93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 35)

“کھولو اسے…!مجھے جانا ہے۔کون ہو تم….؟”دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کرتے وہ مسلسل نشے میں بول رہی تھی۔

“کون ہو تم….؟بولو!کون ہو تم….؟”

“کڈنیپر ہوں اور تم کڈنیپ ہو چکی ہو لڑکی…تو بہتر یہی ہے کہ خاموش رہو۔”وہ اس وقت شدید غصے میں تھا۔اس لیے جو منہ میں آیا بول گیا۔

“میں کڈنیپ ہو گئی؟”گاڑی کی پشت سے ٹیک لگائے وہ بڑبڑائی تھی۔ڈیوڈ نے اب کہیں جا کر سکون کا سانس لیا تھا۔کم از کم اب تو اس کی مسلسل چلتی زبان کو بریک لگنی تھی۔

“ہا ہا ہا….!”ڈیوڈ کی سوچوں کا تسلسل وانیہ کی کھلکھاہٹ سے ٹوٹا تھا۔وہ گاڑی کی پشت سے ٹیک لگائے پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی۔ڈیوڈ ایک لمحے کے لیے چونکا تھا۔

“شاید کڈنیپنگ والی بات کو زیادہ ہی سیریس لے لیا ہے۔”اس کے دماغ نے ایک خیال بنا تھا جو کہ وانیہ کی اگلی بات سے غلط ثابت ہوا تھا۔

“قسم کھاؤ…!میں سچ میں کڈنیپ ہو گئی ہوں نا….؟افف!مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔ایک نیا ایڈوینچڑ….”نشے کی حالت میں بھی اسے ایڈوینچڑ نہیں بھولے تھے۔

“شاید کچھ زیادہ ہی نشہ کر لیا ہے۔”ڈیوڈ نے خود کو تسلی دی تھی۔

“مسٹر کڈنیپر!مجھے یہاں سے بہت دور لے جاؤ جہاں پر کوئی نا ہو۔”ڈیوڈ نے حیرانگی سے اس پاگل لڑکی کی جانب دیکھا تھا۔وہ اس سے ایسے مخاطب ہو رہی تھی جیسے وہ کوئی کڈنیپر نہیں بلکہ اس کا نیا نویلا دولہا ہو۔

“تم نا بھائی سے بہت سارے پیسے مانگنا۔پورے پچاس کڑور…بلکہ اس سے بھی زیادہ….میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں۔میں وانیہ آفندی ہوں۔خبردار جو…جو تم نے کم پیسے مانگے تو…!”اپنی سیٹ سے آگے ہوتے وانیہ نے اسے انگلی اٹھائے دھمکی دی تھی۔

ڈیوڈ کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

“مسٹر کڈنیپر….!مسٹر کڈنیپر….!”وہ بار بار اسی نام کا راگ لاپ رہی تھی۔ڈیوڈ کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔

“تم دو منٹ چپ نہیں بیٹھ سکتی۔”اپنے مزاج کے برعکس اس کا لہجہ کافی نرم تھا۔

وانیہ سے زیادہ اسے نائل پر غصہ آ رہا تھا جو کہ ایک چھٹانک بھر کی لڑکی نہیں سنبھال پا رہا تھا۔آج وانیہ اگر کسی غلط شخص کے ہاتھ لگ جاتی تو نجانے کیا ہوتا؟

وہ اس چیز کا حساب تو نائل سے لینے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔

اس وقت وہ وانیہ کو اپنے گھر نہیں لے جا سکتا تھا کیونکہ اس کا گھر کافی دور تھا۔فلحال اسے ماریہ کا خیال آیا تھا۔

اس نے فورا ماریہ کو فون کر کے اپنے آنے کی اطلاع دی تھی۔

“مسٹر کڈنیپر!تمہارے چار چار چہرے کیوں ہیں؟”وانیہ آنکھیں چھوٹی کیے اس کی طرف جھکی تھی۔

“چلو جی!لوگوں کو نشے میں دو دو چہرے دکھتے ہیں۔میڈم کو چار چار دکھ رہے ہیں۔”ڈیوڈ نے بڑبڑاتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔

وہ کچھ دیر میں ماریہ کے گھر پہنچ گیا تھا۔وانیہ کو اس کے ساتھ اس حالت میں دیکھ ماریہ کا سارا وجود ہی جھلس گیا تھا۔

“اسے کمرے میں لے کر جاؤ۔”ڈیوڈ کی آواز پر ماریہ کو ہوش آیا تھا۔

“نہیں!میں کہیں نہیں جاؤں گی۔”وانیہ ڈیوڈ کے سینے سے لگی تھی۔اس کی اس حرکت پر جہاں ڈیوڈ کے دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھیں وہیں ماریہ کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔اس کا دل چاہا کہ وہ وانیہ کا گلا ہی دبا دے۔

“مسٹر کڈنیپر!مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔”اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے وانیہ کی آنکھیں بند ہونے کے قریب تھیں۔اس پر نیند غالب آ رہی تھی۔

“دور ہٹو….!”ڈیوڈ نے اسے خود سے دور دکھیلا تھا۔وہ ایک اور سیکنڈ بھی اس کے ساتھ یوں ہی چپکی رہتی تو وہ بھی اپنا آپ کھو بیٹھتا۔

“اسے اندر لے کر جاؤ۔”اس نے اپنی بےقابو ہوتی ڈھڑکنوں پر قابو پاتے ماریہ کو حکم صادر کیا تھا۔

“میں نہیں جاؤں گی۔تم ایسا نہیں کر سکتے مسٹر کڈنیپر!تم نے مجھے کڈنیپ کیا ہے اور تم مجھے کیسے اس چڑیل کے ساتھ بھیج سکتے ہو؟”ماریہ کا منہ بےاختیار کھل گیا تھا۔

“بلکہ تم نے تو مجھے ٹھیک سے کڈنیپ ہی نہیں کیا۔تم نے تو میرے ہاتھ پیر بھی نہیں باندھے۔”وہ منہ پھلاتے ایک بار پھر ڈگمگائی تھی۔اس کے گرنے سے پہلے ڈیوڈ نے اسے بازو سے تھام لیا تھا۔

“بس بہت ہو گیا۔”وہ ایکدم ہی آپے سے باہر ہوا تھا۔

“تمہاری وجہ سے اتنی اہم میٹینگ رہ گئی میری اور تم…”

اس نے وانیہ کو جھٹکا دیے اپنے قریب کیا تھا۔

“کیا چیز ہو تم…؟نائل کیسے جھیلتا ہے تم جیسی آفت کو…؟”وہ تو ایک گھنٹے میں ہی اس کی قینچی جیسی زبان سے تنگ آ گیا تھا۔

“تم مجھے ڈانٹ رہے ہو مسٹر کنڈنیپڑ…؟یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے۔تم جانتے نہیں ہو مجھے…میں تمہیں تڑپا تڑپا کر مار دوں گی۔”

“پہلے اپنے قدموں پر ٹھیک سے کھڑی تو ہو جاؤ۔زمین سے نکلی نہیں ہو اور مارو گی مجھے…وہ بھی تڑپا تڑپا کر…”وہ اس کے قد پر طنز کر رہا تھا۔

اگر اس وقت وانیہ ہوش میں ہوتی تو اس بات کا ضرور منہ توڑ جواب دیتی۔

“مجھے پارٹی میں جانا ہے۔”مسلسل جھولتے ہوئے اس کو پھر سے پارٹی یاد آئی تھی۔

“خداوند!کہاں پھس گیا میں…؟”وہ بڑبڑایا تھا۔

“دیکھو لڑکی اگر تم ابھی اسی وقت اندر نہیں گئی تو میں واپس گھر چھوڑ آؤں گا تمہیں…”

“نہیں پلیز نہیں….”دھمکی کارآمد ثابت ثابت ہوئی تھی۔

وانیہ بغیر کسی چوں چاں کے ماریہ کے ساتھ چلی گئی تھی۔

رات کے پہر نائل اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔سنیہا کی نیند خراب نا ہو اسی وجہ سے وہ ٹیرس پر کام کرتا رہا تھا۔کمرے کی لائٹ آن دیکھ اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔تھوڑا آگے جاتے اسے کسی کی سسکیوں کی آواز سنائی دی تھی۔نائل فورا دروازے کا ناب گھمائے اندر داخل ہوا تھا۔

اچانک دروازہ کھلنے کی آواز سے سنیہا نے فورا گھٹنوں میں سے سر نکالا تھا۔رخ موڑے اس نے پھرتی سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔

“مجھے پتا ہے کہ تمہیں تمہاری سوچ سے زیادہ اچھا شوہر مل گیا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم اس خوشی میں آدھی رات کو آنسو بہاؤ گی۔”لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھے  نائل اس کے پاس بیٹھا تھا۔سنیہا خاموش رہی تھی۔

اسے خاموش دیکھ کر وہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگا چکا تھا۔

نائل نے آہستگی سے اس کے گرد بازو حمائل کر کے اسے اپنے قریب کیا تھا۔سنیہا اپنا تمام تر ضبط کھوئے اس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

نائل نے بغیر کچھ کہے،بغیر کچھ پوچھے اس کے گرد باندھے حصار کو مضبوط کر لیا تھا۔اب وہ اس کے بال سہلا رہا تھا۔

“مجھے مام کی بہت یاد آ رہی ہے۔میں انہیں بہت مس کر رہی ہوں۔”اس نے خود ہی اپنے دل کی بات اس سے کہہ دی تھی۔اس کے بالوں میں چلتی نائل کی انگلیاں ایک لمحے کے لیے تھمی تھیں۔

“کیا میں ان سے بات نہیں کر سکتی…؟صرف ایک وڈیو کال….”اس کے سینے سے سر نکالے سنیہا نے ایک آس سے پوچھا تھا۔نائل کچھ لمحوں کے لیے گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔

“پلیز….!”سنیہا نے اس کے بازو پر دباؤ ڈالے ایک بار پھر التجا کی تھی۔

“ٹھیک ہے مگر تم صرف اپنی ماں سے ہی بات کرو گی۔”آخر میں اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔

سنیہا نے فورا اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“ابھی سو جاؤ۔صبح بات کر لینا۔”

“لیکن میں….!”

“سو جاؤ سنیہا….”اس کی گھوری پر سنیہا نے فورا اچھے بچوں کی طرح کمبل تانا تھا۔

نائل ابھی سونے کے لیے لیٹا ہی تھا کہ اس کا فون بجا تھا۔

انجانہ نمبر دیکھ کر اس نے ناگواری سے فون اٹھایا تھا۔

“دو خبریں ہیں….ایک اچھی اور ایک بری….کون سی خبر پہلے سننا پسند کریں گے سالے صاحب؟”نائل کرنٹ کھا کر اٹھا تھا۔

“تم….!”وہ دبا دبا سا غرایا تھا۔آہستگی سے کمبل اتارے وہ بالکنی کی جانب بڑھا تھا۔

“کیا مصیبت ہے؟”یہ بات تو طہ تھی کہ وہ شخص اسے کبھی سکون کا سانس نہیں لینے دے گا۔

“چلیں پہلے بری خبر سنا دیتا ہوں۔”ڈیوڈ کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔

“آپ کی بہن اس وقت گھر پر موجود نہیں ہے۔”نائل کے سر پر جیسے آسمان گرا تھا۔

“اور اچھی خبر پتا ہے کیا ہے…؟وہ میرے ساتھ ہے۔”نائل کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔

اس کے چہرے کے تاثرات امیجن کرتے ڈیوڈ اچھا خاصا محظوظ ہوا تھا۔

“پھر بات ہو گی۔وہ کیا ہے نا….ہم تھوڑا مصروف ہیں۔”اس نے کہتے ساتھ ہی فون کاٹ دیا تھا۔

نائل کچھ دیر صدمے میں وہیں کھڑا رہا تھا۔

ڈیوڈ ٹیرس پر کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا جب ماریہ بھاگتی ہوئی وہاں آئی تھی۔

“کیا ہوا….؟”ڈیوڈ فکرمندی سے گویا ہوا تھا۔

“وہ…وہ لڑکی…!”ماریہ نے ہانپتے ہوئے کہا تھا۔

“کیا ہوا اسے…؟”اسے وہیں چھوڑے وہ بھاگتا ہوا کمرے کی جانب بڑھا تھا۔

ماریہ بھی اس کے پیچھے گئی تھی۔

کمرے میں پہنچتے ڈیوڈ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی تھیں۔وانیہ بستر پر کھڑی پردے کو پنکھے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ڈیوڈ نے گہرا سانس خارج کیے مٹھیاں بھینچی تھیں۔

“تم اپنے کمرے میں جاؤ اور جا کر سو جاؤ۔”ماریہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔

“جاتے ہوئے دروازہ بند کر جانا۔”ماریہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔

“جاؤ۔”اس کی دھاڑ پر وہ فورا وہاں سے بھاگی تھی۔

پنکھے پر پردہ لٹکانے کی ناکام کوشش کرتے وہ بار بار شعر دھرا رہی تھی۔

ڈیوڈ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔