Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 04
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 04
سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔تپتی شعاعوں کی روشنی میں منظر صاف نظر آ رہا تھا۔تین لوگ بہت بری طرح ایک شخص کو مار رہے تھے۔وہ شخص شرٹ لیس رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔بھیانک دردناک چیخوں کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی۔اچانک سکرین تاریک ہوئی تھی مگر نسوانی چیخیں ابھی بھی جاری تھیں۔
راکنگ چیئر پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے وہ سپاٹ لہجے میں کافی کے سپ لے رہا تھا تبھی اسے اپنے پیروں پر کچھ محسوس ہوا تھا۔
“مجھے معاف کر دو،پلیز مجھے معاف کر دو۔میں عینین سے بھی معافی مانگ لوں گی۔میں اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگوں گی،پلیز میرے ساتھ یہ مت کرنا۔”الیکس کی یہ حالت دیکھ وہ اپنے ہواس کھو بیٹھی تھی۔اب ماہم کو اپنے انجام کی فکر ہو رہی تھی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں اس کا موقع دوں گا؟”اس نے سفاک لہجے میں کہتے ماہم کا منہ دبوچا تھا۔
“تم نے کہا تھا کہ مجھے آسان موت دو گے۔”آنسوؤں کا لاوا بہہ کر گال بھگو رہا تھا۔اس کا پورا وجود ہی جیسے برف کی طرح سرد پڑا تھا۔
“ایک اور کام ہے اس کے بعد…..”پھنکارتے ہوئے لہجے میں کہتے اس نے ماہم کو پرے دکھیلا تھا۔
“ایک سوال پوچھوں گا،اس کا جواب چاہیئے۔”شرٹ کی آستینیں درست کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ فرش پر بکھری حالت میں پڑی مسلسل سسک رہی تھی۔
“جھوٹ برداشت نہیں کروں گا میں اور نا ہی اپنی بات دہرانا…..”اب وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے گرد چکر لگا رہ تھا۔بھاری بوٹوں کی آواز پورے کمرے میں ایک عجیب سی دہشت برپا کر رہی تھی۔
“اس کے بعد تم مجھے مار دو گے؟”وہ ایک امید سے گویا ہوئی تھی۔
“ظاہر سی بات ہے۔”وہ اس کے عین سامنے آ کر رکا تھا۔ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے وہ اس کے نزدیک بیٹھا تھا۔اس کے پاس بیٹھے اس نے سرد آواز میں سوال پوچھا تھا۔اس کا سوال سن کر وہ بالکل سن ہو گئی تھی۔
“نینا آنٹی کے ساتھ زیادتی کس نے کی تھی؟”وہ چونکی تھی۔اس سوال کی توقع اسے ہر گز نہیں تھی۔
“مجھے نہیں…..”حاتم نے اسے گلے سے دبوچے کھڑا کیا تھا۔اب اسے پیچھے کی طرف لے جاتے اس نے اسے دیوار سے لگایا تھا۔ماہم کا سر بہت زور سے دیوار میں لگا تھا۔اس کے سر کے پچھلے حصے سے خون رسنے لگا تھا۔
“میں نے کہا تھا نا کہ جھوٹ برداشت نہیں کروں گا۔”اس کی گردن پر دباؤ ڈالے وہ غرایا تھا۔
“تت….تم یقین نہیں کرو گے۔”پھولے ہوئے تنفس کے ساتھ وہ بامشکل بول پائی تھی۔
“یقین کرنا یا نا کرنا میرا کام ہے۔تم بس سچ بتاؤ۔”حاتم نے اسے فرش پر دھکہ دیتے کہا تھا۔
سچ بولنے کے علاؤہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔مگر جو نام اس نے لیا تھا وہ حاتم کے پیروں تلے سے زمین کھینچ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیم مردہ وجود کے ساتھ الیکس زمین پر پڑا تھا۔
“کیسا محسوس ہو رہا ہے الیکس؟”حاتم نے ایک طنز بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی۔الیکس نے بامشکل آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
“کچھ یاد آیا…..؟ایک وقت تھا جب میں تمہاری طرح بےبس اور لاچار تھا اور تم ظالم…..”وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
“لیکن آج خود کو دیکھو اور مجھے دیکھو۔”وہ چل کر اس کے قریب گیا تھا۔
“تم نے مجھے تکلیف پہنچائی،میں نے برداشت کر لیا مگر تم نے میری نین کو تکلیف پہنچائی،یہ میری برداشت سے باہر ہے۔”اس کی آنکھوں میں غصہ امڈ آیا تھا۔
“بابا تمہیں بچانا چاہتے تھے مگر جب میں نے ان سے کہا کہ تم میں اور مجھ میں سے کسی ایک کو چن لیں تو انہوں نے مجھے چنا۔”اس کے لہجے سے غرور جھلکا تھا۔
“تم پچھتاؤ گے بلیک مونسٹر!پچھتاؤ گے۔وہ تمہارا استعمال کر رہا ہے۔تم بہت بری طرح ہارو گے۔”الیکس کے جسم سے درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھی۔جب موت اس کے اتنا قریب تھی تو اس نے سچ بولنے کا فیصلہ کر لیا تھا
“اس نے سیم کا بھی استعمال کیا تھا،وہ تمہارا بھی کر رہا ہے۔تمہیں کیا لگتا ہے وہ اتنی آسانی سے تمہاری زندگی میں کسی لڑکی کو آنے دے گا…..؟”وہ نقاہت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔
“کیا وہ بلیک مونسٹر کی زندگی میں کسی ایسے شخص کو آنے دے گا جس کی وجہ سے اس کا پتھر دل موم ہونے لگے؟؟؟”
“تم مجھے بابا کے خلاف بھڑکا رہے ہو؟”حاتم نے لب بھینچے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“وہ تمہاری بیوی کو مار دے گا بلکہ وہ یہ خود تم سے کروائے گا جیسے اس نے سیم کو نینا کے خلاف اکسایا تھا،اسے مارنے پر مجبور کیا تھا۔”حاتم نے حیرانگی سے الیکس کی جانب دیکھا تھا۔یہ بات اس کے لیے بالکل نئی تھی۔اس بات کا ذکر تو سمیر نے بھی نہیں کیا تھا۔
“تم جانتے ہو اسے تم سے کیا چاہیئے؟”
“کیا…..؟”حاتم نے بھنویں سکیڑے اسے دیکھا تھا۔
“تمہاری اولاد…..تمہارا بیٹا!جو تمہارے بعد اس منصب پر بیٹھے گا۔تمہاری بیوی کوئی عام انسان نہیں ہے اور نا ہی تم…..تمہاری اولاد بھی اتنی ہی خاص ہو گی۔”
“بکواس بند کرو۔تم دونوں ملے ہوئے ہو۔تم اور وہ عورت مجھے بابا کے خلاف کر رہے ہو۔انہوں نے مجھے اتنی محبت دی ہے جتنی کبھی میرے سگے باپ نے بھی نہیں دی۔جب جب تم لوگوں نے مجھے تکلیف پہنچائی تب تب انہوں نے مرہم رکھا تھا۔”وہ شدید مشتعل انداز میں گویا ہوا تھا۔
“تم بیواقوف ہو حاتم!تم آج بھی وہی ہو۔”الیکس عجیب انداز میں ہنسا تھا۔
“کسی نے تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی،سوائے بدر کے…..ہم سب نے ہمیشہ وہی کیا جو ہمیں کرنے کے لیے کہا گیا۔ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ ورنہ ایک بار پھر تمہارا خاندان برباد ہو جائے گا۔وہ بہت آگے کی پلیننگ کر رہا ہے۔تم ابھی تو اس کے کام کے ہو چند سالوں بعد اسے ایک نیا شخص چاہیئے ہو گا اور وہ یقینا تمہاری اولاد ہو گی۔”
“تمہیں لگتا ہے کہ تم کہو گے اور میں مان لوں گا،ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔تم سے اب تنگ آ گیا ہوں میں…..اس لیے آج میں تمہیں موت دیتا ہوں۔جہنم میں جاؤ”حاتم نے اس پر گن تانی تھی اور لمحہ بھر کی دیری کیے بغیر اس نے گولی چلا دی تھی۔ایلیکس کا قصہ یہیں ختم ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل اور محسن اس وقت ٹیرس پر موجود تھے۔محسن نائل سے سخت خفا تھا جس وجہ سے وہ اس کی یہ خفگی دور کرنے یہاں آیا تھا۔
“جب گھر میں مہمان آتے ہیں تو ان سے ایک گلاس پانی ہی پوچھ لیتے ہیں۔”محسن کے مسلسل خود کو گھورنے پر وہ شدید کوفت کا شکار ہوا تھا۔
“میرے گھر میں منافقوں کے لیے ایک بوند پانی بھی نہیں ہے۔”نائل نے ایک آبرو ریز کیے اسے گھورا تھا۔
“میں نے کون سی منافقت کی ہے؟”
“میں دو منٹ فون کال سننے کیا چلا گیا تم نے تو سارا رائتہ ہی پھیلا دیا۔”اس کا بس چلتا تو نائل کے دو چار جڑ ہی دیتا مگر وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس صورت میں وہ آگے سے دس مارے گا اور گنے گا ایک…..
“جتنے پیسے لگے ہیں تمہارے،میں دینے کو تیار ہوں۔”
“اپنے پاس رکھو اپنی کمائی…..”محسن کو اس کی بات شدید زہر لگی تھی۔
“کسی بھی رد عمل سے پہلے انسان تحقیق ہی کر لیتا ہے۔کم از کم شادی سے پہلے ایک بار بھابھی کے سارے خاندان سے مل ہی لیتے۔یعنی مطلب حد ہے،اپنے ہی سالے کی انگلیاں توڑ دیں وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ اس بیچارے نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا تھا۔”محسن کو اس کی جلد بازی اور سوچ پر نہایت افسوس تھا۔
“وہ جو میری بیوی کو میرے خلاف بھڑکا رہا تھا اس کا کیا….؟”ڈھٹائی تھی جو اس پر آ کر ختم ہوتی تھی۔وہ ایک لمحے کے لیے بھی پشیمان نہیں ہوا تھا۔
“میری دعا ہے کہ تمہارا بہنوئی بھی تمہارے ساتھ یہی کرے۔”
“میں زندہ زمین میں نا گاڑ دوں اسے…..”حاتم کے ذکر سے اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔محسن تو اس کی بات پر عش عش ہی کر اٹھا تھا۔یعنی سالے اور بہنوئی دونوں بن کر بھی وہ اپنی ہی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا تھا۔
مزید کسی بھی قسم کی گفتگو سے پہلے نائل کا فون وائبریٹ ہوا تھا۔اس نے ناگواری سے کوٹ کی جیب سے فون نکالا تھا۔
اسے کچھ تصویریں بھیجی گئی تھیں۔تصویریں دیکھتے اس کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچا تھا۔
وہ حاتم اور عینین کے نکاح کی تصاویر تھیں جو یقینا حاتم نے ہی بھیجی تھیں۔ساتھ میں آنکھ ونگ کرنے والے ایموجی کے ساتھ ایک میسیج بھی تھا۔
“ہنی مون کے لیے کوئی اچھی سی جگہ ہی سجیسٹ کر دیں۔آخرکار کافی تجربہ جو ہے آپ کا…..”نائل کا چہرہ سرخ مرچ کی طرح لال ہوا تھا۔وہ شخص اسے زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریبا گیارہ بجے کے قریب حاتم گھر لوٹا تھا۔وہ دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا تھا۔عینین گہری نیند سو رہی تھی۔اس کو سوتا دیکھ ایک زخمی سی مسکراہٹ حاتم کے لبوں پر بکھری تھی۔
شب خوابی کا لباس پہنے وہ اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹا تھا۔اس کی آنکھیں خمار آلود تھیں مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔وہ کافی دیر اس کا روشن چہرہ تکتا رہا تھا جو کہ اندھیرے میں بھی دمک رہا تھا۔
اب وہ ہ تھوڑا آگے کو ہوتا اس کے قریب گیا تھا۔حاتم نے نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی تھیں۔
“چاہے کچھ بھی ہو جائے،میں تمہیں خود سے کبھی دور نہیں ہونے دوں گا۔میں نہیں جانتا جو ماہم اور الیکس نے کہا،وہ سچ ہے یا نہیں…..بس اتنا جانتا ہوں کہ میں تمہیں کبھی خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا۔اور اگر بات اولاد کی ہے تو مجھے بچہ نہیں چاہیئے،مجھے صرف میری نین چاہیئے۔”وہ فیصلہ کر چکا تھا۔اس کے چہرے پر جھکتے حاتم نے پہلے عقیدت سے اس کی بند آنکھیں چومی تھیں،پھر وہ پیچھے ہٹا تھا۔عینین نیند میں کسمسائی تھی پھر اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوئی تھی۔وہ نیند میں گہری گہری سانسیں لینے لگی تھی۔
“مجھے کھول دو،مجھے جانے دو۔یہ زنجیریں کھول دو۔”اس کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔
“نین،نین!کیا ہوا؟”حاتم نے اس کا گال تھپتھپایا تھا۔
وہ نیند میں پتا نہیں کیا کیا بول رہی تھی۔
“نین اٹھو…..”حاتم نے اسے اٹھا کر بٹھایا تھا۔لیمپ آن کرتے حاتم نے پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا تھا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا۔وہ رپورٹس میری نہیں ہیں۔بھائی نے یقین نہیں کیا میری بات کا…..عمر!اس نے قید کیا،میرے ہاتھ پیر…..بہت درد ہوتا تھا۔بہت اندھیرا تھا وہاں…..میں…..”
“نین میری جان!تمہارا عمر تمہارے ساتھ ہے۔کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔
“دوائی لی تم نے…..؟”اس کے کچھ حد تک ریلیکس ہونے کے بعد عمر نے استفسار کیا تھا۔نین کے نفی میں سر ہلانے پر اسے ملازمہ پر شدید غصہ آیا تھا۔خیر اس کا بندوبست تو وہ صبح بھی کر سکتا تھا فلحال نین زیادہ اہم تھی۔
ساتھ والی دراز سے دوائی نکالتے اس نے عینین کو کھلائی تھی۔
“چلو شاباش سو جاؤ،میں یہیں ہوں تمہارے پاس…..”حاتم نے اسے لٹانا چاہا تھا مگر وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی۔
“تم ہمیشہ مجھ پر اعتبار کرنا،مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا۔نین عمر کے بغیر مر جائے گی۔”اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑے وہ مسلسل سسک رہی تھی۔بستر پر لیٹتے حاتم نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا تھا۔اس کے اوپر کمبل درست کرتے حاتم نے اس کے گرد مضبوط حصار قائم کیا تھا۔
“میں اپنی نین کو مرنے نہیں دوں گا۔”وہ اسے اعتماد دے رہا تھا۔
“تمہیں پتا ہے میں بھائی سے کتنی محبت کرتی ہوں؟”اس کی شرٹ ابھی بھی وہ دبوچے ہوئی تھی جبکہ آنسو حاتم کی شرٹ پر گر رہے تھے۔
“اتنی کہ اگر سامنے کانٹے بھی بچھے ہوں اور وہ مجھ سے کہے کہ نہیں وانیہ یہ پھول ہیں تو میں آنکھوں دیکھا جھٹلا دوں۔انہیں بھی مجھ پر اعتبار کرنا چاہیئے تھا۔مجھے خود سے دور بھیج کر انہوں نے ایک بار بھی میری خبر نہیں لی۔انہوں نے بہت غلط کیا۔میری غلطی اتنی بڑی تو نہیں تھی۔صرف چند باتیں ہی تو چھپائی تھیں۔”حاتم چونکا تھا۔
“کیسی باتیں نین….؟”
“یہی کہ میں ہیکنگ کر لیتی ہوں اور چند ڈیوائسز بھی بنا لیتی ہوں۔”حاتم کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔اسے الیکس کی بات یاد آئی تھی۔
“تمہاری بیوی کوئی عام انسان نہیں ہے۔”
“اگر میں انہیں بتا دیتی تو وہ مجھے کبھی یہ سب نا کرنے دیتے۔اگر میں جانوروں کے زہر اور کیمیکلز کی مدد سے مختلف قسم کے زہر بنا لیتی ہوں تو اس میں کون سی بڑی بات ہے۔”عینین کا لہجہ بالکل عام سا تھا جبکہ حاتم کے سر پر جیسے چھت گری تھی۔
“تھوڑا بہت ہیپناٹائز کرنے میں کیا برائی ہے؟میں نے تو ابھی ٹھیک سے سیکھا بھی نہیں تھا۔”
“نین پلیز سو جاؤ اب…..”وہ مزید کچھ نہیں سن سکتا تھا۔حاتم کو لگا شاید وہ یہ دوائی کے زیراثر بول رہی ہے۔اس کی نین تو بالکل معصوم تھی،وہ یہ سب کیسے کر سکتی تھی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمہ ابھی ابھی نائل کا پریس سوٹ دے کر گئی تھی۔بستر پر پڑے اس کے کپڑوں کو کچھ دیر دیکھنے کے بعد سنیہا نے ہمت کر کے اس کی شرٹ نکالی تھی۔استری کا سوئچ آن کیے اس نے اسے اچھی طرح گرم کیا تھا پھر اس نے وہ گرم استری اس کی شرٹ پر رکھی تھی۔
اسی لمحے نائل کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔
“یہ کیا کر رہی ہو تم؟”
“آہ!یہ تو جل گئی۔”اس نے شرٹ اٹھائے معصومیت سے اس کی جانب دیکھا تھا
“میں تو بس پریس کر رہی تھی۔”آنکھیں ٹپٹپائے وہ کافی مضطرب لگ رہی تھی۔
“جب یہ آلریڈی پریس تھی تو تمہیں یہ زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”وہ لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔
“اس پر سلوٹیں تھیں اس لیے میں نے سوچا کہ میں دوبارہ پریس کر دوں۔”
“تم براہ مہربانی اتنا مت سوچا کرو۔”وہ چڑ کر بولا تھا۔
“میں تو بس اچھی بیوی بننے کی کوشش کر رہی ہوں۔”سنیہا کی آواز ڈبڈبائی تھی۔نائل نے ایک خشمگیں نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے،اب کیا کر دیا میں نے….؟”سنیہا نے اس کے لہجے کی فل نقل اتاری تھی۔
“تم یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟”نائل نے غصے سے اس کی کلائی پکڑے اسے دیوار کے ساتھ پن کیا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھے پریشان کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گی؟”دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے وہ غصے سے پھنکارا تھا۔
“ہو جاؤں گی نہیں ہو گئی ہوں۔”وہ عجیب انداز میں ہنسی تھی۔
“دودھ کا گلاس زبردستی پلانا،مجھے دھکہ دینا،
دھتکارنا،میری بےعزتی کرنا،میری محبت کو دو کوڑی کا کرنا،میرے باپ کو گالی دینا،مجھے مارنا،مجھے ڈرانا،غلط القابات کہنا…..اس سب کے بعد بالکل اسی طرح سے مجھے اذیت دینا…..کچھ یاد آیا؟؟؟”اس کی آنکھوں میں آج کوئی خوف،کوئی ڈر نہیں تھا۔
“وہ سب آپ جان بوجھ کر کرتے تھے،مجھے اذیت پہنچانے کے لیے….ہیں نا؟؟”سنیہا نے اسے سائیڈ سمائل پاس کی تھی۔وہ کچھ بول نہیں سکا تھا۔اس کا انداز اسے لاجواب کر گیا تھا۔
