Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 05
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 05
“جب آپ نے مجھے جسمانی تکلیف پہنچانا چھوڑی تو آپ نے مجھے دماغی اذیت دینے کا فیصلہ کیا۔ہے نا….؟”اس کی خاموشی چیخ چیخ کر سنیہا کی بات کی سچائی کی گواہی دے رہی تھی۔
“میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا،تم بھی اٹھالو۔تمہیں دھکہ دیا،تم بھی دے دو۔تمہیں برے القابات کہے،تم بھی کہہ دو۔جتنی اذیت میں نے تمہیں پہنچائی ہے،تم بھی اتنی ہی پہنچا لو۔لیکن اب ختم کرو اس سب کو…..میں تھک گیا ہوں۔تم سے لڑتے لڑتے،خود سے لڑتے لڑتے…..سنیہا میں تمہارے ساتھ ایک نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں۔”نائل نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
“بس کر دیں،میں بھی تھک چکی ہوں یہ سب سن سن کر….”اس نے اپنے ہاتھ چھڑوائے تھے۔
“پہلے قول اقرار کرتے ہیں،معافی مانگتے ہیں پھر جب میں مان جاتی ہوں تو کچھ دنوں بعد پھر سے وہی سب…..”اس کی آواز بھرا گئی تھی۔نائل اس کی نظروں میں اپنا اعتبار کھو چکا تھا۔
“ایک آخری بار…..”اس نے پھر سے کوشش کی تھی۔
“مجھے بخش دیں۔”اس کے آگے ہاتھ جوڑے وہ رو دی تھی۔
“مجھے تمہاری ضرورت ہے سنیہا!میں ماضی سے نکلنا چاہتا ہوں۔کیا تم میری مدد نہیں کر سکتی؟”اس نے ایک امید سے اس کا دائیاں ہاتھ تھاما تھا۔
“آپ ماضی سے نہیں نکلنا چاہتے۔آپ نے خود مجھ سے اس رات کہا کہ آپ کو سنیہا نہیں صوفی چاہیئے۔”
“میں نشے میں تھا۔”یہ احتجاج تھا۔
“نشے میں ہی تو انسان سچ بولتا ہے۔”اس کا احتجاج فورا رد کیا گیا تھا۔
“اور جو میں ہوش میں بول رہا ہوں اس کی کیا کوئی اہمیت نہیں ہے؟؟”نائل نے آگے بڑھ کر اس کے اشق چننے چاہے تھے۔وہ منہ پھیر گئی تھی۔
“مجھے صوفی نہیں سنیہا چاہیئے۔”وہ سر جھٹکتے ہنس دی تھی۔
“کاش،کاش کہ وہ زندہ ہوتی۔آپ دونوں ایک ساتھ ہوتے۔کاش کہ میں آپ کی زندگی میں کبھی آئی ہی نا ہوتی۔دوسری عورت کہلانا دنیا کا سب سے اذیت ناک کام ہے۔”
“اگر وہ اس دن نا بھی مرتی تب بھی وہ میری زندگی میں نا ہوتی۔میں اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتا۔”سنیہا نے چونک کر نظریں اٹھائی تھیں۔نائل کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا۔
“مجھے اس سے محبت نہیں ہے،نفرت کرتا ہوں میں اس سے….بس سچ یہ ہے کہ میں اسے بھول نہیں پاتا۔تم میرا ساتھ دو گی تو یہ ممکن ہو سکتا ہے۔ماضی کو بھول جاتے ہیں سنیہا…..”نائل نے اس کی گال سہلائی تھی۔وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
“آپ نے کہا تھا کہ…..”آنسوؤں کو گلے کے اندر اتارتے اس نے ابھی جملہ بھی مکمل نہیں کیا کہ اسے اپنے ہونٹوں پر اس کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تھا۔
“شش……”نائل نے اس کے لبوں پر انگلی رکھے اسے خاموش کروایا تھا۔
“میں نے جو بھی کہا تھا،بھول جاؤ۔میں ہمیشہ سچ کہوں یہ ضروری نہیں ہے۔میری باتوں کو ہمیشہ سیریس مت لیا کرو۔میں جھوٹ بھی بولتا ہوں اور بہت صفائی سے بولتا ہوں۔تم بتاؤ مجھے ایک اور موقع دو گی؟”اس کے دونوں ہاتھ تھامے وہ اسے خود سے قریب کر گیا تھا۔
“یہ آخری بار ہو گا۔”وہ ہار گئی تھی۔وہ شخص اسے موم کرنے کا فن بخوبی جانتا تھا۔
“Thank you!”
نائل نے اسے خود میں بھینچا تھا۔اس کا مضبوط حصار پاتے وہ جیسے سب بھول گئی تھی۔
عورت ایسی ہی ہوتی ہے۔مرد کی ذرا سی محبت اور توجہ پا کر وہ اس کیا گیا ہر ظلم،ہر ستم بھول جاتی ہے۔
“میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں اب مجھ سے کوئی شکایت نا ہو لیکن تمہیں بھی کچھ چیزوں کا خیال رکھنا ہو گا۔”نائل نے آہستگی سے اس کے گرد حصار ہٹایا تھا۔
“میں تم پر کوئی پابندی نہیں لگاؤں گا سنیہا!تم جو کرنا چاہو،جہاں جانا چاہو چلی جانا مگر پلیز مجھے بتا کر جانا،مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔”اسے شانوں سے تھامتے وہ حد درجہ نرم لہجے میں گویا ہوا تھا۔وہ نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“بس جب میں غصے میں ہوتا ہوں نا تو میرے سامنے مت آیا کرنا۔تم چپ چاپ وہاں سے چلی جانا اور اگر میں کوئی فضول بات کر دوں تو مجھے بالکل نظرانداز کر دینا،بالکل جواب مت دینا۔”سنیہا کی آنکھوں میں شکوہ ابھرا تھا۔یعنی وہ سدھرا ابھی بھی نہیں تھا۔
“میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں تا کہ بات نا بڑھ جائے۔جب میرا غصہ اتر جائے گا تو پھر تمہاری حکمرانی…..”اس کی وضاحت پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی تھی۔
“ایک اور بات،کوشش کیا کرو کہ مجھ سے نظریں جھکا کر بات کرو۔مجھے جھکی نظروں والی مشرقی بیوی زیادہ اچھی لگتی ہے۔”سنیہا کے ماتھے پر سلوٹیں پڑی تھیں اور آنکھوں میں دبا دبا سا غصہ…..
“تمہیں یہ کرنا ہو گا سنیہا ورنہ میں اپنی طرح سے تمہیں نظریں جھکانے پر مجبور کر دوں گا۔”نائل نے اسے خود سے مزید قریب کرتے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا مس کیا تھا۔وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔اس کا نرمی بھرا لمس وہ برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ابھی بھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
“میری بس یہی ڈیمانڈز تھیں اب تم اپنی ڈیمانڈز بتاؤ۔”اس نے اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ رحم کھاتے اسے آہستگی سے خود سے دور کیا تھا۔
“میں…..؟”وہ بوکھلا گئی تھی جبکہ نظریں جھکی ہی ہوئی تھیں۔
“ہاں تم…..تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟”
“میں…..”وہ سوچ میں پڑی تھی۔
“آپ مجھ پر کوئی طنز نہیں کریں گے۔کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کریں گے،مجھے عزت دیں گے اور اچھا شوہر بننے کی بالکل بھی کوئی کوشش نہیں کریں گے۔”وہ بہت سوچ سوچ کر بول رہی تھی جبکہ اس کی آخری بات پر نائل نے باقاعدہ لب دبائے تھے۔
“تم ٹھیک کہتی ہو مجھے اچھا شوہر بننے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ میں پہلے سے ہی اچھا شوہر ہوں۔”سنیہا نے بےیقینی سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا مگر اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ پھر نظریں جھکا گئی تھی۔
“تم واقعی میں خوش قسمت ہو،مجھ جیسا شوہر کسی اور بیوی کو نہیں ملے گا۔تم ایک دن خود تسلیم کرو گی کہ میں کتنا اچھا ہوں لیکن سچ بتاؤں۔”نائل نے اس کی گال پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری تھی۔وہ دبک کر پیچھے ہٹی تھی۔وہ آج اس کی جان لینے کے در پر تھا۔
اسے پیچھے ہٹتا دیکھ وہ قدم بڑھا کر اس کے قریب گیا تھا۔وہ پیچھے دیوار سے جا لگی تھی۔
“میں نہیں چاہتا کہ وہ دن کبھی آئے۔”اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے وہ پیچھے ہٹا تھا۔سنیہا کی سانسیں اتھل پتھل ہوئی تھیں۔
“اب جو اچھی بیوی بننے کے چکر میں میری شرٹ جلائی ہے اس کا کیا کرنا ہے؟”ہاتھ پر ہاتھ باندھے نائل نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
“میں اور پریس کر دیتی ہوں۔”وہ منمنائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت بادلوں کے افق پر چھا جانے کے بعد بھی سورج کی چند کرنیں چھپکے سے اب بھی زمین تک پہنچ رہی تھیں۔کسی حسین خواب کے زیر اثر وہ گہری نیند میں تھی تبھی اسے اپنے سر کے نیچے کسی سخت چیز کا احساس ہوا تھا۔وہ تکیہ تو ہر گز نہیں تھا۔اس نے نیند کی حالت میں ہی اوڑھا کمبل اتارا تھا۔
عینین نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی تھی۔اس کا سر حاتم کے سینے پر تھا۔عینین نے اٹھنا چاہا تھا مگر اس کے حصار کی سختی اسے اٹھنے نہیں دے رہی تھی۔
“عمر چھوڑو مجھے…..”اس نے پورا زور لگا کر اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا مگر وہ کامیاب نا ہو سکی تھی۔
“کیا ہوا نین،طبیعت تو ٹھیک ہے نا…..؟”وہ مندھی مندھی سی آنکھوں سے فورا اٹھ کر بیٹھا تھا۔رہائی پاتے جیسے اسے سانس آئی تھی۔
“کیا کھاتے ہو تم آخر…..؟”بھورے بالوں کو چہرے سے ہٹاتے اس نے جوڑا بنایا تھا جبکہ دو شریر لٹیں اب بھی اس کے حسین چہرے پر جھول رہی تھیں۔
“پیار…..”انگڑائی لیتے حاتم نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگایا تھا۔
وہ جو ابھی اپنے بالوں کے ساتھ ہی الجھی تھی،اس کی بات پر غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی جانب پلٹی تھی۔
“کل پورا دن کہاں تھے؟”اچانک جھٹکہ کھا کر پلٹنے کی وجہ سے اس کے بال ایک بار پھر کھل گئے تھے۔
“تمہارے خیالوں میں…..”خمار آلود لہجے میں اس نے عینین کے چہرے پر جھولتی لٹ کو اپنی انگلی میں گھمایا تھا۔
“ٹھیک ہے تو اب بھی وہیں رہو۔”اس کا ہاتھ جھٹکتی وہ تن فن کرتی بستر سے اٹھی تھی۔کل رات جو بھی ہوا،وہ اسے یاد نہیں تھا۔
“ہائے…..”حاتم نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا تھا۔اس کی ہر ادا ہی قاتلانہ تھی۔
“ناراض ہو؟”
“شادی کے اگلے دن تم اپنی نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر باہر گھومتے پھرتے ہو اور مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ میں ناراض ہوں؟”کیچر میں بال مقید کرتے اس نے پھولے ہوئے گالوں کے ساتھ ایک خفیف نگاہ حاتم پر ڈالی تھی۔وہ تو دل و جاں سے اس کی اس ادا پر فدا ہوا تھا۔
“تم مار ڈالو گی مجھے…..”اپنے کان کے قریب میٹھی سرگوشی سنتے عینین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی
“میں واقعی میں مار دوں گی تمہیں…..”وہ اس کی جانب پلٹی تھی۔غرالی آنکھوں غضب ڈھا رہی تھیں۔
“یہ کام صرف تم ہی کر سکتی ہو۔نین کے علاؤہ عمر کو کوئی نہیں مار سکتا۔”
اچانک برکھا رت میں مینہ برسنے لگی تھی۔گھٹائیں آسمان پر مکمل طور پر چھا گئی تھیں۔اس حسین اور خوشگوار موسم میں دو دیوانے سر جوڑے کھڑے تھے۔ایک منا رہا تھا تو دوسری نخرے دکھا رہی تھی۔
بجلی کے گرجنے کی آواز سے اس کے سینے پر رکھا ہاتھ ایک لمحے کے لیے کانپا تھا۔چہرے پر اضطراب اور کرب ابھرا تھا۔
“کیا ہوا نین،سب ٹھیک تو ہے؟”حاتم نے اس کے بدلتے تاثرات دیکھے تھے۔شاید وہ اس آواز سے ڈرتی تھی۔
“بارش،عمر بارش ہورہی ہے۔”اچانک ہی اس کے چہرے پر چھائے تاثراب تبدیل ہوئے تھے۔اسے پرے دکھیلتے وہ بھاگتی ہوئی باہر گئی تھی۔
“ارے،ارے…..”وہ اسے آوازیں ہی دیتا رہا تھا مگر عینین نے جیسے کان لپیٹ لیے تھے۔
وہ کمرے سے لاؤنچ کا سفر طے کرتی باہر لان میں آئی تھی۔لان کے بیچ و بیچ کھڑے ہوتے اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی جانب پھیلائے تھے۔
وہ اس کے پیچھے باہر گیا تھا مگر تب تک وہ مکمل طور پر بھیگ چکی تھی۔
“نین…..!”حاتم نے اسے آواز دی تھی مگر وہ ہر چیز سے بےنیاز آنکھیں بند کیے گول گول گھوم رہی تھی۔
حاتم کچھ دیر اسے یوں ہی دیکھتا رہا تھا پھر مجبورا اسے جانا ہی پڑا تھا۔
“چلو اندر چلو،بیمار ہو جاؤ گی تم۔”حاتم نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا تھا۔
“میں کہیں نہیں جا رہی۔”حاتم کی مداخلت اسے بالکل پسند نا آئی تھی۔
“نین!مجھے غصہ مت دلاؤ۔”وہ دونوں ہی اس وقت مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔
“ٹھیک ہے میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ مگر پہلے یہ بتاؤ کہ کل پورا دن کہاں تھے۔”اس کے چہرے پر چھائی سختی دیکھ عینین محتاط ہوئی تھی۔
“کسی کا قتل کرنے میں مصروف تھا۔”حاتم نے صاف گوئی سے کام لیا تھا۔عینین کا منہ بےاختیار کھلا تھا۔پانی کی بوندیں اب بھی دونوں پر برابر پڑ رہی تھی۔
“میں تو بھول ہی گئی تھی کہ تم ایک آرمی آفیسر ہو۔”اپنی غلطی کا احساس ہوتے عینین نے اپنے سر پر ایک چپت لگائی تھی۔اب کی بار حیران ہونے کی باری حاتم کی تھی۔اس نے بےیقینی سے عینین کی جانب دیکھا تھا پھر سر کو خم دیے وہ مسکرا دیا تھا۔
“تم کچھ دنوں کی چھٹی لے لو۔”چہرے پر ازلی معصومیت تھی۔
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔”
“ہنی مون پر بھی تو جانا ہے نا ہمیں…..”اب وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔بارش کی صاف گرتی بوندوں میں،جہاں منظر دھندلا جائے….وہ با آسانی اس کا گلاب کی طرح سرخ ہوتا چہرہ دیکھ سکتا تھا۔
“چلو اندر چلتے ہیں۔”اسے پرے دکھیلتی،نظریں چرائے وہ اندر کی جانب بھاگی تھی۔اس کی بوکھلاہٹ دیکھ حاتم کا قہقہ چھوٹا تھا۔
کپڑے بدلتے وہ ٹاول سے بال رگڑ رہی تھی جب حاتم بھی چینج کیے باہر نکلا تھا۔
“اگر تمہیں زکام ہوا یا پھر تم بیمار پڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”حاتم کی دھمکی پر اسکے چلتے ہاتھ رکے تھے۔ٹاول سائیڈ پر رکھے وہ تیکھے نقوش چہرے پر سجائے بالوں کو جھٹکہ دیے پلٹی تھی۔
“آہ….!”اس کے بال سیدھا حاتم کی آنکھوں میں لگے تھے۔
“تم اندھی ہو کیا….؟”آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ غصے سے گویا ہوا تھا۔
“تمہیں کس نے کہا کہ پیچھے آ کر کھڑے ہو جاؤ؟”دونوں ہاتھ کمر پر رکھے عینین نے سرخ پڑتی ناک کے ساتھ اسے گھورا تھا۔
“اگر مجھے تمہارے بال پسند نا ہوتے تو اب تک کاٹ چکا ہوتا۔”
“کس قدر عجیب شخص ہو تم،ان حالات میں ہیرو پتا ہے کیا کرتا ہے؟وہ آنکھ پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر ہیروئین اس کی آنکھ پر پھونک مارتی ہے اور پھر پیچھے ایک اچھا سا رومانٹک سا گانا چلتا ہے۔”وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلی جا رہی تھی جب حاتم نے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجائے اسے ہوش دلایا تھا۔
“یہ ڈارمہ یا ناول نہیں ہے۔اور تم چپ چاپ میرے ساتھ ناشتہ کرو اور دوائی لو۔اگر تم بیمار ہوئی تو بتا رہا ہوں،میں تمہیں بہت بری سزا دوں گا۔”حاتم نے انگلی اٹھائے اسے وارننگ دی تھی۔
“اس سچوئشن میں پتا ہے کیا ہوتا ہے؟”وہ اکسائیٹڈ ہوتے اسکے تھوڑا قریب ہوئی تھی۔حاتم نے بےبسی سے آنکھیں گھمائی تھیں۔
“لڑکی کو چھینک آتی ہے اور لڑکا حد سے زیادہ پریشان ہو جاتا ہے پھر وہ اپنے ہاتھوں سے اس کے لیے…..
“اچھییی……”عینین کو چھینک آئی تھی۔
“پھر ہیرو اسے دو تھپڑ لگاتا ہے۔”اسے بازو سے پکڑتے وہ بستر تک لایا تھا۔عینین کی چھینکیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔اسے بستر پر لٹائے حاتم نے اس کے اوپر کمبل ڈالا تھا۔
“ٹرسٹ می!حقیقی زندگی میں لڑکی بیمار نہیں ہوتی۔”ٹشو سے ناک رگڑتے وہ بامشکل بول پائی تھی۔
“ہلنا مت یہاں سے اب تم…..”حاتم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔انٹرکام اٹھاتے اب اس نے کمرے میں ناشتہ منگوایا تھا۔
ناشتے کے بعد اس نے نین کو نجانے کون کون سی دوائی کھلائی تھی۔وہ منہ کے مختلف زاویے بنائے بامشکل ان دوائیوں کو حلق سے اتار رہی تھی۔
“چلو اب سو جاؤ۔”
“ابھی تو اٹھی ہوں۔”
“نین مجھے غصہ مت دلاؤ۔”حاتم نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔
“شادی کے دوسرے دن تم مجھ پر غصہ کر رہے ہو۔”وہ روہانسی ہوئی تھی۔
“کتنی بڑی ڈرامے باز ہو تم….”
“تم مجھے گھومانے بھی نہیں لے کر گئے۔”عینین نے آنکھیں ٹپٹپائیں تھیں۔
“تم پہلے ٹھیک ہو جاؤ،پھر سزا کے لیے تیار رہو۔”
“کیسی سزا…..؟”عینین کی آنکھیں ایکدم ہی پھیلی تھیں۔
“فلحال آرام کرو پھر بتاتا ہوں۔”حاتم کا لہجہ معنی خیز تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔”ٹشو سے ناک رگڑتے عینین نے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
“وہ تو مجھے نظر آ ہی رہا ہے۔”
“ایک بات بتاؤ،کیا کچھ ایسا ہے جو تم نے مجھے نہیں بتایا؟”حاتم کو ایک دم کل رات والی بات یاد آئی تھی۔
“مطلب….؟”وہ نہیں سمجھی تھی۔
“کیا تم ہیکنگ کرنا جانتی ہو؟”عینین کا رنگ پل میں سفید پڑا تھا۔اس کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔
“ہاں…..”وہ اسی جھوٹ کی وجہ سے نائل سے دور ہوئی تھی اب وہ حاتم کو نہیں کھونا چاہتی تھی۔اس لیے اس نے اقرار کیا تھا۔
“ہممم…..”اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
“تم آرام کرو میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔”
“تم پھر سے مجھے چھوڑ کر جا رہے ہو۔”
“صرف تین گھنٹے….اگر تین گھنٹے بعد میں نا آیا تو جو سزا دو گی،مجھے منظور ہے۔”عینین گہری سوچ میں ڈوبی تھی پھر اچانک اس کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔
“مجھے منظور ہے۔”وہ پرجوش سی بولی بولی تھی۔
“چلو سو جاؤ اب…..!”اس کا گال تھپتھپاتے وہ اٹھا تھا۔
“ویسے تم جا کہاں رہے ہو؟”
“کسی کو کیفل کردار تک پہنچانا ہے۔”اس کی آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مطلب حد ہے،نجانے کیا فضول چیزیں دکھاتے رہتے ہیں۔ایکدم بکواس مووی تھی۔”وہ لوگ گھومنے پھرنے باہر آئے تھے۔نائل اسے ایک رومانٹک مووی دکھانے بھی لے کر گیا تھا۔یہ مخلصانہ مشورہ محسن کا تھا۔
وہ لوگ آدھی مووی دیکھ کر ہی واپس آ گئے تھے۔اب وہ ڈرائیو کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل تبصرے بھی کر رہا تھا جبکہ سنیہا کے سر میں درد کی ٹھیس اٹھنے لگی تھیں۔
“بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ میں تمہارے لیے چاند تارے توڑ لاؤں گا۔بالکل غیر منطقی…..نجانے کون سی بیواقوف لڑکیاں ہوتی ہیں جو ان باتوں سے متاثر ہو جاتی ہیں۔”سنیہا منہ بسور کر رہ گئی تھی۔ایک تو وہ خود اتنا
ان رومانٹک تھا اور اوپر سے اتنی اچھی مووی میں بھی نقص نکال رہا تھا۔
لال سگنل پر اس نے گاڑی روکی تھی۔اس کے ساتھ چلتی اور بھی بہت سی گاڑیاں رکی تھیں۔ایک بچے نے گاڑی کا شیشہ بجایا تھا۔نائل نے شیشہ نیچے کیے اسے کچھ پیسے پکڑائے تھے۔
“گجرے تو لے لو صاحب….”اسے واپس شیشہ اوپر کرتے دیکھ وہ بچہ بول اٹھا تھا۔
“میں گجرے نہیں پہنتا۔”سنیہا نے بےاختیار گہری سانس خارج کیے کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھا تھا۔یہ شخص واقعی پاگل تھا۔وہ دل ہی دل میں اقرار کر چکی تھی۔
“میڈم کے لیے لے لو صاحب….”بچہ بھی اس کی عجیب و غریب بات پر حیران ہو گیا تھا۔
“وہ بھی نہیں پہنتی۔اسے پھول پسند نہیں ہیں۔”سنیہا نے مڑ کر بےیقینی سے اسے دیکھا تھا۔
“جھوٹا کہیں کا…..”وہ کلس کر رہ گئی تھی۔
سگنل کے ہرے ہونے پر وہ گاڑی آگے دوڑا گیا تھا۔
“گجرے بھی کوئی پہننے کی چیز ہیں۔میں تمہیں ڈائمنڈ بریسلیٹ لے کر دوں گا۔”
“مجھے نہیں چاہیئے۔”تڑک کر جواب آیا تھا۔
“کیوں…..؟”
“اتنے پیار سے آفر کی ہے میں نے تمہیں…..؟”
“گجرے تک تو لے کر دے نہیں سکے آپ مجھے،ڈائمنڈ بریسلیٹ تو بہت دور کی بات ہے۔”وہ ناچاہتے بھی شکوہ کر بیٹھی تھی۔
“تمہیں پھول پسند ہیں؟”وہ شاکڈ ہوا تھا۔
“کسے پسند نہیں ہوتے؟”
“مجھے نہیں پسند…..”وہ خاموش رہی تھی۔نائل کو اپنی غلطی کی سنگینی کا احساس ہوا تھا۔
تھوڑا آگے جا کر اس نے گاڑی روکی تھی۔
“میں ابھی آیا۔”وہ اٹھ کر باہر گیا تھا۔سنیہا نے بےبسی سے گاڑی کی پشت سے ٹیک لگایا تھا۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس لوٹا تھا تو اس کے ہاتھوں میں پھولوں کا ایک بکے تھا اور دو گجرے….
“روز لے کر آؤں گا تمہارے لیے…..”نائل نے بکے اسے پکڑاتے کہا تھا۔وہ سانس نہیں لے سکی تھی۔اسے اس سب کی امید نہیں تھی۔
“میں تو تمہارے لیے گلاب کا پودا لانے والا تھا۔وہ تو دکاندار نے مشورہ دیا کہ بکے لے جاؤ۔”
“نائل…..”سنیہا نے وہ بکے کھینچ کر اس کے بازو پر مارا تھا۔
“کل پودا لے کر آؤں گا تمہارے لیے….”نائل نے اسے تپا دینے والی مسکراہٹ پاس کی تھی۔وہ بےبسی سے ہنس دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
