93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 55)


ڈیوڈ نے اسفند کو ملنے کے لیے اپنے گھر بلایا تھا۔وہ اس سے کسی خاص موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا۔
“میں نے بم پلانٹ کرنے کا سوچا ہے۔”اسفند فورا چوکنا ہوا تھا۔
“میں اپنی ساری ٹیم کو پہلے ہی سب بتا اور سمجھا چکا ہوں۔اب تمہیں بتا رہا ہوں۔23 مارچ کو مینار پاکستان میں بلاسٹ ہو گا۔”
“مینار پاکستان کیوں….؟”
“پاکستانیوں کو بتانا ہے کہ ان کے تاریخی دن پر اس کی تاریخی عمارت بالکل محفوظ نہیں ہے۔”ڈیوڈ نے قہقہ لگایا تھا۔
“میں نہیں چاہتا کہ شاہین کسی بھی قسم کی کوئی مداخلت کرے۔تم میری ٹیم کے ہر ممبر پر نظر رکھنا اور پتا لگاؤ کہ آخر غدار ہے کون؟”
“جیسا آپ کہے۔”اسفند نے نہایت ادب سے جواب دیا تھا۔
اس کے گھر سے جانے کے تقریبا دس منٹ بعد جیمز،ماریہ اور الیکس کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
“اس پر نظر رکھو اور ساری کال ریکارڈز چیک کرنا….”ڈیوڈ نے پیشانی مسلتے حکم صادر کیا تھا۔
“آپ کو اس پر شک کب ہوا؟”جیمز پوچھے بنا نا رہ سکا تھا۔
“شروع سے تھا۔اسطرح کوئی اچانک کیسے کسی کی جان بچا سکتا ہے۔اس دنیا میں بغیر مقصد کوئی بھی اتنا اچھا نہیں ہو سکتا۔اور اس دن جب میرے کمرے کی ڈریسنگ ٹیبل کے مرر پر جو نوٹ لکھا تھا۔سی سی ڈی وی فوٹیج میں اس ہڈی والے شخص کے ہاتھ میں جو رنگ تھی بالکل ویسی ہی رنگ اسفند کے ہاتھ میں بھی دیکھی ہے میں نے….”
“تو پھر ہم اسے پکڑ کیوں نہیں لیتے؟”ماریہ کو تجسس ہوا تھا۔اگر ڈیوڈ پہلے سے ہی سب جانتا تھا تو پھر اس نے کسی پر کچھ ظاہر کیوں نہیں ہونے دیا تھا؟
“پہلے شکار کو بےبس کریں گے پھر پکڑے گے۔اسے یہ سب بتانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ یقینا آئی۔ایس۔آئی سے کنٹیکٹ کرے گا۔اصل مقصد صرف بلاسٹ کرنا نہیں ہے بلکہ کسی کا چہرہ بےنقاب کرنا بھی ہے۔ہماری ساری ٹیم بہت پرانی ہے سوائے اسفند کے…..اگر بلاسٹ کے وقت آرمی یا پولیس میں سے کوئی بھی وہاں پہنچتا ہے تو پھر اسفند کے ساتھ وہ ہو گا جو گمان سے بالکل باہر ہے۔”اس کے سفاک لہجے پر وہ تینوں ہی خوفزدہ ہوئے تھے۔اس کی دحشت ہی اتنی تھی کہ ہر ایک جان اس کے سامنے تھر تھر کانپتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لاہور)
ایک نیا سفر…..
ایک نئی منزل….
دو کتابیں…..
دو مسافر…..
دو راستے….
الحمد سے والناس کا سفر….
پیدائش سے مکاشقہ کا سفر…..
کس کی قسمت میں لکھا تھا کیا…..؟
یہ دیکھنا ابھی باقی تھا۔

یہ منظر لاہور کے ڈی ایچ اے فیز 6 کا تھا۔
ائیر پورٹ سے عائزہ اسے پک کرنے آئی تھی۔گاڑی کی پچھلی سیٹ پر عائزہ کے ساتھ بیٹھی وہ مسلسل کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی۔
سڑک کی دائیں طرف ہیڈ آفس تھا جبکہ وانیہ کی نظریں تو درختوں پر ہی جمی تھی۔تیزی سے گزرتے ایک سیدھ میں وہ درخت….
ٹہنیوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی شاخیں….بعض اوقات زندگی میں جھکنا پڑتا ہے۔جھکے بغیر زندگی کی گاڑی آگے نہیں چلتی۔اب اس کی نظروں نے درخت کی ایک تنی ہوئی شاخ کا طواف کیا تھا۔وہ مغرور انداز میں تن کے کھڑی تھی۔باقی سب کا جھکاؤ زمین کی جانب تھا جبکہ اس شاخ کا رخ آسمان کی جانب تھا۔باقی شاخوں اور اس میں ایک ہی فرق تھا۔سب پتوں سے لدی ہوئی تھی جبکہ وہ تنہا اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ بغیر کسی پتے کے اکیلی کھڑی تھی۔
“اس کا کیا مقدر ہے؟”چلتی گاڑی کے ساتھ درخت گزرتے جا رہے تھے مگر وانیہ کا ذہن اس ایک شاخ پر اٹکا تھا۔
“ٹوٹ کر زمین بوس ہو جانا….”جواب اس کے ذہن نے فورا پیش کیا تھا۔
وہ اپنی سوچوں میں گم تھی جب ایک جھٹکے سے گاڑی رکنے پر وہ ہوش میں آئی تھی۔ان کی منزل آ چکی تھی مگر وہ خوش نہیں تھی۔وہ سفر کرنا چاہتی تھی،صرف سفر….ضروری تو نہیں کہ ہر سفر کی منزل ہو،کچھ مسافتیں بغیر منزل کے بھی طے کرنی چاہیئے۔
رات کے کھانے کے بعد عائزہ وانیہ کے کمرے میں گئی تھی۔اس نے بغیر کسی ٹال مٹول کے عائزہ کو سب بتا دیا تھا۔
“اب ان تینوں کی باری ہے۔ایک ایک کو تڑپا تڑپا کر ماروں گی۔”اس کی آنکھوں میں خون ہلکورے لے رہا تھا۔
“میرے خیال سے تمہیں نائل بھائی سے بات کرنی چاہیئے۔”عائزہ نے اسے مفید مشورے سے نوازا تھا۔
“وہ اپنی زندگی میں بےحد خوش ہیں۔میرا اب ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور ویسے بھی میں انہیں کیا کہوں گی کہ میں قتل کر کے آئی ہوں،اور وہ بھی کس کا…..؟”عائزہ نے نظریں چرائی تھیں۔
“میں ساری زندگی نین نین کا راگ لاپتی رہی،مگر مجھے تلاش تو نینا کے قاتلوں کو کرنا تھا۔زیادتی نینا کے ساتھ ہوئی تھی،نین کے ساتھ نہیں….نین اور نینا دو الگ الگ لوگ ہیں۔اب سب سمجھ گئی ہوں میں،اس بوڑھی عورت کا مجھے وہ آئینہ دینا،مام کا کہنا کہ “نین بھاگ جاؤ۔”ہر چیز سمجھ چکی ہوں میں….ماہم نے سب بتا دیا مجھے…..کس قدر بیواقوف تھی میں،کچھ سمجھ ہی نہیں سکی۔”وانیہ نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“اب واپس نہیں جاؤں گی میں….یہاں سے ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ایک بیٹی کے انتقام کا آغاز…..”اس نے اپنی زندگی کا نیا مقصد تلاش کر لیا تھا۔لیکن کیا مقدر نے بھی اس کے لیے یہی سفر چنا تھا یا پھر ایک اور سفر اس کا منتظر تھا۔
“تمہیں پتا ہے عائزہ،میں نے وہاں ایک دوست بنایا تھا۔مجھے اس پر شک تھا۔”اچانک ہی وانیہ کو یاد آیا تھا۔
“شک…..؟”
“مجھے لگا کہ وہ شاہین ہے مگر میں غلط تھی۔جب میں نے اس دن اپنے شوہر سے محبت کا اظہار کیا تو اس کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی خوشی نہیں تھی بلکہ وہ تو چونک گیا تھا۔شکر ہے وہ شاہین نہیں تھا،شکر ہے کہ وہ میرا شوہر نہیں تھا۔کیونکہ میں نے اسے کبھی بھی ایسا تصور نہیں کیا۔میری آنکھیں اسے تصور کرتی ہیں،اس کی مصوری کرتی ہیں،اس سے عشق کرتی ہیں۔”وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلے جا رہی تھی۔
“تم نے تو اسے کبھی دیکھا بھی نہیں….پھر تم اسے پہچانو گی کیسے؟؟”
“یہ دل کے معاملے ہیں عائزہ!اس کے بارے میں سوچتے ہی میرا دل دھڑکنے لگتا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ میرے سامنے ہو اور میں پہچان نا سکوں؟میں اسے پہچان لوں گی۔میرا دل کہتا ہے کہ میں اسے پہچان لوں گی۔”وانیہ نے سرد آہ بھری تھی۔
فجر کے وقت ایک بار پھر آذان کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔وانیہ کسمسائی تھی۔
“نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے۔”وانیہ نے کروٹ بدلی تھی۔
“افف یار!کیا مصیبت ہے۔انہیں بھی سکون نہیں ہے۔صبح ہی صبح شروع ہو جاتے ہیں۔”کمبل منہ تک تانے وہ کان لپیٹ کر سو گئی تھی۔
وہ آزاد ہو چکی تھی،ہر مصیبت اور ہر خوف سے…..اب نا تو اسے نماز پڑھنے کی ضرورت تھی،نا دعا کی اور نا اللہ کی…..اس کے نزدیک اللہ کو صرف خوف میں یاد کرنا تھا جو کہ اب ختم ہو چکا تھا۔ہاں!وہ اللہ کی طرف تھوڑا کھچاؤ ضرور محسوس کر رہی تھی۔اللہ کی ذات پر بھی اب وہ کوئی سوال نہیں اٹھاتی تھی مگر وہ اب بھی اسلام سے کوسوں دور تھی۔
صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق انہیں ہی دی جاتی ہے جو واقعی اس صراط پر چلنا چاہتے ہیں۔
ابھی تو مسافتیں طے کرنا باقی تھیں۔ابھی تو کانٹوں پر چلنا باقی تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وانیہ کو لاہور آئے چند روز گزر گئے تھے ۔عائزہ اور اس کے پیرٹس نے اسے کافی سپورٹ کیا تھا۔وہ کبھی کبھی رات کو نیند میں ڈر جاتی تھی اور چیخنے چلانے لگتی تھی۔مگر اب حالت کافی بہتر تھی۔
“کب تک اس اندھیر کمرے میں بیٹھی رہو گی چلو کہیں باہر چلتے ہیں۔”عائزہ اسے اس ٹراما سے نکالنا چاہتی تھی۔
“میرا دل نہیں چاہتا۔”اس کی ذہنی حالت اب بھی ٹھیک نہیں تھی،وجہ وہ انجیکشنز تھے جو باقاعدگی سے اسے دیے جاتے رہے تھے۔
“بس اب ختم کرو یہ سوگ،اٹھو چلو….”عائزہ نے اسے ہاتھ سے تھام کر اٹھانا چاہا تھا۔
“جانا کہاں ہے؟”وانیہ نے تھکے تھکے سے انداز میں پوچھا تھا۔
“آج 23 مارچ ہے نا،مینار پاکستان دیکھنے چلتے ہیں۔ویسے بھی تم پہلی بار لاہور آئی ہو”عائزہ پرجوش ہوئی تھی۔
“بہت رش ہو گا یار،اور میرا دل بھی نہیں چاہ رہا۔”وانیہ نے اسے ٹالنا چاہا تھا۔
“تم اٹھ رہی ہو یا میں ناراض ہو جاؤں؟”کمر پر دونوں ہاتھ رکھے اس نے وانیہ کو گھوری سے نوازا تھا۔
“ٹھیک ہے اٹھ رہی ہوں۔”وانیہ ناگواری سے بستر سے اٹھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وانیہ اور عائزہ گریٹر اقبال پارک(منٹو پارک) کی سیر کر رہی تھیں۔اس کا ابتدائیہ حصہ دیکھ وانیہ مبہوط ہوئی تھی۔وہ زندگی میں پہلی بار لاہور آئی تھی۔
وہ لوگ ادھر ادھر گھومتے رہے تھے۔وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔وجہ آج کا خاص دن تھا۔
تیز ہوا کے جھونکے اس کے بھورے بالوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔وانیہ کا چہرہ کافی بجھا بجھا سا تھا۔
پہلے پہل عائزہ اسے حفیظ جالندھری کے مقبرے پر لے گئی تھی،پھر آگے جا کر کچھ پہلوانوں کی قبریں تھیں۔اس جگہ بہت پہلے اکھاڑا لگتا تھا۔
چند تصویریں کلک کرنے کے بعد وہ دونوں واپس گاڑی میں آ بیٹھے تھے۔
“وانیہ یہ Dancing water fountain ہے۔رات کے وقت یہاں لائٹس میوزک کی دھن پر رقص کرتی ہیں۔”عائزہ اسے بہت پرجوش انداز میں بتا رہی تھی جبکہ وانیہ کا ذہن ہر بار کہیں اور ہی پہنچ جاتا تھا۔اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تھی۔وہ کافی عرصے بعد یوں باہر آئی تھی۔اس ماحول میں،اس روشنی میں اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔
“تمہیں پتا ہے یہ ہوٹل میرا فیورٹ ہے۔”کافی آگے جاتے عائزہ نے ایک ہوٹل کی طرف اشارہ کیا تھا۔وہ بندو خان ہوٹل تھا۔اس کی انٹرینس پر سرخ رنگ کا خوبصورت قالین بچھا ہوا تھا جبکہ دونوں اطراف میں نہایت خوبصورت طرز کے ہاتھیوں کا مجسمہ تھا۔
“یہاں کا کھانا بھی ہوٹل کی طرح بہت royal ہے۔”وانیہ نے ایک سرسری سی نگاہ اس ہوٹل پر ڈالی تھی۔
“عائزہ گھر چلیں؟میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔”اس کا سر گھومنے لگا تھا۔
“ابھی تو ہم نے کچھ دیکھا ہی نہیں ہے۔”وہ اسے اتنی خوشی خوشی سب بتا رہی تھی اور وانیہ کوئی دلچسبی ہی نہیں لے رہی تھی۔
“یہ جو تمہیں یو شیپ میں نظر آ رہے ہیں نا…..یہاں جب پھول کھلتے ہیں نا تو یہ بہت خوبصورت لگتے ہیں۔ایک راز کی بات بتاؤں،یہ ملکہ ایلزبتھ کے گھر کی کاپی ہے۔میرا مطلب ہے،ان کے گھر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔”عائزہ نے فورا اپنا بیان بدلا تھا۔اب وہ لوگ پیدل واک کر رہے تھے۔
“مجھے اور کچھ نہیں دیکھنا۔”وانیہ نے منہ بنائے کہا تھا۔
“یار تم کتنی بورنگ ہو گئی ہو۔اچھا ایک کام کرتے ہیں،اب صرف مینار پاکستان دیکھے گے اور پھر گھر چلیں گے۔”وانیہ نے ناچاہتے ہوئے بھی ہامی بھر لی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پارک سے کچھ فاصلے پر ایک بلڈنگ کے ایک فلیٹ پر چند لوگ موجود تھے۔سب کے چہروں سے ہی شیطانیت ٹپک رہی تھی۔آج جو ہونے والا تھا،وہ سب ہی اس سے اچھی طرح واقف تھے۔اتنی سکیورٹی ہونے کے بعد بھی ڈیوڈ نے اس جگہ بم پلانٹ کروایا تھا جہاں مینار واقع تھا۔
کچھ دیر بعد بم بلاسٹ ہو جانا تھا۔وہ ایک بڑے سائز کے ایل ای ڈی کے سامنے راکنگ چیئر کی پشت سے ٹیک لگائے،ہاتھوں کو سر کے پیچھے رکھے بڑی دلچسبی سے دھماکے سے پہلے کا منظر دیکھ رہا تھا۔یہ اس کا پسندیدہ کام تھا۔ماریہ نے اب مینار پاکستان کو فوکس کیا تھا۔باڑ کے باہر کھڑے کافی تعداد میں لوگ سیلفیاں لینے میں مگن تھے۔
تبھی ڈیوڈ کی نظر ایک چبوترے پر بیٹھی اس اپسرا پر پڑی تھی۔وہ کرنٹ کھا کر سیدھا ہوا تھا۔بھورے بالوں کو کھلا چھڑے ہرے رنگ شرٹ کے ساتھ جینز پہنے وہ لڑکی…..وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کی بیوی تھی۔
“یہ…..یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟”وہ بوکھلا گیا تھا۔ماریہ،الیکس اور جیمز تینوں نے ہی اس کی نظر کی سیدھ میں دیکھا تھا۔ماریہ اور الیکس کا سانس سوکھ گیا تھا۔وہ لوگ تو اسے ماہم کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے تھے تو پھر وہ یہاں….؟الیکس اچھے سے جانتا تھا کہ وانیہ وہاں سے بھاگ گئی تھی مگر اصولا تو اسے نائل کے پاس جانا چاہیئے تھا تو پھر وہ یہاں کیا کر رہی تھی؟
ڈیوڈ ابھی شاک کی کیفیت میں ہی تھا جب اچانک ہی وہاں بھگڈر مچی تھی۔پولیس اور آرمی بروقت وہاں پہنچے تھے۔اب وہ لوگوں کو وہاں سے نکال رہے تھے۔
“وانیہ بھاگو یہاں سے….”عائزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا جبکہ وانیہ کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔وہ عائزہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے بھاگی تو تھی مگر بیچ راستے میں وہ بری طرح گری تھی۔عائزہ کا ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔وہ بھیڑ میں کہیں غائب ہو گئی تھی۔بھیڑ اسے بری طرح کچل رہی تھی۔چوٹ اسے لگ رہی تھی جبکہ تکلیف ایل ای ڈی کی سکرین کے سامنے کھڑے اس شخص کو ہو رہی تھی۔
“میں اسے مرنے نہیں دے سکتا۔”ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہ دیوانہ وار وہاں سے بھاگا تھا۔
“تم وہاں نہیں جا سکتے ڈیوڈ….”الیکس اس کے پیچھے بھاگا تھا۔
“وہ نہیں مر سکتی۔”اس نے لفٹ کا بٹن دبایا تھا۔وہ کام نہیں کر رہی تھی۔وہ اندھا دھند سیڑھیوں کی جانب بھاگا تھا۔
“بلیک مونسٹر میری بات سنو!تم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔وقت بہت کم رہ گیا ہے۔آرمی اسے بچا لے گی۔”اس کے پیچھے سیڑھیاں پھلانگتے الیکس نے ہانپتے ہوئے کہا تھا۔
“ہاں وہ لوگ بچا لے گے۔نائل بچا لے گا۔وہ معصوم ہے،بےقصور ہے۔”وہ پاگلوں کی طرح بھاگتا ہوا اپنی گاڑی کی جانب بھاگا تھا۔
الیکس نے اسے بہت آوازیں دی تھیں مگر وہ نہیں رکا تھا۔بلاسٹ ہونے میں ابھی پچس منٹ رہتے تھے۔
“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”اس نے خود کو تسلی دیتے گاڑی میں چابی گھمائی تھی۔
“ماریہ کسی بھی طرح بم ڈفیوز کرو۔ہم بلیک مونسٹر کو نہیں کھو سکتے۔”الیکس نے فورا ماریہ کو کال ملائی تھی۔
اب وہ بار بار ڈیوڈ کو کال کر رہا تھا۔
“مجھے اندر جانا ہے۔مجھے اندر جانا دو۔”وہاں پہنچتے اس نے واویلا مچایا تھا۔وہ لوگ اسے اندر نہیں جانے دے رہے تھے۔
“اندر میری بیوی ہے۔مجھے اسے بچانا ہے۔”وہ پولیس والوں کے ساتھ گھتم گھتا ہوا تھا۔سارے راستے بند نظر آنے کے بعد ڈیوڈ نے آخرکار اپنی گن نکال کر پولیس والے پر دو فائر کی تھیں۔موقع دیکھتے ہی وہ اندر کی جانب بھاگا تھا۔لوگ اب بھی بھاگ بھاگ کر باہر کی جانب آ رہے تھے۔
“وانیہ…..”اسے پکارتا وہ اندر داخل ہوا تھا۔
“مانو کہاں ہو تم…..؟”اس کی آنکھیں اشق بہانے لگی تھیں۔
“تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔”وہ پاگلوں کی طرح کبھی ایک سے دوسری تو کبھی دوسری سے تیسری جگہ بھاگ رہا تھا۔
اچانک ایک جگہ پر اسے کراہتا ہوا وجود نظر آیا تھا۔سبز گھاس پر پڑی کراہتی ہوئی وہ لڑکی…..
“نین…..!”وہ بھیڑ کو چیرتا ہوا اس کی جانب گیا تھا۔
“نین….!”اس تک پہنچتے حاتم نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔وانیہ کی آنکھیں نیم کھلی تھیں۔
“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا نین!”حاتم نے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا۔
“شاہین….”وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔اس کے بعد وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
حاتم نے اسے اپنی باہوں میں بھرا تھا۔اب وہ بھاگتا ہوا اسے باہر لے جا رہا تھا۔
دوسری طرف بلاسٹ ہونے میں صرف دس منٹ باقی تھے۔
“ماریہ جلدی کرو۔”جیمز اور الیکس کی جان ہتھیلی پر آئی ہوئی تھی۔ماریہ کی اپنی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔
وہ لوگ بم خود ہی ڈیزائن کرواتے تھے۔وہ کچھ اس طرز کا ہوتا تھا کہ وہ دور بیٹھے بھی اسے کبھی بھی بلاسٹ یا ڈیفیوز کر سکتے تھے۔
“عارف یہاں ہوتا تو فورا یہ کر لیتا۔”جیمز نے افسوس سے کہا تھا۔ماریہ ہیکنگ میں تو ماہر تھی مگر بم کی ٹائمنگ سیٹ کرنا یا اسے ڈیفیوز کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔
“ماریہ جلدی کرو۔صرف دو منٹ رہتے ہیں۔”جیمز چیخا تھا۔
وہی دوسری طرف ڈیوڈ پارک کی انٹرینس کے قریب پہنچ چکا تھا۔اس نے اجلت میں اپنی گھڑی کی جانب دیکھا تھا۔صرف تیس سیکنڈ رہتے تھے۔وہ خود تو مر سکتا تھا اپنی نین کو کبھی مرنے نہیں دے سکتا تھا۔
اس نے ہمت کرتے اپنے قدموں کی رفتار بہت تیز کی تھی۔
“ماریہ صرف دس سیکنڈ رہتے ہیں۔”ماریہ کے ہاتھ کانپنے لگے تھے مگر پھر بھی کمپیوٹر پر انگلیاں مسلسل چل رہی تھی۔
“ہو گیا۔”ٹھیک دو سیکنڈ پہلے وہ کامیاب ہو گئی تھی۔خوشی کے مارے اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔وہ ڈیوڈ کو کبھی مرنے نہیں دے سکتی تھی۔
وہی دوسری طرف ڈیوڈ نے وانیہ کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا تھا۔فرنٹ سیٹ سنبھالتے اس نے گاڑی میزائل کی رفتار سے اڑائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔