور اس کا نام نہاد بچپن کا شوہر….نجانے وہ کہاں تھا؟کیسا دکھتا تھا؟اس نے تو مڑ کر ایک بار بھی وانیہ کی خبر نہیں لی تھی۔اور ایک یہ شخص تھا جو کہ انجان ہو کر بھی اس کے لیے اتنا کچھ کر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔