Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 48)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 48)
نائل کی آنکھ صبح نو بجے کے قریب کھلی تھی۔اٹھتے ساتھ ہی اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔وہ اتنا ذہین تو تھا ہی….کہ ساری صورت حال فورا سمجھ جائے۔
“سنیہا….!”وہ چلاتے ہوئے بستر سے اٹھا تھا۔
“سنیہا….”وہ اسے آوازیں دیتا ہر جگہ تلاش کر رہا تھا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔
“تم نے جوس میں کیا ملایا تھا؟”اسے کچن میں ناشتہ بناتے دیکھ کر نائل اس تک پہنچے دھاڑا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی….؟”اس کی کلائی سختی سے دبوچے وہ غرایا تھا لیکن نائل آج اس بات سے انجان تھا کہ آج اس کا نہیں بلکہ سنیہا کا دن ہے۔
“صوفی کون ہے؟”یہ سوال نہیں تھا بلکہ یہ بم تھا جو نائل کے سر پر پھوڑا گیا تھا۔
“بتائیں مسٹر نائل!صوفی کون ہے؟”اس کی آنکھیں سرخ ہونے کے ساتھ ساتھ متورم بھی تھیں مگر لہجہ….لہجہ ہموار تھا۔نائل کی گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔
“صوفی کون ہے نائل؟”اسے پیچھے کی طرف دکھیلتے وہ پوری قوت سے چلائی تھی۔نائل اس کے سوال سے زیادہ اس کے انداز پر دنگ تھا۔
“کون صوفی….یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟”خود کو بروقت سنبھالتے نائل نے ہموار لہجے میں کہا تھا۔اسے ہر گز اندازہ نہیں تھا کہ سب اتنی جلدی کھل جائے گا۔
“وہی صوفی جس کا ساری رات راگ لاپتے رہے ہو۔صوفی پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ،سب چلے گئے تم مت جاؤ….”سنیہا نے اس کے کہے گئے الفاظ دہرائے تھے۔
“میں نے….میں نے ایسا کہا؟”وہ تو خود شاکڈ تھا۔اس نے تو کبھی صوفی کو اسطرح سے یاد نہیں کیا تھا یا پھر شاید اس پر اس بات کا انکشاف پہلی بار ہوا تھا۔
“میں نے سب برداشت کیا۔ہر ظلم،ہر ستم….مگر شراکت داری میں برداشت نہیں کروں گی۔”سنیہا نے سلیب پر رکھا گلاس زمین پر پٹخا تھا۔گلاس کراچی کراچی ہوا تھا بالکل ویسے جیسے سنیہا کا دل….
“میں نے تمہیں معاف کیا۔تمہیں ایک اور موقع دیا صرف اس خوش فہمی کے ساتھ کہ تم صرف میرے ہو،مگر میں غلط تھی۔تمہارے دل و دماغ پر تو کسی اور کا قبضہ ہے۔یہ میری برداشت سے باہر ہے۔”وہ ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“سنیہا میری بات سنو….”معاملے کی سنگینی کو سمجھتے نائل نے حد درجے نرمی سے کہا تھا۔
“کچھ نہیں سننا مجھے….کہاں کمی رہ گئی تھی؟بتاؤ مجھے….میں نے تو ٹوٹ کر چاہا تمہیں….میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد صرف تم ہو اور تم نے کیا کیا؟مجھ پر ایک دوسری عورت کو فوقیت دی۔کون ہے وہ بےحیا….جس نے تمہیں مجھ سے چھین لیا؟”وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی۔
“تمیز سے بات کرو۔”نائل نے اپنے لب بھینچے تحمل کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔
“اوو!یعنی اب وہ زیادہ اہم ہے تمہارے لیے….ہاں!کیوں نہیں ہو گی،آخرکار ان چاہی تو میں ہوں نا،تم نے تو مجھ سے نکاح محض میرے ڈیڈ سے انتقام لینے کے لیے کیا تھا نا….؟نائل میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔تم ایک کام کرو،مجھے جان سے مار دو….”اسے گریبان سے پکڑے وہ دیوانہ وار کہہ رہی تھی۔
“مجھے مار دو نائل!مجھے مار دو….”اس کے ہاتھ تھامتے سنیہا نے اپنی گردن پر رکھے تھے۔
“تم پاگل ہو گئی ہو۔”نائل نے اسے دور دکھیلا تھا۔
“جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔”نائل نے صفائی دینے کی کوشش کی تھی مگر سنیہا اس وقت اپنے ہوش و ہواس میں نہیں تھی۔
“مجھے نہیں جینا،مجھے نہیں جینا….”سسکیوں کے دوران اس نے چولہے کے پاس پڑی چھری اٹھائی تھی۔
“سنیہا….”نائل نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے چھری جھپٹی تھی۔
“ہوش میں آؤ۔”نائل نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا۔اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سنیہا اس کو لے کر اس قدر حساس ہو گی۔
“میں یہ برداشت نہیں کر سکتی نائل!”وہ شکست خور حالت میں اس کے سینے سے لگی تھی۔
اس کے گرد حصار قائم کرتے نائل مسلسل اس کی پشت سہلا رہا تھا۔
“کیوں کیا تم نے میرے ساتھ یہ….؟”سنیہا کے آنسو نائل کی شرٹ بھگو رہے تھے۔
“میں نے کچھ نہیں کیا سنیہا!وہ میرا ماضی تھی،اس سے زیادہ کچھ نہیں….”اسے خود سے الگ کیے نائل نے اپنا ایک ہاتھ اس کی گال پر رکھا تھا۔شاید وہ اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم میرا حال ہو۔بس یہی حقیقت ہے۔”
“اور صوفی….؟”اس کا لہجے میں نمی کا عنصر اب بھی واضح تھا۔
“وہ کہیں نہیں ہے۔”نائل نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو پونچھے تھے۔
“تمہیں اس سے محبت ہے؟”وہ سسکی تھی۔
“میں نے بہت سالوں پہلے ہی اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے دفنا دیا تھا۔”اپنے ہاتھ سے اس کی گال سہلاتے نائل بہت آہستگی سے گویا ہوا تھا۔
“وہ دھوکہ باز تھی۔مجھے اس وقت چھوڑ کر گئی جب مجھے اس کی ضرورت تھی۔”وہ بےبسی سے ہنسا تھا۔
سنیہا نے بےیقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔کیا اس جیسے شخص کو بھی کوئی دھوکہ دے سکتا تھا؟
“وہ مر گئی ہے سنیہا!”نائل نے اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا۔اس بات پر سنیہا کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا تھا۔
“ہمارے درمیان دوبارہ اس موضوع پر بات نہیں ہو گی۔”اب کی بار وہ تھکے تھکے انداز میں گویا ہوا تھا۔
“تمہیں مجھ سے محبت ہے؟”چند ثانیوں بعد سنیہا کے کیے گئے سوال سے خاموشی کا ایک طویل وقفہ ان دونوں کے درمیان آیا تھا پھر گہری سانس ہوا میں خارج کرتے نائل نے بولنا شروع کیا تھا۔
“میں کوشش کر رہا ہوں۔ٹرسٹ می!میں اس رشتے کو قبول کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہوں۔”سنیہا کا ہاتھ تھامتے نائل نے اسے یقین دہانی کروائی تھی۔
“یعنی تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے؟”اس کی آنکھوں کے چراغ بجھ گئے تھے۔
“میں….”وہ کہتے کہتے رکا تھا۔
“تم اگر ذرا سی بھی خوبصورت دکھتی تو اس بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔”اس بات پر سنیہا کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔کم از کم وہ اس قسم کی کسی بات کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
“میرا مطلب ہے کہ اگر تمہارا رنگ تھوڑا سا صاف ہوتا اور تمہارے بال….اچھے ہیں،بالکل ناگن کی زلفوں جیسے مگر اگر یہ تھوڑے سے لمبے ہوتے تو….”
“نائل….”سنیہا نے احتجاج کیا تھا۔
“وزن بھی کافی زیادہ ہے تمہارا،مجھے نا سلم سمارٹ لڑکیاں….”
“بھاڑ میں جاؤ۔”وہ غصے سے اسے پرے دکھیلتی وہاں سے گئی تھی۔
“اب کیا کر دیا میں نے….؟”نائل نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی۔
“اس دنیا میں نا سچے اور کھرے لوگوں کی کوئی قدر ہی نہیں ہے۔”اس نے سر جھٹکتے مایوسی سے کہا تھا۔
یہ سچ تھا کہ وہ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ماضی کی کچھ یادیں کبھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔وہ دیمک بن کر آپ کو کھا تو جاتی ہیں مگر کبھی آپ سے جدا نہیں ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وانیہ آج دو دن بعد یونیورسٹی گئی تھی۔
“ہائے!”احمر کے پاس بیٹھتے وہ خوشگواریت سے گویا ہوئی تھی۔
ان دو دنوں میں احمر نے وانیہ کا بہت خیال رکھا تھا۔وہ صبح شام اسے بکے بھیجتا تھا۔اور فون پر اسے میسجز بھی کرتا تھا۔وانیہ کا نمبر وہ ملازمہ سے لے چکا تھا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے….شاید ہمدردی میں یا پھر کچھ اور تھا….وہ کچھ محسوس کر رہا تھا،ایک عجیب سا کھنچاؤ….
“تم نے میرا اتنا خیال رکھا اس کے لیے میں تمہاری مشکور ہوں۔”
“اب میں نے ایسا بھی کچھ نہیں کیا۔”وہ مدھم سا مسکرایا تھا۔
“مجھے اس وقت واقعی کسی کے سہارے کی ضرورت تھی،تم نے میرا ساتھ دے کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔”
“دوستی میں احسان نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔”وانیہ اس کی بات پر چونکی تھی۔
“میرا نام احمر ہے۔”احمر نے دوستی کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“وانیہ….”وانیہ نے خوشدلی سے وہ ہاتھ تھاما تھا۔
“ویسے مومن مرد کسی نامحرم کا ہاتھ نہیں تھامتے۔”اس بات پر احمر کا رنگ ایک لمحے کے لیے فق پڑا تھا۔اس نے کرنٹ کھا کر وانیہ کا ہاتھ چھوڑا تھا۔وہ دل کھول کر ہنسی تھی۔
“ریلیکس!میں مومن عورت نہیں ہو تو اتنا تو چلتا ہے۔”اس کی بوکھلاہٹ سے وانیہ اچھا خاصا محظوظ ہوئی تھی۔
“میں چلتا ہوں۔”اپنا بیگ اٹھائے وہ پھرتی سے اٹھا تھا۔
“ارے مگر کہاں….؟”وانیہ بھی فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“ضروری کام ہے۔”اس نے نظریں چرائی تھیں۔
“ٹھیک ہے مگر ایک شرط پر جانے دوں گی تمہیں…”احمر نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“تمہیں آج شام میرے ساتھ ایک کپ کافی پینی پڑے گی۔اور میں انکار ہر گز نہیں سنوں گی۔”یہ شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
“ٹھیک ہے۔”حامی بھرتے ہی وہ اجلت سے وہاں سے گیا تھا۔وانیہ اس کی پشت دیکھے مسکرا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ وانیہ اور احمر کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔اس دونوں کی دوستی گہری سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔وانیہ جس سرکل سے تعلق رکھتی تھی اس سرکل میں لڑکا اور لڑکی کی دوستی کو بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔اس کا فرینڈز سرکل بہت محدود تھا جس کی اہم وجہ اس کی دماغی حالت اور نائل کا حد سے زیادہ حساس پن تھا۔
رات کے تقریبا دس بجے کے قریب وانیہ نے احمر کو کال کی تھی۔
“مجھے پک کر لو۔”
“کیوں….؟”وہ جو کتابوں میں سر دیے بیٹھا تھا اس کے اس مطالبے پر بری طرح چونکا تھا۔
“کہیں باہر چلتے ہیں۔”
“وانیہ!تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا؟”وہ بہت جلد آپ سے تم تک کی مسافت طے کر چکا تھا۔
“ہاں بالکل ٹھیک ہے۔میں بور ہو رہی ہو۔”
“بور ہو رہی ہو تو کوئی مووی دیکھ لو۔مجھے پڑھنا ہے۔”اس کے لہجے میں ناگواری کا عنصر صاف واضح تھا۔
“کیا کرو گے اتنا پڑھ کر….کہیں باہر چلتے ہیں نا….؟”وہ بضد تھی۔
“وانیہ میڈم!میں آپ کی طرح اپر کلاس سے تعلق نہیں رکھتا۔بہت مشکل سے سکالرشپ پر یہاں تک پہنچا ہوں۔پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں تا کہ اپنے تمام تک اخراجات اٹھا سکوں۔وہاں کلکتہ میں میری ماں مجھ سے بہت آس لگائے بیٹھی ہے تو براہ مہربانی مجھے پڑھنے دیں۔”اس نے کھٹاک سے فون بند کر دیا تھا۔وانیہ کا تو منہ ہی کھل گیا تھا۔
“بدتمیز انڈین کہیں کا…..”وانیہ نے غصے سے فون پرے دکھیلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت بار رابطہ کرنے کے بعد بالآخر ڈیوڈ نے نائل کا فون اٹھا ہی لیا تھا۔
“لگتا ہے سالے صاحب کو بہنوئی کی یاد کچھ زیادہ ہی ستا رہی تھی۔”اس کا لہجہ حد سے زیادہ شوخ تھا۔
“کہاں غائب ہو تم؟”نائل نے دانت کچلاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“بہت مصروفیت ہے سالے صاحب!اب کیا کیا بتاؤں؟”ڈیوڈ نے لاپروائی سے کہا تھا۔
“اچھی طرح جانتا ہوں تمہاری مصروفیت کو اور یہ بھی کہ پرسوں جو بیرون ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں سمگلنگ ہوئی ہے،اس کے پیچھے تمہارا ہاتھ ہے۔”
“غلط،بالکل غلط!صرف سمگلنگ ہی نہیں بلکہ بھتہ خوری،لڑکیوں کی کڈنیپنگ اور تمام تر دہشتگردانہ کاروائیوں کے پیچھے میرا ہی ہاتھ ہے مگر افسوس آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے،سالے صاحب….”ڈیوڈ نے سالے صاحب پر زور دیتے کہا تھا۔
“تم….”اس کا اطمینان بھرا انداز نائل کو مزید طیش دلا گیا تھا۔
“مجھے بس تمہاری ایک غلطی کا انتظار ہے۔”
“اور مجھے آپ کی بہن کے ایک دیدار کا….ویسے اسے دور کیوں بھجا آپ نے….؟آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں اس تک پہنچ نہیں سکتا۔بس چند مہینے اور….پھر مانو کو مجھ سے کوئی دور نہیں کر سکتا۔”
“خبردار جو تم نے ایسا کچھ سوچا بھی تو….میری بہن سے دور رہو،سمجھے”
“کوئی ایک زبان ہے آپ کی….؟”اس کی بات میں چھپے ہوئے مفہوم کو نائل اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔
“میری بات کان کھول کر سن لو،خبردار جو تم نے میری بہن کو بری نگاہ سے دیکھا تو….”نائل نے اسے کھلی دھمکی دی تھی۔
“محبت بھری نگاہ سے تو دیکھ سکتا ہوں نا….؟”نائل کو زچ کرنے کا وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔
“تم….”نائل کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا تھا۔
“ملو مجھ سے….”تمام تر فضول باتوں کو سائیڈ پر رکھے نائل مدعے پر آیا تھا۔
“رشتہ دینا ہے کیا….؟”
“بکواس بند کرو اور آ کر ملو مجھ سے….شاید اس ملاقات کے بعد تمہیں اپنے کیے ہر جرم پر شدید پچھتاوا ہو اور تم خود کو کبھی معاف بھی نہ کر سکو۔”
“پھر تو ملاقات ضروری ہے۔”وہ واضح طور پر تمسخر اڑا رہا تھا۔
“لوکیشن سینڈ کرتا ہوں تمہیں….”نائل نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
