Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 38)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 38)
38
عبداللہ اور صوفی کے نکاح کے اگلے دن ہی ہارون نے انہیں کھانے پر انوائیٹ کیا تھا۔دوپہر کے کھانے پر ڈائینگ ٹیبل مختلف لوازمات سے سجی ہوئی تھی۔
“صوفی بیٹا!آپ کی پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟”سونی نے اسے خود سے مخاطب کیا تھا۔صوفی نکاح کے بعد سے کچھ بجھی بجھی سی تھی اور سونی اچھے سے جانتی تھی کہ اس کے پیچھے یقینا عبداللہ کا سرد رویہ اور ہر معاملے میں عدم دلچسبی سے کام لینا ہے۔
اس نے بس مسکرانے پر ہی اتفاقا کیا تھا۔کرب زدہ اور پھیکی مسکراہٹ….
“کالج کب سے جانا شروع کریں گی آپ؟”
“کل سے….”دھیما اور ٹھہرا ہوا لہجہ….
“صوفی کالج نہیں جائے گی۔”سونی کے کسی بھی رد عمل سے پہلے عبداللہ نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”مصطفی کے ماتھے پر شکنیں واضح تھیں۔
“یہی کہ صوفی اب میری بیوی ہے۔اور میں نہیں چاہتا کہ یہ آگے پڑھے…”اس کی بات پر جہاں سب کے چہروں پر حیرت چھائی تھی وہیں دو آنکھیں مزید جھک گئی تھیں۔ناچاہتے ہوئے بھی آنکھ سے چھن سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر لڑکھ گیا تھا۔
“یہ فیصلہ کرنے والے تم ہوتے کون ہو؟”مصطفی کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا۔
“صوفی کا شوہر…آپ بھول گئے ڈیڈ!کل ہی تو نکاح ہوا ہے۔”باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ انہیں بہت کچھ جتا گیا تھا۔
“زیادہ پڑھنے لکھنے سے لڑکیوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔میڑک تک پڑھائی بہت ہے،آگے پڑھنے کی ضرورت نہیں….”اس نے عام سے لہجے میں کہا تھا جیسے یہ کوئی بڑی بات ہو ہی نا….
وہ آج دوسری دفعہ ایک معصوم دل توڑ چکا تھا۔وہ اپنی ضد میں آ کر کسی معصوم کی خوشیوں کا قاتل بنا تھا۔
“آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے۔صوفی کا آپ کے ساتھ نکاح ضرور ہوا ہے مگر رخصتی نہیں….”حاتم کو عبداللہ کی بات اور انداز دونوں ہی سخت ناگوار گزرے تھے۔
“تم سے کسی نے رائے مانگی ہے؟”ہارون نے بری طرح سے حاتم کو ڈپٹا تھا۔
“صوفی اب آپ کی امانت ہے۔آپ جیسا چاہے گے ویسا ہی ہو گا بیٹا….!”ہارون کی بات پر جہاں عبداللہ کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ در آئی تھی وہیں صوفی کا صبر جواب دے گیا تھا۔وہ اب مزید ایک لمحہ بھی یہاں نہیں رک سکتی تھی۔اگر وہ ایک گھڑی اور یہاں رکتی تو یقینا وہ دھاڑیں مار مار کر رو دیتی۔
اپنے وجود کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے وہ ابھی اٹھنے ہی لگی تھی جب عبداللہ نے اسے پکارا تھا۔
“تم نے کچھ لیا ہی نہیں…؟کچھ لو نا….”اس کی آواز سب کی توجہ صوفی کی جانب مبذول کر گئی تھی۔
“جی….!”آنسوؤں کو گلے کے اندر اتارتے اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے پلیٹ میں موجود چمچ پکڑا تھا۔
وہ اب یہاں سے نہیں اٹھ سکتی تھی۔اگر ابھی وہ یہاں سے جاتی تو یہ بات ہارون کو سخت ناگوار گزرتی…اور بعد میں اس کی اچھی خاصی کلاس لگتی….
صوفی نے پانی کا گلاس اٹھائے لبوں سے لگایا تھا۔پانی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آنسو بھی پی گئی تھی۔
کس قدر سنگدل تھا وہ شخص….اس کے خواب کا قتل کر کے وہ اسے ماتم منانے کا بھی حق نہیں دے رہا تھا۔
وہ لان میں ٹہل ٹہل کر کسی سے فون پر بات کر رہا تھا جب صوفی نظریں جھکائے ہاتھ میں ٹرے پکڑے اس کی جانب آئی تھی۔کال کاٹتے عبداللہ نے ڈش میں سے کپ اٹھایا تھا۔اس کے کپ اٹھانے کی دیر تھی،وہ پھرتی سے واپس گھومی تھی۔
“رکو….!”بھاری گھمبیر آواز پر صوفی کا ننھا سا دل کانپا تھا۔وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی رہی تھی۔پلٹنے کی ہمت وہ کھو چکی تھی۔وہ کافی کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھے اس کی جانب بڑھا تھا۔
“میں اس وقت کافی نہیں پیتا بلکہ گرینٹی پیتا ہوں۔”
“میں بنا…بنا دیتی ہوں۔”اتنے قریب سے آواز آنے پر دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئی تھیں۔
“اس کی ضرورت نہیں….!”اس کے مزید قریب ہوتے وہ اس کے ہاتھوں سے ڈش لے چکا تھا۔عبداللہ نے وہ ڈش ٹیبل پر رکھی تھی۔
اس کے اس عمل سے صوفی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہوئی تھی۔اس کی ہتھیلیاں پل میں پسینے سے بھیگ گئی تھیں۔
بےشک وہ محض پندرہ سال کی تھی مگر وہ اس رشتے کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھتی تھی۔یہ اس رشتے کا کمال تھا یا سامنے موجود شخص کی وجاہت کا….مگر وہ اپنا دل بری طرح ہار بیٹھی تھی۔
“کیسا محسوس کر رہی ہو؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے وہ اس کے قریب کھڑا دلچسبی سے استفسار کر رہا تھا۔صوفی اس کی بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔
“جب خواب ٹوٹتے ہیں تو درد ہوتا ہے نا….؟”وہ عجیب انداز میں ہنسا تھا۔وہ اب بھی مجرم بنی نظریں جھکائے خاموش کھڑی تھی۔
“مجھے بھی ہوا تھا جب تم زبردستی میرے سر پر مسلط کی گئی تھی۔مجھے تم جیسی لڑکی ہر گز نہیں چاہیئے تھی۔
نظریں ملا کر تو بات کر نہیں سکتی تم مجھ سے…قدم سے قدم ملا کر کیا خاک چلو گی؟”اس کے کانوں میں زہر انڈیلتے وہ نفرت سے منہ پھیرے وہاں سے گیا تھا۔
صوفی نے گہری سانس خارج کیے نگاہیں اٹھائی تھیں۔وہ
اس ہتک آمیز لہجے کی عادی تھی۔
اس نے اپنے باپ کو ہمیشہ اپنی ماں سے اسی لہجے میں بات کرتے سنا تھا۔
“شاید سارے شوہر ایسے ہی ہوتے ہیں۔”اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی تھی۔وہ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں کیونکہ اس کا بھائی ایسا نہیں تھا۔وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔یہی وجہ تھی کہ وہ حاتم کے زیادہ قریب تھی۔
وہ دونوں جڑواں ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے۔ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کے بعد بھی وہ ایک دوسرے کا سایہ تھے۔
رات کے گھپ اندھیرے میں وہ ایک بار پھر اس کمرے میں بیٹھی مختلف کڑیاں جوڑ رہی تھی۔دوائی کھانا اس نے چھوڑ دیا تھا اور رات کے وقت تقریبا سونا بھی وہ چھوڑ چکی تھی۔وہ آواز دن بدن اسے خوف میں مبتلا کرتی جا رہی تھی۔بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ اس آواز کا سراغ نہیں لگا پا رہی تھی۔
ایک بات تو طے تھی کہ یہ اس کا وہم نہیں تھا۔کوئی تھا جو اسے ہر رات اذیت سے گزارتا تھا۔کوئی تھا جو اسے کچھ بھی بھولنے نہیں دیتا تھا۔
اس سب کا شاید ایک ہی حل تھا کہ وہ اپنے ماضی کو جان لے۔وہ تمام رازوں پر سے پردہ ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔شاید ایسے ہی اسے اس آواز سے چھٹکارا مل سکتا تھا۔
“نین…نینا…عمر…جیمز….!”اس نے ڈائری کے صفحے پر چند نام گھسیٹے تھے۔
“نین….نینا….!”اس نے ان دو ناموں پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“کیا یہ ممکن ہے کہ یہ دو الگ الگ لوگ ہوں؟”پین کو دانتوں تلے دبائے وہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔
ڈائری کو سائیڈ پر رکھے اب اس نے پاس پڑا لاکٹ اٹھایا تھا۔
“عمر….!اس نام کو چھوتے ہوئے اس کے لب ہلے تھے۔
“یا تو یہ عمر مام کا کوئی لور ہے یا پھر…”اس نے وقفہ لیا تھا۔
“یا پھر نین اور نینا دو الگ الگ شخصیات ہیں۔”
“یہ ہو سکتا ہے۔یہ بالکل ہو سکتا ہے کیونکہ مام نے کہا تھا کہ ‘نین بھاگ جاؤ۔”اسے اپنی ماں کی کہی بات اچھے سے یاد تھی۔
“اگر نین اور نینا دو الگ الگ لوگ ہیں تو پھر نین کا مجھ سے اور اس گھر سے کیا رشتہ ہے؟”وہ اب مختلف کڑیوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“ہو سکتا ہے کہ وہ میری بڑی بہن ہو جسے بچاتے بچاتے مام اپنی جان کی بازی ہار گئیں۔”وہ خود سے ہی ہم کلام تھی۔
اس کی زندگی ایک پزل بن چکی تھی جسے وہ کسی بھی قیمت پر سلجھانا چاہتی تھی۔
“اگر ایسا ہے تو پھر نین ہے کہاں….؟اسے تو پھر اس گھر میں ہونا چاہیئے تھا نا…؟”اپنی ماں کی تصویر اٹھائے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“وہ ڈگریز…ہاں وہ میڈلز…ہو سکتا ہے کہ وہ نین کی ہوں۔ہو سکتا ہے کہ وہ بیرون ملک رہتی ہو۔ہو سکتا کہ وہ ہائیر سڈیز کے باہر گئی ہو….ہاں یہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ لڑکی جسے میں آپی کہہ رہی تھی….س کی عمر بھی تو لک بھک اٹھارہ،انیس سال تھی نا….!ہو سکتا ہے کہ وہی نین ہو۔”مسلسل سوچ سوچ کر وانیہ کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔
“کیا مصیبت ہو تم نین…!میری زندگی کا تو سارا سکون ہی برباد کر دیا ہے تم نے…بس ایک دفعہ مل جاؤ مجھے…ہر ایک چیز کا حساب لوں گی میں تم سے….”سب کچھ ویسے ہی چھوڑے وہ منہ بناتی وہاں سے اٹھی تھی۔
رات کے پہر نائل ایک بوسیدہ گھر کو لاک کیے باہر نکلا تھا۔
محسن گاڑی کے پاس کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔باہر جاتے ساتھ ہی وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی محسن نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی۔
“آخر کب تک چلے گا یہ سلسلہ؟”محسن نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“میری زندگی کی آخری سانس تک…”ونڈو سے باہر گزرتے درختوں کو دیکھ کر نائل نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“تم مار کیوں نہیں دیتے اسے…؟”شاید وہ ہمدردی محسوس کر رہا تھا۔
“مارنا ہوتا تو بارہ سال پہلے ہی مار دیتا۔تم تو جانتے ہو نا میرے اصول کو…میں موت نہیں زندگی دیتا ہوں۔میرے نزدیک موت نہیں بلکہ زندگی سزا ہے۔”گاڑی کی پشت سے ٹیک لگائے نائل نے آنکھیں موندی تھیں۔
“میری مانو تو اسے مار کر قصہ ختم کرو۔یوں روز روز کیوں خود کو اذیت پہنچاتے ہو؟”وہ دوست ہونے کی حیثیت سے اسے سمجھا رہا تھا۔
“میں بس انتقام لینا چاہتا ہوں۔”اس نے آنکھیں کھولے کہا تھا۔رات کے اندھیرے میں بھی اس کی سنہری آنکھوں میں سرخی واضح تھی۔
“یہ کیسا انتقام ہوا جس میں تم اپنے ہی دشمن کا علاج کروا رہے ہو؟”محسن نے چڑ کر کہا تھا۔
“میں اسے اس کے پورے ہوش و ہواس میں تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا ہوں۔جو کچھ میری ماں کے ساتھ ہوا اور جو کچھ میری وانیہ برداشت کر رہی ہے اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟بس کچھ وقت اور…ہر چیز کا حساب ہو گا۔”اس کی آنکھوں میں بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی۔
اب کی بار محسن خاموش ہی رہا تھا۔نائل کو کچھ بھی سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔وہ جو سوچ لیتا تھا پھر وہ کسی بھی حال میں وہ کر گزرتا تھا۔
