93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 25)

25
مانو اپنے کمرے میں منہ پھلائے بیٹھی تھی۔آج حاتم کے اسطرح جھڑکنے سے وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھی۔
نجانے وہ اتنا غصہ کیوں کر گیا تھا حالانکہ مانو تو بس اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ وہ سر جھکائے منہ پھلائے بیٹھی تھی جب کسی نے پیچھے سے آ کر اس کی ننھی آنکھوں پر اپنا ایک ہاتھ رکھا تھا۔مانو کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔یہ خوشبو،یہ لمس وہ اچھے سے پہچانتی تھی۔
“بھائی…!”وہ چلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“آپ آ گئے بھائی…!”وہ پرجوش سی اس کی جانب لپکی تھی۔
“میری جان مجھے مس کرے اور میں نا آؤں،ایسا ہو سکتا ہے کیا؟”مقابل نے اسے اپنی گود میں اٹھاتے پیار کیا تھا۔
“لیکن میں ناراض ہوں آپ سے…آپ اتنے دنوں بعد آئے ہیں۔”اس کی گردن کے گرد باہیں ڈالے مانو نے منہ بسورے کہا تھا۔
“بس کام تھوڑا زیادہ تھا نا…مجھے یہ بتائیں کہ آپ کیوں یہاں اتنی اداس بیٹھی تھیں؟”
“وہ بین…!”مانو نے اپنی زبان کو فورا بریک لگائی تھی۔اگر وہ سامنے موجود شخص کے سامنے یہ ذکر کر دیتی کہ اسے
کسی نے ڈانٹا ہے تو پھر اس کے بین کی بالکل بھی خیر نہیں تھی۔
“مس کر رہی تھی آپ کو…!”مانو نے اس کی گردن کے گرد اپنی گرفت اور مضبوط کر لی تھی۔
“میرا چھوٹا سا بچہ…!”
“مجھے پتا تھا کہ میرا بیٹا یہیں ہو گا۔” سونی ناراضگی سے کہتی ہوئی کمرے کے اندر داخل ہوئی تھی۔
“میں نے تمہیں چینج کرنے کا کہا تھا عبداللہ؟”وہ خفا خفا سی گویا ہوئی تھی۔
“جا رہا تھا میں…!”مانو کو گود سے اتارے اس نے فورا اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے۔
“جلدی سے فریش ہو کر آؤ پھر ساتھ میں کھانا کھاتے ہیں۔”سونی کے چہرے پر حد سے زیادہ سنجیدگی تھی۔
“آپ ناراض ہیں مجھ سے؟”وہ جب سے گھر لوٹا تھا۔سونی کا برتاو کچھ عجیب سا تھا۔
“اس بارے میں بعد میں بات ہو گی پہلے جا کر چینج کرو۔”چہرے پر اب بھی ہنوز سنجیدگی تھی۔
“مام پلیز!کم از کم آپ تو ڈیڈ کی طرح برتاو نا کریں۔”اس نے سونی کو خود سے لگایا تھا۔
“تمہیں اندازہ ہے کہ تم کتنے مہینوں بعد گھر لوٹے ہو؟”سونی کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔
“مام…!”اپنی ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا تھا۔
“آخر تم کب سدھرو گے عبداللہ؟”وہ اب اس کے گلے لگی شکوہ کر رہی تھی۔
“شاید کبھی نہیں…!”وہ بڑبڑایا تھا۔
“اب تم کسی قسم کے فضول ٹرپ پر نہیں جاؤ گے۔”سونی نے اسے انگلی اٹھا کر وارننگ دی تھی۔
“اوکے مائی سویٹی!”عبداللہ کے شرارت سے کہنے پر سونی نے ایک تھپڑ اس کے بازو پر جڑا تھا۔وہ ہنس دیا تھا۔
“میں بھی یہاں پر موجود ہوں۔”دونوں نے ہی اس آواز کے تعاقب میں نظریں جھکا کر نیچے دیکھا تھا۔مانو کمر پر ہاتھ رکھے دونوں ماں بیٹے کو گھور رہی تھی۔
“او میرا بچہ…!”عبداللہ نے محبت پاش لہجے میں اسے ایک بار پھر گود میں اٹھا کر پیار کیا تھا۔
“میں اب ناراض ہوں۔”وہ منہ بسورے اس کے گلے لگی تھی۔
“میں اپنی جان کو منا لوں گا۔”وہ مسلسل اس سے باتیں کرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔سونی اپنے خاندان کی خوشیوں پر بےحد خوش تھی۔

شام کی چائے کا اہتمام باہر لان میں کیا گیا تھا۔بہار کا موسم کافی خوشگوار تھا۔ پودوں سے پھوٹتی ننھی ننھی کونپلیں دیکھنے میں بھلی لگ رہی تھیں۔ وہ ایک کرسی پر خاموشی سے بیٹھا گرین ٹی پی رہا تھا۔ہر سپ کے ساتھ
اسے کوئی نا کوئی نیا طعنہ سننے کو ملتا تھا۔ آج اس کے اتنے دنوں بعد آمد پر مصطفی نے اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔مگر مجال تھی جو اس کے ماتھے پر ایک بھی شکن آئی ہو یا آنکھیں ایک بار بھی شرمندگی سے جھکی ہوں۔اس کے
چہرے پر بےحد اطمینان اور سنجیدگی تھی۔ایسے جیسے وہ یہ بےعزتی انجوائے کر رہا ہو اور یہی چیز مقابل کو تپانے
کے لیے کافی تھی۔
“سونی اپنے بیٹے کو کہو کہ جب اس نے میری کسی بات کا جواب نہیں دینا ہوتا تو اس گھر میں میرے سامنے یہ شکل لے کر مت آیا کرے۔”وہ بول بول کر اب تھک چکے تھے۔
“آپ مجھے گھر سے جانے کا کہہ رہے ہیں؟”سونی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ پہلی بار براہ راست مصطفی سے مخاطب ہوا تھا۔
“ہاں…!”مصطفی اپنی اس اولاد سے بہت زیادہ تنگ تھے۔
“اوکے!”کپ واپس ٹرے میں رکھے وہ اسی سنجیدگی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
جہاں مصطفی کا چہرہ سرخ پڑا تھا وہیں سونی نے باقاعدہ اپنا سر پیٹا تھا۔
“بیٹھو!واپس بیٹھو…!”وہ شدید مشتعل انداز میں گویا ہوئے تھے۔
“Are you sure?”
چہرے پر اب بھی وہی سنجیدگی تھی۔ مصطفی کا صبر جواب دے گیا تھا۔ وہ غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“آخر تم ہو کیا…؟اور یہ سب کر کے تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟”مصطفی کی رعب دار آواز سن کر ایک لمحے کے لیے سونی بھی گھبرا گئی تھی۔
“میں آپ کا بیٹا ہوں ڈیڈ!اور میں تو بس ایک اچھا بیٹا بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔”مجال تھی جو مقابل کے اطمینان میں ذرا برابر بھی کمی آئی ہو۔
“سونی اپنے اس لاڈلے سے کہو کہ میری نظروں سے دور ہو جائے بلکہ میں ہی چلا جاتا ہوں۔”مصطفی شدید طیش کی
حالت میں وہاں سے چلے گئے تھے۔
“اب میں نے کیا کر دیا؟”اس نے اسی سنجیدگی سے سونی کی جانب دیکھا تھا۔
“اتنے معصوم نا بنو عبداللہ!ماں ہوں میں تمہاری!تمہاری فطرت سے اچھی طرح واقف ہوں۔اچھے سے جانتی ہوں
کہ تم یہ سب جان بوجھ کر کرتے ہو۔” سونی نے اٹھتے ساتھ ہی شکایتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“میں ایسا کیوں کروں گا مام؟”اس بار چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ بےبسی بھی در آئی تھی۔
“کیونکہ یہ تمہارا لوگوں کو اذیت پہنچانے کا منفرد طریقہ ہے۔”سونی بھی غصے سے وہاں سے چلی گئی تھی۔ عبداللہ نے لاپروائی سے کندھے اچکا کر اب گاڑی کی چابی اٹھائی تھی۔

وانیہ نے بہت دماغ لگا کر پلین ترتیب دے ہی دیا تھا۔ملازمہ کی غیر موجودگی میں وہ چپکے سے اس کے کواٹر میں
جا کر لائٹر لانے میں کامیاب ٹھہری تھی۔اپنے کمرے میں آ کر اس نے کچھ کاغذ پھاڑ کر ڈسٹ بین میں پھینکے تھے۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس سب کے بعد نائل اس سے شدید خفا ہو گا مگر وہ سوچ چکی تھی کہ کس طرح اس سارے معاملے کا الزام ملازمہ پر ڈالنا ہے۔کیمرہ فکس کیے اس نے آگ جلائی تھی۔وہ کچھ دیر بغیر پلکیں جھپکائے آگ
کو دیکھتی رہی تھی۔وہ ہمیشہ ہی خود کو جان بوجھ کر نقصان پہنچاتی تھی۔راز کی تلاش نے اسے بالکل دیوانہ کر
دیا تھا۔ مسلسل بھڑکتی آگ کو دیکھ کر وانیہ کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔چیخوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا۔اس کے اسطرح چلانے کی وجہ سے ماہم فورا وہاں پہنچی تھی۔گھر کے کسی بھی ملازم کو اٹیک کے وقت اس کے قریب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ وانیہ نے سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔اس نے جان بوجھ کر یہ سب
نائل کی غیر موجودگی میں کیا تھا تا کہ وہ اسے سنبھال نا سکے۔
“مام!مام…!”وہ دیوانہ وار آگ کو اپنے ہاتھوں سے بجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ماہم اسے سنبھالنے کی کوشش میں
بری طرح ناکام ہوئی تھی۔وہ صرف نائل کے ہی قابو میں آتی تھی۔
“نین بھاگ جاؤ…بھاگ جاؤ۔”تقریبا بیس منٹ تک یہ سلسلہ چلا تھا اس کے بعد وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی
تھی۔وانیہ کو ہوش ہسپتال کے بستر پر آیا تھا۔اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔وہ سر میں شدید درد محسوس کر رہی تھی۔
“میری جان!کیسی ہیں اب آپ؟”نائل نے محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔وانیہ نے آنکھوں کے اشارے سے
اسے اپنے صحیح ہونے کا بتایا تھا۔ حیران تو وہ بہت تھی۔اصولا تو نائل کو اس پر مشتعل ہونا چاہیئے تھا مگر وہ اس سے محبت سے بات کر رہا تھا۔
“زیادہ درد تو نہیں ہو رہا؟”نائل نے ایک بار پھر اسی نرمی سے پوچھا تھا۔
ڈاکٹرز کے کہے مطابق اس کے دماغ کی نس پھٹتے پھتٹے بچی تھی۔اور انہوں نے وانیہ کو کسی بھی قسم کے سٹریس سے دور رکھنے کا کہا تھا۔ مگر ڈاکٹرز اس بات سے انجان تھے کہ وہ خود جان بوجھ کر ٹریس لیتی اور دیتی بھی تھی۔ دوائیوں کے زیر اثر اس پر غشی طاری ہوئی تھی۔آخری چیز جو اسے یاد تھی وہ موبائل میں بنی وہ وڈیو تھی۔ یقینا اس بار اسے ضرور کچھ نا کچھ پتا چل جائے گا کیونکہ نائل نے بروقت وہاں پہنچ کر اسے نہیں سنبھالا تھا۔اب بس اسے جلد از جلد گھر جانا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس وڈیو پر ہی اس کی تمام تر کھوج مکمل ہو گی۔