93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 32)

وہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھے شو لیسز باندھ رہا تھا جب مصطفی نے کمرے کا دروازہ ناک کیا تھا۔عبداللہ فورا الرٹ ہوا تھا۔
“ٹرسٹ می!میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔”اس نے کھڑے ہوتے ساتھ ہی وضاحت پیش کی تھی۔
“بات کرنی ہے تم سے…!”صوفے پر بیٹھتے انہوں نے اسے بھی بیٹھنے کا کہا تھا۔ان کے چہرے کی سنجیدگی سے وہ جان چکا تھا کہ یقینا بات معاملہ سیریس ہے۔
“بزنس میں تو کوئی دلچسبی ہے ہی نہیں تمہیں….اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم شادی کر لو۔”وہ کرنٹ کھا کر
صوفے سے اچھلا تھا۔
“شادی…؟”اسے اپنی سماعتوں پر بالکل یقین نہیں آیا تھا۔
“ہاں شادی!اور لڑکی ڈھونڈھ چکا ہوں میں تمہارے لیے۔ایک مہینے کے اندر اندر نکاح ہے تمہارا…”عبداللہ کو اپنے آس پاس دھماکوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔
“ڈڈ…ڈیڈ آپ مذاق کر رہے ہیں نا…؟”دوسروں کو اپنے سامنے لاجواب کرنے والا آج خود بوکھلا گیا تھا۔
“نہیں بیٹا!بھلا تمہارا میرا کیا مذاق؟”وہ اسی کا تکیہ کلام اسی پر الٹا گئے تھے۔
“میں ہر گز ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میری ابھی عمر ہی کیا ہے؟صرف بیس سال کا ہوں میں ڈیڈ!”
“میں رخصتی کا نہیں کہہ رہا۔صرف نکاح ہو گا۔”ان کے لہجے میں پختگی تھی،یعنی وہ فیصلہ کر چکے تھے۔
“اور کون ہے وہ حور پری؟”وہ تپ کر بولا تھا۔اپنے باپ سے اسے کوئی اچھی امید نہیں تھی۔
“ہارون کی بیٹی…صوفی…!”اسے ایک بار پھر اپنے آس پاس دھماکوں کی آواز سنائی دی تھے۔
نظروں کے سامنے اس ڈرپوک اور کانفیڈینٹ لیس لڑکی کا ہیولہ لہرایا تھا۔اس نے فورا ہی جھرجھری لی تھی۔
“میں مر کر بھی اس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا۔”اس نے شدید طیش کی حالت میں کہا تھا۔
“تمہیں مرنے کا کس نے کہا ہے؟تم زندہ رہ کر شادی کر لو۔”انہوں نے جیسے مسئلے کا حل بتایا تھا۔
“ڈیڈ…!”دانت پر دانت جمائے وہ بےبسی سے گویا ہوا تھا۔
“کیا ڈیڈ…؟باپ ہوں تمہارا!اپنے بیٹے سے کچھ اور نا سہی مگر زچ کرنا تو سیکھ ہی لیا ہے میں نے…”وہ آج صحیح معنوں میں زچ ہوا تھا۔
“میں اس لڑکی سے ہر گز نکاح نہیں کروں گا۔وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے۔”اس نے اب اپنے لہجے کو ہموار کیا تھا۔
“وہ ایک سلجھی ہوئی اور بہت پیاری بچی ہے۔میرے گھر کی بہو صرف وہی بنے گی۔”
“تو بنا لیں اسے بہو…میں نے کب منع کیا۔بس شادی نہیں کروں گا میں اس سے…!”اس نے ہاتھ کھڑے کرتے کہا تھا۔
“گدھے!جب تم اس سے شادی نہیں کرو گئے تو میں اسے بہو کیسے بناؤں گا؟”اس کی فضول گوئی سے وہ ہمیشہ ہی پریشان رہتےتھے۔
“وہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ میں اس سے نکاح نہیں کروں گا۔”کہتے ساتھ ہی وہ تیزی سے وہاں
سے گیا تھا۔
مصطفی کا سر ایک بار پھر چکرایا تھا۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی یہ اولاد انہیں ناک و چنے چبوانےکی صلاحیت رکھتی ہے۔

مانو آج عبداللہ کے ساتھ پارک میں گئی تھی۔وہ کھیلنے میں مصروف تھی جبکہ وہ بیںنچ پر بیٹھا موبائل استعمال کر رہا تھا۔ساتھ ہی ساتھ وہ کچھ دیربعد ایک نظر اس پر ڈال لیتا تھا۔
“السلام علیکم!”سلام کرتے ساتھ ہی حاتم اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“وعلیکم السلام!”فون بند کرتے اس نےسنجیدہ تاثرات کے ساتھ جواب دیا تھا۔
“Thanks…”
حاتم نے مشکور انداز میں کہا تھا۔
اس نے عبداللہ کی بات پر عمل کرتےاپنے دوستوں کے ساتھ مل کر رات کےاندھیرے میں ان دو لڑکوں کو کنڈنیپ کر کے انہیں اچھا خاصا مارا تھا۔یہ حاتم کی زندگی کا پہلا ایکپیرینس تھا۔ شروع شروع میں وہ بہت زیادہ گھبرایا
ہوا تھا لیکن آہستہ آہستہ اسے سب اچھا لگنے لگا تھا۔اس نے اپنی زندگی کے پہلے ایڈوانچر کو بہت انجوائے کیا
تھا۔

You Welcome!”

کہتے ساتھ ہی وہ فون اٹھائے وہاں سے گیا تھا۔نا تو عبداللہ نے شکریہ ادا کرنے کی وجہ پوچھی تھی اور نا ہی حاتم نے اسے کچھ بتایا تھا۔
حاتم کچھ دیر عجیب نگاہوں سے فاصلے پر کھڑے اس شخص کو دیکھتا رہا تھا جو فون پر کسی سے محو گفتگو تھا۔
“عجیب…!”اسے دیکھ کر حاتم کے ذہن میں فلحال یہی لفظ آیا تھا۔اب اس کی نظر جھولا جھولتی مانو پر پڑی تھی۔حاتم کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔وہ بےاختیار اس جانب قدم بڑھا گیا تھا۔
“کیسی ہو مانو؟”
اپنے عقب سے جانی پہچانی آواز سنتے اس نے چونک کر دیکھا تھا۔حاتم کو دیکھ کر اس کی سنہری آنکھوں میں چمک ابھری تھی مگر اگلے ہی لمحے اس نے رخ موڑ لیا تھا۔
“میں بین سے ناراض ہوں۔”اس نے رخ موڑے ہی شکوہ کیا تھا۔
“کیوں…؟”اتنے دن گزر جانے کے بعد حاتم کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
“تم نے مجھے ڈانٹا۔”کھڑے ہوتے ساتھ ہی اس نے منہ بسورے حاتم کی جانب دیکھا تھا۔
“تم نے وہ حرکت کیوں کی تھی؟”حاتم نے بھی ایک آنکھ آچکا کر پوچھا تھا۔
“میں تو بس تمہارے ساتھ رہنا چاہتی تھی بس اسی لیے کیا تھا۔”اس نے روندھی آواز میں کہا تھا۔
“تمہیں یہ سب کرنے کے لیے کس نے کہاتھا؟”حاتم نے ہاتھ باندھے استفسارکیا تھا۔
“وہ آپا نے…وہ ہمارے گھر کام کرتی ہیں نا….انہوں نے کہا کہ تین بار ‘قبول ہے’ کہنے سے ہم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ ابھی تو سائن بھی کرنے تھے۔”اسے اچانک ہی یاد آیا تھا۔
“بیواقوف لڑکی!اپنے دماغ سے یہ ساری فضول باتیں نکال دو۔ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔”حاتم نے اسے سمجھانا
چاہا تھا۔
“کیوں…؟”وہ بضد تھی۔
“کیونکہ تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔”اس کے الٹا سوال کرنے پر حاتم سے جو جواب بن پڑا تھا،اس نے دے دیا تھا۔
“میں پورے آٹھ سال کی ہوں۔”مانو نے ہاتھ کی انگلیوں پر گنتے ہوئے اسےجتایا تھا۔
“تم صرف آٹھ سال کی ہو۔”حاتم نے’صرف’ پر زور دیتے کہا تھا جبکہ صحیح معنوں میں وہ اپنا سر دیوار میں مار
رہا تھا۔
“تو آٹھ سال کی عمر میں شادی نہیں ہوتی؟”اسی معصومیت سے ایک اور سوال پوچھا گیا تھا۔
“نہیں…!”صبر کا مظاہرہ کرتے حاتم نےنرمی سے جواب دینے کی پوری کوشش کی تھی۔مانو کا چہرہ بجھ گیا تھا مگر
اگلے ہی لمحے کسی خیال کے تحت وہ فورا چہکی تھی۔
“پھر کس عمر میں شادی ہوتی ہے؟”اس سوال پر حاتم کو پورا پارک ہی گول گول گھومتا نظر آیا تھا۔
“بتاؤ نا….؟”اسے خاموش دیکھ مانونے اچھلتے پوچھا تھا۔
“اکیس سال کی عمر کی…!”اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے جھنجھلاتے ہوئےکہا تھا۔
“اکیس سال کی عمر میں میں تمہارے ساتھ رہ سکتی ہوں؟”اس نے ایک آس سے پوچھا تھا۔
“ہاں ہاں…!”حاتم نے اسے ٹالنے والے انداز میں کہا تھا۔وہ اس کے سوالات سے تنگ آ چکا تھا۔
“ویسے اکیس سال ہوتا کتنا ہے؟”
“میرا سر ہوتا ہے۔”وہ غصے سے کہتا وہاں سے گیا تھا۔مانو کو تو کسی چیز کی جیسے پرواہ ہی نہیں رہی تھی۔وہ تو
بس اپنے بین کے ساتھ رہنے پر ہی بےحد خوش تھی۔

سونی اپنے کمرے میں بستر پر بیٹھی ہوئی تھی اور عبداللہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا مسلسل اپنی ماں کی منتیں کر رہا تھا۔
“مام چائلڈ میرج ہمارے قانون میں جائز نہیں ہے۔آپ پلیز ڈیڈ کو سمجھائیں انہیں جیل ہو سکتی ہے۔”اپنی ماں
کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے وہ اب تک نجانے کتنی دلیلیں دے چکا تھا مگر اس کی قسمت کی خرابی….ہر دلیل ہی بری
طرح رد ہو چکی تھی۔
“تم بچے نہیں ہو عبداللہ!”سونی نےاسے گھوری سے نوازا تھا۔
“مگر وہ تو ہے نا…!”
“اس کی عمر پندرہ سال ہے۔”وہ بس کسی بھی طرح اس لڑکی سے جان چھڑوانا چاہتا تھا۔
“اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کرنا جرم ہے۔میں بتا رہا ہوں،ڈیڈ کو جیل ہو جائے گی۔”وہ اپنی ماں کو
ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“صرف نکاح کا کہہ رہے ہیں۔رخصتی چار پانچ سال بعد ہی ہو گی۔”سونی کے سر میں اب درد ہونے لگا تھا۔
“تو نکاح بھی چار پانچ سال بعد کر لیتے ہیں نا….!”اسے اس مصیبت سے نکلنے کا ایک نیا راستہ مل گیا تھا۔
“تمہارے ڈیڈ اور مجھے تم پر بالکل اعتماد نہیں ہے۔تمہارا کیا بھروسہ کسی کو بھی شادی کر کے لے آؤ اور کہو کہ
یہ میری بیوی ہے۔”
“میں ایسا کیوں کروں گا؟”وہ اس وقت شدید کوفت محسوس کر رہا تھا۔
“بس میں اب کچھ نہیں سنوں گی۔اب تمہیں جو بھی بات کرنی ہے جا کر اپنے ڈیڈ سے کرو۔”سونی نے گویا بات کا
اختتام کیا تھا۔عبداللہ نے گہری سانس خارج کی تھی۔البتہ وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ شادی تو وہ کسی قیمت پر نہیں کرے گا۔

سونی کو چھوڑے اب وہ مسلسل اپنے باپ کی منتیں کر رہا تھا جو کہ رائیگاں ہی جا رہی تھیں۔
“ڈیڈ ٹرسٹ می!آپ کو جیل ہو جائے گی۔”
“اور کون کروائے گا مجھے جیل؟”مصطفی نے آنکھیں چھوٹی کیے اپنے بیٹے کم باپ زیادہ کو گھورا
تھا۔
“میں ہوں نا….!”اس کی زبان غلط وقت پر پھسلی تھی۔
“تم جیسی اولاد سے مجھے کوئی اچھی امید ہے بھی نہیں…!”انہوں نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ خجل کا شکار ہوا تھا۔
“بس بہت ہو گیا اب اس موضوع پر اب کوئی بات نہیں ہو گی۔”انہوں نے ہاتھ اٹھائے سخت لہجے میں کہا تھا۔
“اور ہاں خبردار جو یہ سڑی ہوئی شکل لے کر ہارون یا اس کی فیملی کے سامنے گئے۔ان لوگوں سے تم نہایت تمیز اور تہذیب سے پیش آؤ گے۔”وہ حکم دیتے کمرے سے باہر گئے تھے۔
ان کے جانے کے بعد اس نے غصے سے بیڈ کو ایک ٹھڈا مارا تھا۔ایکدم ہی اس کے دماغ میں ایک جھماکہ ہوا تھا اور
لبوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔
“اگر میں تمیز اور تہذیب سے پیش نا آؤں تو…؟”اس نے لبوں کو گول کیا تھا۔
“ہارون انکل کبھی بھی اپنی بیٹی کو ایک بدلحاظ شخص کے حوالے نہیں کرے گے۔”اس نے پلین ترتیب دیتے ہوئے
کمرے سے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے۔

وہ بغیر کسی کے علم میں لائے چپ چاپ دوپہر کے وقت ہارون کے گھر گیا تھا۔اسے یہاں سب جانتے تھے تو
اندر جانے میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی۔
لاؤنچ میں داخل ہوتے اس کے قدم رکے تھے۔اندر عدالت لگے دیکھ اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے حاتم…کیا ان لڑکوں کو تم نے مارا تھا؟”وہ چپ چاپ سر جھکائے کھڑا تھا جبکہ گھر کے باقی تمام افراد اپنی اپنی جگہ سہمے ہوئے تھے۔
“وہ لڑکے تمہارا نام کیوں لے رہے تھے؟”
ان کی دھاڑ پر حاتم نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“تم نے مارا ہے انہیں یا نہیں…؟”
“حاتم نے کچھ نہیں کیا۔”اس آواز پر سب نے مڑ کر دیکھا تھا۔
“انکل آپ خود ہی بتائیں…کیا آپ کا بیٹا ایسا کچھ کر سکتا ہے؟”اس نے حاتم کو سر تا پیر دیکھتے کہا تھا۔
“یہ اس رات میرے ساتھ تھا۔میں بس اسے چیئر اپ کرنے کے لیے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔”حاتم نے بےیقینی سے سامنے
کھڑے شخص کی طرف دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی خوف کوئی ڈر نہیں تھا۔اس کا لہجہ پراعتماد تھا، ایسے جیسے وہ جو بھی بول رہا ہو وہ بالکل سچ ہو۔
“مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ میرا بیٹا کچھ غلط نہیں کر سکتا۔”حاتم گرتے گرتے بچا تھا۔شہلا اور صوفی دونوں
ہی حیران ہوئے تھے۔
“آؤ بیٹا بیٹھو چائے پیتے ہیں۔”ہارون شروع سے ہی اس کی شخصیت سے متاثر تھے اور آج اس کا اعتماد انہیں مزید متاثر کر گیا تھا۔وہ یہی اعتماد اپنے بیٹے میں دیکھنا چاہتے تھے مگر کبھی ایسا ممکن نہیں ہوا تھا۔
وہ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد واپسی کے لیے نکلا تھا۔
“بیوقوف لڑکا!”اسے حاتم پر شدید غصہ تھا۔وہ وہاں ولن بننے آیا تھا مگر ہیرو بن گیا تھا۔ساری پلیننگ دھڑی کی دھڑی رہ گئی تھی۔
“ماسک نہیں لگا سکتا تھا۔”اگر حاتم اس وقت اس کے سامنے ہوتا تو یقینا اس کا گلا عبداللہ کے ہاتھ میں ہوتا۔