Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 58)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 58)
“میرے پاس نہیں ہے کہیں گما دیا میں نے….”
“تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو۔تم نے میری دی ہوئی چیز گما دی۔”وہ مشتعل ہوا تھا۔
“جان کر نہیں کیا میں نے،اور ویسے تم نے بھی میرے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں کیا۔یہ چوری چھپے مجھے تحائف اور خطوط بھیجتے رہے اور خود ایک بار بھی میرے سامنے نہیں آئے۔کیا میرا حق نہیں بنتا تھا کہ میں دیکھ سکوں،آخر میرا شوہر دکھتا کیسے ہے؟”وہ روانی میں بول گئی تھی جبکہ حاتم کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔
“شوہر…..؟تم کب سے جانتی ہو یہ….؟”اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔کاش کہ وہ کہہ دے مجھے سب یاد ہے،ہر ایک چیز،ہر ایک پل…..
“میں نے بھائی کی باتیں سن لی تھیں۔”حاتم کے چہرے پر مایوسی چھائی تھی۔
“اچھا…..”وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“ویسے تمہارا نام کیا ہے،میرا مطلب اصل نام….؟”
“میرا نام…..”حاتم نے اس کی کلائی پکڑے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔نین بوکھلا گئی تھی۔
“میرا نام عمر ہے۔”اس کا دودھیا ملائم ہاتھ اپنے سینے پر رکھے حاتم نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
اس کے اتنا پاس آنے پر نین کا چہرہ سرخ اناری ہوا تھا۔
“میں نے تمہارے لیے ایک بہت اچھا نام سوچا ہے۔”چھوٹی سی عینین نے چہکتے ہوئے حاتم کو بتایا تھا۔
“کیا نام سوچا ہے؟”اس نے بیزاری سے پوچھا تھا۔یقینا اب بھی کسی کارٹون کا نام ہی سوچا ہو گا۔
“عمر…..”
“ہیں!عمر…..؟عمر کیوں…..؟”
“مام کہتی ہیں حضرت عمر(رضی اللہ عنه)بہت بہادر تھے۔ان کا ایک رعب تھا۔مجھے وہ بہت اچھے لگتے ہیں۔مام یہ بھی کہتی ہیں کہ ہم ان جیسے نہیں بن سکتے مگر ہمیں انہیں فالو ضرور کرنا چاہیئے،اس لیے عمر…..”اس کی آدھی بات تو حاتم کے سر پر سے گزری تھی مگر وہ پھر بھی راضی ہو گیا تھا کیونکہ عمر بین سے بہت بہتر تھا۔
“ٹھیک ہے تم بلا سکتی ہو مجھے اس نام سے…..”اس نے گویا سر سے بلا ٹالی تھی۔
“اور تمہیں پتا ہے تمہارا نام کیا ہے؟”حاتم نے اس کا ہاتھ چھوڑے اسے شانوں سے تھاما تھا۔
“وانیہ….”وہ فورا بولی تھی۔
“نہیں تم نین ہو،عمر کی نین…..”اسے عمر نام صرف اس لیے پسند تھا کیونکہ یہ نام اس کی نین نے اسے دیا تھا۔
“تم دور رہ کر بات کیا کرو مجھ سے….”اپنا آپ اس کی گرفت سے آزاد کرواتے وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
“کیوں….؟”
“ٹھیک ہے ہمارا نکاح ہوا تھا مگر مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے۔یہ میرے لیے بےحد مشکل ہے۔”وہ صحیح کہہ رہی تھی۔اس رشتے کو قبول کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔
“میں جانتا ہوں اور تم بےفکر رہو میں تمہیں پورا وقت دوں گا۔”حاتم کے نرم لہجے پر نین کے سر سے جیسے ایک بوجھ اترا تھا۔
“اب جانے دو مجھے یہاں سے…..” گھوم پھر کر اس کی سوئی وہیں اڑی تھی۔
“کہاں جانا ہے تمہیں؟”
“میری دوست،وہ بہت پریشان ہو گی مجھے لے کر،ڈھونڈھ رہی ہو گی مجھے وہ۔”
“بھاڑ میں جھونکو ہر ایک چیز کو،اب تمہیں صرف میرے بارے میں سوچنا ہے۔”اب کی بار وہ اس کے پاس نہیں آیا تھا مگر اس کی آنکھوں کی حدت نین کو ایک بار کنفیوژ کر گئی تھی۔
“ناشتہ تو ٹھنڈا ہو گیا،دوبارہ بنواتا ہوں۔تم اپنے کمرے میں کر لینا،مجھے کچھ ضروری کام سے باہر جانا ہے۔”اس کی بات پر نین نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین رات کے وقت ٹیرس پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ حاتم اپنے کمرے کی کھڑکی پر کھڑے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔اچانک ہی اسے نائل کا خیال آیا تھا۔
اپنا موبائل اٹھائے اس نے نائل کو کال ملائی تھی۔
“کیسے ہیں سالے صاحب؟”
“کیوں فون کیا ہے؟”اس کے لہجے میں تھکاوٹ واضح تھی۔وہ ماہم اور عینین سے کانٹیکٹ کر کر کے تھک چکا تھا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔اس لیے اس نے بالآخر لندن جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
“آپ کو ہوش دلانے کے لیے،نین کی کوئی خبر ہے کہ آخر وہ ہے کہاں؟”
“بالکل خبر ہے،اور میری بہن کا نام نین نہیں وانیہ ہے۔”
“آپ پھر اپنی وانیہ کی خبر رکھیں،میری نین تو اس وقت میرے پاس ہے۔”نائل کو زبردست شاک لگا تھا۔
“بکواس کر رہے ہو تم،وانیہ لندن میں ہے۔”
“حیرت ہوتی ہے آپ کی بےخبری پر،وہ اپنی دوست کے ساتھ کب کی پاکستان آ چکی ہے۔اقبال پارک میں بم بلاسٹ والے دن نین وہاں موجود تھی۔اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو آپ جانتے ہیں کیا ہو سکتا تھا؟”نائل کے پیروں تلے زمین کھسک گئی تھی۔اس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔
“وانیہ تمہارے پاس ہے؟”کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بےیقینی سے گویا ہوا تھا۔
“آپ کی بہن میرے پاس ہے۔اب بتائیں کیا کروں میں اس کے ساتھ،گاڑی سے ہٹ کر دوں؟”
“بلکہ نہیں پہلے مجھے اسے اپنی محبت کے جال میں پھنسانا چاہیئے پھر جب وہ میرے عشق میں پاگل ہو جائے اور مجھ پر اندھا اعتبار کرنے لگ جائے تو مجھے اس کے اعتبار کا خون کر دینا چاہیئے،ہیں نا؟”
“نہیں نہیں!وہ بہت معصوم ہے حاتم بہت زیادہ،تم اسے نقصان نہیں پہنچاؤ گے۔”نائل کے لہجے میں بےبسی ہی بےبسی تھی۔وہ اکیلا نجانے کس کس محاذ پر تنہا لڑ رہا تھا۔
“مجھے میری بہن واپس چاہیئے حاتم۔”
“اگر وہ آپ کے پاس جانا چاہتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ ایک کام کرتے ہیں نین سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کیا چاہتی ہے۔”لبوں پر تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ حاتم نے فون کاٹ دیا تھا۔نائل ہیلو ہیلو ہی کرتا رہ گیا تھا۔
“کیا کر رہی ہے میری مسز؟”اپنے کان کے پاس پراسرار سرگوشی سے وہ ڈر کے اس کی جانب مڑی تھی۔
“تم نے ڈرا دیا مجھے…..”سنہری آنکھوں میں شکوہ تھا۔
“تمہیں ڈرانا میرا مقصد نہیں تھا۔ایک چھوٹا سا فیور چاہیئے تھا۔”نین نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“ایک لڑکی ہے،ہاتھ دھو کر پیچھے ہی پڑ گئی ہے۔میں نے تو بس اس کی تھوڑی سی مدد کی تھی مگر اب بار بار نمبر بدل بدل کر تنگ کر رہی ہے۔میں نے بتایا بھی کہ میں شادی شدہ ہوں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔”
“ایسے جیسے پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔میری بات کرواؤ میں دماغ درست کرتی ہوں اس کا….”وہ ایک ہی دن میں حاتم کو اپنا سب کچھ مان چکی تھی۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔میں اسے فون کرتا ہوں۔تمہیں بس مجھ سے کچھ محبت بھری باتیں کرنی ہیں۔خود ہی دماغ درست ہو جائے گا اس کا۔”وہ فورا راضی ہو گئی تھی۔حاتم نے نائل کو کال ملائی تھی۔
“میری نین مجھ سے محبت تو کرتی ہے نا؟”
“ظاہر سی بات ہے۔بہت کرتی ہوں۔”
“جانم!مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نا؟”
“ہر گز نہیں جانم!میں اپنے سرتاج کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔ہمارا جینا مرنا اب ساتھ ہے۔”نائل کے سارے الفاظ جیسے کہیں گم ہو گئے تھے۔
“اگر کوئی تم سے میرے خلاف بات کرے تو کیا یقین کر لو گی؟”
“ہر گز نہیں!عمر کے علاؤہ نین کسی پر اعتبار نہیں کرے گی۔”حاتم نے فورا کال کاٹ دی تھی۔
“Thank you Nain!”
“کوئی بات نہیں….”وہ مدھم سا مسکرا دی تھی۔
“مجھے نیند آ رہی ہے،میں سونے جا رہی ہوں۔تم بھی سو جانا۔”وہ کہتے ساتھ ہی وہاں سے گئی تھی۔
“ایک دن آئے گا نین جب تمہیں عمر کے سوا کچھ نہیں دکھے گا۔”گہری سانس خارج کرتے وہ زخمی سا مسکرایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات میں گہری نیند سو رہی تھی جب اچانک ہی نیند میں اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔
“جھاڑیوں کے پیچھے کیا ہوا تھا وانیہ؟”
“بھول گئی تمہاری ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟”
“بیچاری عزت گنوا دی نا اس نے اپنی…..”اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔
“جاؤ چلی جاؤ یہاں سے،چلی جاؤ۔”چادر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے وہ چیخنے لگی تھی۔
“کیا ہوا ہے میم؟”ملازمہ فورا اٹھ کر اس کے پاس آئی تھی۔
حاتم نے اسے رات میں اکیلا چھوڑنے سے منع کیا تھا۔
“میں نے نہیں مارا۔میں نے جان کر نہیں کیا۔مجھے چھوڑ دو۔مجھے جانے دو۔”بستر سے اٹھتے وہ اپنا سر تھامے پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر بھاگ رہی تھی۔
“چلی جاؤ یہاں سے،چلی جاؤ۔”اسے اپنے اطراف میں ہر جگہ ماہم نظر آ رہی تھی۔
اس کی حالت بگڑتے دیکھ ملازمہ بھاگ کر حاتم کو بلانے گئی تھی۔
“نین…..!”ملازمہ کے بلانے پر وہ بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں آیا تھا۔
“نین!کیا ہوا؟”حاتم نے اسے شانوں سے تھامے جھنجھوڑا تھا۔
“وہ دیکھو!وہ مجھ پر ہنس رہی ہے۔وہ مجھے پکڑ کر لے جائے گی۔”کمرے کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرتے وہ مسلسل ہانپ رہی تھی۔
“کون نین…..؟”
“چار لوگ تھے۔میری ماں کو مار دیا،مار دیا۔”وہ اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی۔
“مجھے بھولنے نہیں دیتی۔کچھ بھی بھولنے نہیں دیتی۔”
“کون بھولنے نہیں دیتی؟”حاتم نے اس کے گرد حصار قائم کیا تھا۔
“وہ….”اس کے سینے سے سر نکالے نین نے ایک جگہ اشارہ کیا تھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
“ابھی یہیں پر تھی۔کہاں گئی؟”وہ خود بھی پریشان ہو گئی تھی۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں وہ یہاں پر تھی۔”اس نے حاتم کی جانب ایک آس سے دیکھا تھا۔
“گارڈز سے کہو کہ سارے گھر کی تلاشی لے۔”حاتم نے ملازمہ کو حکم دیا تھا۔
“کہاں پر تھی وہ؟”اس نے نین کے گرد بازو حمائل کرتے نرمی سے پوچھا تھا۔
“یہی پر تھی۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔”
“ہاں میری جان!مجھے پتا ہے کہ تم سچ کہہ رہی ہو۔مجھے اپنی نین پر پورا بھروسہ ہے۔”حاتم نے اس کے ساتھ پورے کمرے کی تلاشی لی تھی۔
“میں نے کوئی رپورٹس تبدیل نہیں کی اور نا ہی کوئی غلط دوائی لی تھی۔”
“بالکل تم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
“میں پاگل نہیں ہوں۔”
“بالکل بھی نہیں ہو۔”حاتم نے اسے ایک بار پھر خود سے لگایا تھا۔
“تمہیں مجھ پر بھروسہ ہے؟”وہ سسکی تھی۔
“خود سے زیادہ…..”اس کی شرٹ مٹھیوں میں دبوچے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔جو اعتماد اسے نائل نہیں دے سکا تھا،وہ حاتم دے رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے قید کیا تھا۔مجھے زنجیروں میں…..”وہ بستر پر لیٹی تھی جبکہ حاتم اس کے پاس بیٹھا تھا۔وہ مسلسل ٹوٹے پھوٹے جملوں میں اسے خود پر بیتے مظالم سنا رہی تھی۔
“نین کس نے تمہیں قید کیا تھا؟”حاتم نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے نرمی سے پوچھا تھا۔
“شاہین تم نے کہا تھا کہ تم ہر چیز کا انتقام لو گے۔تم نے کہا تھا نا کہ تم ان کے قاتلوں کو مار دو گے۔پھر وہ اب تک زندہ کیوں ہیں؟”وہ ایکدم سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“نین تم کیوں یہ سب بول رہی ہو؟میں تمہارے پاس ہوں تو تم کیوں باقی سب کو یاد کر رہی ہو؟”
“تم چاہتے ہو کہ میں اپنی ماں کی دردناک موت بھول جاؤں؟تم نے وعدہ کیا تھا۔اب تم پھر وعدہ کرو مجھ سے،تم ان سب کو مارنے میں میری مدد کرو گے۔”وہ بضد تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے،اگر میری نین کی خوشی اسی میں ہے تو پھر میں وعدہ کرتا ہوں۔ایک ایک کو ڈھونڈھ کر تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔لیکن پھر تمہیں بھی وعدہ کرنا ہو گا کہ تم مجھے شاہین کہہ کر نہیں بلکہ عمر کہہ کر بلاؤ گی۔”
“عمر اور شاہین میں کیا فرق ہے؟”
“رقیب لگتا ہے مجھے اپنا،کمینہ کہیں کا…..ایک بار سامنے آ جائے مار ڈالوں گا جان سے….”عینین نے بےیقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔آخر کوئی خود کو ہی برا بھلا کیسے کہہ سکتا تھا؟
“تم شاہین ہی ہو نا؟”اس کا دل خدشات سے گھر گیا تھا۔
“میں تمہارا شوہر ہوں عمر،جو کہ تم سے عشق کرتا ہے۔جس نے اتنے سال تمہاری یاد میں گزارے ہیں،جو ہمیشہ تمہیں تحائف اور خطوط بھیجتا تھا۔”
“چلو اب سو جاؤ۔میں تمہارے پاس ہی ہوں۔”وہ ریلیکس ہو کر لیٹی تھی۔و باتوں کو گھمانے پھرانے میں ماہر تھا۔نین کے سارے خدشات کو وہ پل میں دور کر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کی خاطر حاتم نے اپنے سارے کام کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیے تھے۔آج بھی ناشتے کے بعد وہ اسے بہت پیار محبت سے سمجھا کر سائیکیٹریسٹ کے پاس لے کر جا رہا تھا۔
حاتم ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ نین گاڑی کے شیشے کے باہر کے مناظر دیکھنے میں مصروف تھی۔ڈرائیور کو وہ ساتھ نہیں لایا تھا۔وہ اپنے اور نین کے درمیان کسی تیسرے کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ان کی گاڑی کی پیچھے دو اور گاڑیاں بھی تھیں جن میں گارڈز اسلحے سمیت ان کی حفاظت پر معمور تھے۔وہ کوئی عام انسان نہیں تھا۔اندر ورلڈ کے لیے وہ بلیک مونسٹر جبکہ دنیا والوں کی نظر میں وہ بہت بڑا بزنس مین تھا۔
“باہر کے نظارے سے فرصت مل گئی ہو تو ایک نگاہ کرم یہاں بھی ڈال دیجیے۔ہم بھی دنیا کی سب سے نایاب چیز کا نظارہ کر لیں۔”
“تمہیں لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں؟”اس کی جانب رخ کیے نین نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔
“سچ بولنا ہے یا جھوٹ؟”سڑک سے نظریں ہٹائے حاتم نے اپنی جھیل نما آنکھیں اس کی سنہری آنکھوں میں گاڑھی تھیں۔
“سچ…..”اس کی گہری آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتے نین نے آہستگی سے کہا تھا۔
“مجھے یقین ہے کہ تم پاگل ہو اور اب سے نہیں بلکہ بچپن سے۔تم ہمیشہ سے عجیب تھی۔”
“میں ایسا کیا کرتی تھی جو تمہیں میں عجیب لگی؟”وہ اس کا ذہن بھٹکانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
“بہت سی ایسے باتیں ہیں۔مثلا تم بھاگتے کاکروچ پکڑ لیتی تھی پھر اسے لے کر تم سب کو ڈراتی تھی۔”وہ یہ نہیں کہہ سکا تھا کہ وہ اسے ڈراتی تھی۔
“میں سچ میں یہ کرتی تھی؟”نین نے دلچسبی سے پوچھا تھا۔
“ہاں بالکل!تم ملازموں کے بچوں کے پیچھے اسے پکڑ پکڑ کر بھاگتی تھی۔”
“اور کیا کیا کرتی تھی میں؟”اس کی جانب مکمل طور پر رخ موڑے وہ بہت اشتاق سے پوچھ رہی تھی۔
“بہت لمبی لسٹ ہے تمہاری حرکتوں کی….”وہ ہنس دیا تھا۔
“ہمارا نکاح کیسے ہوا تھا؟”
“ہوا نہیں تھا تم نے زبردستی کیا تھا مجھ سے….تم آٹھ سال کی عمر میں ہی میرے لکس پر فدا ہو گئی تھی۔”حاتم نے ایک شاکی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“اگر مجھے کچھ یاد نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم جو بھی بولو گے میں یقین کر لوں گی۔”منہ بنائے وہ ایک بار پھر رخ موڑ گئی تھی۔
“تم سچ میں مرتی تھی مجھ پر…..”حاتم نے لب دبائے کہا تھا۔
“اب اتنے بھی اچھے نہیں دکھتے تم…..”
“بچپن میں تو تمہیں میرے آگے کچھ دکھتا ہی نہیں تھا۔”
“اب بس کر دو۔میں تمہارے جھوٹ پر ہر گز یقین نہیں کروں گی،بلکہ مجھے تو یقین ہے کہ تمہاری نیت ہی خراب تھی مجھ پر…..”حاتم کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“تم مانو یا نا مانو مگر تم نے آٹھ سال کی ہی عمر میں مجھے بہت بری طرح ٹریپ کیا تھا۔”
“میں نہیں مانتی۔”وہ اپنی بات پر مصر تھی۔
“مرضی ہے تمہاری…..”
کچھ لمحے پھر خاموشی کے نظر ہوئے تھے پھر حاتم نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔
“کبھی کبھی انسان کو سٹریس ہو جاتا ہے۔اس سٹریس کو دور کرنے کے لیے سائیکیٹریسٹ کے پاس جانا غلط نہیں ہے۔سٹریس کسی کو بھی ہو سکتا ہے،مجھے بھی…..جہاں میں تمہیں لے کر جا رہا ہوں وہ میری بہت اچھی دوست ہے اور کبھی کبھی میں بھی اپنا سٹریس دور کرنے ان کے پاس جاتا ہوں۔ان سے اپنے دل کی ہر بات کرتا ہوں۔ایسا کر کے مجھے اچھا لگتا ہے۔”
“تم سچ میں جاتے ہو؟”نین نے حیرانگی سے پوچھا تھا۔
“بالکل…..!”اس کی جانب دیکھے وہ مسکرا دیا تھا۔وہ بھی جوابا مسکرائی تھی۔حاتم نے اس سے جھوٹ بولا تھا لیکن جو بھی تھا وہ نین کو سمجھ رہا تھا۔عینین بھی رفتہ رفتہ اس کی عادی ہوتی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاتم کے حوصلہ دینے پر عینین نے ڈاکٹر سے کافی حد تک کھل کر بات کی تھی۔وہ بظاہر وہاں سے جا چکا تھا مگر وہ وہیں ایک کونے میں پردے کے پیچھے کرسی پر بیٹھا اس کی ساری باتیں سن رہا تھا۔حاتم نین کی ذہنی حالت سے اچھی طرح واقف تھا مگر اسے کچھ نا کچھ کھٹک رہا تھا۔یقینا لندن میں ایسا کچھ ضرور ہوا تھا جو کہ نین اسے بتا نہیں رہی تھی۔یہاں سے وہ سیدھا ماریہ کے پاس جا کر اس سے پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ان کے سارے کام پینڈنگ پر پڑے تھے۔اسے اسلام آباد جانا تھا مگر وہ ابھی لاہور میں موجود تھا۔
“کچھ اور بتانا چاہتی ہیں آپ؟”ڈاکٹر نے بہت نرمی سے پوچھا تھا۔
“بس تکلیف ہوتی ہے۔میں اپنی ماں کی موت بھول نہیں پاتی۔”اس نے لندن میں ہوئی کوئی بھی بات نا تو حاتم کو بتائی تھی اور نا ہی ڈاکٹر کو…..ماہم کو لے کر وہ بےحد خوفزدہ تھی۔اس نے زندگی میں پہلی بار کسی کی جان لی تھی،کسی کا قتل کیا تھا۔یہ سب وہ اپنی زبان پر نہیں لا سکتی تھی۔
“آپ چاہے تو میں آپ کو ریلیکس کر سکتی ہوں۔”
“میں ہونا چاہتی ہوں۔”اس کا دماغ پھٹنے لگا تھا۔
“آپ یہاں آئیں۔”ڈاکٹر نے اسے ایک سیٹ پر لٹائے آنکھیں بند کرنے کا کہا تھا۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔وہ اس قسم کے سیشنز پہلے بھی کئی بار لے چکی تھی۔
“پلیز ہم صرف اس واقعے کے بارے میں بات کریں گے۔”نین نے التجا کی تھی۔
“ہم ایسا ہی کرے گے۔”تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر نے اسے ہیپناٹائز کیا تھا۔
“اس دن کیا ہوا عینین؟یاد کرو،مجھے بتاؤ،تم،صوفی اور تمہاری مام نینا…..کیا ہوا تھا اس دن؟سوچو…..”حاتم بھی کرسی سے اٹھ کر وہاں آ گیا تھا۔
عینین نے بولنا شروع کیا تھا۔پہلے پہل اس کی یادیں واضح نہیں تھیں مگر اب تو تقریبا سب صاف تھا۔
