Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 60)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 60)
عینین کو گھر چھوڑ کر وہ سیدھا ماریہ کے پاس گیا تھا۔وہ اس وقت ایک فلیٹ میں رہ رہی تھی۔فلیٹ کا دروازہ کھولے وہ غضب ناک چال چلتے اندر داخل ہوا تھا۔
“ماریہ…..”وہ چیختے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا تبھی اسے وہ کچن کاؤنٹر کے پاس کھڑی نظر آئی تھی۔
“کیا ہوا بلیک مونس…..”
“الیکس کہاں ہے؟”اس کے بال دبوچے ڈیوڈ نے اس کا سر سلیب پر پٹخا تھا۔
“لندن میں کیا ہوا تھا؟”اس کے بال واپس کھینچتے اس نے ماریہ کا منہ دبوچا تھا۔
“میں کسی قسم کی کوئی بکواس سنوں گا،،صرف سچ….”
“میرے قہر سے تم اچھی طرح واقف ہو۔نین کے ساتھ کیا کیا تم لوگوں نے؟”سرد لہجے میں اس کے کان میں صور پھونکتے اس نے ماریہ کو دھکہ دیا تھا۔
“مجھے نہیں پتا۔میں نے کچھ نہیں کیا۔نین اپنی پھوپھو کے ساتھ رہتی تھی وہاں پر،اور وہ بالکل ٹھیک تھی۔”
“بیواقوف لڑکی!تمہیں وہاں بھیجا کس لیے تھا میں نے….؟”وہ غرایا تھا۔
“الیکس وہاں آتا تھا؟”لہجے میں سفاکیت اور سرد مہری تھی۔
“مجھے نہیں پتا بلیک مونسٹر،مجھے سچ میں نہیں پتا۔”وہ مسلسل ہانپ رہی تھی۔
“اگر اس سب میں کہیں پر بھی تمہارا ہاتھ ہوا تو یاد رکھنا کہ میں کیا حال کروں گا۔”اسے پرے دکھیلتے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے گیا تھا۔
اس وقت ماریہ سے اہم ماہم تھی جسے وہ کسی صورت نہیں بخشنے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا جب سنیہا نے پیچھے سے بہت آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“I am sorry!”
وہ اس کے عقب میں آ کھڑی ہوئی تھی۔ساشا اسے سب بتا چکی تھی۔اب وہ نائل سے کافی شرمندہ تھی۔
“تم ہر روز مجھے اور خود کو اذیت پہنچاتی ہو۔تمہیں پتا ہے تمہاری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے میرا گھر آنے کو دل نہیں کرتا۔”سگریٹ کا دھواں ہوا میں مہلک ہو رہا تھا جبکہ اس کے چہرے پر ہنوز متانت تھی۔
“میں آپ سے صرف محبت نہیں کرتی بلکہ عشق کرتی ہوں۔میں شراکت داری برداشت نہیں کر سکتی۔”اس کی آواز میں نمی کا عنصر واضح تھا۔
“تمہیں کس نے کہا کہ شراکت داری برداشت کرو؟ہزار بار بتا چکا ہوں کہ میری زندگی میں صرف تم ہو۔”وہ جھنجھلا کر اس کی سمت مڑا تھا۔
“اور دل میں…..؟”آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ استفسار کر رہی تھی۔وہ خاموش ہو گیا تھا،پھر اس نے نظریں چرائی تھیں۔اور بس اسی لمحے سنیہا کے دل پر زبردست گھونسہ پڑا تھا۔
“دل میں صرف صوفی ہے،ہے نا؟”وہ عجیب انداز میں ہنسی تھی۔اگر وہ کسی ضن میں تھی تو نائل کی خاموشی نے اسے بھی دور کر دیا تھا۔وہ اب بھی اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔سگریٹ اس کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیان مسلسل اپنی زندگی کی ڈور ہارتی جا رہی تھی۔
“مجھے بتا دیجیں نائل!میں ایسا کیا کروں کہ آپ کو مجھ سے محبت ہو جائے۔مجھے بتائیں،اس میں ایسی کیا خاص بات تھی جو مجھ میں نہیں ہے۔مجھے بتائیں نائل!میں بالکل ویسی بن جاؤں گی،جیسی وہ تھی۔”اس کے سینے پر سر رکھے وہ مسلسل سسک رہی تھی۔وہ اب بھی خاموش کھڑا تھا۔وہ اسے کیا سمجھاتا،کیا کہتا…..؟کوئی تسلی،کوئی بات…..نائل کے پاس الفاظ جیسے ختم ہوئے تھے۔
“مجھے بتائیں وہ کیسی دکھتی تھی۔کیا وہ مجھ سے زیادہ حسین تھی،کیسی ڈریسنگ کرتی تھی وہ،میں سب کروں گی نائل،سب کچھ…..مگر پلیز!مجھے اپنے دل میں وہ مقام دے دیں جو آپ نے اسے دیا ہے۔پلیز مجھے تھوڑی سی محبت دے دیں۔”اس سے الگ ہوتے،اس کا گریبان پکڑے وہ بےبسی کی انتہا پر تھی۔نائل نے ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی۔اس کا یہ کمپلیس اسے دن بدن نحیف اور لاغر کرتا جا رہا تھا۔
“تم سچ میں جاننا چاہتی ہو تو سنو۔وہ بات بہ بات مجھے یوں تنگ نہیں کرتی تھی اور نا ہی اس نے کبھی تمہاری طرح مجھ سے محبت کی بھیک مانگی۔یہ اس کے کردار کی پاکیزگی تھی،یہ اس کی معصومیت تھی جس نے میرے دل کو فتح کر لیا۔ہماری کوئی لو میرج نہیں ہوئی تھی اور نا ہی میں پہلی نظر میں اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا۔یہ سب آہستہ آہستہ ہوا۔اس نے صبر کیا تھا جو تم نہیں کر رہی۔سنیہا صوفی کی خوبصورتی نے مجھے کبھی متاثر نہیں کیا۔اس کی خدمت،اس کا خلوص اور اس کی دینداری نے مجھے متاثر کیا تھا۔میرے کہنے کے باوجود اس نے حجاب نہیں اتارا تھا۔اس نے مجھے راضی کرنے کے لیے اپنے رب کو ناراض نہیں کیا۔”وہ سانس لینے کو رکا تھا جبکہ سنیہا تو سانس بھی نہیں لے سکی تھی۔اپنے محبوب کی زبان سے اپنے رقیب کی تعریف سننا ایک عاشق کے لیے کڑا امتحان ہوتا ہے۔وہ اس امتحان سے گزر رہی تھی۔
“میں نے کبھی نہیں کہا کہ تم اس جیسی بن جاؤ اور نا ہی میں یہ چاہتا ہوں۔ہر کسی کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے۔میری ایک بات یاد رکھو سنیہا!ہمارے درمیان جو بھی مسائل ہیں۔ان کی وجہ وہ نہیں بلکہ تم خود ہو۔تم مجھے ذہنی سکون پہنچانے کے بجائے صرف اذیت دیتی ہو۔تم میری بیوی ہو،وہ تھی…..بس اتنی سی بات ہے لیکن تم سمجھنا ہی نہیں چاہتی۔اگر وہ میرے لیے خاص تھی تو تم بھی ہو۔میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی تیسرے کو درمیان میں لانا چاہیئے۔جو گزر گیا اسے بھول جانا بہتر ہوتا ہے۔اور ہاں پلیز صوفی بننے کی کوشش مت کرنا،تم وہ نہیں بن سکتی۔”وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔اس نے آج ضرورت سے وضاحت دی تھی لیکن شاید یہ ضروری بھی تھا۔
وہ ہر چیز سے تھک چکا تھا۔ہر رشتے نے اسے اذیت پہنچائی تھی۔انسان دشمنوں سے تو جنگ لڑ لیتا ہے مگر جب بات اپنوں کی آتی ہے تو وہ ہمیشہ شکست کھا جاتا ہے۔
وہ گم صُم سی آنکھوں میں حیرت اور بےیقینی لیے نجانے کتنی دیر وہاں کھڑی رہی تھی۔
وہ جو کچھ بھی کہہ کر گیا تھا،اس سے سنیہا کو بہت تکلیف پہنچی تھی۔اس کی گفتگو میں صرف صوفی تھی،درد تھا،ملال تھا مگر سنیہا کہیں نہیں تھی۔وہ یہی اخذ کر سکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیل کی آواز پر وہ دروازہ کھولنے گئی تھی۔دروازہ کھولتے جیسے اس کے سر پر گھر کی چھت گری تھی۔
“ہائے پھوپھو!”نائل نے ایک نرم مسکراہٹ ماہم کی جانب اچھالی تھی۔
“کب سے ڈھونڈھ رہا ہوں آپ کو لیکن آپ نجانے کہاں غائب ہو گئی تھیں۔”ادھر ادھر نظریں گھماتے وہ اندر داخل ہوا تھا۔
ماہم نے خود کو ریلیکس کرتے اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائی تھی۔وہ اچھے سے جانتی تھی کہ نائل کچھ نہیں جانتا لیکن پھر بھی وہ احتیاطی طور پر گھر نہیں گئی تھی۔
اس دن عینین کے وہاں سے بھاگنے کے فورا بعد الیکس وہاں آیا تھا۔وہ ماہم کو بروقت ہسپتال لے کر گیا تھا جس وجہ سے وہ بچ گئی تھی لیکن واپس جانے کی غلطی اس نے نہیں کی تھی۔عینین کے نائل کے بجائے ڈیوڈ کے پاس جانے کی اطلاع اسے الیکس نے پہنچائی تھی جس کے بعد وہ بہت زیادہ ریلیکس ہو گئی تھی،کیونکہ گھیرا الیکس کی زندگی کا تنگ ہوا تھا،اس کی نہیں…..
“پھوپھو گھر کیوں نہیں آئی آپ؟”ماہم کے گرد بازو کا حصار پھیلائے اس نے بےحد نرمی سے پوچھا تھا۔
“وہ وانیہ کو لے گئے نائل!میں کس منہ سے آتی؟”نائل کے اپنائیت بھرے انداز نے ماہم کو بالکل ہی ہلکا پھلکا کر دیا تھا۔اب اسے مزید لندن میں اس چھوٹے سے فلیٹ میں رہنے کی ضرورت نہیں تھی اور نا ہی پیسوں کے لیے الیکس کے آگے ہاتھ پھیلانے کی……اس کا بھتیجا اسے لینے آ گیا تھا۔
“وانیہ ڈیوڈ کے پاس ہے لیکن وہ اس کا حساب دے گا بلکہ ہر کوئی ہی اپنے کیے کا حساب دے گا۔”اس نے بہت نرمی سے ماہم کو خود سے لگایا تھا۔
“مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا نائل!نجانے کون لوگ تھے،وانیہ کو ساتھ لے گئے اور میرے ساتھ بھی…..”اس کی آواز بھرا گئی تھی۔
“میں نے کہا نا پھوپھو!آپ بالکل فکر نا کریں میں ہر چیز کا حساب لوں گا۔”
“میں نے سنا ہے تم نے شادی کر لی؟”
“آپ کو کس نے بتایا؟”جواب کے بجائے وہ الٹا استفسار کر رہا تھا۔
“مجھے بس پتا چل گیا۔”وہ ایک لمحے کے لیے مضطرب ضرور ہوئی تھی۔
“کیا نام ہے تمہاری بیوی کا؟”
“سنیہا…..”
“کافی خوبصورت نام ہے،یقینا وہ بھی خوبصورت ہو گی۔”
“وہ بھی خوبصورت ہے مگر صوفی سے کم…..آپ کو تو یاد ہو گی نا صوفی؟”ماہم کے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا۔وہ اسے کیسے بھول سکتی تھی،اس نے خود ہی تو اس کی جان لی تھی۔
“ہممم!”وہ پھیکا سا مسکرائی تھی۔
“آپ اپنا سامان پیک کر لیں۔ہم پاکستان جائے گے۔”
“مگر ٹکٹس اور….”
“وہ سب میرا مسئلہ ہے۔میں اب مزید اپنی پیاری سی پھوپھو کے بغیر نہیں رہ سکتا۔میں چاہتا ہوں کہ ہم جلدی سے پاکستان پہنچ جائے اور میں آپ کی بہت ساری خدمت کروں۔آپ نے میرے لیے اور خاص طور پر جو کچھ وانیہ کے لیے کیا ہے۔میں اس سب کا احسان چکانا چاہتا ہوں۔”اس کا لہجہ عسل سے زیادہ میٹھا تھا۔
“میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا نائل،میں نے اپنا فرض نبھایا ہے۔وانیہ میری بیٹی ہے اور مائیں اپنی بیٹیوں پر احسان نہیں کرتیں۔اور تم بالکل بےفکر رہنا،وہ بہت جلد ہمارے پاس ہو گی اور سنیہا کی بھی فکر مت کرنا۔صوفی سے زیادہ خیال رکھوں گی میں اس کا…..”
“مجھے یہی امید تھی آپ سے،لیکن اس بار میں وہاں تک نوبت ہی نہیں پہنچنے دوں گا۔آپ سنیہا یا وانیہ کا خیال نہیں رکھے گی پھوپھو،بلکہ اس بار آپ کا بیٹا آپ کا خیال رکھے گا۔”اس نے ماہم کو شانوں سے تھامتے یقین دلایا تھا۔
کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ سامان پیک کرنے کمرے میں گئی تھی۔وہ پہلے ہی سوچ چکی تھی کہ اگر وانیہ نے اس کے خلاف زبان کھولی تو وہ اسے پاگل ثابت کر دے گی اور اب تو ویسے بھی وہ ڈیوڈ کے پاس تھی،اب اس کا کام اور آسان ہو گیا تھا۔وہ آسانی سے یہ کہہ سکتی تھی کہ ڈیوڈ نے وانیہ کو اس کے خلاف بھڑکایا ہو گا اور جہاں تک بات تھی حاتم کے اسے نقصان پہنچانے کی تو یہ اب ناممکن تھا کیونکہ اب وہ نائل کی حفاظت میں تھی۔
ماہم کی زندگی کے سارے مسائل جیسے حل ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مام مام!”وہ غصے سے چلاتا ہوا کچن میں داخل ہوا تھا۔
“کیا مسئلہ ہے؟”شہلا کو اس کا یہ لہجہ بالکل پسند نہیں تھا۔
“آپ سب نے میرے ساتھ بےحد زیادتی کی ہے۔”حاتم نے منہ پھلائے سلیب سے گلاس اٹھایا تھا۔
“اب کیا ہو گیا؟”وہ اس کی شکایتوں سے عاجز آ چکی تھیں۔
“ایک تو اس آٹھ سالہ مصیبت کو میرے سر پر مسلط کر دیا پھر نکاح کے اگلے روز میں اسے پلے لینڈ لے کر گیا اور اب اس نے میرے کمرے کا حشر بگاڑ دیا ہے اور ڈیڈ کہتے ہیں خبردار جو اسے کچھ بھی کہا تو….”ناگواری سے فریج سے بوتل نکالے اس نے منہ سے لگائی تھی۔گلاس کو وہ واپس سلیب پر پٹخ چکا تھا۔
“کتنی دفعہ کہا ہے کہ بیٹھ کر پیا کرو اور گلاس میں نہیں پیا جاتا تم سے؟”اپنے پیچھے سے صوفی کی آواز سنتے حاتم نے بوتل لبوں سے ہٹائی تھی۔اب وہ ایڑیوں کے بل واپس گھوما تھا۔
“نہیں پیا جاتا۔”کہتے ساتھ ہی اس نے وہ ٹھنڈے پانی کی بوتل صوفی پر الٹ دی تھی۔وہ بیچاری تو ٹھنڈ سے کانپ ہی اٹھی تھی۔
“حاتم یہ کیا بدتمیزی ہے؟”شہلا نے غصے سے اسے گھورا تھا۔
“اور جو آپ لوگوں نے میرے ساتھ کیا اس کا کیا…..؟اور آپ کی لاڈلی کا نام نہاد شوہر جو میرے ساتھ کرے گا اس کا کیا…..؟شدید قسم کا دھوکہ دیا گیا ہے ہمیں،نائل بھائی میرے اور اس ٹڈی کے نکاح کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔صوفی جی آپ اپنی خیر منائیں۔”اسے پہلے ہی ٹھنڈ کے جھٹکے پڑ رہے تھے اور تو اور حاتم کی باتیں…..اتنی مشکل سے نائل کا رویہ کچھ حد تک بہتر ہوا تھا۔اس سب کے بعد تو اس کے دل میں صوفی کے لیے بدگمانی میں اضافہ ہو جانا تھا۔
“مام!پلیز اس مصیبت کو میرے کمرے سے نکال دیں۔آپ اسے یہاں لائی ہی کیوں ہیں؟”وہ سیدھا منت پر اتر آیا تھا۔
“وہ خود آنا چاہتی تھی۔میں کیسے منع کر دیتی؟”عینین کا بس چلتا تو وہ ایک لمحے کے لیے بھی اپنے عمر سے دور نا رہتی مگر اس کی قسمت خرابی،جو یہ رخصتی اور اتنے سالوں کا انتظار اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔
“آپ لوگوں سے کچھ نہیں ہونا،میں خود ہی بندوبست کرتا ہوں اس کا……”وہ شرٹ کی آستینیں چڑھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔صوفی دائینگ ٹیبل کے پاس کھڑی نائل کے بارے میں سوچ رہی تھی۔حاتم اسے نئی ٹینشن دے گیا تھا۔
کمرے کے دروازے تک پہنچتے اس نے اپنے کالر جھاڑے تھے۔ایک نظر اپنے نا نظر آنے والے دونوں بازوں کے ڈولوں پر ڈالتے وہ کمرے کے اندر داخل ہوا تھا۔
کمرے کی حالت دیکھ اسے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔وہ بد سے بدترین ہو گیا تھا۔بستر کی چادر زمین پر گری ہوئی تھی،تکیے بھی ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے جیسے ان کے ساتھ کشتی لڑی گئی ہوں۔ڈریسنگ ٹیبل پر موجود چیزیں بھی گری ہوئی تھیں اور اس کی پرفیوم کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ایسا گماں ہوتا تھا جیسے پورے کمرے کو نکہت میں نہلایا گیا تھا۔
صوفے پر پیر پھیلائے اس کی جان کی دشمن مزے سے پوپ کارن کھانے میں مصروف تھی جبکہ نظریں سامنے دیوار پر لگے ایل۔ای۔ڈی کی سکرین پر مرکوز تھیں۔
وہ شدید غصے کی حالت میں اس کی جانب بڑھا تھا۔مگر اصل چکر تو اسے تب آئے تھے جب اس نے نظر اٹھا کر سکرین کی جانب دیکھا تھا۔وہاں جیوگرافی چینل چل رہا تھا۔بڑی سکرین پر ایک شیر کو ہرن کا شکار کرتے دیکھ حاتم کا دل خراب ہوا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر سوئچ آف کیا تھا۔
“عمر اسے کھولو۔”وہ جو اتنے انہماک سے اپنا پسندیدہ چینل دیکھ رہی تھی،سخت بدمزہ ہوئی تھی۔
“یہی سب فضولیات دیکھ دیکھ کر نا تمہارا دماغ خراب ہوتا جا رہا ہے۔”دونوں ہاتھ کمر پر رکھے حاتم نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا۔
“یہ فضول نہیں ہے،یہ بہت اچھا ہے۔اس کے بعد سانپ نے بھی آنا تھا۔پلیز دیکھنے دو۔”وہ جیوگرافی چینل دیکھنے کے لیے ایسے ضد کر رہی تھی جیسے وہ کوئی کارٹون دیکھ رہی ہو اور وہ اسے دیکھنے نا دے رہا ہو۔
“تم خود بھی پاگل ہو اور مجھے بھی پاگل کر دو گی۔چلو نکلو میرے کمرے سے…..”حاتم نے ہاتھ جھلاتے اسے باہر کا راستہ دکھایا تھا۔
“ڈیڈ کہتے ہیں یہ اب میرا کمرہ بھی ہے۔تم جاؤ۔”عینین نے بھی ہاتھ جھلاتے کہا تھا۔اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے کہنا چاہ رہی ہو “دفع ہو جاؤ یہاں سے….”
“ایک تو میرے ڈیڈ کو ڈیڈ اور مام کو مام بولتی ہو اوپر سے میرے کمرے پر قبضہ بھی جما رہی ہو۔”حاتم نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا تھا۔
“چھوڑو مجھے…..”وہ ہوا میں ہی ہاتھ پیر چلا رہی تھی۔
“چلو نکلو باہر…..”اسے نیچے اتارتے حاتم اسے گھسیٹتے ہوئے دروازے تک لے گیا تھا۔وہ چیختے چلاتے ایڑیاں فرش پر رگڑ رہی تھی۔
“اوئے ٹڈی چپ چاپ باہر نکلو میرے کمرے سے….”حاتم نے اسے سیدھا کھڑا کیے آخری وارننگ دی تھی۔
“اوئے ٹڈی میں نہیں جاؤں گی۔”اس نے ہو بہو حاتم کے انداز کو کاپی کیا تھا۔وہ لمحے بھر کو ششدر رہ گیا تھا۔
“لڑکے ٹڈی نہیں ہوتے۔”دانت پر دانت جمائے اس نے عینین کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔
“پھر کیا ہوتے ہیں؟”
“ٹڈے…..”وہ بغیر سوچے سمجھے اسے مذکر مؤنث سمجھا گیا تھا۔
“اوئے ٹڈے یہ اب میرا کمرہ ہے۔تم باہر نکلو۔”حاتم کا منہ بےاختیار کھلا تھا۔خیر غلطی اس کی اپنی تھی۔ضرورت کیا تھی اسے درست لفظ سکھانے کی……
“تم ایسے نہیں مانو گی۔”اس کا ہاتھ پکڑ کر حاتم نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا تھا۔عینین کو ہوش تب آیا تھا جب اس کے منہ پر دروازہ بند ہوا تھا۔
اس کی آنکھیں ایکدم بھرا گئی تھیں۔آنکھوں سے رم جھم برسنے لگی تھی پھر آہستہ آہستہ یہ رم جھم پلکوں کا باڑ توڑتی سیلاب کی شکل اختیار کر گئی تھی۔سونے پر سہاگہ سیلاب کے ساتھ کانوں کو چیڑ دینے والا سائرن بھی بجنا شروع ہوا تھا۔ایسا خوفناک سائرن کہ گھر کے مکینوں سمیت لان کے درختوں میں بنے گھونسلوں میں موجود پرندوں تک نے پناہ مانگی تھی۔
آدھے گھنٹے بعد طوفان تھما تھا مگر طوفان کے تھمتے ہی صوفی،شہلا اور خاص طور پر حاتم کی شامت آئی تھی۔
وہ تینوں مجرموں کی طرح سٹڈی روم میں سر جھکائے کھڑے تھے۔جج کا کام ہارون سر انجام دے رہے تھی جبکہ وہ چھوٹی آفت ایک کرسی پر بیٹھی اب بھی سسک رہی تھی۔
“ایک بچی نہیں سنبھلتی تم لوگوں سے،کیا حال کر دیا ہے اس بیچاری کا…..؟اب جب یہ گھر جا کر سب بتائے گی تو مصطفی کیا سوچے گا میرے بارے میں؟”
“ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا۔مجھے تو بس نیند آ رہی تھی اسی لیے میں نے عینین جی سے کہا کہ براہ مہربانی لاؤنچ میں جا کر اپنے من پسندیدہ شوز دیکھ لیں۔”نظریں جھکائے نہایت ادب کے ساتھ وہ منمنایا تھا۔
“ڈیڈ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔اس نے مجھے زور زور سے دو تھپڑ لگائے تھے۔اور مجھے کمرے سے کھینچ کر باہر نکالا تھا۔میری انگلی بھی دروازے میں آ گئی تھی۔”وہ بتاتے بتاتے ایک بار پھر رو دی تھی۔
“حاتم…..؟”ہارون دھاڑے تھے۔
“جھجھ…..جھوٹ بول رہی ہے ڈیڈ،میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”
“خاموش بالکل خاموش!آٹھ سال کی معصوم بچی جھوٹ کیوں بولے گی؟تم جھوٹ بول رہے ہو۔”اگلے بیس منٹ تک یہ کلاس چلتی رہی تھی،صوفی اور شہلا بھی رگڑے میں آئے تھے۔اس سب کا نتیجہ آخر یہ نکلا تھا کہ حاتم کی ایک مہینے کی پاکٹ منی بند کر دی گئی تھی۔
“بیٹا یہاں جو بھی ہوا،وہ آپ گھر میں تو نہیں بتائے گئی نا؟”ان سب کے جانے کے بعد ہارون نے پیار سے اس کا گال پچکارا تھا۔
“میں بتاؤں گی۔”تڑک کر جواب آیا تھا۔
“بیٹا یہ اب آپ کا بھی گھر ہے اور اپنے گھر کی باتیں باہر نہیں بتاتے۔ٹھیک ہے نا……!”وہ کسی صورت مصطفی کی نظروں میں اپنی امیج خراب نہیں کر سکتا تھا۔
“ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے۔”آنسو صاف کرتے اس نے مصطفی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہا تھا۔وہ بالکل دنگ رہ گیا تھا۔اتنی سی عمر میں اگر اسے شرائط کا پتا تھا تو پھر بڑی ہو کر نجانے اس نے کیا کیا نہیں کرنا تھا۔اسے داماد پرفیکٹ ملا تھا تو پھر بہو بھی کسی سے کم نہیں تھی۔دونوں بہن بھائی اپنی مثال آپ تھے۔
“کیسی شرط….؟”
“مجھے ایک گفٹ چاہیئے۔مجھے نا ایک کاکروچ چاہیئے اور چھپکلی بھی…..”ہارون کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں ۔وہ شاید دنیا کی پہلی بہو تھی جو اپنے سسر سے تحفے میں کاکروچ اور چھپکلی مانگ رہی تھی۔
“آپ کو یہ کیوں چاہیئے؟”اپنی حیرت پر قابو پاتے ہارون نے استفسار کیا تھا۔
“میں عمر کو ڈراؤں گی۔”
“کون عمر…..؟”
“بین…..”
“کون بین…..؟”وہ اتنی سی عمر میں ہارون کے دماغ کی دہی بنا رہی تھی۔
“آپی کا بھائی…..”ہارون نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔
“کون آپی…..؟”اب شاید اسے اندازہ ہو رہ تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی کی تھی۔یہ لڑکی واقعی آفت تھی۔
“صوفی آپی…..”ہارون کو اب جا کر کہیں سکون آیا تھا۔
“آپ حاتم کو ڈرانا چاہتی ہیں؟”اب کی بار اس نے دلچسبی سے پوچھا تھا۔عینین نے معصومیت سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“ہا ہا ہا…..”وہ دل کھول کر ہنس دیے تھے۔
“اب وہ آپ کو تنگ کرے نا تو اس کے سامنے صرف میرا نام لے لینا،آپ کو چھپکلی اور کاکروچ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”وہ کچھ دیر گہری سوچ میں ڈوبی رہی تھی پھر وہ اچانک ہی مسکرا کر اٹھی تھی۔
“اوکے ڈیڈ!”وہ پھدکتی ہوئی سٹڈی روم سے باہر گئی تھی۔اس کے جانے کے بعد ہارون نے ٹشو سے اپنے ماتھے پر ابھری پسینے کی ننھی ننھی بوندیں صاف کی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکس کافی عرصے سے روپوش تھا۔یہ کرنے کے لیے اسے بدر نے کہا تھا۔اصولا تو انہیں یقین تھا کہ عینین اپنی زبان نہیں کھولے گی۔وہ کبھی نہیں بتائے گی کہ اس نے قتل کیا ہے مگر پھر بھی محتاط رہنا ضروری تھا۔
آج بھی اتنی دفعہ کال ملانے کے بعد بدر نے الیکس کی کال اٹھائی تھی۔
“کیا مصیبت ہے؟”بدر غرایا تھا۔
“مم….مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے بدر!اب تو خواب میں بھی صرف بلیک مونسٹر اور اس کی دی ہوئی سزائیں آتی ہیں۔مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت یہاں پہنچ جائے گا۔”اس کی آواز میں ڈر واضح تھا۔
“ہاں تو پھر کیوں اس لڑکی کے ساتھ وہ سب کیا؟جب پتا ہے کہ وہ ڈیوڈ کے لیے اہم ہے تو پھر کیوں کیا اس کے ساتھ یہ؟؟”وہ کافی بیزار لگ رہا تھا۔
“بدر مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھ سے بدلہ لے رہا ہے بلکہ ہم سب سے،جو کچھ ہم نے اس کے ساتھ کیا۔جو ظلم ہم نے اس پر ڈھائے،وہ ضرور انتقام لے گا۔سیم کو بھی اس نے مار دیا۔وہ تمہیں بھی مار دے گا اور مجھے بھی…..”
“بکواس بند کرو۔بلیک مونسٹر کا خوف تمہارے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔میں نے کبھی اس پر کوئی ظلم نہیں ڈھایا۔جو کیا تم نے کیا۔اب سزا بھی تم ہی بھگتو گے۔دوبارہ مجھے فون مت کرنا،میرا اب تم سے کوئی تعلق نہیں…..”بدر نے کہہ کر کال کاٹ دی تھی۔
“تم میرے ساتھ یہ نہیں کر سکتے بدر،مجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ہیلو ہیلو….”فون فرش پر پٹختے وہ بھی زمین پر ڈھے گیا تھا۔اسے اب ہر طرف صرف بلیک مونسٹر ہی دکھائی دے رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
