93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 03

حاتم اسے لاہور سے اسلام آباد لے آیا تھا۔عینین نے کافی بار اسے کہا تھا کہ وہ وہیں رہنا چاہتی ہے مگر حاتم نے اس کی ایک نہیں سنی تھی۔عینین نہیں چاہتی تھی کہ اسلام آباد میں اس کا سامنا نائل سے ہو مگر وہ حاتم کو انکار نہیں کر سکی تھی۔گاڑی کے رکتے ہی عینین نے ابھی ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا تبھی حاتم نے اسے روک دیا تھا۔خود باہر نکلتے وہ قدم قدم چلتا گاڑی کی دوسری جانب گیا تھا۔دروازہ کھولے اس نے خوشگواریت سے عینین کے آگے ہاتھ پھیلایا تھا۔پہلے وہ چونکی پھر اچانک ہی اس کے لب دھیرے سے مسکرائے تھے۔اس نے نہایت نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔اب وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔عینین نے مبہوت ہو کر اس کاخ کو دیکھا تھا۔شیشے کا کاخ……سفید بالکل سفید…..
اندر داخل ہوتے دونوں اطراف میں سبزہ ہی سبزہ تھا۔اس سبزے میں خوبصورت کونپلیں کھلی ہوئی تھیں۔
درمیان سے ایک ترچھی سڑک نکالی گئی تھی جس کے اطراف کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔تھوڑا آگے جاتے ملازم ان کے استقبال میں کھڑے تھے۔ان سب کے ہاتھ میں خوبصورت پھولوں کے بکے تھے۔وہاں گلاب کے علاؤہ ہر قسم کا پھول تھا۔سب نے ہی اسے استقبالیہ کلمات کہے تھے۔یہ سب عینین کے لیے بالکل نیا تھا۔اس کے تصور سے بالکل برعکس…..اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا شوہر اس سے اس قدر محبت کرتا ہے۔تھوڑا آگے جا کر پول بنایا گیا تھا۔اس پول دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی۔وہ ہارٹ شیپ میں تھا۔
“تو کیا یہ اس کے لیے بنایا گیا تھا؟”وہ دل ہی دل میں مخاطب ہوئی تھی لیکن لب ساکن ہی تھے۔اب وہ اسے اندر لے کر جا رہا تھا۔دونوں نے ہی سفید رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔عینین کا فراک لمبا اور گھیرے دار تھا جبکہ حاتم اس پر سفید پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا۔اس کی ہلکی بڑھی ہوئی شیو اس کی وجاہت میں اضافہ کر رہی تھی۔
دونوں نے ایک ساتھ اس محل میں قدم رکھا تھا،ان کی خوشیوں کا محل….
وہاں کا انٹیئر بہت مہنگا اور نایاب تھا۔ٹائلز اس قدر صاف ستھرے تھے کہ ان میں عکس واضح نظر آتا تھا۔اوپر چھت پر بڑے سائز کا جھومر لٹکا ہوا تھا۔ایک طرف بہت خوبصورت طرز کے صوفے رکھے ہوئے تھے۔
وہ ادھر ادھر نظریں گھماتی سحردہ سی آگے بڑھ رہی تھی۔
“تمہارا محل بہت خوبصورت ہے۔”دونوں اطراف میں گول،گھیرے دار سیاہ ٹائلز کے بنے زینوں کو دیکھ کر اس نے ستائشی لہجے میں کہا تھا۔وہاں ہر چیز سفید تھی سوائے ان زینوں کے…..لیکن جس رعنا انداز میں وہ بنائے گئے تھے وہ واقعی دیکھنے والے کی توجہ مبذول کرنے والے تھے۔
“یہ میرا نہیں ہمارا کاخ ہے۔”حاتم نے اس کی کلائی پکڑے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔
“اور ہمیں اب یہاں ساری زندگی رہنا ہے۔”حاتم نے میٹھی سرگوشی کی تھی۔وہ سر تا پیر سرخ ہوئی تھی۔
“تم آرام کرو،مجھے کچھ کام ہے۔رات میں تیار رہنا،میں نے تمہارے لیے سرپرائز پلین کیا ہے۔”عینین کی آنکھیں فورا چمک اٹھی تھیں۔
“کیسا سرپرائیز…..؟”وہ خود کو پوچھنے سے روک نہیں سکی تھی۔
“رات کا انتظار کرو۔”وہ منہ بسور کر رہ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“عمر ہم کہاں جا رہے ہیں؟”وہ اب کی بار جھنجھلائی تھی۔ایک تو یہ میکسی اوپر سے ہیلز اور آنکھوں پر بندھی پٹی…..اسے چلنے میں بےحد دشواری ہو رہی تھی۔
“سرپرائز ہے جاناں!”اس کا ہاتھ تھامتے وہ آہستگی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
“میں اتار رہی ہوں اسے….”اسے شدید کوفت محسوس ہوئی تھی۔
“سوچنا بھی مت…..”اس کی سخت آواز پر وہ منہ کے زاویے بنائے خاموش ہو گئی تھی۔
اسے آڑے ترچھے منہ بناتے دیکھ حاتم مسکرا دیا تھا۔کھلے بال،دونوں اطراف سے چند بالوں کو جوڑ کر خوبصورت چٹیاں بنائے،جن میں جگہ جگہ بیڈز لگائے ہوئے تھے۔بھورے بال نیچے سے کرل ہوئے ہوئے تھے۔بےبی پنک کلر کی خوبصورت سی میکسی پہنے جس کے گلے پر ہلکی مگر نفیس کڑاہی کی گئی تھی اور سفید ہیلز پہنے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے آگے بڑھ رہی تھی۔
ایک جگہ پہنچتے حاتم نے بہت آہستگی سے اس کی آنکھوں پر سے پٹی ہٹائی تھی۔
“Surprise…..”
عینین نے مسکرا کر دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔سامنے کا منظر دیکھ بےاختیار اس کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔وہ اسے ایک ریسٹورنٹ کے اوپری حصے میں لایا تھا۔
عینین کے قدموں تلے سرخ گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔اطراف میں سرخ ہارٹ شیپ کی بڑے سائز کی موم بتیاں سجائی گئی تھیں جو کہ تعداد میں بہت زیادہ تھیں۔
سامنے ایک دل نما بورڈ لگا ہوا تھا جس کے درمیان میں لائٹوں سے
“Will you marry me?”
لکھا تھا۔
ایک سائیڈ پر بہت خوبصورت ٹیبل سجی ہوئی تھی۔ٹیبل کا اور دونوں اطراف میں پڑی کرسیوں کا کور سرخ اور سفید امتراج کا تھا،یہاں تک کہ ٹیبل پر رکھا دس پاونڈ کا کیک بھی ریڈ ویلویٹ کا تھا۔
عینین کے پسینے چھوٹنے لگے تھے۔ہر طرف سرخ رنگ دیکھ کر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
“کیسا لگا سرپرائیز؟”حاتم نے تجسس سے پوچھا تھا۔
“خون…..لال رنگ…..”وہ بڑبڑائی تھی۔
آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر وہی سانحہ کسی فلم کی طرح گردش کرنے لگا تھا۔
“مار دیا،مار دیا،میری ماں کو مار دیا۔”وہ دیوانہ وار چیختے ہوئے وہاں سے ابھی بھاگی ہی تھی کہ حاتم نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیے اسے روکا تھا۔
“کہاں جا رہی ہو نین؟”
“مجھے جانے دو۔پلیز مجھے جانے دو۔”وہ بےبسی سے چلا اٹھی تھی۔
“میں نے یہ سب تمہارے لیے کیا ہے۔تمہیں پسند نہیں آیا کیا….؟”حاتم نے نرمی سے پوچھا تھا۔
“عمر میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔گھر چلتے ہیں۔”اس نے ہانپتے وجود کے ساتھ کہا تھا۔کسی بھی وقت وہ آپے سے باہر ہو سکتی تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ حاتم اس کا یہ روپ دیکھے۔
“کیوں گھر چلتے ہیں؟میں نے اتنی محبت سے تمہارے لیے یہ سب کیا ہے اور تم…..”
“مجھے جانا ہے۔”وہ اسے پرے دکھیلتی وہاں سے بھاگی تھی۔مگر سیڑھیوں تک پہنچتے اس کے قدم رکے تھے۔دروازہ بند تھا۔
عینین نے اسے کھولنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں کھل رہا تھا۔
“یہ نہیں کھلے گا نین!جب تک میں نہیں چاہوں گا یہ نہیں کھلے گا۔”اس کی جانب مڑے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے عمر نے اسے سائیڈ سمائل پاس کی تھی۔عینین کے قدم زنجیر ہوئے تھے۔آنکھوں میں بےیقینی ابھری تھی۔
“تو کیا وہ اسے جان بوجھ کر اذیت پہنچا رہا تھا؟؟؟”اس نے اپنی سوچ کے تسلسل کو یہی روکا تھا۔
“کیا ہوا تکلیف ہو رہی ہے؟”اس کے قریب آ کر وہ عجیب انداز میں گویا ہوا تھا جبکہ وہ اپنے ہواس کھوتی جا رہی تھی۔
“اب اور ہو گی۔”حاتم نے کہتے ساتھ ہی ایک بٹن دبایا تھا۔
اس دل نما بورڈ پر لگے الفاظ بھڑک اٹھے تھے۔آگ کے تیز شعلوں میں بھڑکتے وہ محبت بھرے الفاظ……
“Will you marry me
وہ چلا اٹھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کی چاندنی میں وہ کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے سے محسن کی آواز سنائی دی تھی۔
“اس کا سپیکر تو بند کرواؤ،میں پاگل ہو گیا ہوں۔”ماہم کی چیخ و پکار سے محسن شدید بیزار ہوا تھا۔
“یہ آوازیں مجھے سکون پہنچا رہی ہیں۔”وہ سر کو خم دیے مسکرایا تھا۔
“مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ بلاوجہ کیوں چلا رہی ہے؟”
“بلاوجہ نہیں چلا رہی۔اسے لگ رہا ہے کہ اسے شاکس دیے جا رہے ہیں۔”پچھلے دو دن سے اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔پٹی باندھنے سے پہلے نائل نے اسے رسی سے باندھ کر دو دفعہ الیکٹرک شاکس دیے تھے۔اب دو دن سے وہ مسلسل صرف ریکارڈنگ چلا رہا تھا جبکہ ماہم کو ہر آواز پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اسے شاکس دیے جاتے ہیں۔وہ اس کے دماغ کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
“ابھی تو میں ایسی ایسی الوژن بناؤں گا کہ وہ اپنا ذہنی توازن کھو دے گی۔”وہ اس کام میں ماہر تھا۔وہ جان بوجھ کر ایسی صورت حال پیدا کرتا تھا کہ سامنے والا شخص یقین کر لے کہ وہی حقیقت ہے مگر درحقیقت وہ محض ایک جھوٹ ہوتا تھا۔
“ٹھیک ہے فلحال چلتے ہیں یہاں سے،میرے کان پک گئے ہیں۔”
“ہممم…..”نائل نے سگریٹ نیچے پھینکے بوٹ تلے مسلی تھی۔
“ویسے جانا کہاں ہے؟”محسن کی باتوں سے وہ اتنا اندازہ تو لگا ہی چکا تھا کہ اس کا ارادہ گھر جانے کا بالکل بھی نہیں ہے۔
“کہیں باہر چلتے ہیں۔تم بھی تھوڑا فریش ہو جاؤ گے۔ساشا ویسے بھی گھر پر نہیں ہے اور نا ہی بچے،تو ہم…..”
“سوچنا بھی مت…..”اس کے ارادے بھانپتے نائل نے فورا ہاتھ کھڑے کیے تھے۔
“یار کچھ نہیں ہوتا نا…..”
“محسن تمہیں پتا ہے کہ میں نہیں پیتا۔میرے دماغ پر چڑھ جاتی ہے پھر مجھے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔”
“ایک آدھ پیگ سے کچھ نہیں ہوتا۔”
“ہر گز نہیں…..”نائل نے صاف انکار کیا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔مجھے تو پینے دو۔تم مت پینا۔”ان کی کلاس میں شراب پینا اور سگریٹ پینے جیسے عمل کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔یہ ان کے معمول کا حصہ تھا۔
کچھ دیر اس کی منتیں کرنے کے بعد وہ نائل کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے تقریبا ایک بجے وہ چکراتے سر کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔محسن نے زبردستی اسے دو گلاس وائن کے پلا دیے تھے۔اور وہ بےحد سٹرونگ تھی جس وجہ سے نائل سنبھل نہیں پا رہا تھا۔وہ سگریٹ ضرور پیتا تھا مگر شراب بہت کم…..
لڑکھڑاتے قدموں سے گرتے پڑتے وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا۔اتنی زور سے دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ ڈر کر نیند سے اٹھی تھی۔
“نائل…..”اس سے پہلے کہ وہ گرتا سنیہا نے اسے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔
“آپ نے پی رکھی ہے؟”وہ بےیقینی سے گویا ہوئی تھی۔
“محسن نے….اس نے پلا دی۔”وہ غنودگی میں بول رہا تھا۔
“آپ آئیں یہاں پر….”اسے سہارا دیے وہ بستر تک آئی تھی۔بستر تک پہنچتے وہ ڈھے گیا تھا۔
“بس اسی چیز کی کمی رہ گئی تھی۔”اس کے پاس بیٹھتے سنیہا نے افسوس سے اسے دیکھا تھا۔
اس کے اٹھنے سے پہلے ہی نائل نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
“صوفی،مت جاؤ۔پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔”وہ پھر سے وہی ورد کر رہا تھا جبکہ سنیہا کے تن بدن میں آگ سی لگ گئی تھی۔اس نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا۔
“صوفی،صوفی،صوفی…..تھک گئی ہوں میں یہ نام سن سن کر…..”وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“سنیہا کہاں ہے؟بتائیں نائل اس سب میں سنیہا کہاں ہے؟”اس کے پاس بیٹھے سنیہا نے اس کا گال تھپکتے جیسے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی تھی۔
“کیا آپ کو کبھی سنیہا سے محبت نہیں ہوئی؟”اس نے بھرائی آواز میں پوچھا تھا۔شاید وہ اس کے نشے میں ہونے کا فائدہ اٹھاتی سچ جاننا چاہتی تھی۔
“بتائیں نائل!سنیہا کے لیے آپ کے دل میں کیا ہے؟”اس کے گال پر ہاتھ رکھے وہ اس پر جھکی تھی۔وہ اب بھی نیم غنودگی میں تھا۔
“کچھ بھی نہیں…..کچھ نہیں ہے۔مجھے سنیہا نہیں چاہیئے۔مجھے صرف صوفی چاہیئے۔”وہ نیند میں پتا نہیں اور کیا کیا بڑبڑا رہا تھا جبکہ وہ اب مزید ایک لمحہ بھی وہاں نہیں رک سکی تھی۔
“اگر ایسا ہے تو پھر ٹھیک ہے نائل آفندی!”بالکنی میں آ کر اس نے گہری گہری سانسیں لیتے اپنے آنسو بےدردی سے صاف کیے تھے۔
“تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہیں سنیہا کی محبت ملے۔تم رہو اپنی اس صوفی اور اس کی محبت کے مقبرے کے ساتھ….میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی۔لیکن جانے سے پہلے ایک آخری جھٹکہ ضرور دوں گی تمہیں…..”وہ سرخ آنکھوں سے گویا ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نو بجے کے قریب نائل کی آنکھ کھلی تھی۔
“گڈ مارننگ ڈیئر ہسبنڈ!”سنیہا مسکراتی ہوئی اس کے پاس بیٹھی تھی۔
وہ حیران ہوا تھا،شدید حیران…..اسے اس خوشگوار رویے کی توقع نہیں تھی۔
“آئی۔ایم سوری!مجھے اس طرح پی کر گھر نہیں آنا چاہیئے تھا۔”وہ شرمندہ تھا۔
“کوئی بات نہیں!جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔آپ نے میری بہت بڑی مشکل آسان کر دی۔”
“کیسی مشکل…..؟”بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے وہ بھی مسکرا کر گویا ہوا تھا۔
“سرپرائز ہے۔وقت آنے پر بتاؤں گی۔”اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھری تھی۔
“کل رات میں نے کوئی فضول بکواس تو نہیں کی نا؟”
“نہیں!بالکل نہیں…..”نفی میں سر ہلاتے وہ مدھم سا مسکرائی تھی۔وہ ریلیکس ہو گیا تھا۔