93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 41)

41
“وانیہ….وانیہ….!”وہ دھاڑتا ہوا لاؤنچ میں آیا تھا۔اس کی دھاڑ پر نا صرف ماہم بلکہ تمام ملازم بھی سہم گئے تھے۔
“وانیہ کہاں ہے؟”اس نے قہر برساتی نگاہوں سے ایک ملازمہ سے پوچھا تھا۔
“وہ تو گھر پر نہیں ہیں جی!وہ تو یونی….!”ابھی اس نے جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ وانیہ اندر داخل ہوئی تھی۔ملازمہ تو جان بچا کر فورا وہاں سے رفو چکر ہو گئی تھی۔
“کیا بات ہے،آج تو سب موجود ہیں یہاں…”نائل کو اس وقت گھر پر دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
“کہاں تھیں آپ….؟”نائل کی آنکھوں میں سرخی کے ساتھ ساتھ نمی بھی تھی۔
“یو نیورسٹی تھی مگر آپ کیوں….”شدید غصے کی حالت میں آگے بڑھتے نائل نے وانیہ کا بازو دبوچا تھا۔اسے کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ اسے تقریبا گھسیٹا ہوا آگے لے کر جا رہا تھا۔
“بھائی!مجھے درد ہو رہا ہے۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”وہ درد سے زیادہ شاک کی کیفیت کی تھی۔نائل تو اس سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کرتا تھا تو اس قسم کا رویہ…..؟
نائل نے اسے اس کمرے میں لا کر چھوڑا تھا جہاں وہ مصوری کرتی تھی۔
“کہاں ہیں وہ پینٹنگز جو دن رات بناتی ہیں آپ؟”اس کی غضب ناک آواز پر وانیہ کا پورا وجود ہی لرز گیا تھا۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے….؟”وانیہ کی آنکھوں سے اشک جاری ہوئے تھے۔وہ اس رویے کی وجہ نہیں جان پا رہی تھی۔
“یہ سارے کینوس خالی ہیں وانیہ،اور یہ جو نام نہاد پینٹنگز یہاں لگی ہوئی ہیں یہ بہت پرانی ہیں تو پھر آپ یہاں کیا کرتی ہیں؟”ایک پل کے کیے وہ لاجواب ہو گئی تھی۔اس کا دماغ اسے لال سگنل دے رہا تھا۔
“حقیقت یہ ہے وانیہ صاحبہ کہ آپ یہاں مصوری کرتی ہی نہیں ہیں۔آپ تو کچھ اور کرتی ہیں۔”اپنی بہن کی ہر صحیح غلط بات سننے اور ماننے والا آج اسے کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔
“اور آپ کو پتا ہے کہ آپ کیا کرتی ہیں؟”ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھامتے وہ اسے اس خفیہ کمرے میں لے گیا تھا۔
“یہ کرتی ہیں آپ….!”وانیہ کی سانسیں رک گئی تھیں۔اسے اپنی دھڑکنیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔
وہ پکڑی جائے گی اور وہ بھی اسطرح….یہ اس کے وہم و گمان میں ہی نہیں تھا۔
“محسن ٹھیک کہتا تھا۔وہ بالکل ٹھیک کہتا تھا۔میں ہی پاگل تھا بلکہ میں ہی پاگل ہوں۔”نائل کی آواز بھرا گئی تھی۔
“مام کے بعد اگر کسی کو ٹوٹ کر چاہا تھا تو وہ آپ تھیں۔اگر کسی پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کیا تھا تو وہ بھی آپ ہی تھیں،پھر کیوں….کیوں….؟”اسے دونوں کندھوں سے جھنجھوڑتے وہ استفسار کم اپنی بےبسی کا مظاہرہ زیادہ کر رہا تھا۔وہ صرف اس کی بہن نہیں تھی،وہ اس کی زندگی تھی۔وہ اس کا مان اور غرور تھی۔نائل نے وانیہ کو اپنی بہن سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی بیٹی سمجھ کر پالا تھا۔
وہ ویسے ہی اس پر جان چھڑکتا تھا مگر اس حادثے کے بعد تو وہ وانیہ کو لے کر حد سے زیادہ حساس ہو گیا تھا۔وہ آٹھ سال کی تھی جب اس نے اپنے ماں باپ دونوں کو ہی کھو دیا تھا،تب سے نائل نے ہی اسے پالا تھا۔
“بھائی میں….”وانیہ کے گلے میں آنکھوں کا گولہ اٹکا تھا۔وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“آج یہ آنسو مت بہائیں آپ….مجھ پر آپ کے ان جھوٹے آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔”وانیہ نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔اس کے بھائی کو اس کے آنسو جھوٹے لگ رہے تھے۔ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے اس کے جسم سے روح نکل گئی ہو۔
“یہ سب کیوں….؟”نائل کے سارے الفاظ بھی جیسے ختم ہی ہو گئے تھے۔
“I am sorry!
آپ کو بتا دیتی تو آپ مجھے کبھی یہ سب نا کرنے دیتے۔بھائی ٹرسٹ می!میں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔میں تو بس ٹائم پاس کے لیے یہ سب….”ہچکیاں ایک بار پھر بندھ گئی تھیں۔
“یہ سانپ،بچھو….یہ سب ٹائم پاس ہے؟”اس نے اپنی حیرت پر قابو پاتے بہت مشکل سے پوچھا تھا۔
“یہ سب اچھا لگتا ہے۔میرا مشغلہ ہے۔”اس نے نظریں جھکائے روندھی آواز سے کہا تھا۔
“دماغ درست ہے آپ کا….؟یہ کس قسم کا مشغلہ ہے اور کرتی کیا ہیں آپ ان سب چیزوں سے….؟”ہاتھوں کو ایک دوسرے سے مس کیے وہ خاموش کھڑی رہی تھی۔
“میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں وانیہ!صرف سچ….ورنہ کہیں ایسا نا ہو کہ آپ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو دیں۔”وانیہ کا دل ایک لمحے کے لیے کانپ اٹھا تھا۔وہ نائل کو کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی۔
“بھائی!میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔پہلے آپ پلیز ریلیکس ہو جائیں۔ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”وانیہ نے بچوں کی طرح اس کا بازو تھاما تھا جبکہ ہاتھوں میں لرزش واضح تھی۔
“آپ کو جو بھی کہنا ہے،ابھی اور اسی وقت کہیں۔”نائل نے فورا اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔وانیہ نے گویا ہار مانی تھی۔
“میں بس اکاؤنٹس ہیک کرتی ہوں۔لوگ اس کے بدلے مجھے پے کرتے ہیں۔میں….بزنس مینز کو ایک دوسرے کے راز جاننے میں مدد دیتی ہوں۔بیرون ملک بھی بہت سے لوگ مجھ سے کام…کام کرواتے ہیں۔کبھی کبھی….کسی چھوٹے موٹے سیاست دان کے خلاف ثبوت….”وہ خاموش ہو گئی تھی۔نائل کی آنکھوں میں حیرت مزید بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
“محسن کا آکاونٹ آپ نے ہیک کیا تھا نا….؟”وانیہ نے سر جھکائے اثبات میں سر ہلایا تھا جس پر نائل نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“میرا آکاونٹ کتنی دفعہ ہیک کر چکی ہیں آپ؟”آنکھیں کھولے وہ دو قدم چلتا اس کے قریب آیا تھا۔
“بھائی میں….”
“صرف سچ وانیہ….”اس کے لہجے کی سختی پر وانیہ نے سارے احتجاج چھوڑے ہار مانی تھی۔
“چار دفعہ….شروع شروع میں کیا تھا۔صرف چیک کرنے کے لیے کہ میں یہ کر سکتی ہوں یا نہیں….”نائل کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔نجانے آج اس پر کون کون سے انکشافات ہونے تھے۔
“اور یہ سانپ اور بچھو….؟”
“یہ مردہ ہیں،انہیں کیمیکلز کی مدد سے پریزرو کیا ہے میں نے….ان کے خون اور زہر میں کچھ کیمیکلز ملا کر ایک نایاب قسم کا زہر تیار کیا تھا میں نے….مگر وہ ایکسپیریمنیٹ کامیاب نہیں ہوا۔اس کے بہت سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔اس لیے چھوڑ دیا۔”نائل کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس پر ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا میزائل گرایا جا رہا ہو۔یعنی اس کی معصوم،فرشتہ صفت بہن یہ سب کیسے….کیسے کر سکتی تھی؟؟
“سچ میں چھوڑ دیا ہے میں نے…..!”وہ سچ کہہ رہی تھی۔وانیہ نے یہ زہر اپنی رگوں میں بھی اتارا تھا جس وجہ سے اس پر زہریلی چیزوں نے اثر کرنا تو چھوڑ دیا تھا مگر اسے اور بہت سی چیزوں میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔اسی وجہ سے اس نے مزید کوئی ڈوز نہیں لی تھی۔
“کچھ اور بھی رہتا ہے کیا….؟”نائل نے کبھی خود کو اس قدر بےبس محسوس نہیں کیا تھا جس قدر وہ آج کر رہ تھا۔
“بس کبھی کبھی شوقیہ طور پر کچھ نئی چیزیں بنانے کی کوشش….”
“کس قسم کی چیزیں….؟”وانیہ نے اپنے بیگ سے ایک پین نکال کر نائل کے سامنے رکھا تھا۔
“یہ پین!اس میں ایک ڈیوائس فٹ کی ہے میں نے….کسی کو بھی الیکٹریک شاک دینے کے لیے….یہ منفی اور مثبت جذبات پہچانتا ہے۔اگر میری اجازت کے بغیر اسے کوئی چھوئے گا تو مر جائے گا،لیکن اگر میں اپنی مرضی سے دوں گی تو کچھ نہیں ہو گا۔اور یہ رنگ….”اس نے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو چھوا تھا۔اب رنگ کو رب کیے وانیہ نے ہاتھ گھمایا تھا۔ایک سیکنڈ کا کھیل تھا اور سامنے میز پر پڑا کٹر اس کے ہاتھ میں تھا۔نائل کی ناصرف آنکھیں پھیلی تھیں بلکہ وہ بیچارا کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔
وہ نجانے کتنی لڑکیوں کو دھوکہ دیتا آیا تھا مگر اسے کیا معلوم تھا کہ درحقیقت وہ اپنی ہی بہن سے زبردست دھوکہ کھا رہا ہے۔
“اور وہ میڈیسنز کیوں لے رہی ہیں آپ….؟”اس بات پر وانیہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“کون سی میڈیسنز….؟”
“خود کو پاگل کرنے کی دوائی جبکہ درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔آپ کی رپورٹس چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ آپ بالکل نارمل ہیں۔کیوں وانیہ….کیوں….؟کیوں اتنے سالوں تک آپ مجھے دھوکہ دیتی آ رہی ہیں؟”نائل اور بھی نجانے کیا کیا کہہ رہا تھا جبکہ وانیہ کا دماغ تو دوائیوں پر ہی اٹک گیا تھا۔
“پاگل پن کی دوائیاں….؟”وہ زیر لب بڑائی تھی۔
“بھائی!میں نے کبھی کوئی دوائی نہیں لی۔میں تو وہی دوائیاں کھاتی ہوں جو آپ مجھے لا کر دیتے ہیں یا پھوپھو….!ٹرسٹ می!میں سچ کہہ رہی ہوں۔مجھے کیا ضرورت ہے غلط دوائی لینے کی….؟”وانیہ نے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
“جھوٹ….صاف جھوٹ….!”نائل کو اب اس کی کسی بات کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
“آپ کا جھوٹ ابھی سامنے آ جائے گا۔”نائل اس کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لاؤنچ میں لے گیا تھا۔
ماہم وہاں اضطراب کی حالت میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔بھائی،بہن کے بیچ بولنے کی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
“کیا ہے یہ سب….؟”نائل نے ٹیبل سے وہ رپورٹ اٹھائے وانیہ کے سامنے رکھی تھی۔وانیہ نے حیرانگی سے وہ رپورٹ تھامی تھی۔جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی،اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی جا رہی تھیں۔
“بھائی یہ….”
“آپ کے کمرے سے ملی ہے۔”
“یہ….میں….مجھے نہیں پتا یہ میرے کمرے میں کیسے….؟ٹرسٹ می بھائی!ہاں میں مانتی ہوں کہ میں پاگل نہیں ہوں مگر کبھی کبھی اٹیکس ہو جاتے ہیں۔”
“آپ کو کبھی کوئی اٹیکس نہیں ہوتے۔یہ سب جھوٹ تھا،لیکن کیوں….؟”
“بھائی ایسا کچھ نہیں ہے۔مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔”وانیہ کا سر بری طرح چکرانے لگا تھا۔
“وانیہ اب تو سچ بول دیں۔کم از کم اب تو جھوٹ مت بولیں۔میں جان چکا ہوں کہ آپ بالکل نارمل ہیں مگر یہ ڈرامہ کرنے کی وجہ کیا ہے،مجھے صرف اتنا بتا دیں؟؟”
“کون سا ڈرامہ بھائی….؟میں نے کبھی کوئی ڈرامہ نہیں کیا۔میں تو صرف سچ جاننا چاہتی ہوں کہ مام کے ساتھ کیا ہوا اور نین….”
“اووو!میں اب سمجھا….تو یہ سب ڈرامہ اسی وجہ سے کیا آپ نے….واؤ وانیہ!بہت ذہین ہیں آپ….اتنی آسانی سے بیواقوف بناتی آئیں ہیں آپ مجھے….”وہ عجیب انداز میں ہنسا تھا۔
“مجھے سچ سچ بتائیں،اپ کو سب یاد ہے نا،اس دن جو کچھ بھی ہوا تھا بس مجھے اذیت پہنچانے کے لیے بار بار وہ سب دہراتی ہیں،ہیں نا….؟”
“میں ایسا کیوں کروں گی بھائی…؟”وہ تڑپ اٹھی تھی۔نائل کو تکلیف پہنچانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
“پھر تو آپ کو اور بھی بہت کچھ یاد ہو گا۔خیر چھوڑیں!مجھے اس میں کوئی دلچسبی نہیں ہے۔مجھے بس اتنا بتا دیں کہ وہ چار لوگ کون تھے؟اس کے بعد آپ سے میرا کوئی تعلق نہیں….”
“بھائی پلیز ایسا مت کہیں۔”وہ آگے بڑھ کر نائل کے سینے سے لگی تھی۔
“میں سب چھوڑ دوں گی۔آئی پرومس!میں دوبارہ ایسا ویسا کوئی کام نہیں کروں گی مگر پلیز آپ ایسا کچھ مت کہیں۔مجھے سچ میں کچھ نہیں یاد….مجھے کچھ نہیں پتا….”
“Ohh just shut up!
اب آپ کی کسی بات پر مجھے کوئی یقین نہیں ہے۔”نائل نے اسے خود سے دور کیا تھا۔
“آخری بار پوچھ رہا ہوں آپ سے….مجھے بتائے کہ وہ چار لوگ کون تھے؟”اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔
“مجھے نہیں یاد….مجھے نہیں پتا…مگر اسے پتا ہو گا۔ہاں اسے پتا ہو گا۔”
“کسے….؟”
“اس عورت کو….وہ آواز….جو مجھے کچھ بھولنے نہیں دیتی۔وہ خوفناک آواز جو مجھے ہر رات تکلیف دیتی ہے۔مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے بھائی!مجھے بہت اذیت ہوتی ہے۔”منہ پر ہاتھ رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“مت کریں یہ سب!میں اب آپ کی باتوں میں نہیں آنے والا….!”وانیہ نے اسے حد سے زیادہ مایوس کر دیا تھا۔وہ اس کا بھروسہ بری طرح توڑ چکی تھی۔نائل شاید اب کبھی بھی اس پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔
وانیہ بھی اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھ سکتی تھی لہذا وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔
نائل شکست خور حالت میں صوفے پر بیٹھا تھا۔ماہم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دینا چاہی تھی۔
“میں نے کیا کچھ نہیں کیا اس کے لیے پھوپھو….گھر بدل دیا،پہچان بدل دی یہاں تک کہ نام بھی….!مانو سے وانیہ….مجھے بتائیں مجھ سے کہاں غلطی ہوئی؟”ماہم کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں۔
“ڈاکٹر سیف مجھ سے ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ سب صرف ایک مخصوص عمر تک ہی ہو گا پھر وہ نارمل ہو جائے گی۔مگر ایسا نہیں ہوا۔ایسا اس لیے نہیں ہوا کیونکہ مانو نے ایسا ہونے ہی نہیں دیا۔”
“خود کو سنبھالو عبداللہ!”ماہم نے اس کے کندھے پر دباؤ ڈالے کہا تھا۔
“مجھے اس نام سے مت پکاریں پھوپھو!مجھے تکلیف ہوتی ہے۔یہ نام مام کو پسند تھا۔وہ میرا یہی نام رکھنا چاہتی تھیں مگر ڈیڈ نے میرا نام نائل رکھا تھا۔لیکن میں ان کے لیے عبداللہ ہی تھا۔اب جب وہ نہیں ہیں تو مجھے یہ نام نہیں پسند….یہ مجھے تکلیف دیتا ہے۔”
“نائل!مانو سے ایسے بدگمان مت ہو۔وہ بچی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ جو کہہ رہی ہو،اس میں کوئی سچائی ہو۔یہ تو ہمارے سامنے ہے کہ اسے بچپن کی کوئی بات یاد نہیں ہے۔کوئی اتنے عرصے تک کیسے یہ ڈرامہ کر سکتا ہے؟”ماہم نے دورن دیشی سے کام لیا تھا۔
“آپ جا کر وہ کمرہ دیکھ آئیں۔آپ جان جائیں گئی کہ وہ کیا ہے اور کیا کر سکتی ہے۔”ماہم کو مجبورا خاموش ہونا پڑا تھا۔نائل اس وقت کچھ بھی سننے یا سوچنے کی کیفیت میں نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔