Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 43)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 43)
ڈھلتے سورج کی روشنی میں سٹڈی روم میں موجود کرسی پر بیٹھے وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔سورج کی بجھتی کرنیں اب کھڑکی سے اندر تک کا سفر طے نہیں کر پا رہی تھیں۔ٹیبل پر فائلز بکھری پڑی تھیں۔ہارون نے کسی فائل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔وہ اس وقت صرف نائل کے رویے کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس کی توقع سے زیادہ برا تھا۔جو بھی تھا لیکن صوفی ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔وہ اسے اس طرح کسی انجان شخص کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے تھے۔
وہیں بیٹھے اس نے کھلی کھڑکی سے باہر کی جانچ دیکھا تھا۔تیز ہوائیں پردوں کی باڑوں کو توڑ کر اندر داخل ہو رہی تھیں۔وہ کچھ دیر غروب ہوتے سورج کا دلنشیں منظر دیکھتا رہا تھا پھر اچانک ہی دماغ نے ساری گتھی سلجھائی تھی۔رات کی تاریکی کے شروع ہونے کا منظر دیکھتے دیکھتے وہ آفندی ہاؤس کے مکینوں کی زندگیاں تاریک کرنے کا پلین ترتیب دے چکا تھا۔
مصطفی تو پہلے ہی اس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکا تھا بس اب کسی بھی طرح نائل کو شیشے میں اتارنا ضروری تھا۔اس سب کا ایک ہی طریقہ تھا…..مصطفی کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو بنانا….نائل کے ہاتھ باندھنا…..
ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس نے مصطفی کو کال ملائی تھی۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک ریسٹورنٹ میں دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔کچھ دیر کی انتھک محنت کے بعد وہ مختلف دلائل سے مصطفی کو نیم رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
“میرا ایک ہی بیٹا ہے ہارون!میں اسے خود سے بدگمان نہیں کر سکتا۔”مگ سے اڑتی کافی کی بھاپ پر نظریں جمائے انہوں نے بےبسی سے کہا تھا۔
“جب نکاح ہو جائے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔بعد میں وہ کچھ نہیں کر سکے گا،سوائے اس نکاح کو قبول کرنے کے….”
“مانو ابھی بہت چھوٹی ہے۔ہم ایک کام کرتے ہیں کہ ابھی منگنی کر دیتے ہیں پھر جب وہ دونوں بڑے ہو جائیں گے تو شادی بھی کر دے گے۔”ان کی بیٹی کی عمر اگر صوفی کی عمر جتنی ہوتی تو شاید وہ اس بارے میں ضرور سوچتے مگر وہ تو ابھی بہت چھوٹی تھی،صرف آٹھ سال کی….اس معصوم کو تو نکاح کا مطلب تک نہیں پتا تھا تو پھر اس رشتے کے تقاضوں کو سمجھنا تو بہت دور کی بات تھی۔
“میں یہ سب ہمارے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔صرف نکاح ہی تو ہے۔رخصتی تھوڑی کرنے کا کہہ رہا ہوں۔”مصطفی نے سرد آہ بھرتے کافی کے مگ کو لبوں سے لگایا تھا۔
“تو پھر ہم نائل کے جاتے ہی مانو اور حاتم کا نکاح کر دیں گے۔”اپنی جگہ سے تھوڑا سا آگے کھسکتے ہارون نے اپنے ہاتھ ٹیبل پر رکھے تھے۔
“جیسا تمہیں ٹھیک لگے۔”اس جواب سے ہارون کی آنکھوں میں موجود شیطانیت کی چمک گہری ہوئی تھی۔
مصطفی کے قائل ہونے کے پیچھے ہارون کی چاشنی بھری زبان نہیں تھی بلکہ وہ نشہ آور دوائی تھی جو وہ کافی کی صورت میں گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتار رہا تھا۔اور یہ پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔وہ ہمیشہ ہی اپنی بات منوانے کے لیے ایسے ہی حربے استعمال کرتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بہت اہم مشن کے سلسلے میں نائل کو بیرون ملک جانا تھا۔بظاہر وہ ہائیر سٹڈیز کے لیے جا رہا تھا مگر حقیقت سے صرف وہی آشنا تھا۔
اس کی رات کی فلائیٹ تھی اور وہ آج صبح صبح بغیر بتائے ہارون کے گھر آیا تھا۔اس اچانک آمد کا واحد مقصد صوفی کو بغیر حجاب کے دیکھنا تھا۔
کھلے گیلے بالوں کو کمر پر پھیلائے وہ ڈوپٹے سے بےنیاز لاؤنچ میں موجود صوفے پر بیٹھی پڑھائی میں مشغول تھی۔چائے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ وہ رجسٹر پر پوائنٹس بھی لکھ رہی تھی۔نائل نے اسے پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔اس کا مقصد صوفی سے اس کے خواب چھیننا نہیں تھا بلکہ وہ تو بس اسے چند لمحوں کے لیے اس اذیت سے گزارنا چاہتا تھا جس سے وہ گزرا تھا۔
لاؤنچ میں داخل ہوتے نائل کے قدم رکے تھے۔وہ صرف ضدی نہیں تھا،وہ حد سے زیادہ ضدی تھا۔جو وہ ایک بار ٹھان لیتا تھا وہ کر کے ہی رہتا تھا۔پین کو دانتوں تلے دبائے وہ بہت انہماک سے کچھ پوائنٹس کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاید اسے سمجھنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔اس کا چہرہ اس کے تاثرات کی مکمل ترجمانی کرتا تھا اور نائل تو ویسے ہی چہرے پڑھنے میں ماہر تھا۔
نیوی بلو کلر کے سوٹ میں ملبوس اس معصوم حسینہ نے پہلی بار نائل کے دل پر دستک دی تھی۔زندگی میں پہلی بار وہ شاید کچھ محسوس کر رہا تھا۔وہ دونوں اپنے والدین کی مرضی سے کئی بار مل چکے تھے تا کہ ان کے درمیان انڈرسٹینڈنگ ہو جائے۔بعض ملاقاتیں خوشگوار رہی تھیں تو بعض نا خوشگوار….نا خوشگوار ملاقاتوں کا سلسلہ زیادہ تھا۔شاید یہ اس کی معصومیت اور صبر ہی تھا جو وہ نائل کے دل میں مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی۔
ہاتھ پر ہاتھ باندھے،لب دبائے وہ بہت دلچسبی سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ کبھی پی کو دانتوں تلے دباتی تھی تو کبھی ہاتھ میں گھماتی تھی۔اس طرح کرتے وہ پچھلے سات منٹ میں نجانے کتنی بار نوٹس پر جھک چک تھی۔اس طرح جھکنے کی وجہ سے اس کے ریشمی،گیلے بال اس کے چہرے پر آ جاتے تھے جنہیں وہ بار بار جھنجھلا کر پیچھے ہٹاتی تھی۔
“کچھ ہیلپ چاہیئے؟”بھاری گھمبیر آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔وہ نا صرف خود کرنٹ کھا کر اچھلی تھی بلکہ اس کے نوٹس،کتابیں اور دانتوں تلے دبایا پین بھی زمین بوس ہوا تھا۔
صوفی نے پھرتی سے سائیڈ پر پڑا ڈوپٹہ اچھے سے اوڑھا تھا۔اب وہ بھوکھلا کر اپنے بکھرے بال سمیت رہی تھی۔نائل اس کی بوکھلاہٹ سے اچھا خاصا لطف اندوز ہوا تھا۔
اس بات کا یقین کرتے کہ نائل اس کے سامنے ہے، وہ ہرنی کی رفتار سے وہاں سے بھاگی تھی۔نائل کے ہونٹوں پر تبسم لہرایا تھا۔
صوفی کے بالوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا،یہ خیال ہی نائل کے باعث سکون تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل کے جانے کے بعد حاتم اور مانو کے نکاح کی بات گئی تھی۔ہارون کے آگے ان کے گھر والوں کی ایک نا چلی تھی مگر مصطفی کو بھرپور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔سونی کسی صورت اس سب پر راضی نہیں تھی۔اس نے اپنے بیٹے کو بتانا چاہا تھا مگر نائل کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔
رات کے پہر وہ بالکنی میں کھڑی مسلسل اپنی قسمت پر اشق بہا رہی تھی۔مصطفی جو اس پر جان چھڑکتے تھے،اب نجانے کیوں وہ اس سے بیزار سے رہنے لگے تھے۔اس کے لاکھ احتجاج کے باوجود بھی آج سے ٹھیک دو دن بعد اس کی چھوٹی اور معصوم بیٹی کی زندگی کا فیصلہ کیا جانا تھا۔اس سے اس کا بچپن چھین لیا جانا تھا۔
مصطفی تو یہ فیصلہ ہارون کی دی گئی ادویات کے زیر اثر کر رہے تھے مگر آج بھی اکسویں صدی میں بھی بہت سارے ایسے مقامات ہیں جہاں پر چائلڈ میرجز کا رواج عام ہے۔
اسلام بچوں کی جلد شادی کی تاکید ضرور کرتا ہے تا کہ وہ مختلف برائیوں اور فحاشی سے محفوظ رہ سکیں مگر لڑکا اور لڑکی کا بالغ ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے تا کہ وہ اس پاک رشتے اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کو سمجھ سکیں اور ایک خوشحال زندگی گزار سکیں۔
آج کل چائلڈ میرجز کا تناسب تو پھر بھی کچھ حد تک کم ہے مگر بہت سے گھروں میں بچوں کی پیدائش پر ہی ان کی زندگی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ان کے پیدا ہوتے ہی انہیں کسی نا کسی کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔پھر بعد میں وہ شخص جواری نکلے یا شرابی….زبان سے پیچھے نہیں ہٹا جاتا۔
بیٹیوں کی زندگی کوئی مذاق نہیں ہوتی۔والدین کو اپنی بیٹیوں کو اتنا اعتماد ضرور دینا چاہیئے کہ وہ کھل کر آپ سے اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار کر سکیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ اگر اپنی سوچ تھوڑی تبدیل کر لی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں….
سونی نے متورم آنکھوں کے ساتھ آسمان کی جانب دیکھا تھا۔وہ کھلا آسمان،وہ دلفریب چاند اور جھلملاتے تارے….اسے ہر چیز ہی اپنی بےبسی کا مذاق اڑاتی نظر آ رہی تھی۔
“سونی!تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟”اسے اپنے عقب سے مصطفی کی آواز سنائی دی تھی۔وہ پلٹی نہیں تھی۔
“سونی….!”مصطفی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“نینا….میرا نام نینا ہے۔”اس کا ہاتھ جھٹکتی وہ اندر کی جانب گئی تھی۔یہ ناراضگی کا اظہار تھا۔مصطفی اسے پیار سے سونی کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔
مصطفی اور نینا یونیورسٹی سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ان کی لو میرج ہوئی تھی۔یونیورسٹی میں ہر اک آنکھ انہیں رشک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔جہاں مصطفی بہت گڈ لکنگ اور ہینڈسم تھا وہیں نینا بےانتہا حسین تھی۔اس کا دودھیا رنگ اور پرکشش چہرہ کسی کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کر سکتا تھا۔اور اس کے حسن کو مزید چار چاند اس کے ٹھوڑی پر موجود وہ گہرا سیاہ تل لگاتا تھا۔دو بچوں کے بعد بھی وہ بہت زیادہ جوان دکھتی تھی۔اگر نائل اس کے ساتھ کہیں باہر جاتا تو وہ اس کی ماں کم اور بڑی بہن زیادہ لگتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوفی اور نائل کے نکاح کی طرح حاتم اور مانو کا نکاح بھی بہت سادگی سے رکھا گیا تھا۔جب سے حاتم کو اپنے باپ کے ارادوں کا پتا چلا تھا،اس نے خوب احتجاج کیا تھا مگر اس کی ایک نا سنی گئی تھی۔
نکاح سے پچھلی رات اپنا سامان باندھے وہ تو گھر چھوڑ کر جا رہا تھا جب دروازے پر ہی اس کے باپ نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔اور پھر اس کی وہ مار لگی تھی کہ صوفی اور شہلا نے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اسے بچایا تھا۔شہلا کے قسم دینے پر حاتم نے نکاح کے لیے حامی بھر ہی لی تھی۔
اسے اپنے باپ کی پسند سے نکاح کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا مگر ایک آٹھ سالہ بچی سے نکاح….اور وہ بھی تب جب وہ خود محض پندرہ سال کا تھا۔وہ بالکل بھی میچیور نہیں تھا۔اس کی فطرت میں اب بھی بچکانہ پن تھا۔
“مام!چاہے تو مجھے پھانسی لگا دیں مگر اس ٹڈی سے نکاح مت کروائیں۔”یہ نکاح سے پہلے آخری احتجاج تھا۔
“کل رات کی مار بھول گئے ہو تم….؟اگر ہاں تو پھر بات کر کے دیکھ لو اپنے ڈیڈ سے….”حاتم منہ بسور کر رہ گیا تھا۔
اسے بہت بری طرح سے مار پڑی تھی۔ٹانگوں اور ہاتھوں کے ساتھ منہ بھی سوج گیا تھا۔صوفی نے بہت مشکل سے میک اپ سے اس کی سوجھی آنکھ کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔
