Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 44)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 44)
44
نکاح خواں کے آتے ہی نکاح پڑھایا گیا تھا۔حاتم نے برے دل کے ساتھ ہی سہی مگر اس نکاح کو تسلیم کر لیا تھا۔جیل میں بھی تو لوگ روکھی سوکھی پر گزارا کرتے ہیں نا،اب اگر اسے عمر بھر کی قید میں اس ٹڈی کو جھیلنا تھا تو پھر ٹھیک ہے۔وہ قبول کر چکا تھا،اس کے علاؤہ کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا۔
نکاح کے وقت اس کی نظریں جھکی ہوئی اور منہ پھولا ہوا تھا۔ایک چیز تھی جس نے اسے چونکنے اور نظر اٹھا کر اپنے عقب میں بیٹھی چھوٹی سی لڑکی کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ اس کا نام تھا۔
اچانک ہی اس کے لبوں کو مدھم سی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔اگر وہ کہتی تھی کہ اسے اپنا نام بولنا نہیں آتا تو بالکل کہتی تھی۔
نکاح کے بعد وہ طبیعت خرابی کا بہانہ کرتے باہر لان میں آ بیٹھا تھا۔سرد،خوشگوار ہوا اس کی بوجھل طبیعت پر اچھا اثر ڈال رہی تھی۔وہ پودوں کے ننھے ننھے پتوں کو ہلتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو ہوا کے دباؤ کی وجہ سے کبھی اس جانب تو کبھی دوسری جانب جھک جاتے تھے۔
پودوں کی کیاریوں میں مختلف رنگ کے پھول بھی کھلے ہوئے تھے۔چاند کی چاندنی اور لان میں لگا ہوا بلب ان کا محسور کن حسن دیکھنے میں کافی مددگار ثابت ہو رہے تھے۔
وہ اپنی سوچوں میں گم مسلسل ان پھولوں کو دیکھنے میں مصروف تھا جب ایک آواز نے اس کی سوچ میں ارتعاش پیدا کیا تھا۔
“بین!تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ بین کی مانو اسے کہیں تنہا چھوڑ دے۔
“تم پلیز چلی جاؤ یہاں سے،میرا موڈ اس وقت بہت خراب ہے۔”لہجے میں بےبسی کے ساتھ تھکان واضح تھی۔
“افف بین!تم مان لو نا آنٹی کی بات،اور کر لو مجھ سے نکاح….پھر ہم ساتھ مل کر بین ٹین دیکھے گے۔”اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے مانو نے معصومیت سے کہا تھا۔حاتم کا دماغ صحیح معنوں میں گھوما تھا۔ابھی تھوڑی دیر پہلے کیا وہ لڈو کھیل کر آیا تھا جو وہ نکاح کا بول رہی تھی۔
“ابھی میں نے تین بار “قبول ہے” بولا ہے نا،اور سائن بھی کیے،تو ہو گیا ہمارا نکاح….مبارک ہو تمہیں،تم جیت گئی۔اب ہم دونوں میاں بیوی ہیں۔”مانو کو خونخوار نگاہوں سے گھورتے حاتم نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔
“میاں بیوی مطلب….؟”معصومیت اب بھی برقرار تھی۔
“مطلب میں اب تمہارا شوہر ہوں۔”اس نے کھا جانے والی نگاہوں سے ایک بار مانو کو گھورا تھا۔
“شوہر کیا ہوتا ہے؟”وہ ابھی بھی نہیں سمجھی تھی۔یہی وہ لمحہ تھا جب حاتم کو سامنے بیٹھی گڑیا سے ہمدردی ہوئی تھی۔زیادتی صرف اس کے ساتھ نہیں ہوئی تھی بلکہ اس معصوم کے ساتھ بھی ہوئی تھی جسے ٹھیک سے نکاح اور شوہر کا مطلب تک نہیں پتا تھا۔
“ادھر آؤ….”حاتم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا تھا۔وہ چہکتی ہوئی اس کے پاس گئی تھی۔اس سے بڑی بات اس کے لیے کیا ہو سکتی تھی کہ حاتم خود اسے بلا رہا تھا۔
“اس سب کا کوئی مطلب نہیں ہے۔تم صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دو گی اور میرا انتظار کرو گی۔وعدہ کرو….”حاتم نے اس کے آگے اپنی ہتھیلی پھیلائی تھی۔وہ کچھ دیر خالی الذہن کی کیفیت سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر مانو نے کھلکھلارے ہوئے اپنا ننھا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا تھا۔
وہ لاکھ شرارتی صحیح مگر تھی تو ایک چھوٹی بچی ہی نا….حاتم کسی صورت اس کا بچپن چھننے نہیں دے سکتا تھا۔
“ایک بات سچ سچ بتاؤ تم میرے ساتھ کیوں رہنا چاہتی تھی؟”وہ جاننا چاہتا تھا کہ کہیں اس کے ننھے دماغ میں اس کے والد نے تو یہ بات نہیں ڈالی۔
“کیونکہ تم مجھے اچھے لگتے ہو۔مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔تمہارے ساتھ کارٹون دیکھنے ہیں اور بہت سارا کھیلنا بھی ہے۔”ہاتھ پھیلا کر اس نے پرجوش انداز میں کہا تھا۔حاتم نے باقاعدہ اپنا سر پیٹا تھا۔اس کی ساری زندگی برباد صرف کارٹون دیکھنے اور کھیلنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔
اب مزید یہ کتنی برباد ہونی تھی،اگر حاتم کو اس بات کا ذرا سا بھی اندازہ ہوتا تو وہ اس نکاح کے اوپر مرنے کو ترجیح دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریبا نو بجے کے قریب وانیہ اور ماہم کی فلائیٹ تھی۔ساری تیاری تقریبا مکمل تھی۔وانیہ نے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا تھا۔
ماہم نائل کے کمرے میں نجانے کب سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ وانیہ کے ساتھ غلط کر رہا ہے مگر نائل نے تو جیسے اپنے کان ہی لپیٹ لیے تھے۔وہ وانیہ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
“نائل ایک بار پھر سوچ لو،رہ لو گے اس کے بغیر؟؟”شاید یہ آخری کوشش تھی۔
“رہ لوں گا۔”لہجے میں پختگی تھی۔
“میرا بس چلے نا پھوپھو!تو میں اسے لندن بھیجنے کے بجائے اسے آج ہی کسی کے ساتھ رخصت کر دوں۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا پھوپھو کہ ہم کسی اچھے سے لڑکے سے وانیہ کا نکاح کروا دیں؟”
“تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہے؟تم جانتے ہو نا کہ یہ ناممکن ہے۔”ماہم کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا۔
“ہم اسے ممکن بھی تو کر سکتے ہیں نا….؟”وہ واقعی اس وقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔وانیہ نے اسے بہت دکھ پہنچایا تھا۔
“نائل!وانیہ شادی شدہ ہے۔”ماہم نے اسے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا۔دروازے کے باہر کھڑی وانیہ کے قدم لڑکھڑائے تھے۔کون سا انکشاف اس پر کب ہو رہا تھا….؟
وہ جانے سے پہلے نائل سے ملنا چاہتی تھی،اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔
“نکاح پر نکاح جائز نہیں ہے نائل!”
“جانتا ہوں پھوپھو!مگر یہ تو بچپن کا نکاح ہے نا،اسے تو کچھ یاد بھی نہیں ہے”وانیہ کے لیے ایک لمحہ بھی وہاں مزید رکنا مشکل ہو گیا تھا۔وہ بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔
“نائل نکاح تو نکاح ہوتا ہے۔اگر پھر بھی تم ایسا کچھ چاہتے ہو تو اسے اس نکاح کے بارے میں سب بتا دو پھر فیصلہ مانو کا ہو گا،وہ چاہے تو اس نکاح کو تسلیم کر لے یا پھر خلع لے لے۔”نائل نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔اس کے ہاتھ مکمل طور پر بندھے ہوئے تھے،وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
وانیہ کو بچپن کی کوئی بات بھی یاد نہیں تھی سوائے اس حادثے کے،یہ بات تو نائل بھی اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ اس ہی نے تو اسے ایک بالکل مختلف ماحول اور ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات دی تھیں مگر اصل بات جس کی وجہ سے وہ وانیہ سے شدید خفا تھا،وہ جان بوجھ کر اس کا یہ پاگل پن کا ڈرامہ کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ کے جانے کے بعد نائل کتنی ہی دیر بےمقصد سڑکوں پر گاڑی گھماتا رہا تھا۔وہ اسے ابھی سے مس کرنے لگا تھا مگر افسوس تو اس بات کا بھی تھا کہ وہ خود ایک بار بھی اس کے پاس نہیں آئی تھی۔کاش کہ وہ ایک بار سچے دل سے اس سے معافی مانگ لیتی تو وہ اسے معاف کر دیتا۔نائل اپنی بہن کو سو قتل بھی معاف کر سکتا تھا۔
اس ساری صورت حال میں وہ اس بات سے مکمل طور پر لاعلم تھا کہ اس کی بہن اس سے مکمل طور پر بدگمان ہو چکی ہے۔
سنسان سڑک کے ایک پار گاڑی روکتے وہ شیشہ کھولے اس سرد اور خنک رات میں سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔
گاڑی کی پشت سے ٹیک لگائے،آنکھیں موندے وہ اپنی بہن کے ساتھ بتائے خوبصورت لمحات کو یاد کر رہا تھا جب فون کی رنگ سے اس کے خیالات کا تسلسل ٹوٹا تھا۔
ڈیوڈ کی کال دیکھ کر نائل کا دماغ اچھا خاصا گھوما تھا۔وانیہ کا سارا غصہ اب اس پر نکلنا تھا۔
“کیسے ہیں سالے صاحب؟”اس نے ہشاش بشاش انداز میں پوچھا تھا۔اس کال کا مقصد نائل کو دو دن پہلے ہوئی سمگلنگ کے بارے میں اطلاع دینا تھا کہ اس کے پیچھے اسی کا ہاتھ تھا اور نائل اور اس کی ناقص ٹیم اتنے سالوں کی محنت کے باوجود بھی ان لوگوں کو نہیں پکڑ سکے تھے۔
“یہ آخری دفعہ ہے جو میں نے تمہاری کال اٹھائی ہے۔اور ایک بات بتا دوں تمہیں جس کے لیے کال کرتے ہو نا،وہ اب نہیں ہے یہاں….”نائل کا دماغ تو صرف وانیہ پر ہی اٹکا ہوا تھا۔باقی کسی چیز کی فلحال اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔
“اب مجھ سے رابطہ کرنے کے بجائے سیدھا اس سے رابطہ کرنا۔اس سے پوچھ لو،اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو لے جاؤ اسے اپنے ساتھ….بلکہ لے ہی جاؤ اسے اپنے ساتھ۔میں اکیلا کیوں بھگتو؟تم بھی تو بھگتو نا….”نائل نے کھٹاک سے فون بند کر دیا تھا۔یہ پہلی بار تھا جب ڈیوڈ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔
“لگتا ہے سالے صاحب آج کچھ زیادہ ہی غصے میں ہیں۔”اس نے سر جھٹکتے فون سائیڈ پر رکھا تھا۔
“ویسے آفر تو کافی اچھی ہے۔”وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“سالے صاحب نے خود ہی اجازت دے دی مجھے….”اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک ابھری تھی۔
“لیکن میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔”ڈیوڈ نے ایک بار پھر اپنا فون اٹھایا تھا۔
“مام چاہتی تھیں کہ تمہارے اکیس سال کے ہونے پر ہی ہماری رخصتی ہو۔”اس نے وانیہ کی تصویر کو زوم کیا تھا۔
“بس کچھ وقت اور….”اس نے اس کی ٹھوڑی پر موجود تل پر اپنی شہادت کی انگلی رکھی تھی۔وہ اس کے سامنے موجود نہیں تھی پھر بھی وہ اس کا لمس محسوس کر رہا تھا۔
“لیکن….!”اب اس نے اس کی آنکھوں کو زوم کیا تھا۔
“اس سے پہلے اگر تم خود مجھ تک آئی تو پھر وعدہ کرتا ہوں،دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔میں کسی صورت اس بار تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔”اس کے چہرے کو آنکھوں میں سماتے اس نے عہد کیا تھا۔
فون سائیڈ پر رکھے اب اس نے اپنے وائلٹ میں سے ایک کاغذ نکالا تھا۔
کاغذ پر بچوں کی ہینڈ رائیٹنگ میں تین بار “قبول ہے” لکھا ہوا تھا،ڈیوڈ نے ان سطروں کو چھوا تھا۔
“ٹڈی….!”اس کے لب خوبخود ہلے تھے اور ساتھ ہی ساتھ لبوں پر ہلکا سا تبسم لہرایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ کے جانے کے بعد نائل کا سارا سکون درہم برہم ہو چکا تھا۔گھر جانے کا اس کا کوئی موڈ نہیں تھا۔اس گھر کی خالی دیواریں اب اسے وحشت زدہ لگ رہی تھیں۔لہذا اس نے فارم ہاؤس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی وہ چینج کر کے بستر پر لیٹا تھا۔سنیہا اور اس کے درمیان کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ نائل کو مسلسل اپنی پیشانی مسلتے دیکھ وہ چپ چاپ اٹھ کر کچن میں گئی تھی۔تھوڑی دیر بعد وہ اسکے لیے کافی بنا کر لائی تھی۔خاموشی سے ٹیبل پر کافی رکھے ابھی وہ مڑنے ہی لگی تھی جب نائل نے اس کی کلائی تھامی تھی۔
“گھڑی پر بارہ بجے ہوئے ہیں،سمجھ آتا ہے۔یہ تمہارے چہرے پر کیوں بارہ بجے ہوئے ہیں؟”بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے نائل نےاسے اپنے پاس بٹھایا تھا۔سنیہا خاموشی سے نظریں جھکائے مسلسل اپنے ہونٹ کترتی رہی تھی۔
“بات کروا تو دی تھی تمہاری۔”اس نے کافی کا کپ تھامے دوسرے ہاتھ سے سنیہا کا ہاتھ تھاما تھا۔
“اگر جانے دیتے تو کیا ہو جاتا؟”لب کترتے وہ شکوہ کر رہی تھی،اور اس کا شکوہ بالکل بجا تھا۔
“ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ تم وہاں کبھی نہیں جاؤ گی۔میں نے تمہاری بات کروا دی۔تم نے ویڈیو کال کر لی،اتنا کافی ہے۔”وڈیو کال کے بعد وہ کافی حد تک مطمئن تھی۔اس کے والد کی حالت کافی بہتر تھی۔
“کیا آپ میرے ڈیڈ کو معاف نہیں کر سکتے؟”سنیہا نے بہت مان سے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے پوچھا تھا۔
“تمہارا فون کہاں ہے؟”اس کے الٹا سوال کرنے پر سنیہا نے گہری سانس خارج کی تھی۔شاید وہ ساری زندگی اب اپنے گھر والوں سے نہیں مل سکتی تھی۔
بغیر کسی احتجاج کے اس نے خاموشی سے نائل کو اپنا فون لا کر دے دیا تھا۔
“تمہیں اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔”اس نے فون سائیڈ ٹیبل پر رکھتے کہا تھا۔
“ہفتے میں ایک بار تم اپنے گھر فون کر سکتی ہو۔”سنیہا کا معنوں سانس رکا تھا۔وہ تو نائل کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے نجانے دن میں کتنی دفعہ اپنے گھر کال کرتی تھی۔
“لیکن نائل….!”
“پندرہ دن میں ایک دفعہ….!”اس کے کسی بھی احتجاج سے پہلے ہی وہ اپنا فیصلہ بدل چکا تھا۔
“مگر….”
“ایک مہینے میں ایک دفعہ….!”اب کی بار سنیہا نے اپنی زبان پر فقل لگایا تھا۔اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ ساری زندگی اپنے گھر والوں سے بات کرنے سے محروم نا ہو جائے۔
کچھ دیر خاموشی کی نظر ہوئی تھی۔نائل اپنی جگہ لیٹا تھا اور سنیہا لیمپ آف کیے اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹی تھی۔
نائل نے ابھی آنکھیں بند ہی کی تھیں جب سنیہا کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔
“کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟”نائل اپنی آنکھیں کھولنے پر مجبور ہو گیا تھا۔خاموشی کا لمبا وقفہ ان دونوں کے درمیان آیا تھا،شاید وہ جواب تلاش کر رہا تھا۔
“مجھے اپنی پہلی بیوی سے بےانتہا محبت ہے۔”یہ کہتے ساتھ ہی اس نے کروٹ بدلی تھی۔
سنیہا اس کے عجیب و غریب اظہار پر کچھ دیر سوچتی رہی تھی پھر اچانک ہی اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔کم از کم وہ اس سے محبت تو کرتا تھا،یہی احساس ہی سنیہا کے لیے بہت تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
