Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 54)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 54)
(دو مہینے بعد )
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ ہر حال میں گزر ہی جاتا ہے۔کسی کے لیے اڑتے کبوتر کی طرح تو کسی کے لیے کچھوے کی رفتار سے…..
اسے اس قید میں دو مہینے ہو چکے تھے۔حالت بد سے بدتر ہو گئی تھی۔وہ اپنا ہوش و ہواس تقریبا کھو بیٹھی تھی۔وجہ وہ انجیکشن تھے جو باقاعدگی سے اسے دیے جاتے تھے۔وانیہ نے بہت جلد ہی خود کو آزاد کروا لیا تھا مگر اس کے وہاں سے بھاگنے سے پہلے ہی وہ پکڑی جا چکی تھی۔تب سے ماہم اسے انجیکشنز دیتی تھی تا کہ وہ ہوش میں ہی نا رہ سکے۔وانیہ کو قابو کرنے کا واحد یہی طریقہ تھا۔
ابھی بھی وہ کمرے کے ایک کونے میں بےسود پڑی تھی جب ماہم نے اس کے منہ پر پانی کا جگ انڈیلا تھا۔وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔
“تمہارے بھائی نے کال کر کر کے دماغ خراب کر دیا ہے۔بات کرو اس سے اور خبردار جو کوئی چالاکی کی تو….”وانیہ نے آدھ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی۔بکھرے ہوئے بال،عجیب سی حالت،بالکل زرد پڑتا چہرہ اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے…..وہ کسی طرح سے وانیہ نہیں لگ رہی تھی۔
“اگر کوئی چالاکی کی تو پھر انجیکشن دے دوں گی میں تمہیں….”
“نہیں!نہیں!پلیز نہیں…..”وہ ڈر کر پیچھے ہٹی تھی۔
“تو پھر کوئی ہوشیاری مت کرنا۔”اسے دھمکی دیے ماہم نے نائل کو کال ملائی تھی۔
“یہ لو کر لو اپنی بہن سے بات۔بہت مشکل سے منایا ہے میں نے،یہ تو راضی ہی نہیں ہو رہی تھی۔”ماہم نے کہتے ساتھ ہی فون سپیکر پر رکھا تھا۔
“وانیہ میری جان،میرا بچہ!اب چھوڑ دیں نا یہ ناراضگی….بہت مس کر رہا ہوں آپ کو،پلیز واپس آ جاؤ۔”وانیہ کی آنکھوں میں سیلاب امڈ آیا تھا۔اس نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب ماہم نے اسے گھورا تھا۔
“آپ کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟جب میں نے کہہ دیا کہ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی تو نہیں کرنی۔کیوں بلاوجہ مجھے تنگ کرتے ہیں؟”وہ اپنی پوری قوت سے چلائی تھی۔
“میرا بچہ….”
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی مسٹر نائل آفندی!مجھے دوبارہ کال مت کیجیے گا۔”ماہم نے فورا ہی کال کاٹ دی تھی جبکہ دوسری طرف نائل کے دل پر چھریاں چلی تھیں۔وانیہ نا تو خود پاکستان آنے کی روادار تھی اور نا ہی وہ نائل کو آنے دے رہی تھی۔نائل اسے لے کر بہت زیادہ پریشان تھا۔وہ جب بھی وہاں آنے کا سوچتا تو ماہم اسے اپنی باتوں میں لے آتی تھی۔
فون کے کٹتے ساتھ ہی وانیہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“میں تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔تم جو کہو گی میں کروں گی۔”اس نے سر جھکائے ہار مانی تھی۔مزید کوئی بھی ٹارچر وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔
“شاباش!شاباش میری گڑیا!”ماہم کا پور پور خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔
“لیکن تمہیں بھی اپنا وعدہ نبھانا ہو گا۔اس سب کے بعد تم مجھے جانے دو گی۔”
“ہاں ہاں کیوں نہیں….؟”
“چلو تم جا کر شاور لو پھر ہم چلتے ہیں۔”ماہم اس سے وہ زہر بنوانا چاہتی تھی اور پھر وہ لوگ اسے آگے بیچنا چاہتے تھے۔وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس کی بہت ڈیمائنڈ ہو گی۔پہلے پہل تو وہ اور الیکس چاہتے تھے کہ وانیہ ان کے لیے کام کرے مگر بعد از ماہم کو احساس ہو گیا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے لہذا اب وہ اس سے صرف فارمولا حاصل کرنا چاہتے تھے۔
وانیہ چینج کرنے کے بعد ماہم کے کمرے میں گئی تھی۔ماہم اب اسے زنجیروں میں قید نہیں رکھتی تھی کیونکہ ان نشہ آور انجیکشنز کی وجہ سے وہ اتنی سکت ہی نہیں رکھتی تھی کہ کچھ کر سکے۔
ماہم کو کمرے میں نا پا کر وانیہ تیزی سے اس کی الماری کی جانب بڑھی تھی۔لاکر کو ایک ٹیکنیک سے کھولنے کے بعد اس نے فورا اپنا ٹوٹا ہوا موبائل نکالا تھا۔آج اس کا دماغ کچھ حد تک کام کر رہا تھا کیونکہ دو دن سے اسے کسی قسم کا انجیکشن نہیں دیا تھا۔اپنا کام نکلوانے کے لیے اس کا وانیہ کو ہوش میں رکھنا بےحد ضروری تھا۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ فون کہاں رکھا ہوا ہے لیکن ادویات کے زیر اثر وہ ہوش کھو بیٹھتی تھی۔
وانیہ چپ چاپ وہ فون اٹھائے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔کمرے میں آتے ہی اس نے اچھی طرح سے فون ایک جگہ چھپا دیا تھا۔
اب وہ ماہم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر کسی جگہ گئی تھی۔وہ ایک لیب تھا۔ماہم اور دو اور لوگوں کی نگرانی میں وانیہ نے کام شروع کیا تھا۔اس کا ارادہ کسی صورت بھی وہ پوئزن بنانے کا نہیں تھا۔وہ کافی دیر مختلف قسم کی ڈیمانڈز کر کے ٹائم ضائع کر رہی تھی۔دو گھنٹے کام کرنے کے بعد وہ لوگ واپس گھر آئے تھے۔وانیہ نے ماہم سے جھوٹ بولا تھا کہ یہ سب کرنے میں اسے تقریبا ایک ہفتہ لگے گا۔
رات کے تقریبا بارہ بجے وانیہ آہستگی سے اپنے بستر سے اٹھی تھی۔آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد وہ فون ٹھیک کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔اس کا پاسٹپورٹ،ویزا،موبائل،لیپ ٹاپ سب ماہم کے قبضے میں تھا۔
وانیہ نے نائل کو کال ملانے کا سوچا تھا پھر اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا تھا۔اس وقت پاکستان میں کافی وقت ہو گیا تھا لہذا اس نے فجر کے وقت اسے کال کرنے کا سوچا تھا۔جو بھی تھا،وہ اس کا بھائی تھا۔وہ یقینا اس پر یقین کرے گا۔وہ اسے سب کچھ بتانے کا ارادہ کر چکی تھی۔
اپنے اوپر بیتے ہر ستم کو یاد کرتے وانیہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔اس نے نجانے کیا کیا برداشت کیا تھا۔
یہ رات اس پر بہت بھاری گزری تھی مگر اس نے جیسے تیسے گزار ہی لی تھی۔
صبح کے تقریبا پانچ بجے وانیہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے نائل کو کال ملائی تھی۔اب پہلے جیسا تعلق ان دونوں کے درمیان نہیں رہا تھا جس وجہ سے وہ جھجھک رہی تھی۔پاکستان اور لندن کے ٹائم میں تقریبا چار سے پانچ گھنٹے کا فرق تھا۔
کمرے میں پڑا نائل کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔بیل کی ہر رنگ کے ساتھ وانیہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔
سنیہا ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔اس نے آگے بڑھ کر نائل کا فون اٹھایا تھا۔وہ اس وقت کمرے میں موجود نہیں تھا۔
نائل سنیہا کی حفاظت کے تحت اسے اپنے گھر لے آیا تھا مگر ان دونوں کے درمیان حالات ابھی بھی بہتر نہیں ہوئے تھے۔وجہ سنیہا کا بےجا شک تھا۔
“My love…..”
موبائل کی سکرین پر جگمگاتا نام دیکھ سنیہا کا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔غصے کی ایک شدید لہر اس کی آنکھوں میں دوڑی تھی۔
“اس کا مطلب میرا شک ٹھیک تھا۔جس محبت کا نائل دم بھرتے ہیں وہ مری نہیں بلکہ زندہ ہے۔اسے تو میں سبق سکھاتی ہوں۔”اس نے غصے سے کال ریسیو کی تھی۔
“کون….؟”وانیہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سنیہا نے کٹیل لہجے میں پوچھا تھا۔وانیہ نے فون کان سے ہٹا کر ایک بار پھر نمبر دیکھا تھا۔
“آپ کون….؟”اس کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
“فون تم نے کیا ہے تو تم بتاؤ نا….؟”اس کے لہجے میں نفرت اور ہتک تھی۔
“یہ….یہ نمبر تو نائل آفندی کا ہے نا؟؟”وانیہ نے تصدیق چاہی تھی۔
“جی بالکل انہی کا ہے اور میں ان کی بیوی بات کر رہی ہوں،اور فلحال ہم دونوں بہت زیادہ مصروف ہیں۔وہ کیا ہے نا میرے شوہر مجھ سے بےپناہ محبت کرتے ہیں اور ابھی بھی ہم ہنی مون پر آئے ہوئے ہیں۔آپ کی تعریف؟؟”وانیہ کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر گرا تھا۔اس کی آنکھوں میں بےیقینی کا سمندر تھا۔
“بھائی نے شادی کر لی؟”منہ پر ہاتھ رکھے اس نے اپنی سسکیوں کا گلا گھوٹا تھا۔
“مجھے بتایا تک نہیں….؟پھوپھو ٹھیک کہتی ہیں بھائی کی زندگی میں میری کوئی اہمیت نہیں ہے۔”ایک لمحہ لگا تھا اسے نائل سے بدگمان ہونے میں….
دوسری طرف سنیہا نے وانیہ کا نمبر بلاک کر کے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
“مجھے یہاں سے باہر نکلنا ہے۔”وانیہ نے اپنے آنسو پونچھے تھے۔
“مگر میں جاؤں گی کہاں؟”
“لاہور….”اس کے لب ہلے تھے۔عائزہ کے پیرینٹس لاہور میں رہتے تھے۔وہ وہاں جا سکتی تھی۔
وانیہ نے فورا عائزہ کا نمبر ملایا تھا۔اور اس سے مدد مانگی تھی۔وہ فون پر اسے سب نہیں بتا سکتی تھی بس اس نے فلائیٹ بک کروانے کے لیے عائزہ سے پیسے مانگے تھے۔عائزہ نے دوستی کا حق ادا کرتے وانیہ کی مدد کے لیے حامی بھری تھی۔
صبح ناشتہ کرنے کے بعد ماہم نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔وانیہ چپ چاپ اس کے پیچھے چل دی تھی جبکہ اس نے فروک کی جیب میں کچھ چھپایا ہوا تھا۔وہ ایک سانپ کا زہر تھا جسے وہ کل چھپ کر ایک انجیکشن میں بھر لائی تھی۔دروازے تک پہنچتے وانیہ نے موقع کا فائدہ اٹھاتے پیچھے سے ماہم کی گردن میں انجیکشن کھبو دیا تھا۔ایک ہی جھٹکے میں وہ سارا زہر اس کی رگوں میں اتار چکی تھی۔
“تم اتنی آسان موت ڈیزرو نہیں کرتی مگر فلحال میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔”زہر اس قدر طاقتور تھا کہ اس نے فورا ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔وہ تڑپتے وجود کے ساتھ زمین پر گری پڑی تھی۔ہونٹوں سے جھاگ نکل رہی تھی اور سارا جسم ہی نیلا پڑا تھا۔
یہ وانیہ کی زندگی کا پہلا قتل تھا۔وہ بھاگتی ہوئی ماہم کے کمرے میں گئی تھی۔اپنا پاسپورٹ اور ویزا اٹھائے اب وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔سامان تو وہ پہلے ہی پیک کر چکی تھی۔
اب اسے بس کسی بھی طرح ائیر پورٹ پہنچنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
