93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 62) Part 01

“یہ لو تمہارے پیپرز…..!”نائل نے پیپرز اسے تھماتے کہا تھا۔خود وہ صوفے پر ڈھے گیا تھا۔اس کے چہرے پر تھکن کے آثار واضح تھے۔

“اتنی جلدی….”سنیہا کی زبان خودبخود پھسلی تھی۔وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی۔

“میری بیوی کی فرمائش تھی،پوری تو کرنی تھی نا…..”وہ تھکے تھکے انداز میں مسکرایا تھا۔ایک لمحے کے لیے وہ دم بخود رہ گئی تھی۔کیا اس نے واقعی “میری بیوی” کہا تھا یا پھر اسے سننے میں غلطی ہوئی تھی۔

“سائن کر دیے آپ نے…..؟ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو چھپاتے اس نے مضبوط لہجے میں پوچھا تھا۔

“تم نے تو کہا تھا کہ تمہارے سامنے کروں۔”نائل نے عجیب انداز میں اسے دیکھا تھا۔

“جی…..”وہ بدقت مسکرائی تھی۔

“سائن کی فکر ہے تمہیں،اور شوہر کی بالکل بھی نہیں…..ایک کپ اچھی سی کافی ہی پلا دو۔”

“جی لاتی ہوں۔”وہ سر جھکائے کمرے سے باہر گئی تھی۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی تو نائل پلنگ کے پاس کھڑا تولیے کی مدد سے اپنا منہ صاف کر رہا تھا۔گیلے بال اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔

سیاہ رنگ کی جینز کے اوپر فروزی رنگ کی ٹی شرٹ پہنے وہ بہت ہی ہینڈسم دکھ رہا تھا۔وہ نظریں ہٹانا بھول گئی تھی۔صاف پانی کی کچھ بوندیں اب بھی اس کے چہرے پر عیاں تھیں۔سنہری پرکشش آنکھیں،بیضوی چہرہ،کسرتی جسامت…..آخر کیا نہیں تھا اس شخص کے پاس؟؟؟کوئی بھی لڑکی با آسانی اپنا سب کچھ اس پر ہار سکتی تھی۔

کاش کہ وہ صرف اس کا ہوتا۔کاش کہ وہ محو غم دوش نا ہوتا،کاش…..اس کاش کے آگے کچھ نہیں تھا،سوائے حسرتوں کے….

“Thank you!”

سنیہا کو ہوش تب آیا تھا جب نائل نے اس کے ہاتھوں سے کافی کا مگ تھاما تھا۔

“پین لا دو۔”صوفے پر بیٹھتے اس نے کافی کا ایک سپ لیا تھا۔

“کیوں…..؟”

“سائن نہیں کرنے کیا…..؟”اسے دیکھتے وہ عجیب انداز میں ہنسا تھا،گویا اس کی عقل پر ماتم کیا ہو۔

سنیہا کا دل جیسے مٹھی میں بند ہوا تھا۔

“کیا یہ سب کرنا ضروری ہے؟؟؟”دل نے سوال اٹھایا تھا۔

“شاید ہاں…..”دماغ نے فورا سگنل دیا تھا۔وہ آج اچھا تھا مگر کل دوبارہ اس کا وہی رویہ ہونا تھا۔وہ اچھے سے سمجھ چکی تھی کہ اس کی سرشت کسی صورت تبدیل نہیں ہونے والی۔

سنیہا نے دھڑکتے دل کے ساتھ نائل کو پین پکڑایا تھا۔کافی کا مگ سائیڈ پر رکھے نائل نے فائل اٹھائی تھی۔سنیہا بھی اس کے پاس بیٹھ گئی تھی۔اس کے سائن کرنے سے پہلے ہی وہ مگ کو ہاتھ مار کر اس کی شرٹ پر کافی گرا چکی تھی۔

“آئی۔ایم۔رئیلی سوری!میں نے جان کر نہیں کیا۔”اس نے یہ سب جان کر ہی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ ایسے بدحواس ہوئی تھی جیسے یہ انجانے میں ہوا ہو،وجہ نائل کا خوف تھا۔

“اٹس اوکے!”اپنی شرٹ صاف کرتے وہ کھڑا ہوا تھا۔ساتھ ہی ساتھ اس نے ایک اچنٹی نگاہ سنیہا پر ضرور ڈالی تھی۔

“میں اور شرٹ نکال دیتی ہوں۔”سنیہا نے نائل کو شرٹ لا کر دی تھی۔وہ چپ چاپ چینج کرنے چلا گیا تھا۔

اس کے جاتے ہی وہ بھاگ کر شیلف کی جانب گئی تھی جہاں اور بہت سی فائلز پڑی تھیں۔ان میں سے ایک فائل نکال کر اس نے پیپرز نکالے تھے۔ہاتھوں میں لرزش کی وجہ سے پیپرز زمین بوس ہوئے تھے۔اس نے جھکتے ساتھ ہی پیپرز اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر میز سے پیر ٹکرانے کی وجہ سے وہ وہیں گر گئی تھی۔درد کی شدت کے احساس سے آنکھوں سے پانی ابلنے لگا تھا۔بےدردی سے اپنے گال رگڑتے وہ اٹھی تھی۔اس نے جلدی سے فائلز میں موجود پیپرز کو تبدیل کیا تھا۔

آنکھوں سے ایک بار پھر پانی بہنے لگا تھا مگر اب بہت دیر ہو گئی تھی۔اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی۔

نائل کے باہر آتے ہی وہ الرٹ ہوئی تھی۔نائل نے مسکرا کر ایک نظر اس کے گم صُم چہرے پر ڈالی تھی اور دوسری نظر ان پیپرز پر…..

سنیہا کا دل زور و شور سے دھڑک رہا تھا۔اگر وہ پیپرز پڑھ لیتا تو……

نائل نے فائل اٹھائے پین پکڑا تھا۔اس کے پین کھولتے ہی سنیہا کی حالت غیر ہوئی تھی۔

ایک…..دو…..تین…..اس کا دل زور و شور سے دھڑکا تھا۔

پیپرز سائن کیے نائل نے اس کی جانب بڑھائے تھے۔پیپرز تھامنا تو دور وہ تو سانس بھی نہیں لے سکی تھی۔

“سنیہا……”نائل نے اسے پکارا تھا مگر وہ نہیں سن پا رہی تھی۔

“تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی،تمہیں آرام کرنا چاہیئے۔”فائل ٹیبل پر رکھے اس نے سنیہا کا گال تھپتھپایا تھا۔وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔

“مجھے سیلون جانا ہے۔”اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی سنائی دی تھی۔

“ٹھیک ہے چلی جاؤ۔”وہ آج کل اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگا رہا تھا۔سنیہا کا فون تو وہ کب کا اسے واپس کر چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نائل محسن کے ساتھ لنچ کرنے ریسٹورنٹ گیا تھا۔

“کل میری سالگرہ ہے،اور اپنی سالگرہ پر میں اسے رنگ گفٹ کروں گا۔”نائل کا چہرہ کافی ہشاش بشاش تھا۔

“اچھا جی…..”محسن نے ایک شاکی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔

“میں نے اعتراف کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میں اسے سب بتا دوں گا،سب کچھ…..جو بھی میرے دل میں ہے۔”نائل کے لبوں پر دل فریب مسکراہٹ بکھری تھی۔

“میں نے ایک ٹرپ بھی پلین کیا ہے۔میں ہر چیز کا مداوا کرنا چاہتا ہوں۔میں اب مزید اسے کوئی دکھ نہیں دوں گا۔اسے لگتا ہے کہ میری زندگی میں کوئی اور ہے۔شاید میرے اعتراف سے اسے یقین آ جائے۔”وہ اپنی نئی زندگی کا سوچتے کافی مطمئن نظر آ رہا تھا۔

“دیر آئے درست آئے۔”محسن نے بھی شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔نجانے نائل کو عقل کیسے آئی تھی مگر صد شکر کہ آ ہی گئی تھی۔

کھانا کھانے کے دوران محسن کو ایک ضروری کال آئی تھی۔وہ ایکسکیوز کرتا وہاں سے اٹھا تھا۔

نائل کچھ دیر ادھر ادھر نظریں دوڑائے اس کا انتظار کرتا رہا تھا پھر اس کی نظر شیشے کے پار ایک میز پر بیٹھے دو لوگوں پر پڑی تھی۔

ایک عورت اور اس کے ساتھ بیٹھا ایک مرد…..

وہ رو رہی تھی جبکہ وہ اسے دلاسہ دے رہا تھا۔اس لڑکی کا ہاتھ اس لڑکے کے ہاتھ میں تھا۔نائل کی قوت صلاحیت جیسے سلب ہوئی تھی۔

وہ کوئی اور نہیں اس کی بیوی تھی جو ایک غیر مرد کے ہاتھ میں ہاتھ دیے بیٹھی تھی۔

کس قدر مطمئن تھی وہ…..؟اسے ایک لمحے کے لیے بھی یہ خوف نہیں آیا کہ وہ کسی کی بیوی اور کسی کی امانت ہے۔

وہ آپے سے باہر ہوتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“سنیہا تم میری بات…..”اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالے کبیر نے ابھی جملہ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ کس نے اسے گریبان نے پکڑ کر اٹھایا تھا۔

نائل نے بغیر کسی لحاظ کے اس کے منہ پر دو مکے جڑے تھے۔اب اس کا دائیاں ہاتھ پکڑتے اس  نے کبیر کی انگلی توڑ ڈالی تھی۔یہ سب کرنے میں اسے محض دس سیکنڈ لگے تھے۔

سنیہا حواس باختہ ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ساری صورتحال سمجھنے کے لیے اسے وقت درکار تھا لیکن نائل نے اسے وہ وقت نہیں دیا تھا۔کبیر کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر پھرتی سے میز سے فورک اٹھائے اس نے اس کا ہاتھ کھینچے فورک اس کے ہاتھ میں پیوست کیا تھا۔کبیر کراہ اٹھا تھا۔چیخی تو سنیہا بھی تھی۔

“دوبارہ میری بیوی کو چھونے کی کوشش کی تو تمہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کے آگے ڈال دوں گا۔تمہارے گھر والے ساری زندگی بھی ان ٹکڑوں کو ڈھونڈھتے رہے گے تو بھی نہیں ملے گے۔”ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتا ہوٹل کی انتظامیہ کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی سنیہا کی کلائی دبوچے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔اس ساری کاروائی میں اسے صرف چالیس سیکنڈ لگے تھے۔

اسے فرنٹ سیٹ پر پٹختے اس کی تمام تر آہ پکار کو نظرانداز کرتے وہ گاڑی کو فراٹے سے اڑا لے گیا تھا۔

فون کال کرنے کے بعد محسن جب واپس لوٹا تھا تو نائل وہاں نہیں تھا۔ایک جگہ ہجوم دیکھ کر وہ وہاں پہنچا تھا۔

“سر یہ اس شخص کے ساتھ تھے۔”ایک ویٹر جس نے انہیں کھانا سرو کیا تھا،وہ محسن کو پہچان گیا تھا۔مجمعے کی نظریں اپنی جانب مبذول دیکھ محسن گھبرا گیا تھا۔سامنے کرسی پر بےسود کراہتے ہوئے شخص کو دیکھ اس کے گلے میں گلٹی ابھری تھی۔دل سے نجانے کیا کیا صلواتیں نائل کے لیے نکلی تھیں۔

وہ خود تو چلا گیا تھا مگر نتائج محسن کو بھگتنے پڑے تھے۔کہاں وہ آج نائل کے پیسوں پر لنچ کرنے آیا تھا اور کہاں اس بیچارے کو ہسپتال کے بل سے لے کر پولیس کو رشوت تک دینی پڑی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاروں بھری جگمگاتی شب میں وہ اضطراب کی حالت میں کمرے میں بار بار اپنا ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھی۔

حسین سراپے میں نکہت سے مہکی،ہلکی پھلکی جیولری پہنے وہ آج حاتم کو چاروں خانے چت کا ارادہ رکھتی تھی۔تھوڑی دیر بعد ان کا نکاح تھا۔وہ سفید رنگ کے خوبصورت فراک میں ملبوس،سر پر گلابی رنگ کا ڈوپٹہ ٹکائے کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔

مولوی صاحب کے آتے ہی ملازمہ اسے نیچے لے کر گئی تھی۔

عینین کا دل جیسے اس کی ہتھیلی پر آیا تھا۔وہ لاکھ بہادر سہی مگر تھی تو وہ ایک لڑکی ہی…..اس موقع پر ہر عام لڑکی کی طرح وہ بےحد گھبرائی ہوئی تھی۔ایک نئی زندگی کا آغاز اس کے لیے آسان نہیں تھا۔

“وانیہ آفندی آپ کا نکاح حاتم خانزادہ ولد ہارون خانزادہ کے ساتھ حق مہر پچس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔کیا آپ کو قبول ہے؟”وہ ٹھٹکی تھی۔اس نے نظر اٹھا کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا تھا۔وہ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“وانیہ آفندی آپ کا نکاح حاتم خانزادہ ولد ہارون خانزادہ کے ساتھ حق مہر پچس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے۔کیا آپ کو قبول ہے؟”مولوی صاحب نے دوبارہ اپنے الفاظ دہرائے تھے۔

وہ کنفیوژ ہو کر کبھی حاتم کو تو کبھی مولوی صاحب کو دیکھ رہی تھی۔اس کا نکاح تو عمر سے ہونا تھا تو پھر یہ حاتم کون تھا؟

“نین…..”حاتم نے اسے پکارا تھا۔

“مجھے قبول نہیں ہے۔”وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔حاتم کا دماغ تو بھک سے اڑا تھا۔اس کی تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب ہو گئی تھی۔

“نین تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟”وہ غصے سے اس کی جانب بڑھا تھا۔

“بیٹا!کیا اس نکاح میں آپ کی مرضی شامل نہیں ہے؟اگر ایسا ہے تو کوئی آپ کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا۔”حاتم نے ایک کڑی نگاہ اس عمر رسیدہ شخص پر ڈالی تھی۔اگر عینین یہاں موجود نا ہوتی تو وہ اسے یہی ٹھوک دیتا۔

“مجھے نہیں کرنا یہ نکاح….”اس نے بھرائی آواز میں کہا تھا۔

“نین تم یہ کیا رہی ہو،تم ہوش میں تو ہو؟”حاتم نے دیوانوں کی طرح اسے تھامتے پوچھا تھا۔

“میں پورے ہوش و ہواس میں ہوں۔”عینین نے اس کا ہاتھ جھٹکتے کہا تھا۔

“تم مجھے دھوکہ دے رہے ہو۔مجھ سے محبت کے دعوے کر کے تم میرا نکاح کسی فضول حاتم سے کروا رہے ہو۔تم ایسا کیسے کر سکتے ہو عمر؟”وہ ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔اس کی بات سنتے جہاں اس کی اٹکی سانس بحال ہوئی تھی وہیں سر بھی گھوم گیا تھا۔

وہ بچپن سے ہی اس کے سر کا درد تھی تو شادی والے دن وہ کیسے اسے بخش سکتی تھی؟؟

“نین میری جان!حاتم میں ہی ہوں۔”حاتم نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے یقین دلایا تھا۔

“مگر تم تو عمر…..”

“وہ بھی میں ہی ہوں۔”عینین کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔بیس منٹ اسے سب سمجھا بجھا کر بالآخر یہ نکاح جیسا عظیم کارنامہ سر انجام دے ہی دیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر لا کر نائل نے اسے بستر پر پٹخا تھا۔اصل جھٹکہ تو اسے تب لگا تھا جب اس نے کمرے کے ایک کونے میں بیگ پیک دیکھا تھا۔

“اوہ!تو تیاری پوری رکھی ہوئی ہے تم نے…..”اسے مزید طیش آیا تھا۔

“آپ غلط سمجھ رہے ہیں،میں…..”سنیہا نے ابھی سسکتے جملہ بھی مکمل نہیں کیا تھا جب نائل نے اسے بازو سے دبوچے کھڑا کیا تھا۔

“مجھے چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہو تم…..؟” وہ غرایا تھا۔

“نہیں!میں…..”نائل کی انگلیاں اسے اپنے بازو میں دھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔زبان سے ایک لفظ بھی نکلنا محال تھا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ بےوفائی کرنے کی؟”وہ بالکل آپے سے باہر ہوا تھا۔

“بتاؤ کس کی اجازت سے تم گئی تھی اس دو ٹکے کے شخص سے ملنے؟”وہ شدید غصے میں تھا۔

“آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔”وہ درد سے کراہتی منمنائی تھی۔

“یہی ہاتھ دیا تھا نا اس کے ہاتھ میں…..”اس کا بائیاں ہاتھ سختی سے دباتے نائل نے سرخی مائل آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔

“بتاؤ کیا کروں میں تمہارے اس ہاتھ کے ساتھ؟”وہ جنونیت کی انتہا پر تھا۔

“کیا سزا دوں میں تمہیں…..؟میری امانت ہو تم،کیسے خیانت کی تم نے…..؟”

“بولو کیسے کیا تم نے یہ…..؟تم میری ہو،صرف میری….پھر کیوں کیا تم نے یہ…..؟”

“جب خود میرے سامنے کسی اور کا ذکر کرتے ہیں تب خیال نہیں آتا؟”اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کرتے وہ چیخ اٹھی تھی۔اس میں یہ ہمت کہاں سے آئی تھی وہ خود نہیں جان سکی تھی۔

“صوفی،صوفی،صوفی!میں بھی تو سارا دن یہ نام سنتی رہتی ہوں نا….بہت محبت کی میں نے آپ سے،ہر ظلم،ہر ستم برداشت کیا مگر جب اس رات نشے کی حالت میں آپ نے کہا نا کہ آپ کو صرف صوفی چاہیئے سنیہا نہیں….میری ذات مٹی کا ڈھیر ہو گئی۔”ایک بار پھر اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔

“میں جس کا ذکر کرتا ہوں،وہ کوئی غیر نہیں بلکہ میری بیوی تھی۔”

“ہاں تو میں بھی جس کے ساتھ بیٹھی تھی وہ بھی کوئی غیر نہیں تھا،میرا بھائی تھا۔وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا۔آپ کو بتا کر جاتی تو کبھی نا جانے دیتے،اس لیے نہیں بتایا۔”وہ منہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔نائل کچھ لمحوں کے لیے شاکڈ ہوا تھا۔اس کی زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی۔