Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 01
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 01
“نائل یہ کونسی جگہ ہے؟”وہ حیران ہو کر آگے قدم بڑھا رہی تھی۔اتنا ویرانہ اور خاموشی دیکھ ماہم کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔سارا جادہ سنسان تھا۔یہ گاڑیوں کا پرانا شوروم تھا جہاں شاید سالوں سے کوئی نہیں آیا تھا۔ادر گرد کھڑی مٹی اور گرد سے اٹی گاڑیاں اس بات کا ثبوت تھیں۔گاڑیوں کے گرد بڑے سائز کے ٹائر پڑے ہوئے تھے۔
“نائل یہ کونسی…..”جملہ مکمل ہونے سے پہلے اس کے سر کی پچھلی طرف کسی نے کوئی زوردار چیز ماری تھی۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا۔سامنے کا منظر دھندلایا تھا۔وہ چکرا کر زمین پر گری تھی۔
اس کی آنکھ تقریبا ایک گھنٹے بعد کھلی تھی۔آنکھوں کے سامنے کسی کا ہیولہ لہرایا تھا۔گرے رنگ کے پینٹ کوٹ میں موجود وہ شخص…..
“نائل….”اس کے لب بےیقینی سے ہلے تھے۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر اسے اپنے اوپر کسی بوجھ کا احساس ہوا تھا۔وہ ایک انچ بھی نہیں ہل سکی تھی۔
اس کے ہاتھ پیر رسیوں کی مدد سے ان بھاری ٹائروں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور آگے جا کر ان رسیوں کی ڈور تھوڑی اونچائی پر چار سمتوں میں کھڑی گاڑیوں سے بندھی ہوئی تھیں۔اگر وہ اٹھنے کی کوشش کرتی تو یقینا اس پر بہت بوجھ پڑنا تھا جو کہ وہ اٹھا نہیں سکتی تھی۔
“میری بہن کو بھی ایسے ہی باندھا تھا نا؟”کرختی سرد آواز ماہم کے کانوں میں کسی ہتھوڑے کی مانند بجی تھی۔
“نائل…..”اس نے بےیقینی سے ایک بار پھر پکارا تھا۔
“نائل ہی ہوں پھوپھو،آپ کا پیارا بھتیجا جو کہ اب آپ کا بےحد خیال رکھے گا۔”آگے بڑھتے ایک ہی جست میں اس نے ماہم کو بازو سے پکڑے سیدھا بٹھایا تھا۔ایک ساتھ چاروں طرف سے اتنا بوجھ پڑنے پر وہ چلا اٹھی تھی۔اس کا ہر ایک ہاتھ اور ٹانگ کچھ فاصلے پر پڑے وزن دار ٹائر سے بندھے ہوئے تھے جو کہ آگے جا کر اونچائی پر کھڑی ان چار گاڑیوں سے جڑے تھے۔اس کی دونوں کلائیوں اور پیروں سے خون رسنے لگا تھا۔وہ اب بھی متواتر چلا رہی تھی۔
“یہ پہلا درد ہے جو میں نے آپ کو دیا ہے۔اور آپ سے یہی برداشت نہیں ہو رہا تو سوچیں کہ آگے کیا کیا ہو گا؟”نائل کی آنکھوں میں کرب کے ساتھ ساتھ نمی بھی ابھری تھی۔
“وانیہ جھوٹ بول رہی ہے نائل،تم تو اس کی ذہنی حالت سے واقف ہو نا،حاتم نے اسے میرے خلاف ورغلایا ہے۔”یہ سب اس کی سوچ سے بالکل برعکس تھا۔وہ دل ہی دل میں دعاگو تھی کہ کاش یہ صرف ایک خواب ہو۔اتنا دردناک انجام اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اور نائل کے ہاتھوں…..اس کی سوچ کا تسلسل یہی آ کر ٹوٹ جاتا تھا۔
“اس کی ذہنی حالت کس نے خراب کی،اسے یہاں تک کون لایا،صوفی کو کس نے مارا تھا؟”آنکھوں میں سختی لیے وہ دریافت کر رہا تھا۔
“آپ نے…..”جواب خود دیا گیا تھا۔
“آپ کو پتا ہے کہ جب ڈیوڈ نے مجھے مانو کے متعلق بتایا پھر میں نے ساری تحقیق کی اور آپ مجرم ثابت ہوئیں۔میں یہ پہلے بھی کر سکتا تھا مگر میں نے نہیں کیا۔میری آنکھوں پر اعتبار کی پٹی جو بندھی تھی۔اپنوں پر اعتبار کرنے کی بہت بڑی سزا ملی مجھے…..”وہ عجیب انداز میں ہنس دیا تھا۔
“ڈیڈ پر بھروسہ کیا میں نے،انہوں نے میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے عینین کا نکاح کر دیا۔صوفی پر اعتبار کیا تھا میں نے،اس نے مجھے نکاح کے بارے میں لاعلم رکھ کر دھوکہ دیا۔حاتم پر اعتبار کیا،وہ دشمنوں کے ساتھ جا ملا۔ساری زندگی اندھوں کی طرح اپنی بہن کو معصوم سمجھتا رہا،اور وہ میری ناک کے نیچے مجھے دھوکہ دیتی رہی۔میں جانتا تھا کہ صوفی کو ایک عورت نے مارا ہے۔میں پاگلوں کی طرح اسے گھر کے باہر تلاش کرتا رہا اس بات سے انجان کہ غدار تو میرے گھر میں ہی موجود ہے۔آہ کس قدر بیواقوف ہوں میں…..”وہ ایک بار پھر ہنسا تھا۔اس کی ہنسی کھوکھلی تھی۔
“کیوں پھوپھو کیوں…..مجھے بتائیں کس چیز کی کمی تھی آپ کو جو آپ نے یہ سب کیا۔میں نے آپ کو ہمیشہ ماں کا درجہ دیا اور آپ نے مجھے ہی تباہ کر دیا۔”اس نے آنکھ کے کونے سے ایک اشک چنا تھا۔
“اب جو کیا ہے اس کی سزا تو بھگتنی ہو گی نا۔آئی پرامس جتنا خیال آپ نے مانو کا رکھا ہے نا اس سے تین گنا زیادہ خیال میں آپ کا رکھوں گا۔”اس کی آنکھوں میں بھڑکتے شعلوں نے ماہم کے پورے وجود کو جیسے جھلسا دیا تھا۔ساری وضاحتیں دم توڑ گئی تھیں۔وہ بہت بری طرح شکست کھا گئی تھی۔
“اور میں دس گنا…..”اس آواز پر ماہم اور نائل دونوں نے چونک کر اس آواز کی سمت میں دیکھا تھا۔
بلیک جینز پر زیتون رنگ کی شرٹ پہنے،پاؤں میں سفید اور کالے رنگ کے امتزاج کے جوگرز پہنے قدم قدم اٹھاتا وہ ان کی جانب آ رہا تھا۔جہاں نائل چونکا تھا وہیں ماہم کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔اسے دیکھ کر وہ ہمیشہ خوف محسوس کرتی تھی۔نائل تو پھر بھی آسان موت دیتا مگر وہ شخص…..وہ رحم نام کے لفظ سے واقف نہیں تھا۔الیکس کی زبانی وہ پہلے ہی اس کی سفاکیت کے قصے سن چکی تھی۔
“ہائے پھوپھو جان!”ان تک آتے اس نے ماہم کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا۔یہی وہ لمحہ تھا جب اس نے شدت سے دعا کی تھی کہ اسے بس کسی بھی طرح موت آجائے۔اسے بلیک مونسٹر کی دی ہوئی زندگی نہیں چاہیئے تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”حاتم کو اپنے سامنے دیکھ نائل کو شدید تپ چڑھی تھی۔
“اپنی محبوبہ کے بھائی کی یاد ستا رہی تھی۔سوچا سلام پیش کر آؤں۔”دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو کنپٹی تک لے جاتے اس نے نائل کو مسکرا کر سلام پیش کیا تھا۔نائل کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔حاتم کی مداخلت اسے شدید ناگوار گزری تھی۔
“چلیں پھوپھو جانی!چلتے ہیں۔”اس نے ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ نائل کسی دیوار کی طرح اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے،یہ میرا معاملہ ہے،ٹانگ اڑانے کا سوچنا بھی مت…..”نائل نے اسے پیچھے کی جانب دھکیلا تھا۔
“آپ کو خبر کس نے دی تھی؟”
“جو بھی ہے،تم چپ چاپ چلے جاؤ یہاں سے….”
“پھوپھی جان کو لیے بغیر تو کہیں نہیں جاؤں گا۔”ماہم کا پور پور پسینے میں ڈوبا تھا۔
“یہ میری بیوی کی قاتلہ ہے اور میری بہن کی مجرم…..اسے سزا دینے کا حق میرا ہے۔تم بیچ میں مت آؤ۔”عینین کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد حاتم نے اپنے طریقے سے بھی تحقیق کی تھی۔اس کی بہن کی مجرم بھی ماہم ہی ثابت ہوئی تھی۔یہ سب اتنا مشکل نہیں تھا۔وہ دونوں بہت سال پہلے بھی یہاں تک پہنچ سکتے تھے،مگر آنکھوں پر بندھی اعتبار کی پٹی نے ان کی قوت بصارت جیسے سلب کر لی تھی۔گھر میں ہی غدار ہو گا،یہ ان دونوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔نائل باہر مجرم تلاش کر رہا تھا جبکہ حاتم نائل کو ہی مجرم سمجھتا تھا۔
“جو مری تھی وہ میری بہن تھی اور جو اس وقت تکلیف سے گزر رہی ہے،وہ میری بیوی ہے۔اسے سزا دینے کا حق صرف اور صرف میرا ہے۔”
“میں تم سے بڑا ہوں تو پہلا حق میرا ہے۔”نائل نے انگلی اٹھا کر اسے سخت لہجے میں سمجھانا چاہا تھا۔
“یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سارے حق بڑوں کو ملیں۔ہم چھوٹوں کے سینے میں کیا دل نہیں ہوتا؟”ڈیوڈ نے فل فلمی ڈائیلاگ جھاڑا تھا۔
“بس طے ہو گیا میں اسے الیکٹرک شاک دے دے کے پاگل کر دوں گا بالکل ویسے جیسے اس نے میری نین کو غلط دوائیاں دے دے کر پاگل کیا تھا۔”ماہم کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
“نہیں میں پہلے اسے زہر دوں گا۔میری بہن سے زہر بنوا رہی تھی نا…..”
“میں اسے نیچے لٹا کر اس پر ٹرک چلاؤں گا۔”
“اور میں اسے جلتی بھٹی میں جھونک دوں گا۔”ان دونوں کی سفاکانہ گفتگو سنتے ماہم پر لرزا طاری ہوا تھا۔اگلے لمحے وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
جبکہ ان دونوں کی لڑائی ابھی بھی جاری تھی۔وہ ایسے لڑ رہے تھے جیسے دو رقیب آپس میں لڑتے ہیں۔
“تم یہاں سے جا رہے ہو یا نہیں…..”نائل نے ایک زبردست پنچ اس کے منہ پر جڑا تھا۔
“آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے سالے صاحب!”ڈیوڈ نے سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“یعنی تم نہیں جاؤ گے۔”نائل نے اسے کالر سے پکڑے اس بار دو مکے اس کے پیٹ میں جڑے تھے۔
“میں لحاظ کر رہا ہوں سالے صاحب!”اس نے انگلی اٹھائے نائل کو وارننگ دی تھی۔
“جب مجھ پر تیر پھینکتے ہو،مجھے گولی مارتے ہو تب یہ لحاظ کہاں جاتا ہے؟”گھما کر ایک زوردار پنچ اس کی گال پر رسید کرتے وہ پیچھے ہٹا تھا۔حاتم کی ناک سے دو بوند خون بہا تھا۔
اسے اس وقت وہ لمحہ یاد آیا تھا جب اس نے زندگی میں پہلی بار نائل سے مار کھائی تھی۔
“بےشرم انسان!شرم نہیں آئی میری بہن پر بری نظر رکھتے ہوئے…..”اسی کے گھر میں،اس ہی کے لاؤنچ میں وہ تابڑ توڑ اس پر حملے کر رہا تھا۔
“مجھے بھائی بولتے ہو اور میری ہی بہن پر نظر رکھتے ہو۔”اس کی شرٹ کا کالر پکڑے نائل نے اس کے پیٹ میں زبردست گھونسہ مارا تھا۔
شہلا اور صوفی دونوں ہی اس کی منتیں کر رہی تھیں مگر نائل کے سر پر تو جیسے خون سوار تھا۔شہلا کو اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے گارڈز کو بلانا پڑا تھا۔وہ بہت مشکل سے قابو میں آیا تھا۔
“ایک بات یاد رکھنا چھوڑوں گا نہیں میں تمہیں۔”نائل کی بات یاد کرتے آج اتنے سالوں بعد اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ بکھری تھی۔اس وقت وہ کمزور تھا،جوابا حملہ نہیں کر سکتا تھا مگر آج وہ طاقتور تھا لیکن اس نے جوابی کاروائی آج بھی نہیں کی تھی۔
“صوفی کو آپ نے نہیں مارا،میں جان گیا ہوں۔لیکن میرے ماں باپ کو کس نے مارا تھا؟”ناک سے خون کی بوند صاف کرتے اس نے نائل کی جانب دیکھا تھا۔
“اتنے ذہین ہو تو خود پتا لگا لو نا…..”نائل نے نخوہت سے سر جھٹکا تھا۔
“پتا لگا لوں گا۔یہ اب ضروری ہے۔”اس نے دل ہی دل میں پیماں کیا تھا۔
“امید کرتا ہوں کہ سچ جاننے کے بعد تمہیں زیادہ تکلیف نا ہو۔”
“میری فکر مت کریں سالے صاحب!میری ہر تکلیف اور ہر درد کا درماں میرے پاس ہے۔”اس کے لبوں کو دلفریب مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
“تمہیں اس دن سے خوف نہیں آتا جب اسے تمہاری سچائی پتا چلے گی؟”
“میں یہ نوبت نہیں آنے دوں گا۔”
“سب چھوڑ دو حاتم،عینین کو مجھے سونپ دو اور خود گرفتاری دے دو۔وعدہ کرتا ہوں،پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں کم سے کم سزا ملے۔”
“اگر میں کہوں کہ میں واپس نہیں لوٹنا چاہتا پھر…..؟”نائل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
“مجھے یہ زندگی بہت پسند ہے۔دنیا پر حکومت کرنا بےحد اچھا لگتا ہے مجھے۔اور میں کچھ غلط نہیں کرتا،صرف اس ملک کو ہر گنہگار اور دوغلے انسان سے پاک کرتا ہوں۔”
“تم معصوم لوگوں کی جان لیتے ہو حاتم!”
“معصوم کوئی نہیں ہوتا۔سب جھوٹے اور فریبی ہیں۔اور ہاں میں حاتم نہیں ڈیوڈ ہوں،بلیک مونسٹر…..”وہ گناہوں کی دلدل میں اس قدر دھنس چکا تھا کہ واپسی کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتا تھا۔
“تم پچھتاؤ گے۔”نائل نے افسوس سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“میں نہیں آپ پچھتائیں گے۔آخر دیا ہی کیا ہے اس ملک نے آپ کو؟آپ کی اہمیت کیا ہے ائی۔ایس۔ائی کی نظر میں….میرا احسان مانیں جو آپ کے متعلق اندر ورلڈ میں کسی کو نہیں بتایا۔صرف چند لوگوں ہی آپ کے متعلق جانتے ہیں۔آپ کی یہ سانسیں میرے پاس گروی ہیں۔سوچیں اگر میں یہ بات پھیلا دوں کہ “دا فیمس بزنس مین نائل آفندی ایک سیکریٹ ایجینٹ ہے” تو کیا ہو گا آپ کے ساتھ….بھڑ کی طرح جھپٹے گے سب آپ کی جانب اور آپ کی نام نہاد ٹیم تنہا چھوڑ دے گی آپ کو۔ابھی بھی وقت ہے یہ سب چھوڑ کر میرا ساتھ دیجیں۔شاہین کون ہے اور کہاں ہے،مجھے بتا دیجیں۔ہم دونوں ساتھ مل کر اس دنیا پر راج کرے گے۔”وہ اسفند کی جانب سے خدشات میں گھرا تھا۔نا تو اسے اس کا چہرہ ٹھیک سے یاد تھا اور نا ہی اسے یقین تھا کہ وہ ہی شاہین ہے۔
“تف ہے تمہاری سوچ پر۔اکیلا بھی رہ جاؤں گا نا تب بھی غداری نہیں کروں گا۔”اس کی سوچ پر ماتم کرنے کے سوا وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
“مجھے مانو سے ملنا ہے۔”
“وہ آپ سے نہیں ملنا چاہتی۔”جواب دوبدو آیا تھا۔
“مگر میں ملنا چاہتا ہوں۔”
“اس کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ کوئی صدمہ برداشت کر سکے۔”نائل کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔جب ڈاکٹر نے عینین کو ہیپناٹائز کیا تھا تو حاتم نے کچھ حصے کی وڈیو بنا کر نائل کو سینڈ کی تھی۔اس وڈیو کو دیکھتے وہ تڑپ اٹھا تھا۔
“میں فون پر بات کروا سکتا ہوں،وہ بھی اگر وہ چاہے تو…..”یہ جاننے کے بعد کہ نائل صوفی کا قاتل نہیں ہے،حاتم کے دل میں کچھ نرم گوشہ پیدا ہوا تھا۔نائل خاموش رہا تھا۔کس قدر بدقسمت تھا وہ…..اپنی بہن سے بات کرنے کے لیے وہ آج اپنے دشمن کے آگے ہاتھ پھیلا رہا تھا۔اس سب کا قصوروار بھی وہ خود ہی تھا۔اس نے خود ہی عینین کو خود سے بدگمان کیا تھا۔
“اسے آپ رکھ لیجیے مجھے نہیں چاہیے۔”نائل پر گویا احسان کرتے وہ وہاں سے گیا تھا۔نائل کو حیرت تو بہت ہوئی تھی۔ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ ماہم کو یہاں سے لے جانے کے لیے لڑ رہا تھا اور اب…..اس قدر لاتعلقی…..وہ شخص کبھی کبھی اس کی سمجھ سے باہر ہو جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل کے پاس سے وہ سیدھا بدر کی طرف گیا تھا۔عینین ابھی بھی لاہور میں ہی تھی۔
“بابا الیکس کہاں ہے؟”بغیر کسی لگی لپٹی کے اس نے سوال پوچھا تھا۔
“میں نہیں جانتا ڈیوڈ!”بدر کا لہجہ بےحد محتاط تھا۔
“ایک دفعہ مل جائے مجھے،وہ حال کروں گا کہ سننے والے کی روح بھی کانپ جائے۔”لب بھینچے وہ بدر کے ساتھ پلنگ پر بیٹھا تھا۔
“وہ لڑکی اتنی خاص ہے تمہارے لیے کہ تم اس کی ماں کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اپنے اتنے خاص آدمی کو مار دو گے؟”
“آپ سے کس نے کہا کہ میں یہ سب اس کی ماں کا انتقام لینے کے لیے کر رہا ہوں؟”اس نے تعجب سے بدر کی جانب دیکھا تھا۔
“ان دونوں نے میری نین کو تکلیف پہنچائی۔اسے اتنے دنوں تک ٹارچر کیا۔یہ میں معاف نہیں کر سکتا۔”آنکھوں میں سرخی اتری تھی۔
“کیا وہ لڑکی اتنی اہم ہے تمہارے لیے؟”
“وہ میری بیوی یے،ظاہر ہے وہ اہم ہے۔”
“وہ نائل کی بہن بھی ہے۔”
“مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔آپ چاہے تو نائل کو جان سے مار دیں یا پھر مجھے اجازت دیں کہ میں یہ کار خیر سر انجام دوں۔”
“اسے نہیں مارنا۔شاہین تک پہنچنے کی واحد سیڑھی وہی ہے۔اتنے سالوں سے یہ جاننے کے باوجود کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے میں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا،وجہ صرف اور صرف شاہین ہے۔وہ صرف ایک مہرہ ہے،شاہین تک پہنچنے کا ذریعہ……تم جانتے ہو اس کا تعلق ائی۔ایس۔ائی کے کسی حساس ادارے سے نہیں ہے۔وہ سامنے اس لیے ہے کیونکہ یہ لوگ شاہین کو بچانا چاہتے ہیں۔اصولا تو نائل کے ایکسپوز ہوتے ہی یا تو اس کی موت کی خبر آتی یا پھر آئی ایس۔ائی سے لاتعلقی کی،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔کچھ ہے جو اب بھی پوشیدہ ہے۔”بدر گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“لیکن کیا بابا…..؟مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔”وہ اس سب سے بےحد بیزار تھا۔نین کے اس کی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد باقی چیزوں میں اس کی دلچسبی ختم ہوتی جا رہی تھی۔
“یہی تو پتا لگانا ہے بیٹا کہ آخر ایسا کیا ہے جو ہم نہیں سمجھ پا رہے۔میری معلومات کے حساب سے نائل کا دوست اسفند ہی شاہین ہے۔اگر ایسا ہے تو پھر وہ کہاں غائب ہے؟”بدر نے آنکھیں سکیڑے دماغ پر زور دیا تھا۔
“کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ نائل اور شاہین کے درمیان کوئی تیسرا ہے جو شاید شاہین کی حفاظت کر رہا ہے یا پھر ہمیں اس تک پہنچنے نہیں دیتا۔لیکن پھر مجھے لگتا ہے کہ شاید اسفند شاہین نا ہو۔ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی اور ہو۔”
