Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 49)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 49)
ڈیوڈ اور نائل کی ملاقات رات کے وقت ایک خفیہ جگہ پر ہوئی تھی۔یہ ایک پرانا گھر تھا جس کے ٹیرس پر اس وقت وہ دونوں موجود تھے۔
“یہ فائل دینی تھی مجھے….شاید اسے دیکھنے کے بعد تمہاری آنکھوں پر بندھی پٹی کھل جائے۔”نائل نے فائل اس کی جانب بڑھائی تھی۔
“دعا کرتا ہوں کہ تم اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھا سکوں۔”اس کے ہاتھ سے فائل لیتے ڈیوڈ نے ایک اچنٹی نگاہ نائل پر ڈالی تھی۔
وہ یہ کہہ کر رکا نہیں تھا بلکہ اسی تیزی سے وہاں سے گیا تھا جس تیزی سے وہ وہاں آیا تھا۔
ڈیوڈ کچھ دیر خالی الذہن کی حالت میں وہاں کھڑا رہا تھا پھر اس نے وہ فائل کھولی تھی۔
اس سنسناتی رات کے گھپ اندھیرے میں جہاں آسمان پر گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں وہیں آج کسی کی نظروں سے تمام تر گھٹائیں ہٹی تھی۔کچھ منظر جو دھندلے تھے وہ اب واضح ہونے لگے تھے۔کڑیوں سے کڑیاں جڑنے لگی تھیں۔زںدگی کی سڑک کے پار دھند چھٹ چکی تھی،سب صاف تھا،بالکل جھرنے سے بہتے شفاف پانی کی طرح….
وہ ایک لمحہ مزید ضائع کیے بھاگتا ہوا نیچے آیا تھا۔اس کا رخ اب ہسپتال کی جانب تھا۔دل کی عجیب کیفیت تھی۔حاتم کا دل صحیح اور غلط کے بیچ کہیں پھنسا ہوا تھا۔اگر تو یہ فائل سچی ہے تو پھر….وہ آگے سوچنا نہیں چاہتا تھا،وہ آگے سوچ ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ آگے تو کچھ تھا ہی نہیں….جو بھی تھا وہ گزر چکا تھا۔اس کا کیا ہر جرم،ہر قتل،ہر برائی،سب کچھ….
اپنے دماغ سے سب جھٹکتے اس نے گاڑی آگے کی جانب بڑھائی تھی۔
آدھے گھنٹے کی معمولی سی محنت کے بعد ہر ایک چیز،ہر ایک سچ اس کے سامنے تھا۔ہسپتال سے باہر آتے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔وہ کتنی دیر غائب دماغی کی حالت میں وہاں بیٹھا رہا تھا۔سٹیرنگ پر ہاتھ جمائے اس نے چابی گھمانے کی کوشش کی تھی جو کہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گری تھی۔
ڈیوڈ نے شکست خور حالت میں سیٹ کی پشت سے ٹیک لگایا تھا۔وہ اس وقت ڈرائیو کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔
آنکھیں بند کرتے ہی سیاہی اس کے آگے چھائی تھی۔
بند تاریک کمرے میں تقریبا پندرہ،ساڑھے پندرہ سال کا وہ بچہ دبکا بیٹھا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ مسلسل سسک رہا تھا۔اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔ایک عجیب طرز کا سفید لباس پہنے وہ شخص اندر داخل ہوا تھا جو کہ تقریبا ایک ہفتے سے روز وہاں آ رہا تھا۔حاتم نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی کو اس قسم کا لباس پہنے دیکھا تھا۔وہ عیسائیوں کا مخصوص لباس تھا اور وہ شخص پادری تھی۔
“کیسے ہو ڈیوڈ؟”اس کے پاس بیٹھتے اس شخص نے شفقت سے اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرا تھا۔
“میرا نام حاتم ہے،ڈیوڈ نہیں….”وہ پیچھے کی طرف کھسکتے چیخ اٹھا تھا۔
“تم ڈیوڈ ہو اور مستقبل کے بلیک مونسٹر….”اس شخص کے لہجے میں اب بھی وہی مٹھاس تھی۔
“مجھے نہیں بننا کوئی بلیک مونسٹر….مجھے جانے دو،پلیز مجھے دو۔”وہ بےبسی سے چیخ اٹھا تھا۔
اس پادری نے نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔دبلا پتلا نوجوان لڑکا….جس کے جسم کے ہر حصے پر کوئی نا کوئی نشان ضرور تھا لیکن اس سب کے بعد بھی اس میں کوئی بات تو ضرور تھی جو وہ اب تک زندہ تھا۔
“تم مجھے بھوکے لگ رہے ہو۔کچھ کھاؤ گے؟”اس بات پر حاتم کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ اس کی بھوک بھی چمک اٹھی تھی۔وہ دو دن سے بھوکا تھا۔اسے جان کر بھوکا رکھا گیا تھا۔
“کھانا کھاؤ گے؟”ایک بار پھر پوچھنے پر حاتم نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔اس شخص کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
اس نے اشارے سے دروازے کے پاس کھڑے گارڈ کو بلایا تھا۔تھوڑی دیر میں وہ ایک ڈھکی ہوئی ٹرے اور ایک باکس لے کر اندر داخل ہوا تھا۔
“اس دنیا میں کوئی بھی چیز ایسے ہی نہیں مل جاتی۔اگر تمہیں کھانا چاہیئے تو تمہیں میرا ایک کام کرنا ہو گا۔”اس شخص نے ٹرے پر سے ڈھکن ہٹایا تھا۔
“کیسا کام….؟”اپنے سامنے اتنے سارے لوازمات دیکھ کر حاتم کو شدت سے بھوک کا احساس ہوا تھا۔
“اس باکس میں ایک بلی ہے اور یہ چاقو ہے۔اسے مار دو اور کھانا حاصل کر لو۔”اس بات پر حاتم کی سانس سوکھ گئی تھی۔وہ یہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
“میں یہ نہیں کروں گا،کسی قیمت پر بھی نہیں….”
“تمہاری مرضی ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا،اگر تم یہ نہیں کرو گے تو اگلے ایک ہفتے تک تمہیں کھانا نہیں ملے گا اور اگر تم یہ کرو گے تو تمہیں روز کھانا ملے گا۔”وہ لوگ تو تیس تیس سال کے مرد کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے تھے۔یہ تو پھر ایک بچہ تھا۔
حاتم گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“خود کو بچانے کے لیے کسی کو مارنا غلط نہیں ہے۔اپنی ضرورت کے لیے کسی کو مارنا بالکل جائز ہے۔تم کچھ غلط نہیں کرو گے۔”وہ لوگ کافی عرصے سے اس کا برین واش کر رہے تھے۔اسے ایک درندہ بنانے کے جتن کر رہے تھے اور وہ اچھے سے جانتے تھے کہ وہ بہت جلد اس میں کامیاب بھی ہو جائے گے۔
حاتم کچھ دیر عجیب نظروں سے اس باکس اور کھانے کی ٹرے کو دیکھتا رہا تھا پھر وہ ہمت کرتا بامشکل اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ باکس کھولا تھا۔اس باکس میں ایک بہت ہی خوبصورت پرشیئن سفید بلی کا بچہ تھا۔وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹا تھا۔
“یہ تو بہت چھوٹا سا ہے۔”وہ سسکا تھا۔
“بالکل نہیں ڈیوڈ….یہ تمہارا دشمن ہے۔وہ دشمن جس کی وجہ سے تم بھوکے ہو۔مار دو اسے اور اپنی خوراک حاصل کرو۔”
“نہیں!نہیں!”وہ مسلسل روتے ہوئے سر نفی میں ہلا رہا تھا۔
“مار دو اسے….مار دو…..”بار بار ایک ہی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
اس نے ایک نظر اس معصوم بلی کے بچے کی طرف دیکھا تھا جس کی گرے آنکھوں میں صرف معصومیت ہی تھی اور دوسری نظر اس کھانے کو…..جہاں کھانے کی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی وہیں اس بچے کی میاؤں میاؤں کی آواز بھی اسے برابر سنائی دے رہی تھی۔
ایک لمحہ لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں….انسانیت اور درندگی میں سے اس نے درندگی کو چنا تھا۔حاتم نے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ چھری اٹھائی تھی۔
آنکھیں بند کیے وہ چھری اس بلی کے بچے کے قریب کے گیا تھا۔اگلے لمحے اس کے کپڑوں اور چہرے پر خون کے چھینٹے تھے۔یہ حاتم کی زندگی کا پہلا قتل تھا۔وہ ایک بلی کا قتل نہیں تھا،وہ معصومیت کا قتل تھا،وہ حاتم کا قتل تھا اور ڈیوڈ کی پیدائش…..
وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔کچھ دیر چابی ٹٹولنے کے بعد ڈیوڈ نے سرخ آنکھوں کے ساتھ گاڑی آگے ڈورائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ اور احمر کی دوستی کو تقریبا مہینہ ہونے کو آیا تھا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ دوستی گہری سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔
اب بھی اس نے احمر کو کسی فوٹو شوٹ کے لیے ایک جگہ بلایا تھا۔احمر بہت اچھا فوٹو گرافر تھا۔مگر اس کی فوٹو گرافی کی ایک خاص بات تھی،وہ صرف انہی چیزوں کی تصویریں لیتا تھا جو کہ اسے خوبصورت لگتی تھی۔وہ زیادہ تر قدرت کے حسین مناظر کو اپنے کیمرے میں مقید کرتا تھا۔
کافی دیر وانیہ کا انتظار کرنے کے بعد اس نے اب جھنجھلاتے ہوئے اسے فون ملایا تھا۔
“کہاں پر ہو تم….؟اور مجھے یہاں کیوں بلایا ہے،یہاں خوبصورتی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔”ایک اونچے مقام پر سورج کے غروب ہونے کا دلنشیں منظر بھی اسے متاثر نہیں کر سکا تھا۔
“اپنے پیچھے دیکھو۔”فون سے نسوانی آواز سنتے ہی وہ بےاختیار پلٹا تھا۔
آسمان میں اڑتے پرندے کی پرواز رک گئی تھی،ہوا کے تیز جھونکوں نے اپنا رخ موڑا تھا۔کسی کی نظریں تھمی تھیں،کوئی ساکت ہوا تھا،وہ احمر تھا….جو اپنے سامنے وانیہ کو دیکھ کر بالکل مسمرائز ہوا تھا۔ہلکے جامنی رنگ کی خوبصورت مگر سادہ سی میکسی پہنے وہ مسکرا کر اس کی جانب آ رہی تھی۔اس کے بڑھتے ہر قدم پر احمر کے دل کی دھڑکن بےقابو ہو جاتی تھی۔
احمر کی یہ کیفیت اس کا بےپناہ حسن دیکھ کر نہیں ہوئی تھی بلکہ کچھ اور تھا جس نے اسے چاروں خانے چت کر دیا تھا۔
وانیہ کا حجاب…..سفید اور جامنی رنگ کے امتزاج کا وہ خوبصورت حجاب…..
“اب تو لو گے نا میری تصویر؟”اس تک پہنچتے وہ چیلنجنگ انداز میں گویا ہوئی تھی۔
احمر نے مسکرا کر اس کا خوبصورت سراپا اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔
وانیہ نے کئی بار اس سے اپنی تصویر کھینچنے کی فرمائش کا اظہار کیا تھا مگر احمر نے ہمیشہ ہی انکار کیا تھا۔اس کے بقول وہ صرف خوبصورتی کو ہی اپنے کیمرے میں قید کرتا تھا اور وانیہ….وانیہ اسے کبھی خوبصورت نہیں لگی تھی،مگر آج وہ اسے نا صرف حسین لگی تھی بلکہ وہ بری طرح اپنا دل بھی ہار بیٹھا تھا۔
“مجھے تم سے کہنا ہے۔”اس نے ہمت کرتے اپنے دل کی بات کہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
“کہو….”سورج کے نارنجی رنگ میں کھوتے وانیہ نے خوشدلی سے اجازت دی تھا۔
“تمہیں محبت پر یقین ہے؟”انگلیوں کو آپس میں مس کیے اس نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا تھا۔
“ہاں ہے۔”کسی کے نقوش کو آنکھوں کے پردے پر تصور کرتے اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
“تمہیں پتا ہے احمر!اس کی باتیں مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔کبھی کبھی اس کا ڈانٹنا بھی اور اس کے تحائف بھی….”احمر کے دل کو کچھ ہوا تھا،ایسے جیسے کسی نے اسے مٹھی میں جکڑا ہو۔اسے ہر گز اندازہ نہیں تھا کہ وانیہ کی زندگی میں کوئی ہو گا۔
“تمہیں پتا ہے میں اس سے بدگمان ضرور ہوئی تھی مگر میری محبت اس کے لیے کم نہیں ہوئی۔اس غروب ہوتے سورج کے سامنے آج میں اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے شاہین سے بے انتہا محبت ہے۔مجھے اپنے شوہر سے بہت محبت ہے۔”وہ دلکشی سے مسکرائی تھی۔اس بات سے انجان کہ وہ کسی کا معصوم دل بری طرح توڑ چکی ہے۔
“شاہین….؟تم شادی شدہ ہو؟”احمر کو اپنی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی تھی۔
“ہاں!میں کسی کی منکوحہ ہوں اور تمہیں پتا ہے میں نے اپنی زندگی میں کبھی اس شخص کو حقیقت میں نہیں دیکھا مگر میں نے اسے تصور کیا ہے۔وہ بہت اچھا ہے،بہت زیادہ….”احمر کے لیے اب ایک قدم بھی وہاں رکنا مشکل ہو گیا تھا۔
“مجھے کام ہے،بعد میں ملتے ہیں۔”ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ تقریبا بھاگتا ہوا وہاں سے گیا تھا۔
وانیہ نے اسے آوازیں دی تھیں مگر وہ نہیں رکا تھا۔رکنا ممکن ہی نہیں تھا۔اب پیچھے مڑ کے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔اس کا دل ٹوٹا تھا۔اس کی پہلی محبت نے اس کا دل بری طرح ٹوڑا تھا۔
اب یہاں اسکا کچھ نہیں بچا تھا۔سب ختم ہو گیا تھا۔اقرار سے پہلے ہی انکار کا تیر اس کے دل میں پیوست کر دیا گیا تھا۔
بس یہی تک تھا وانیہ اور احمر کا ساتھ…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
