93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 03

حاتم نے دھڑکتے دل کے ساتھ نل کے نیچے ہاتھ کیا تھا۔پانی کی ایک تیز دھار بہنے لگی تھی۔نل آٹو میٹک تھا۔
اب اس نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے تھے۔اس کے لاوے کی طرح جھلستے ہاتھوں پر یخ ٹھنڈے پانی کی پھوار پڑی تھی۔نین کو اپنی جانب دیکھتے پا کر حاتم نے کلی پھر ناک میں ڈالا تھا۔وہ وضو کر رہا تھا۔وہ اس کے سر پر کھڑی زبردستی اس سے یہ کروا رہی تھی۔وہ قاتل تھا،وہ سمگلر تھا،وہ دہشت گردی میں ملوث تھا…..اب اس نے ہاتھوں کے پیالے میں پانی بھرتے چہرے پر پھینکا تھا۔اس کی آنکھیں یکدم ہی جیسے کھلی تھیں۔اسے اپنے کیے تمام گناہ یاد آئے تھے۔بازو کہنیوں تک دھونے کے بعد اس نے مسح کیا تھا۔ایکدم سے اسے تقریبا بارہ سال پہلے کیا گیا پیماں یاد آیا تھا جو اس نے اعلانیہ کیا تھا۔اس نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کی تھی۔
پیر دھوتے اس کے ہاتھ کانپے تھے۔وہ دنیا کے لیے بلیک مونسٹر تھا،ڈیوڈ،ایک سفاک درندہ…..کسی کو موت تو کسی کو دردناک زندگی دینے والا….مگر آج اس کے ہاتھ کانپے تھے،کسی کو سزا دیتے ہوئے نہیں بلکہ وضو کرتے ہوئے…..
“چلو جلدی چلو…..”اس کے وضو کرتے ساتھ ہی وہ اس کا تر ہاتھ تھامتے اسے باہر لے کر گئی تھی۔
عینین نے آگے پیچھے دو جائے نماز بچھائے تھے۔اب احتیاط سے اپنا ڈوپٹے کے اوپر سے ہی اس نے ایک بڑی سیاہ رنگ کی چادر کا حجاب کیا تھا۔وہ سارے انتظام پہلے ہی کر چکی تھی۔
حاتم نے تر چہرے سے اپنا عکس ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں دیکھا تھا۔اس نے اپنا چہرہ نہیں پونچھا تھا۔نجانے کیوں وہ یہ نہیں کر سکا تھا۔آئینے میں چہرے پر چمکتی ننھی ننھی بوندیں دیکھ وہ لمحے بھر کو مسمرائز ہوا تھا۔
“عمر…..”عینین کی آواز پر اسے جیسے ہوش آیا تھا۔
“آؤ نا…..”وہ جائے نماز پر کھڑی مسکرا کر اسے بلا رہی تھی۔
حاتم کے قدم زنجیر ہوئے تھے۔کسی کا قتل کرنا اس کے لیے بےحد آسان تھا مگر جائے نماز پر نماز کے لیے کھڑے ہونا ایک کڑا امتحان تھا۔
من بھر کے قدم اٹھاتا وہ اس کی جانب بڑھا تھا۔جائے نماز پر کھڑے ہوتے اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔آج حقیقی مالک کے روبرو کھڑے ہوتے ساتھ ہی اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔نیت کے بعد اس نے نماز پڑھنا شروع کی تھی۔فاتحہ پڑھتے اس کے ہونٹ کپکپائے تھے۔رکوع میں جھکتے وہ گرتے گرتے بچا تھا۔سجدے میں جاتے ساتھ ہی اس کا دل بس باہر آنے کو تھا۔اس کے پورے وجود پر لرزا طاری ہوا تھا۔دل چاہا کہ بس یہیں سب چھوڑ کر یہاں سے بھاگ جائے مگر وہ یہ نہیں کر سکتا تھا۔اس سے تھوڑا پیچھے وہ نماز پڑھ رہی تھی۔وہ جو اس کی متاع جان تھی،اس کی کل کائنات تھی۔سلام پھیرتے ساتھ ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر عینین کی آواز پر اس نے آنکھیں بند کیے گہری سانس خارج کی تھی۔
“عمر…..”وہ مسکراتا ہوا اس کی جانب پلٹا تھا۔
“اب تم وہ کرو جو تمہیں کرنا چاہیئے۔”اس نے آکسائیڈ ہوتے کہا تھا۔
“کیا…..؟”حاتم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ تو تمہیں پتا ہونا چاہیئے نا…..”اس نے ایک خفیف نگاہ اس پر ڈالی تھی۔وہ دونوں ہی اس وقت آمنے سامنے جائے نماز پر بیٹھے تھے۔
“مجھے نہیں پتا….”اس کے لہجے میں تھکان کے ساتھ بیزاری بھی تھی۔
“مجھے فور ہیڈ کس دو۔”آنکھیں جھکائے عینین نے کہہ ہی ڈالا تھا۔وہ پہلے چونکا تھا،پھر اس کی آنکھوں میں بےیقینی ابھری تھی،پھر چمک…..پھر ایک دل فریب مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا اسے ہر گز امید نہیں تھی کہ وہ اس سے شادی کی پہلی رات اس قسم کی ڈیمانڈ کرے گی۔
اپنی جگہ سے تھوڑا آگے ہوتے وہ اس کے قریب گیا تھا۔عینین نے سختی سے آنکھیں میچی تھی۔حاتم نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔
“وعدہ کرو کہ ہمیشہ میرے ساتھ رہو گے اور مجھ سے محبت کرو گے۔”اس نے آہستگی سے کہا تھا جبکہ نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔
“میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک صرف تم سے محبت کروں گا۔تم میری عینین ہو۔تم عمر کی آنکھیں ہو۔آنکھوں کے بغیر دنیا تاریک نظر آتی ہے۔میری دنیا میں سارے رنگ صرف عینین کی وجہ سے ہیں۔”اس کے دونوں ہاتھ تھامتے وہ اسے عہد و پیماں کر رہا تھا۔دونوں اس وقت وضو میں تھے۔دونوں ہی ایک پاک چیز پر بیٹھے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سویرے وہ آئینے میں کھڑی میک اپ کر رہی تھی اور حاتم دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اسے اپنی نظروں میں سما رہا تھا۔
“عمر پلیز گھورنا بند کرو۔”وہ جھنجھلائی تھی۔
“میں تو گھوروں گا۔”اس نےڈھٹائی سے جواب دیا تھا۔
“میں تمہاری آنکھیں نکال دوں گی۔”درحقیقت اس کی نظروں کی تپش عینین کو پریشان کر رہی تھیں۔وہ ٹھیک سے نا تو میک اپ کر پا رہی تھی اور نا ہی بال برش….
“میری آنکھیں تو تم ہو۔”وہ اسے لاجواب کر گیا تھا۔
“حاتم تم…..”
“شش!حاتم نہیں عمر…..”اس کے لبوں پر انگلی رکھے حاتم نے اسے خاموش کروایا تھا۔
اس سے پہلے ان دونوں کے درمیان مزید کوئی بات ہوتی،حاتم کا فون بجا تھا۔وہ ایکسکیوز کرتا کمرے سے باہر گیا تھا۔عینین نے شکر کا کلمہ پڑھتے لبوں پر لپسٹک لگائی تھی۔پھر اس نے اپنے بالوں کو ٹھیک سے برش کیا تھا۔
ٹھیک پانچ منٹ بعد عینین کو کسی کی گرفت کا احساس ہوا تھا۔اسے کسی نے پیچھے سے ہگ کیا تھا۔
“I love you Nain.I really love you!”
اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔شرم کے مارے اس کا چہرہ گلال ہوا تھا۔
“میں بہت خوش قسمت ہوں جو تم میری زندگی میں ہو۔”اس کا رخ اپنی جانب موڑتے وہ نہایت خوشی سے گویا ہوا تھا۔
“میرے دو اہم کام کب سے نہیں ہو رہے تھے اور آج ابھی ہماری شادی کو ایک دن بھی نہیں گزرا اور دیکھو دونوں کام ہو گئے۔”اس نے محبت سے اس کی گال سہلائی تھی۔وہ مدھم سا مسکرا دی تھی۔
“تم ناشتہ کر لینا مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی۔”اس بات پر عینین کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔
“تم مجھے شادی کی پہلی صبح ہی چھوڑ کر جا رہے ہو؟”عینین نے منہ بنائے احتجاج کیا تھا۔
“بےبی بہت ضروری کام ہے۔آئی پرامس جلدی آنے کی پوری کوشش کروں گا۔”وہ بری طرح جھنپ گئی تھی۔
“بہت ظالم ہو تم…..جب زبان سے مجھے روک نہیں سکی تو یوں شرما کر روکنا چاہ رہی ہو۔”حاتم نے شرارت سے اس کی ٹھوڑی پر موجود تل کو چھوا تھا۔
“جی نہیں!ایسا کچھ نہیں ہے،تم جاؤ۔”وہ گڑبڑا کر رہ گئی تھی۔
“میں جلدی آ جاؤں گا۔پھر ہم ساتھ میں بہت سارا وقت گزاریں گے۔”وہ کہہ کر چلا گیا۔
عینین نے شرما کر اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے وقت سنیہا کچن میں گئی تھی۔اس نے اب گھر کے کاموں میں ہی دل لگا لیا تھا۔نائل کو وہ منہ تک نہیں لگاتی تھی اور نا ہی اس کا کوئی کام کرتی تھی۔اگر وہ خود بھی اسے مخاطب کرتا تو بھی وہ کان لپیٹ لیٹی تھی۔وہ اگر غصہ کرتا یا چیختا چلاتا تو وہ کانوں میں ہینڈ فری ڈال لیتی تھی۔مختصر یہ کہ وہ اسے ٹف ٹائم دے رہی تھی۔
“تمہارے صاحب کو کھانے میں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟”
“جی وہ چائنیز شوق سے کھاتے ہیں۔”سنیہا کا منہ بےاختیار کھلا تھا۔کس قدر جھوٹا شخص تھاوہ،جب اس نے چائنیز بنایا تھا تو اس نے کتنے آرام سے کہا تھا کہ اسے یہ پسند نہیں…..
“آج دوپہر کا کھانا میں بناؤں گی۔”سنیہا کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ملازمہ نے تابعداری سے سر ہلایا تھا۔
وہ کمرے میں لیٹا ہوا تھا جب وہ مسکراتی ہوئی اس کے قریب آ بیٹھی تھی۔وہ حیرانی سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔
“کھانا تیار ہے نائل جی!آپ آ جائیں۔”لہجے میں عسل سے بھی زیادہ مٹھاس تھی۔وہ حیران،پریشان اسے دیکھتا رہا تھا۔کچھ دنوں سے جو رویہ سنیہا کا تھا اس کے بعد اسے اس نرمی کی توقع نہیں تھی۔
“میں جانتی ہوں کہ میرا رویہ پچھلے کچھ دنوں سے ٹھیک نہیں تھا۔مگر اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔مجھے معاف کر دیجیں نائل جی!”سنیہا نے معصومیت سے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالے کہا تھا۔
“اٹس اوکے!”چلو کسی ایک جانب سے تو اسے سکون نصیب ہوا،وہ سوچ کر مطمئن ہوا تھا۔
“چلیں آ جائیں!”وہ چہکتے ہوئے اٹھی تھی۔وہ بھی مسکرا کر اس کے ساتھ ہی اٹھا تھا۔
ڈائینگ ٹیبل پر مختلف لوازمات سجے دیکھ نائل نے سراہتی نگاہوں سے سنیہا کو دیکھا تھا۔اسے اس کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا مگر اس بات کا اعتراف وہ زندگی بھر نہیں کر سکتا تھا۔
چاول کا پہلا چمچ منہ میں بھرتے ہی اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔وہ چاول کم نمک کی گھٹلی زیادہ لگ رہے تھے۔
“یہ کیا ہے سنیہا؟”نائل نے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“کیا ہوا پسند نہیں آئے؟”چہرے پر معصومیت سجائے اس نے استفسار کیا تھا۔
“یہ جانوروں کے کھانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔”نائل نے چمچ پلیٹ میں پٹختے حد سے زیادہ صاف گوئی سے کام لیا تھا۔
“میں نے بہت محنت سے سب بنایا تھا۔”لمحے بھر میں اس کی آواز بھرا گئی تھی۔پھر یہ بھرائی آواز کب ہچکیوں میں تبدیل ہوئی تھی،نائل اندازہ نہیں کر سکا تھا۔
“اس میں رونے والی کیا بات ہے؟غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں۔میں کچھ اور ٹرائے…..”وہ منہ پر ہاتھ رکھے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔
وہ ہکابکا وہیں بیٹھا رہا تھا۔سنیہا سے اسے اس قدر بچکانہ حرکت کی امید نہیں تھی۔
“اتنی سی بات پر کون روتا ہے؟”وہ سخت جھنجھلایا تھا۔بھوک تو ویسے ہی مر گئی تھی۔گہری سانس خارج کرتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔اب اس نے اپنے قدم کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔
“ایک سیکنڈ…..”اس نے اپنے بڑھتے قدموں کو وہیں روکا تھا۔
“میں اب اسے مناؤں گا؟”اس نے خود سے ہی دریافت کیا تھا۔
“یعنی میں نائل آفندی اسے مناؤں گا؟؟؟”سوال ایک بار پھر دہرایا گیا تھا۔
“ہر گز نہیں…..”اس نے اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔وہ تو خود نخرے دکھانے والوں میں سے تھا،اب کیسے کسی کے نخرے اٹھا سکتا تھا۔
کچھ دیر ادھر سے ادھر ٹہلنے کے بعد بالآخر اس نے اپنی انا کو مار کر کمرے کا رخ کیا تھا۔
رشتوں میں انا کی قربانی دینا ضروری ہوتا ہے۔کبھی کسی ایک کو تو کبھی دوسرے کو جھکنا ہی پڑتا ہے۔شوہر اور بیوی کا رشتہ نہایت خوبصورت رشتہ ہوتا ہے مگر وہ دونوں اسے بدسلوبی سے نبھائیں یا خوش اسلوبی سے،اس کا دارومدار انہیں پر ہوتا ہے۔
کمرے میں داخل ہوتے اسے چار سو چالیس والٹ کا جھٹکہ لگا تھا۔سارے کمرے میں جگہ جگہ ٹشو پیپرز بکھرے پڑے تھے۔پلنگ پر بیٹھی وہ اب بھی ٹشو سے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کر رہی تھی۔سسکیاں ابھی بھی جاری تھی۔رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں اور ناک دونوں سرخ ہو گئے تھے۔
“یہ تم نے کمرے کی کیا حالت بنائی ہوئی ہے؟”سنیہا جو اس کے ساتھ کر رہی تھی وہ نائل کی سمجھ سے باہر تھا۔
“آپ کو کمرے کی فکر ہے،میری نہیں…..”آنسو کی ندیاں ایک بار پھر بہنا شروع ہوئی تھیں۔
“سنیہا تمہیں کیا ہو گیا ہے؟”وہ حیران پریشان اس کے پاس بیٹھا تھا۔
“یہ سوال آپ مجھ سے نہیں خود سے کریں۔ایک تو عمر میں بھی مجھ سے بڑے ہیں،اوپر سے شادی شدہ بھی…..رنگ بھی تھوڑا پکا ہے اور آواز تو ہے ہی بےسری…..لیکن میں نے کبھی کچھ کہا؟”وہ سانس نہیں لے سکا تھا۔اپنی اتنی تعریف وہ بھی خود سے عشق کے دعوے کرنے والی کے منہ سے….اسے یہ ایک بھیانک خواب ہی لگا تھا۔
“آپ جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں،لیکن ہیں تو میرے شوہر ہی نا…..کم از کم میں کوشش تو کر رہی ہوں نا،ایک اچھی بیوی بننے کی….آپ کو بھی تھوڑا تعاون کرنا چاہیئے۔”اب جا کر ساری صورت حال اسے سمجھ آئی تھی۔وہ اسے زچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔اسے کے کہے الفاظ اسی پر الٹا رہی تھی۔
“سنیہا یہ بچکانہ حرکتیں بند کرو۔”وہ کوفت کا شکار ہوا تھا۔
“آپ بہت برے ہیں نائل!میری فیلنگ کی بالکل بھی قدر نہیں ہے آپ کو…..”وہ نم آواز کے ساتھ کہتی باہر گئی تھی۔
نائل نے گہری سانس ہوا میں خارج کی تھی۔
“اچھی بیوی تو میری قسمت میں ہی نہیں ہے۔”وہ سر جھٹکتا بڑبڑایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔