Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 01
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 01
رات کے تقریبا دو بجے عینین کی آنکھ کھلی تھی۔اسے شدت سے بھوک کا احساس ہوا تھا۔رات کا کھانا اس نے ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔کمبل اتارے وہ بستر سے اٹھنے ہی والی تھی جب اس کے ذہن میں اچانک ہی جھماکہ ہوا تھا اور لبوں پر شریر مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔حاتم اس کے پہلو میں گہری نیند سو رہا تھا۔عینین کھسک کر اس کے قریب گئی تھی۔
جب اس کا محبوب اس کے پاس تھا تو پھر اسے خود یہ زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟
“عمر،عمر اٹھو نا…..”عینین نے اسے بازو سے جھنجھوڑا تھا۔
“کیا ہوا نین؟؟”وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔آنکھوں میں فکر کا عنصر واضح تھا۔
“مجھے بھوک لگ رہی ہے۔”عینین نے آنکھیں ٹپٹپائے معصومیت سے کہا تھا۔وہ کچھ دیر خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا تھا پھر اس کے کہے الفاظ پر وہ دنگ رہ گئی تھی۔
“کیا کھائے گی میری پیاری بیگم؟”آنکھیں مسلتے خمار آلود لہجے میں وہ مدھم سا مسکرایا تھا۔
سنہری آنکھوں میں بےیقینی ابھری تھی۔کوئی سوال،کوئی حیرانگی،کوئی شکوہ،کوئی تردید کچھ بھی نہیں…..وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔
“مجھے پاستا کھانا ہے۔”عینین نے چہکتے ہوئے اسے اپنی پسند بتائی تھی۔
“اس وقت تو کوئی ملازم یہاں نہیں ہو گا۔چلو خود بناتے ہیں پھر…..”وہ بستر سے اٹھا تھا۔
“مجھے بنانا نہیں آتا۔”عینین نے منہ بنائے کہا تھا۔
“تم ساتھ کھڑی ہو جانا میں بنا لوں گا۔”حاتم نے اس کی مشکل آسان کی تھی۔
“تمہیں پاستا بنانا آتا ہے؟”عینین کو اچانک ہی خدشہ لاحق ہوا تھا۔
“نہیں…..”یک لفظی جواب پر عینین کا منہ بےاختیار کھلا تھا۔کس قدر اعتماد سے اس نے کہا تھا کہ وہ بنا لے گا جیسے وہ اس کام میں ماہر ہو۔
“تو پھر…..؟”
“یو ٹیوب زندہ باد…..”عینین کو اٹھنے کا اشارہ کرتے وہ منہ دھونے گیا تھا۔عینین کی ساری بھوک ہی مر گئی تھی۔
سبزی کٹ کرتے دو بار اس کی انگلی کٹتے کٹتے بچی تھی۔عینین کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔اسے یہ فرمائش نہیں کرنی چاہیئے تھی۔
“عمر رہنے دو،میں کچھ اور کھا لوں گی۔”عینین نے اپنے قدم فریج کی جانب بڑھائے تھے۔
“کچھ اور کیوں کھاؤ گی،میں بنا رہا ہوں نا….”حاتم کے لہجے میں خفگی ابھری تھی۔
“اب مجھے بھوک نہیں لگ رہی۔”س کے اناڑی پن کو دیکھتے عینین نے اسے روکنے کی ایک اور کوشش کی تھی۔
“نا لگے لیکن کھانا تو تمہیں پھر بھی پڑے گا۔”وہ بضد تھا۔
“میں ہیلپ کروں؟”
“تم پلیز خاموش رہو۔اور مجھے کھانا بنانے دو۔”
“آہ…..”وہ گرم فرائی پینگ کو ہاتھ لگا کر اپنا ہاتھ جلا چکا تھا۔عینین نے سختی سے آنکھیں میچی تھی۔نجانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے حاتم کو اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
آدھے گھنٹے کی مشقت کے بعد حاتم نے پاستا اس کے سامنے پیش کیا تھا،جو دکھنے میں تو کافی اچھا لگ رہا تھا مگر اعمال سے تو صرف اللہ ہی واقف تھا۔
عینین نے دل کو مضبوط کرتے فورک کی مدد سے فرسٹ بائیٹ لی تھی۔
“یہ اچھا ہے۔”عینین نے ستائشی نگاہوں سے اسے یکھا تھا۔حاتم کے چہرے پر سکون چھایا تھا۔اس کی محنت رنگ لائی تھی۔
“تمہیں پتا ہے ایک وقت تھا جب تم مجھے سخت زہر لگتی تھی۔”حاتم نے اسے نظروں کے حصار میں رکھتے لب دبائے کہا تھا۔
“کون سا وقت….؟”عینین نے آنکھ آچکا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
“جب تم دو پونیاں باندھ کر آنکھیں سکیڑ کر مجھے دیکھتی تھی۔”عینین نے بےاختیار آنکھیں سکیڑی تھیں۔
“بالکل اسی طرح….”حاتم نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تھی۔
“تم کون سا مجھے شہد لگتے ہو گے۔”وہ برا منا گئی تھی۔
“تم مرتی تھی مجھ پر….”ڈائینگ ٹیبل کے اطراف میں پڑی ایک کرسی گھسیٹتے حاتم اس پر بیٹھا تھا جبکہ عینین پہلے سے سربراہی کرسی پر براجمان تھی۔
“سراسر جھوٹ…..”عینین نے بھوئیں سکیڑے پلیٹ پیچھے کھسکائی تھی۔
“یہ سچ ہے۔”وہ اسے چڑا رہا تھا۔
“اچھاااا!تو پھر یہ طوفانی محبت کب ہوئی تمہیں مجھ سے؟”
“میں خود نہیں جانتا۔جب سب رشتے چھین گئے تو واحد ایک رشتہِ بچا میرے پاس…..اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ میرے لیے خاص سے خاص ہوتا گیا۔”حاتم نے اس کا ہاتھ تھامتے کہا تھا جبکہ آنکھوں میں جذبات کا سمندر تھا۔
“تمہارے پیرینٹ کی ڈیتھ کیسے ہوئی؟”
“ایک حادثے میں…..”آنکھوں کے سامنے نجانے کس کس کی میت آئی تھی۔ایک ہی دن میں سب تباہ ہوا تھا۔ہر رشتہ اس سے چھین لیا گیا تھا۔
“تمہارا کوئی بہن بھائی نہیں ہے کیا؟”
“بہن تھی مگر وہ بھی نہیں رہی۔”حاتم کے چہرے پر غم کے سائے لہرائے تھے۔
“اوہ….”عینین کو بےحد افسوس ہوا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ نائل کی پہلی بیوی ہی حاتم کی بہن تھی۔
“میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی۔ہمیشہ تمہارا ساتھ دوں گی۔”عینین نے نرمی سے اپنا دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تھا۔وہ زخمی سا مسکرا دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر پچھلے چھے ماہ سے لڑکیوں کے ذریعے خاص قسم کی منشیات کی سمگلنگ کر رہا تھا۔آج بھی لڑکیوں سے بھرا ایک ٹرک بحری جہاز کے ذریعے روانہ ہونا تھا مگر شہر کے حدود میں ہی یہ ٹرک اچانک کہیں غائب ہو گیا تھا۔بدر تو بالکل بپھر گیا تھا۔وہ تمام لڑکیاں ہی کم سن اور حسین تھیں۔کچھ کے ذریعے وہ سمگلنگ کر رہا تھا اور کچھ کو وہ آگے عربی شہزادوں کو بیچ رہا تھا تا کہ وہ ان کے بستر کی زینت بن سکیں۔
اب وہ سڑک کے پار لگے سی سی ٹی وی فوٹیج سے ٹرک کی حرکات نوٹ کر رہا تھا۔وہ کیمرہ اس ہی نے خفیہ طور پر لگوایا تھا۔
سی سی ٹی وی میں کچھ واضح سمجھ نہیں آ رہا تھا سوائے اس کے کہ ہڈی میں موجود ایک شخص سڑک پر اچانک ہی کہیں سے نمودار ہوا تھا۔بدر فورا الرٹ ہوا تھا۔کیمرے کے قریب آ کر وہ شخص رکا تھا۔اس نے اب اپنی ہڈی اتاری تھی۔اوپر کی جانب چہرہ کیے اس نے ایک تیکھی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ایک آنکھ ونگ کی تھی۔اس کے بعد منظر بالکل تاریک ہو گیا تھا۔
“نائل آفندی…..”بدر کا غصے سے برا حال تھا۔یہ شخص ہر جگہ موجود ہوتا تھا۔ایک شاہین اور دوسرا نائل…..وہ ان دونوں سے تنگ تھا۔شاہین ہمیشہ چھپ کر وار کرتا تھا جبکہ نائل سامنے سے…..
“میرا اتنا بڑا نقصان کیا ہے تم نے نائل اب تم بھگتو گے۔تم نے میری لڑکیاں غائب کیں اب میں بیوی غائب کروں گا۔”اس کی آنکھوں میں طیش ابھرا تھا۔وہ نائل کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا مگر اس کی بیوی کو ضرور پہنچا سکتا تھا۔
بدر نے غصے کی حالت میں کسی کو فون ملایا تھا۔
“نائل کی بیوی کو اٹھوا لو۔”حکم صادر کرتے اس نے فون میز پر پٹخا تھا۔
“اگلا نمبر تمہاری بہن کا ہو گا۔”اس نے سرخی مائل آنکھوں کے ساتھ کہا تھا۔نائل ایک آئی۔ایس۔آئی ایجینٹ تھا یہ جانتے ہوئے بھی بدر نے اسے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا،وجہ آڈرز تھے جو اسے یہ کرنے نہیں دیتے تھے۔
لیکن اب اس نے ہر چیز کو پس پشت ڈال کر نائل کا قصہ تمام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ اسے آہستہ آہستہ اذیت دے کر مارنا چاہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنیہا ڈرائیور کے ساتھ شاپنگ کرنے مال گئی تھی۔نائل نے اسے بالکل آزاد چھوڑ دیا تھا۔وہ اس پر اب پابندیاں نہیں لگاتا تھا۔واپسی کے راستے میں ایک وین ان کی گاڑی کے آگے آ رکی تھی۔
دو شخص وین سے باہر نکلے تھے۔بغیر کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے انہوں نے سیدھا ڈرائیور کے ماتھے کے بیچ و بیچ گولی ماری تھی۔گولی گاڑی کے شیشے کو چیڑتے ہوئے ڈرائیور کو کسی اور دنیا میں پہنچا چکی تھی۔سنیہا کی تو چیخیں ہی نہیں رک رہی تھیں۔اس نے زندگی میں پہلی بار اتنا خوفناک منظر اتنے قریب سے دیکھا تھا۔
“اے لڑکی چلو باہر آؤ۔”ایک شخص کی گرجدار آواز سنتے وہ کانپ اٹھی تھی۔
“چلو باہر نکلو۔”گاڑی کا لاک توڑے اس نے گھسیٹ کر اسے باہر نکالا تھا۔وہ مسلسل مزاحمتیں کر رہی تھی مگر سب بےسود…..
“نائل،نائل…..”اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتے وہ بار بار اسے ہی پکار رہی تھی۔اسے وین میں بٹھائے وہ وین کو آگے ڈورا لے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
