93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 22)


گھر تک کے سفر میں وانیہ وہ غلاف کھولنے کی ہمت نہیں کر سکی تھی۔ وہ ایک عجیب قسم کا خوف محسوس
کر رہی تھی۔ اپنے کمرے میں آتے ساتھ ہی اس نے دروازہ لاک کیا تھا۔اب اس نے اپنے بیگ سے وہ غلاف میں لپٹی چیز نکالی تھی۔اسے بستر پر رکھے وہ کچھ دیر سوچتی رہی تھی۔وہ ایک نڈر اور بہادر لڑکی تھی لیکن اسے کھولنے
میں وہ خوف محسوس کر رہی تھی۔
“ماضی…راز حال…جھوٹ اور مستقبل…کھٹن۔اپنے تمام تر غرور کے ساتھ منہ کے بل گرو گی۔”ذہن میں اب بھی اس عورت کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔اپنا سر جھٹکتے اب وانیہ نے آگے بڑھ کر وہ غلاف اٹھایا تھا۔ اسے کھولنے کے بعد اب وہ پٹھی پٹھی آنکھوں سے اندر موجود چیز کو الٹ
پلٹ کر دیکھ کر رہی تھی۔
“آئینہ…؟”وانیہ کی کان کی لوئیں تک سرخ ہوئی تھیں۔
“پاگل عورت…!”اس نے غصے سے آئینے کو نیچے فرش پر پٹخا تھا۔آئینہ میں دراڑ آ گئی تھی۔
“کیا مصیبت ہے؟”اپنا سر تھامتے وہ بستر پر ڈھے گئی تھی۔کوئی بھی اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔اسے خود ہی ہر راز کی تلاش کرنا تھا۔
“اگر سچ جاننا ہے تو ایک اور اٹیک آنا بہت لازمی ہے۔”اس نے فورا موبائل فون نکالے ایک جگہ فکس کیا تھا۔
اب وہ متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔بہت ڈھونڈھنے پر بھی اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملی تھی
جس سے وہ خود کو نقصان پہنچا سکے۔ نائل وانیہ کو لے کر حد سے زیادہ پوزیسو تھا۔اس نے کمرے سے وہ ساری چیزیں
نکلوا دی تھیں جن سے وانیہ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔فرش پر پڑے ہوئے آئینے کو دیکھ اس کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ بکھری تھی۔اس نے وہ چھوٹا سا آئینے توڑنے کی نیت سے اٹھایا تھا پھر کسی سوچ کے تحت وہ رک گئی تھی۔
“اگر میں نے آئینے سے خود کو نقصان پہنچایا تو بھائی اسے بھی میرے کمرے سے ہٹوا دے گے۔اور ویسےبھی میں فلحال بھائی کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتی۔”وانیہ نے
فورا ہی اپنا ارادہ ترک کیا تھا۔
“مجھے کچھ اور سوچنا ہو گا۔”اپنی پیشانی مسلتے وہ اب پلین ترتیب دے رہی تھی۔

“نائل کیا ہوا ہے کچھ تو بولو؟”وہ صوفے پر کب سے اضطراب کی حالت میں بیٹھا تھا۔ماہم کو اس کے چہرے
کی پریشانی فکرمندی میں مبتلا کر گئی تھی۔
“وانیہ کی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے۔یہ دیکھیں رپورٹس…!”نائل نے رپورٹس ماہم کی جانب بڑھائی تھی۔
“ایک اور اٹیک اس کی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے۔آپ پلیز بہت زیادہ محتاط رہیں پھوپھو!”رپورٹس دیکھ کر تو ماہم بھی پریشان ہو گئی تھی۔
“کیا وہ کبھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتی؟”وانیہ کی یہ حالت دیکھ کر ہمیشہ ہی ماہم کو ہمیشہ ہی دکھ ہوتا تھا۔
“ایک ہی حل ہے اس کا،اور آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ وہ کیا ہے۔”ماہم نے بےبسی سے گہری سانس خارج کی تھی۔
“لیکن میں نے سوچ لیا ہے۔میں وانیہ کو ہائیر سڈیز کے لیے باہر بھیج دوں گا۔اس کا مائینڈ سیٹ چینج ہو گا تو شاید وہ اس حادثے کو بھلا سکے۔ آپ اس کے ساتھ جائیں گی پھوپھو۔” وہ مشورہ نہیں مانگ رہا تھا۔وہ اپنا فیصلہ سنا رہا تھا جو کہ اٹل تھا۔
“اگر وہاں جا کر اسے کچھ ہو گیا تو میں کیسے سنبھالوں گی اسے؟”ماہم کا خدشہ بالکل درست تھا۔یہاں تو نائل اسے سنبھال لیتا تھا مگر وہاں تو وہ اکیلی ہو گی۔اسے سنبھالنا
اس کے بس کی بات نہیں تھی۔
“پھوپھو!کچھ نہیں ہو گا۔میں آتا جاتا رہوں گا۔”
“اگر تم بھی…”
“ممکن نہیں ہے پھوپھو!بزنس کے ہزار مسائل ہیں۔”ماہم خاموش ہو گئی تھی۔نجانے کون سا بزنس چلا رہا تھا وہ،
جو کبھی ایک جگہ ٹکتا ہی نہیں تھا۔کبھی کسی ملک تو کبھی کسی شہر…ماہم تو ان سب چیزوں سے بےحد بیزار تھی۔

ہارون آج اپنے خاندان کے ہمراہ مصطفی کے گھر رات کے کھانے پر مدعو تھے۔ڈنر کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔مانو تو حاتم کو دیکھ کر سب کچھ ہی بھول گئی تھی جبکہ صوفی کو اس نے بالکل بھی لفٹ نہیں کروائی تھی۔
“بھائی صاحب!میں اس دن کے رویے کے لیے ایک بار معذرت خواہ ہوں۔”سونی نے شرمندگی سے کہا تھا۔اپنی بیٹی کی گمشدگی پر وہ اپنے ہواس کھو بیٹھی تھی اور اس نے حاتم اور ہارون کو اچھی خاصی سنائی تھی۔
“بھابھی جی!اب بھول جائیں ان سب باتوں کو۔آپ کی کہی کوئی بھی بات مجھے بری نہیں لگی اور حاتم کو بھی…”پانی کے لیے گلاس اٹھاتے حاتم کے ہاتھ رکے تھے۔
اس نے عجیب نظروں سے باپ کی طرف دیکھا تھا۔اسے سچ بولنے کا درس دینے والا باپ آج مسکرا کر جھوٹ بول رہا تھا۔کتنی غلط بات تھی۔
“کیوں حاتم…؟”وہ بدقت مسکرایا تھا۔
“آپ نے اور آپ کی بیٹی نے جو درگت بنائی تھی نا میری،میں بھولوں گا نہیں…”وہ دل ہی دل میں کڑھا تھا۔
“تم اتنے اچھے کیوں دکھتے ہو بین؟”حاتم صوفی اور مانو باہر لان میں ٹہل رہے تھے جب مانو نے جھوٹ بول کر صوفی کو راستے سے ہٹایا تھا کہ اسے اندر اس کی ماں بلا رہی ہیں۔اب وہ جھولے پر بیٹھی حسرت بھری نگاہوں سے اپنے بین کو دیکھ رہی تھی جو کہ اس کے ساتھ ہی منہ
پھلائے بیٹھا تھا۔وجہ آج کا ڈنر تھا جس کے حوالے سے اسے بہت سخت تاکید کی گئی تھی۔
“میرا نام حاتم ہے۔”وہ چھوٹی سی آفت تو اس کے گلے ہی پڑ گئی تھی۔ وہ کوئی آٹھ سال کا بچہ تھوڑی تھا جو اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ فضول باتیں انجوائے کرتا۔
“مجھے یہ نام پسند نہیں ہے۔”مانو نے منہ پھلائے کہا تھا۔
“پلیز چپ ہو جاؤ ماہ نور!”حاتم اس وقت اس سے بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
“کون ماہ نور…؟”اس نے ناسمجھی سے حاتم کی جانب دیکھا تھا۔
“تم ماہ نور اور کون…؟”وہ ابھی بھی تپا ہوا تھا۔
“میرا نام ماہ نور نہیں ہے۔”اب کی بار حاتم نے غصے سے سامنے بیٹھی چھٹانک بھر کی لڑکی کو گھورا تھا۔
“اگر تمہارا نام ماہ نور نہیں ہے تو پھر سب تمہیں مانو کیوں بلاتے ہیں؟” اس نے دانت پر دانت جمائے نہایت
ضبط سے پوچھا تھا۔
“وہ تو میں پیاری ہوں نا،بالکل مانو بلی جیسی،اس لیے…!”مانو نے شرما کر کہا تھا جبکہ حاتم کا دماغ بالکل
گھوم کر رہ گیا تھا۔
“اگر یہ نام نہیں تھا تو میرے ہاتھ پر یہ کیوں لکھا تھا؟”اس کا دماغ پہکے ہی شاٹ تھا۔بچی کچی کسر مانو
نے پوری کر دی تھی۔
“مجھے وہی لکھنا آتا تھا نا،اس لیے…!” حاتم کو لان میں موجود ہر چیز ہی گول گول گھومتی نظر آئی تھی مگر اس نے صبر کا دامن تھامے رکھا تھا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟”اس نے نہایت ضبط سے پوچھا تھا۔
“مجھے پتا ہے لیکن بولنا نہیں آتا۔”مانو نے معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپائی تھیں۔
“یا اللہ…!”حاتم نے باقاعدہ اپنے بال نوچے تھے۔
“بس ایک بار میں وزیراعظم بن جاؤں۔ تمہیں تو پہلی فرصت میں اس ملک سے اٹھا کر باہر پھینکوں گا۔”اس نے انگلی اٹھا کر اس چھوٹی بلا کو دھمکی دی تھی۔
“وہ کیا ہوتا ہے؟”حاتم کی بات اس کے سر پر سے گزری تھی۔
“جس کی سب لوگ بات مانتے ہیں اور کوئی اس کے آگے کچھ بول نہیں سکتا۔” حاتم نے اس کے ننھے سے دماغ کے
مطابق اسے سمجھایا تھا۔صحیح معنوں میں اس نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی۔
“اس کا مطلب میں زراعم(وزیراعظم) ہوئی۔”اس کی سنہری گول آنکھوں میں چمک ابھری تھی۔حاتم نے باقاعدہ اپنا سر پیٹا تھا۔
“میری تو سب ہی بات مانتے ہیں۔ڈیڈ،مام اور بھائی بھی…بھائی تو مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں۔اور
وہ میرے لیے بہت ساری چاکلیٹس بھی لے کر آئے گے۔”اس نے اپنے ہاتھوں کو پھیلائے حاتم کی معلومات میں
اضافہ کیا تھا۔
“تمہارا بھائی ہے کہاں؟میں نے تو نہیں دیکھا اسے۔”
“وہ کل آئیں گے۔تم دیکھو گے نا تو دیکھتے رہ جاؤ گے۔وہ بہت اچھے دکھتے ہیں۔تم سے بھی زیادہ اچھے…”حاتم تو
اس ڈیڑھ فٹ کی آفت کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔کس قدر دوغلی تھی وہ… ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ سب سے
اچھا تھا اور اب اس کا بھائی…
“بین!تمہاری گھڑی کہاں ہے؟”اچانک ہی اسے یاد آیا تھا۔
“کون سی گھڑی…؟”
“بین ٹین کی گھڑی…!”
“گم ہو گئی۔”اب وہ بیچارا اس بےتکی بات کا کیا جواب دیتا؟وہ کوئی کارٹون تھوڑی تھا جو ہر وقت اپنی کلائی پر گھڑی باندھے رکھتا۔
“کوئی بات نہیں میں تمہیں بنا دوں گی۔”مانو نے ایسے کہا تھا جیسے یہ کوئی بڑی بات نا ہو۔
“تم مجھے گھڑی بنا کر دو گی؟”وہ جیسے یقین کرنا چاہتا تھا۔
“ہاں بس تم نا مجھے ایک بیٹری لا کر دینا۔اور ایک تار بھی اور ہاں پلاسٹک شیٹ بھی،باقی سب ہے میرے پاس…!”
مانو نے بہت رازداری سے کہا تھا۔حاتم چند لمحے بےیقینی سے اسے دیکھتا رہا تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دیا تھا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا تھا۔
“پہلے اپنا نام بولنا تو سیکھ لو ٹڈی، پھر مجھے گھڑی بھی بنا دینا…”پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ ہنستا ہی چلا گیا تھا۔
“کٹی…!”وہ غصے سے منہ پھلائے وہاں سے اٹھ کر گئی تھی۔

مانو کچن کاؤنٹر پر بیٹھی چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی۔درحقیقت وہ پاستا بننے کا انتظار کر رہی تھی۔
“تبسم کیا بین ہمارے ساتھ اس گھر میں نہیں رہ سکتا؟”چاکلیٹ کھانے کے ساتھ ساتھ وہ مسلسل اپنے گھر
کی ملازمہ کا دماغ بھی کھا رہی تھی۔
“نہیں بی بی جی!اس کا اس گھر سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔اور وہ تو ہے بھی لڑکا۔”تبسم نے اسے سمجھایا تھا۔
“ڈیڈ بھی تو لڑکے ہیں اور بھائی بھی…!” وہ حاتم کی دیوانی،اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ پا رہی تھی۔
کل رات بھی وہ حاتم سے سخت ناراض تھی لیکن اس کے ایک بار سوری کہنے پر وہ فورا مان گئی تھی۔وہ اپنے
بین کو جھکتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔
“ان سے تو آپ کا خون کا رشتہ ہے نا!مگر حاتم صاحب سے تو آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔”مانو کو شدید مایوسی ہوئی تھی۔
“مطلب میں ساری زندگی صرف ڈیڈ اور بھائی کے ساتھ ہی رہوں گی،بین کے ساتھ نہیں…”اس کا منہ بن گیا تھا۔
“نہیں!آپ ساری زندگی یہاں تھوڑی رہے گی۔جب آپ بڑی ہو جائے گئی تو پھر آپ کی شادی ہو جائے گی اور آپ اپنے شوہر کے ساتھ رہے گی۔”ملازمہ نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ہی کہہ دیا تھا جبکہ مانو کی چھوٹی آنکھیں
چمک اٹھی تھیں۔
“شادی کیسے ہوتی ہے؟”اس نے بلاتوقف اگلا سوال پوچھا تھا۔
“تین بار ‘قبول ہے’ بولنے سے ہو جاتی ہے اور پھر پیپر پر سائن کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔”ملازمہ نے اس کی عقل
کے مطابق ہی جواب دیا تھا۔ مانو کے لب مسکرا اٹھے تھے۔

وہ ضد کر کے شام کے وقت قریبی پارک گئی تھی۔کیونکہ صوفی سے اسے یہی معلوم ہوا تھا کہ حاتم اور وہ شام کو پارک جاتے ہیں۔ پارک میں حاتم کو دیکھ کر وہ ڈورتی
ہوئی اس تک گئی تھی۔وہ بینچ پر بیٹھا فون استعمال کر رہا تھا۔اس نے ایک سرسری نظر سامنے موجود آفت پر ڈالی تھی۔اس کے بعد وہ دوبارہ موبائل پر مصروف ہو گیا تھا۔
وہ ڈھٹائی سے بالکل اس کے قریب بیٹھی تھی۔حاتم نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کی مسلسل چھبتی نگاہوں سے وہ جھنجھلا اٹھا تھا۔
“دیکھو ٹڈی!میرا دماغ اس وقت بہت گرم ہے۔مجھے بہت غصہ آیا ہوا ہے۔ اس سے پہلے کہ سارا غصہ تم پر نکل جائے،چپ چاپ نو دو گیارہ ہو جاؤ۔”آج ان کا رزلٹ تھا۔اور صوفی کے مارکس ہمیشہ کی طرح بہت اچھے آئے تھے۔مارکس تو حاتم کے بھی اچھے آئے تھے مگر صوفی کے مقابلے بہت کم تھے۔جس وجہ سے اس کی آج اچھی خاصی کلاس لگی تھی۔
“تم نکال لو اپنا سارا غصہ مجھ پر،چاہو تو مار بھی سکتے ہو۔”حاتم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔مانو کے چہرے پر
بلا کی سنجیدگی تھی۔وہ جو کسی کا خود سے اونچا بولنا تک برداشت نہیں کر سکتی تھی،اج حاتم کے ہاتھوں مار
کھانے کو بھی تیار تھی۔مانو کی بات سن کر وہ نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا تھا۔ اسے ہنستا دیکھ مانو کی جان میں جان آئی تھی۔
“ایک بات پوچھوں تم سے…؟”وہ پرجوش ہوئی تھی۔
“پوچھو…؟”وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ بلا اتنی آسانی سے ٹلنے والی نہیں تھی۔
“کیا تم سچ میں پڑھے لکھے نہیں ہو؟”حاتم نے بےبسی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“پڑھا لکھا ہوں میں…”اس نے چڑ کر جواب دیا تھا۔انکار کی صورت میں وہ ایک نئی کہانی کھول کر بیٹھ جاتی۔حاتم اس وقت کسی بھی بحث کے موڈ میں نہیں تھا۔
“شکر!یہ تو پڑھ دو پلیز!”مانو نے اسے اپنی فراک کی جیب سے کاغذ نکال کر تھمایا تھا۔حاتم نے ناگواری سے وہ کاغذ تھاما تھا۔ایسے تو وہ اس کی جان چھوڑنے والی نہیں تھی۔
“قبول ہے….
قبول ہے….
قبول ہے….”
اس نے بغیر سوچے سمجھے ہی لکھی گئی تحریر پڑھ دی تھی۔
“مجھے بھی…!”انگلی دانتوں تلے دیے مانو نے شرما کر کہا تھا۔
“کیا بکواس ہے یہ…؟”حاتم کے سر پر معنوں پورا آسمان کی گرا تھا۔وہ غصے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“ہماری شادی…!”
“Shut up!”
اس کی دھاڑ پر مانو سہم گئی تھی۔”اپنی عمر دیکھو اور اپنی حرکتیں دیکھو!تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہو گی نا تب بھی حاتم خانزادہ تم سے شادی نہیں کرے گا۔”اس کے
کہے الفاظ تو مانو کے سر پر سے گزرے تھے مگر اس کا لہجہ…وہ اسے رونے پر مجبور کر گیا تھا۔انکھوں میں موٹے موٹے آنسو لے کر وہ وہاں سے بھاگی تھی۔ اس کے جانے کے بعد حاتم نے ایک نگاہ اس کاغذ پر ڈالی تھی۔وہ بچوں کی
ہینڈرائیٹنگ تھی۔
“نام لکھنا اور بولنا آتا نہیں ہے اور چلی ہے شادی کرنے…؟”اس نے کاغذ کو ہاتھ سے مڑوڑا تھا۔
“کہیں ایسے نکاح ہو تو نہیں جاتا؟”اس کے دماغ نے اسے فورا لال سگنل دیا تھا۔
“نہیں!نہیں…!”اپنا سر جھٹکتے اس نے لاشعوری میں وہ کاغذ پھینکنے کے بجائے اپنی جیب میں رکھا تھا۔
قسط نمبر