93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 50)

50
“دماغ خراب مت کرو پاگل لڑکی!”الیکس نے غصے سے اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیے تھے جبکہ ماہم ابھی بھی اپنا گلہ پکڑے بری طرح کھانس رہی تھی۔
“پاگل کسے کہا تم نے….؟تم بےغیرتوں نے مجھے پاگل کیا۔مجھے غلط دوائی دی۔سب جان گئی ہوں میں،سب کچھ….”الیکس اور ماہم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔
“میری ماں کے قاتل ہو تم لوگ،اتنے سالوں تک مجھے بیواقوف بناتے آئے ہو۔میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں….”وہ الیکس کی گرفت میں بری طرح مچلی تھی۔وانیہ کا بس چلتا تو وہ ماہم کو زمین میں ہی گاڑھ دیتی۔
“الیکس…..”ماہم نے اسے اشارہ کیا تھا۔اس کا اشارہ سمجھتے الیکس نے وانیہ کی گردن پر ہاتھ رکھے مخصوص نس دبائی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
تقریبا دو گھنٹے بعد وانیہ کو ہوش آیا تھا۔اس نے اپنا آپ کمرے کے فرش پر گرا پایا تھا۔وہ بامشکل اٹھ کر بیٹھی تھی۔ابھی اس نے کھڑے ہونے کی کوشش ہی کی تھی کہ اسے اپنا وجود کھینچتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
اس کی نظروں نے اپنے پیروں تک کا سفر کیا تھا،وہاں بیڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔وانیہ نے اپنے ہاتھ وہاں لے جانے کی کوشش کی تھی مگر اس کے دونوں ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔
“خوش آمدید گڑیا!ایک نئی زندگی مبارک ہو۔”اس کے کانوں سے نسوانی آواز ٹکرائی تھی۔وانیہ نے اس آواز کی پیروی کرتے سامنے دیکھا تھا۔منظر دھندلا تھا مگر ہیل کی ٹک ٹک کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی۔
اس شخصیت کے قریب آتے منظر بھی بالکل صاف ہوا تھا۔وہ ماہم تھی،لمبے کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے،بالوں کو پونی ٹیل میں جکڑے اور ہونٹوں پر گہری لال لپسٹک لگائے….
اسے دیکھتے ہی وانیہ کا خون کھولنے لگا تھا۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر سب بےسود….ایسا کرنے کی کوشش میں وہ خود کو ہی نقصان پہنچا رہی تھی۔کیونکہ ان لوہے کی بیڑھیوں کا وزن بہت زیادہ تھا،وہ جتنی مزاحمت کرتی،اتنا ہی نقصان اٹھاتی….
“چچ….چچ….چچ….!کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنا…. ؟مجھے تو سوچ سوچ کر ترس آ رہا ہے کہ آگے کیا کیا سہنا ہے تمہیں….”ماہم نے مصنوعی افسوس سے کہا تھا۔وانیہ بغیر کچھ کہے برابر اسے گھور رہی تھی۔
“ویسے پتا کیسے چلا کہ وہ عورت میں تھی؟”ہاتھ باندھے ماہم نے دلچسبی سے استفسار کیا تھا۔
“مجھے یاد ہے،مجھے اچھے سے یاد ہے کہ وہ تم ہی تھی۔”وانیہ نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔
“اور تم جانتی ہو کہ تمہیں سب کیوں یاد ہے؟”ماہم دو قدم چلتی اس کے قریب آئی تھی۔اس نے اب نفرت سے وانیہ کے بال نوچے تھے۔وہ کراہ اٹھی تھی۔
“وہ اس لیے پیاری بھتیجی کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے میں نے تمہیں کسی قسم کی کوئی غلط دوائی نہیں دی۔اور میں نے یہ اس لیے کیا کیونکہ تم سے مجھے بہت کام ہیں اور ان کاموں کو کرنے کے لیے تمہارا ٹھیک ہونا بےحد ضروری تھا۔”ماہم نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے تھے۔وانیہ کا سر بیڈ سے ٹکرایا تھا۔اس کے سر سے خون کی ایک لکیر نمودار ہوئی تھی۔
ماہم نے اس کا سر پکڑے اس کے ماتھے پر بےدردی سے ٹشو رگڑا تھا۔
“ابھی کسی قسم کا اٹیک میں افورڈ نہیں کر سکتی۔”ماہم نے وہ ٹشو دور ڈسٹ بین میں پھینکا تھا۔
“مجھ سے کیا چاہتی ہو؟”وانیہ لب بھینچے چلائی تھی۔
“بہت کام ہیں،وقت آنے پر پتا چل جائے گا۔”ماہم کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
“میرے ساتھ یہ سب کیوں کیا،میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا،ایک آٹھ سالہ بچی نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟کیوں مجھے پاگل پن کی دوائیاں دیں،کیوں مجھے کبھی وہ سب بھولنے نہیں دیا؟”بےبسی سے اسکی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“تمہارا یہ چہرہ….سارے فساد کی جڑ تمہارا یہ چہرہ ہے۔”ماہم نے اس کا منہ دبوچا تھا۔
“تمہارا یہ حسن،تمہاری ٹھوڑی کا یہ تل….ہو بہو اپنی ماں پر گئی ہو۔اس عورت پر جس سے سب سے زیادہ نفرت کی میں نے….”ماہم نے اس کا منہ چھوڑے اسے پڑے دکھیلا تھا۔
“ساری فساد کی جڑ وہی تو تھی۔اس کی وجہ سے میں نے اپنی محبت کھو دی۔دو بچوں کے بعد بھی کمبخت اتنی حسین اور جوان دکھتی تھی کہ سمیر اس پر بری طرح دل ہار بیٹھا۔سیم صرف میرا تھا۔میں نے اسے چاہا تھا مگر تمہاری ماں….اس نے اسے مجھ سے چھین لیا۔”وہ چلائی تھی۔وانیہ ناسمجھی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔
آخر کون تھا یہ سمیر….؟اس کے باپ کا نام تو مصطفی تھا تو پھر ماہم کس کے بارے میں بات کر رہی تھی؟؟
“لیکن دیکھو کیا انجام ہوا اس نینا کا….”ماہم نے قہقہ لگایا تھا۔
“نا صرف سمیر کے ہاتھوں گولی کھائی بلکہ مرتے وقت عزت بھی گنوا دی۔”وانیہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
“کون تھا وہ شخص….؟بتاؤ مجھے….باقی کے دو کون تھے؟ایک تو جیمز نامی شخص تھا تو دوسرا کون تھا؟؟بتاؤ مجھے کون تھا وہ….؟”وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔
“آہستہ بولو!کان کے پردے پھاڑو گی کیا….؟ابھی ضروری کام سے باہر جانا ہے مجھے….آ کر بات کرتے ہیں۔تب تک تم انجوائے کرو۔”ایک تیکھی مسکراہٹ اس کی جانب اچھالے وہ واپس پلٹی تھی۔
“بتاؤ مجھے کون ہے وہ….؟”وہ اس قید میں مسلسل پھڑپھڑا رہی تھی مگر ساری کوششیں بےکار تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعے کے وقت ساری مسجد لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔سفید کرتے میں سادے سے حلیے میں ملبوس دو شخص مسجد کے اندر داخل ہوئے تھے۔نائل اور ڈیوڈ نے ساتھ میں نماز ادا کی تھی۔نائل کچھ عجیب سا محسوس کر رہا تھا۔اصولا پہلے ڈیوڈ کو اسلام قبول کرنا چاہیئے تھا پھر نماز ادا….اس کا دل خدشات میں گھرا ہوا تھا مگر اس نے پھر بھی اپنے ہر غلط خیال کی تردید کی تھی۔اس نے حاتم پر بھروسہ کیا تھا مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ سامنے موجود شخص اب حاتم نہیں رہا،وہ ڈیوڈ ہے۔
جمعے کی نماز پڑھنے کے بعد ابھی صرف دو منٹ ہی گزرے تھے کہ ہر طرف فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی۔
ہر طرف بھگ در مچ گئی تھی۔ڈیوڈ تو باآسانی اپنے بندوں کے زیر نگرانی وہاں سے نکل گیا تھا مگر نائل….اسے جب تک ساری صورت حال سمجھ آئی تھی،تب تک وہاں لاشیں بھیچ چکی تھیں۔مسجد کی در دیوار نمازیوں کے خون سے رنگیں جا چکی تھی۔نائل کے پاس اس وقت نا کوئی گن تھی اور نا ہی موبائل…..ڈیوڈ نے اسے شدید قسم کا دھچکا دیا تھا۔وہ اسے ایک ایسا سبق پڑھا گیا تھا جسے نائل ساری زندگی نہیں بھول سکتا تھا۔
فائرنگ اب بھی جاری تھی۔چند نقاب پوش لوگ مسجد کے ستونوں کے پیچھے سے دھرا دھر فائرنگ کر رہے تھے۔لوگ باہر جانے کے لیے جیسے ہی سربراہی دروازے کی جانب بھاگتے،ان کا سارا وجود گولیوں سے بھون دیا جاتا۔نائل کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا تھا۔یہ ساری کاروائی صرف سات منٹ کے اندر اندر ہوئی تھی۔پولیس کے وہاں تک پہنچتے یا کسی بھی قسم کے ردعمل سے پہلے ہی وہ نقاب پوش لوگ وہاں سے بھاگ چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیوڈ نے جو جھٹکا نائل کو دیا تھا،وہ چاہ کر بھی اسے بھول نہیں پا رہا تھا۔
“نائل سنبھالو خود کو….”محسن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دی تھی۔
“میں اسے چھوڑوں گا نہیں….میں اسے جان سے مار دوں گا۔”اس کی آنکھوں میں سرخی نمودار ہوئی تھی۔
“میں خود کو اس ملک کا محافظ کہتا ہوں اور آج اتنے سارے لوگوں کا قاتل بن گیا۔”اس کی آواز سے بےبسی صاف چھلک رہی تھی۔
“میں خود کو کیسے معاف کروں گا محسن….؟”اس کی آنکھیں متورم تھیں جبکہ لہجہ شکست خور تھا۔
“تمہارا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔”وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تو پھر کس کا قصور ہے؟میں نے کیوں اس پر اعتبار کیا؟”وہ مسلسل خود کو ہی ملامت کر رہا تھا۔
“نائل!تم اسے وہاں نا بھی لے کر جاتے تب بھی اس نے یہی کرنا تھا۔”محسن بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔یہ سب تو پہلے سے ہی پلینڈ تھا۔
“لیکن اس سب کا باعث میں بنا،اس نے یہ جان کر کیا۔”اس سے پہلے کہ ان دونوں کے درمیان مزید کوئی بات ہوتی،نائل کا فون بجا تھا۔
ڈیوڈ کا نمبر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں لہو اترا تھا۔نائل نے لب بھینچے فون اٹھایا تھا۔
“کیسا لگا سرپرائیز سالے صاحب؟”اس کا لہجہ تمسخرانہ تھا۔نائل نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“امید کرتا ہوں کہ یہ سبق ساری زندگی نہیں بھولیں گے آپ….”صوفے پر شاہانہ انداز میں لیٹے اس نے سلگار کا کش بھرتے نائل کا مذاق اڑایا تھا۔
“آپ کو کیا لگا تھا کہ یہ جھوٹی فائلز مجھے دکھا کر آپ میرا بھروسہ جیت لے گے؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جو سب سمجھ نا سکوں۔”نائل کے ڈیوڈ کو فائل دینے سے پہلے ہی بدر اسے سب کچھ بتا اور سمجھا چکا تھا۔اس کے ذہن میں اس قدر زہر بھر دیا گیا تھا کہ اسے نائل کی ہر بات اور ہر ثبوت ہی جھوٹا معلوم ہوتا تھا۔
“تمہیں پتا ہے حاتم!ایک دن تم بہت پچھتاؤ گے،بہت زیادہ…..”نائل بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“پچھتانے کی باری میری نہیں اب آپ کی ہے۔”
“جن لوگوں نے تمہیں اتنا ٹارچر کیا،تم انہی کا ساتھ دے رہے ہو؟”نائل نے چڑ کر کہا تھا۔
“انہوں نے میرے خاندان کو نہیں مارا،انہوں نے میری بہن کو نہیں مارا….ان لوگوں تک میں صرف آپ کی وجہ سے پہنچا تھا۔اور ویسے بھی اس عمل سے تو سب گزرتے ہیں۔اس وقت میں گزرا تھا تو آج نجانے کتنے نوجوان گزر رہے ہیں۔یہ سب ضروری تھا،خود کو مضبوط کرنے کے لیے بےحد ضروری….”نائل نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔
وہ اسے نہیں سمجھا سکتا تھا۔
“میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا تو تم بھی میرے ساتھ غلط کرو نا….تم کیوں معصوم لوگوں کی جان لے رہے ہو؟”
“معصوم تو کوئی بھی نہیں ہے سالے صاحب!اور ویسے بھی اپنی تسکین کے لیے کسی کو مارنا غلط نہیں ہے۔لوگوں کی چیخ و پکار،یہ خون خرابہ مجھے سکون دیتا ہے۔اور بلیک مونسٹر اپنے سکون کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ویسے میرا ارادہ بم بلاسٹ کرنے کا تھا مگر مسجد میں اس تعداد میں لوگ موجود نہیں تھے بس اسی لیے ارادہ بدل دیا۔”
“ایک پل کے لیے سوچو اگر اس جگہ تمہارا عزیز ہوتا پھر….؟”
“میں وہ کیوں سوچوں جو ممکن ہی نہیں ہے۔میرے سارے عزیز تو ویسے ہی مر چکے ہیں اب کسی اور کے مرنے اور جینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”سفاکیت کی انتہا تھی۔
“اللہ بہت جلد تمہیں سب دکھائے گا۔”نائل اس وقت شدید صدمے کی حالت میں تھا جس وجہ سے اس کا دماغ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔
“بس جب خود سے کچھ نہیں ہوتا تو بددعائیں دینا شروع ہو جاتے ہیں آپ مسلمان….”ڈیوڈ نے ہنکارا بھرتے تمسخر اڑایا تھا۔
“تم بھی مسلمان تھے۔”
“تھا ہوں نہیں…..جو حق تھا میں نے اسے چن لیا۔”نائل اس سے مزید بحث نہیں کر سکتا تھا لہذا اس نے فورا ہی کال کاٹ دی تھی۔دوسری طرف ڈیوڈ کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
نائل کبھی بھی ڈیوڈ تک نہیں پہنچ سکتا تھا،نا تو اس کے پاس اتنی طاقت تھی اور نا ہی کوئی ثبوت…..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ نجانے کتنے گھنٹے وہاں بیٹھی اپنی قسمت پر اشق بہاتی رہی تھی پھر اچانک ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی۔ماہم کو اندر آتے دیکھ وانیہ نے ناگواری سے منہ پھیرا تھا۔
“کھانا کھا لو۔”ماہم نے اس کے سامنے پلیٹ رکھی تھی۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے…..”اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے ایک نظر ماہم کو تو دوسری نظر اس پلیٹ کو دیکھا تھا۔
“تمہارا خیال ہے کہ میں تمہیں مرنے دوں گی؟ہر گز نہیں میری پیاری بھتیجی….ابھی تو تم سے بہت سارے کام نکلوانے ہیں۔بہت سارے اکاؤنٹس ہیں جو تمہیں ہیک کرنے ہیں اور وہ زہر بلکہ ہر قسم کا زہر بنا کر دو گی تم مجھے….”
“تمہاری سوچ ہے۔”وانیہ نے اس کی بات مذاق میں اڑائی تھی۔
“یہ تو وقت بتائے گا میری جان!”ماہم نے آگے بڑھ کر اس کا گال تھتھپایا تھا۔
“ویسے بہتر ہے کہ چپ چاپ میری بات مان لو ورنہ بہت زیادہ تکلیف ہو گی تمہیں….”
“جو کرنا ہے کر لو،میں نہیں ڈرتی تم سے…..اور ایک بات اپنے دماغ میں بٹھا لو،میں وانیہ آفندی ہوں۔تم مجھے قید نہیں کر سکتی۔میں بہت جلد فرار ہو جاؤں گی۔”ماہم تو اس کے اعتماد کو سراہے بنا نا رہ سکی تھی۔
“ویسے ترس آتا ہے مجھے تم پر….اگر بھائی کو یہ سب پتا چل گیا تو کیا حشر کریں گے وہ تمہارا….؟”ماہم کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔نائل اس کے ساتھ کیا کیا کر سکتا تھا یہ وہ بخوبی جانتی تھی۔
“ہر دو گھنٹے بعد کال آتی ہے تمہارے بھائی کی،تمہاری خیریت پوچھنے کے لیے….”وانیہ نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔
“بات کرنا چاہتا ہے وہ تم سے لیکن میں ہمیشہ ہی منع کر دیتی ہوں۔جانتی ہو میں اسے کیا وجہ بتاتی ہوں؟”جہاں ماہم کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ تھی وہیں وانیہ کی آنکھوں میں بےیقینی…..
“یہی کہ تم اس سے بات نہیں کرنا چاہتی یہاں تک کہ اس کا نام بھی نہیں سننا چاہتی۔اور جب جب میں تمہارے سامنے نائل کا ذکر کرتی ہوں تو تمہاری حالت خراب ہو جاتی ہے۔بس اسی لیے وہ بیچارا نا تو تمہیں کال کرتا ہے اور نا ہی یہاں تم سے ملنے آتا ہے۔”وانیہ کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔
“میں تمہاری جان لے لوں گی۔”وہ اس قید میں ایک بار پھر مچلی تھی۔
اس نے کیسے سوچ لیا تھا کہ اس پر جان چھڑکنے والا بھائی اسے ایسے ہی چھوڑ سکتا تھا؟
“وہ تو ابھی بھی تڑپتا ہے تمہارے لیے….پتا ہے مجھے کیا کہتا ہے؟وہ کہتا ہے کہ مجھے وانیہ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔میں نے اسے کب کا معاف کر دیا۔بس آپ جلدی سے اسے میرے پاس لے آئیں۔”وانیہ کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔
“میں نے اسے یقین دلایا ہے کہ تمہاری دماغی حالت بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس سب کی وجہ غلط ادویات کا استعمال ہے جو تم نجانے کتنے سالوں سے محض اپنے بھائی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کھا رہی ہو۔”
“ایک بار کھول دو مجھے….تمہیں تو میں جان سے مار دوں گی۔”وانیہ نے نم آواز سے کہا تھا۔
“آج کے لیے اتنا ہی بہت ہے۔اب اگلا انکشاف کل…..”ہاتھ جھاڑتے وہ کمرے سے باہر گئی تھی۔
وانیہ اپنی بےبسی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔