Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 37)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 37)
وانیہ کی آنکھ صبح تقریبا دس بجے کھلی تھی۔اٹھتے ساتھ ہی اس کے لبوں کو دلفریب مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
یہ مسکراہٹ کیوں اس کے لبوں پر نمودار ہوئی تھی یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
“اتنے مزے کی نیند تو آج سے پہلے کبھی نہیں آئی۔”وانیہ نے انگڑائی لیتے کہا تھا۔
ڈیوڈ ابھی یہاں ہوتا تو بیچارا صدمے سے بیہوش ہی ہو جاتا۔ساری رات اس کی ناک میں دم کر کے وہ کہہ رہی تھی کہ نیند تو بہت مزے کی آئی ہے۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ دبے پاؤں لاؤنچ میں داخل ہوئی تھی۔نا تو ماہم وہاں تھی اور نا ہی نائل…وانیہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
ابھی وہ پلٹی ہی تھی کہ نائل کو سامنے دیکھ اس کا سانس ہی رک گیا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ گھر کیسے پہنچی مگر اتنا ضرور جانتی کہ نائل ہی یقینا اسے کسی نا کسی طرح ڈھونڈھ کر لایا ہو گا۔
“پھوپھو سے بات ہو گئی ہے میری…آپ بھی سامان پیک کر لیں اپنا…ایک ہفتے بعد کی فلائٹ ہے۔ آپ اور پھوپھو لندن جا رہے ہیں۔”وانیہ کے سر پر بم گرا کر نائل نے اپنی راہ لی تھی۔وانیہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے اپنی چھوٹی سی غلطی کی اتنی بڑی سزا ملے گی۔
“میں پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔”اس نے خود کو باور کروایا تھا۔یہاں اس کا مکمل سیٹ اپ تھا۔وہ اسطرح ہر چیز کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔
وانیہ تیزی سے ماہم کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔نائل تو کبھی راضی نہیں ہو گا مگر ماہم…وہ اسے اپنی ایکٹینگ کے جوہر دکھا کر ضرور اپنی بات منوا سکتی تھی۔
وانیہ نے تین بار دروازہ ناک کیا تھا مگر اندر سے جواب نہیں آیا تھا لہذا وہ دروازے کا ناب گھمائے اندر داخل ہوئی تھی۔کمرے میں داخل ہوتے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔بستر پر جگہ جگہ تصویریں بکھری پڑی تھیں۔وانیہ قدم قدم چلتی بستر تک گئی تھی۔اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر ایک تصویر اٹھائی تھی۔
“مام…ڈیڈ…”اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
نینا کو تو وہ پہچان گئی تھی۔اس نے یہ تصویر پہلے بھی دیکھی تھی مگر ساتھ موجود شخص کو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔یقینا وہ اس کے والد تھے۔
بستر پر بیٹھتے اس نے ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری تصویر اٹھائی تھی۔اس کی آنکھیں بیگھنے لگی تھیں۔
ان تصویروں کو سائیڈ پر رکھے اب اس نے ایل بم اٹھایا تھا۔اب وہ بڑے اشتیاق سے تصویروں کو دیکھ رہی تھی۔وہاں پر اس کی اور نائل کی بھی بہت سی تصویریں تھیں۔اس سے پہلے کہ وہ اگلا پنا الٹتی،ایک تصویر نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
وہ تصویر اوپر سے پھٹی ہوئی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اسے جان کر پھاڑا گیا تھا۔اس تصویر میں دو لوگ تھے۔ایک بچی جو کہ وانیہ تھی اور اس کے ساتھ ایک اور لڑکی جس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔اس کے چہرے تک کے حصے کو پھاڑا گیا تھا۔
وانیہ نے ایل بم سے وہ تصویر نکالی تھی۔
تصویر نکالتے ہی زمین پر کچھ گرنے کی آواز آئی تھی۔وانیہ کے قدموں کے پاس کچھ گرا تھا۔اس نے جھک کر وہ چیز اٹھائی تھی۔وہ ایک نہایت خوبصورت طرز کا لاکٹ تھا۔
“نین عمر…”وانیہ کے لب ہلے تھے۔اس لاکٹ پر یہی لکھا ہوا تھا۔
“عمر….؟یہ عمر کون ہے؟؟”اگر نینا اس کی ماں تھی تو پھر یہ عمر کون تھا؟
وانیہ گہری سوچ میں پڑ گئی تھی۔اس کے والد کا نام تو عمر نہیں تھا پھر یہ نین کے ساتھ عمر کیوں لکھا تھا…؟؟
اس لاکٹ کو ہاتھ میں دبوچے وہ فورا کمرے سے باہر گئی تھی۔
کہانی سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گئی تھی۔اگر نینا اس کی ماں تھی تو وہ ہر گز کسی غیر کا نام اپنی ماں کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی تھی اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ یہ لاکٹ ماہم کے کمرے سے برآمد ہوا تھا۔
آج صوفی اور عبداللہ کا نکاح تھا۔نکاح بہت سادگی سے رکھا گیا تھا۔نکاح سے پہلے عبداللہ نے صوفی سے اکیلے میں ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔مصطفی کا ماتھا ٹھنکا تھا مگر وہ سب کے سامنے اپنے بیٹے کو کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔
نکاح کا اہتمام لاؤنچ میں کیا گیا تھا جبکہ وہ دونوں بات کرنے باہر لان میں آئے تھے۔باہر رکھی کرسیوں پر بیٹھتے کچھ دیر تک دونوں ہی خاموش ہوئے تھے۔
“اس نکاح میں میری مرضی شامل نہیں ہے۔”عبداللہ نے بات کا آغاز کیا تھا۔
“میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا۔تم میری آئیڈیل نہیں ہو۔چاہو تو نکاح سے انکار کر دو۔”وہ اپنی کہہ کر خاموش ہوا تھا۔ہاتھوں کو آپس میں مس کرتے وہ نظریں جھکائے ہوئے تھے۔زبان نے ایک حرف بھی ادا نہیں کیا تھا۔
“تم کچھ کہو گی نہیں…؟؟”اس بات پر تو اس کا ردعمل بنتا تھا بلکہ بہت شدید ردعمل بنتا تھا۔
“جو بھی آپ کی آئیڈیل ہو آپ اس سے نکاح کر سکتے ہیں لیکن پلیز مجھ سے بھی کر لیں۔”کچھ ثانیوں بعد جب وہ بولی تھی تو عبداللہ کے پیروں تلے تو معنوں زمین ہی کھسک گئی تھی۔
“میں پڑھنا چاہتی ہوں۔مجھے ڈاکٹر بننا ہے۔اگر میں آپ سے نکاح نہیں کرو گی تو ڈیڈ مجھے آگے پڑھنے نہیں دے گے۔”صوفی کی آواز بھرا گئی تھی۔
“تم مجھ سے اس لیے نکاح پر راضی ہوئی ہو کیونکہ تم آگے پڑھنا چاہتی ہو؟”صوفی کے اثبات میں سر ہلانے پر عبداللہ کو جیسے صدمہ پہنچا تھا۔
“تم میں عقل نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں…؟دیکھو میں تمہیں پسند نہیں کرتا۔ہم دونوں کی زندگی برباد ہو جائے گی۔تم انکار کر دو۔”
“آپ مرد ہو کر اتنے مجبور ہیں تو سوچیں پھر میں کتنی مجبور ہوں گی…”نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔
“نکاح کے بعد مجھ سے کوئی اچھی امید مت رکھنا۔”وہ غصے سے اٹھ کر وہاں سے گیا تھا۔
اس کے جانے کے بعد صوفی کے لبوں سے ایک سسکی نکلی تھی۔آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر ہاتھ کی پشت پر گرا تھا۔شادی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہوتی۔
وہ تو نجانے کب سے اس کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔وہ تو اپنا آپ کب کا اس کے نام کر چکی تھی اور ایک وہ سنگدل تھا جو ایک ہی لمحے میں اس رشتے اور اس کے جذبات کے پرخچے اڑا گیا تھا۔
عبداللہ نے اپنے نکاح میں اسفند کو بھی انوائیٹ کیا تھا۔مانو کی اسفند سے بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔اپنے بھائی کے دوست کو وہ کیسے ناپسند کر سکتی تھی۔وہ اسے مختلف ٹرکس دکھا کر اچھا خاصا متاثر کر چکا تھا۔اسفند کو اپنے دوست کی سوچ پر افسوس بھی ہوا تھا کیونکہ مانو تو صرف ایک چھوٹی سی بچی تھی اور وہ بھی اسے ایک بچی کی طرح ہی ٹریٹ کر رہا تھا۔
اسفند نے اب مانو کو چاکلیٹس دی تھیں جنہیں وہ مزے سے کھا رہی تھی۔دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ خوش کھڑے تھے مگر کوئی تھا جو انہیں حسد کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا،وہ حاتم تھا۔
اب اس کی برداشت کی حد پار ہوئی تھی۔آخر کیسے مانو کسی انجان کے ساتھ اتنا فری ہو سکتی تھی۔
“مانو چلو تمہیں آنٹی بلا رہی ہیں۔”وہاں پہنچتے ہی حاتم نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔ہاتھ پکڑنے کے بعد نا اس نے آؤ دیکھا تھا اور نا تاؤ…وہ سیدھا باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“شرم نہیں آتی تمہیں اس کے ساتھ اتنا فری ہوتے ہوئے….؟تمہارے مامے کا بیٹا ہے جو تم اتنا ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی؟”حاتم نے مانو کا ہاتھ جھٹکے غصے سے پوچھا تھا۔
وہ کچھ عجیب سا محسوس کر رہا تھا،شاید جلن…وہ مانو کے لیے کوئی احساسات نہیں رکھتا تھا اور نا ہی اس کی اتنی عمر تھی کہ وہ یہ سب سوچے…مگر وہ اچھے دوست تھے۔وہ یہ رقابت داری حاتم کی برداشت سے باہر تھی۔
“تم مجھے ڈانٹ کیوں رہے ہو بین؟”مانو کی آنکھیں ڈبڈبائی تھیں۔وہ اس رویے کی عادی نہیں تھی۔
“میں…”سارے الفاظ ختم ہوئے تھے۔وہ خود بھی کچھ نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
“تم اچھے بین نہیں ہو۔”اس کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔
“اچھا اچھا!تم رو تو نہیں…!”حاتم فورا گھبرا گیا تھا۔
“تم نے مجھے کبھی چاکلیٹس بھی نہیں لا کر دیں۔”اس کی شکایتوں کا پٹارا کھل چکا تھا۔
“میں کل لا کر دے دوں گا۔”حاتم اس کے چہرے کے آنسوؤں کو دیکھ کر بوکھلا گیا تھا۔اگر کوئی اسے اس طرح روتا دیکھ لیتا تو حاتم سے اس کے رونے کی وجہ پوچھتا اور اس بیچارے کے پاس تو کوئی جواب ہی نہیں تھا۔
“نہیں مجھے چاکلیٹس نہیں چاہیئے۔”آنکھیں ابھی بھی نم تھیں۔
“اچھا ٹھیک ہے۔تم مجھے بتا دو کہ تمہیں کیا چاہیئے میں تمہیں وہ لا دوں گا۔”حاتم نے بات سنبھالنے کی کوشش کی تھی۔زیادہ سے زیادہ وہ کس چیز کی فرمائش کرے گی…؟بسکٹ،کھلونے،کوئی بیکری ایٹم یا پھر کچھ ایسا ہی….مگر مانو کی فرمائش پر حاتم کے سر پر نا صرف آسمان گرا تھا بلکہ اس کے قدموں سے زمین بھی نکل گئی تھی۔
“مجھے کاکروچ چاہیئے۔وہ بھی پورے پانچ…”مانو نے انگلیوں کی مدد سے اسے بتایا تھا۔
“کک…کاکروچ….؟”حاتم بیچارے کو تو سانس بھی مشکل آئی تھی۔
“ہاں….”مانو نے حتمی فیصلہ سنایا تھا۔
“تم مذاق کر رہی ہو نا…؟”حاتم کے تو پسینے ہی چھوٹ گئے تھے۔وہ تو خود کاکروچ سے اتنا ڈرتا تھا تو پھر وہ تو صرف آٹھ سال کی تھی۔
“نہیں….!”مانو نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“تمہیں کاکروچ چاہیئے کیوں….؟”
“میں انہیں ایک ڈبے میں بند کر دوں گی جہاں پر پہلے سے 45 کاکروچ رکھے ہیں میں نے….”حاتم بیچارا زمین پر گرا تھا۔صدمہ،حیرانگی،بےیقینی…کیا نہیں تھا اس کے نظروں میں…
“میں ابھی جا کر بتاتا ہوں آنٹی کو کہ ان کی بیٹی کیا کارنامے انجام دیتی پھر رہی ہے۔”وہ عہد کرتا اٹھا تھا۔یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔وہ صرف آٹھ سال کی تھی۔اس قسم کے شوق اس عمر میں بالکل قابل قبول نہیں تھے۔
“میں مذاق کر رہی تھی بین!مجھے کاکروچ سے بہت ڈر لگتا ہے۔مجھے نہیں چاہیئے۔”وہ پل میں مکر گئی تھی۔
“تم سچ کہہ رہی ہو؟”مانو نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔حاتم کی جان میں جان آئی تھی۔
اس نے مانو کی بات پر فورا یقین کر لیا تھا کیونکہ کاکروچ پالنے کا مشغلہ اس کا دماغ قبول نہیں کر پایا تھا۔
