Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 02
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 02
وہ لوگ سنیہا کو ایک خفیہ جگہ پر لے کر گئے تھے جہاں پہلے کافی لڑکیوں کو قید کر کے رکھا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ایک کمرے میں اسے پٹختے ایک شخص نے اس کی آنکھوں کی پٹی کھولی تھی۔
“میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟پلیز مجھے چھوڑ دو۔”وہ مسلسل سسک رہی تھی۔
“تم نے نہیں لیکن تمہارے شوہر نے بہت کچھ بگاڑا ہے۔”اسے اس کمرے میں لاک کرتے وہ شخص باہر کی جانب بڑھا تھا۔
“مجھے جانے دو،پلیز مجھے جانے دو۔”وہ اپنے بندھے ہاتھوں سے ہی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“نائل،کہاں ہیں آپ….؟”دروازے کے ساتھ لگی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
ڈیوڈ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی یہاں پہنچا تھا۔اسے بدر سے ضروری کام تھا۔
“بابا کہاں ہیں؟”اس نے اپنے ایک آدمی سے پوچھا تھا۔
اس آدمی نے ادب سے سر جھکائے ڈیوڈ کو بدر کا بتایا تھا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے کی جانب بڑھ رہا تھا تبھی ایک کمرے کے باہر آ کر اس کے قدم رکے تھے۔نسوانی چیخیں اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھیں۔
“کوئی ہے،پلیز میری مدد کرو۔”کوئی بہت زور سے دروازہ پیٹ رہا تھا۔
“اندر کون ہے؟”اس نے کمرے کے باہر کھڑے گارڈ سے پوچھا تھا۔
“کوئی خاص مہمان ہے بلیک مونسٹر….”اس نے گہری سانس خارج کی تھی۔وہ اس لفظ کا مفہوم اچھے سے سمجھتا تھا۔یہ کمرہ واقعی خاص لوگوں کے لیے مختص تھا۔باقی لڑکیوں کو الگ جگہ پر رکھا جاتا تھا۔
“دروازہ کھولو…..”اس نے حکم صادر کیا تھا۔
“جی…..؟”گارڈ گڑبڑا گیا تھا۔
“میں نے کہا دروازہ کھولو۔”اب کی بار اس کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔چیخ و پکار اب بند ہو چکی تھی۔سنیہا با آسانی باہر موجود لوگوں کی باتیں سن سکتی تھی۔
“پلیز مجھے بچاؤ۔”اب کی بار اس نے دروازہ بہت زور سے بجانا شروع کیا تھا۔شاید اسے یہ خوش فہمی تھی کہ کوئی مسیحا اسے یہاں سے بچا لے گا۔
“بلیک مونسٹر ہمیں….ہمیں آڈرز نہیں…..”الفاظ منہ میں ہی تھے جب گولی چلنے کی آواز سے ہر طرف سکوت چھایا تھا۔
“ٹھاہ…..”ڈیوڈ نے اس کے پیر پر گولی ماری تھی۔یہ سلسلہ رکا نہیں تھا۔ایک کے بعد دوسری،دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی گولی کی آواز سنتے وہ پیچھے کی طرف بھاگتی دیوار سے جا لگی تھی۔اس کے اعصاب بالکل شل ہو گئے تھے۔دیوار کے ساتھ لگتے وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔اپنی سسکیوں کا گلا اس نے بامشکل گھوٹا تھا۔وہ کوئی مسیحا نہیں تھا وہ ان ہی لوگوں کی طرح ایک حیوان تھا۔
“بلیک مونسٹر کو انکار کرنے کی جرات کیسے ہوئی تمہاری؟”ڈیوڈ کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچا تھا۔
“کھولو دروازہ….”اب کی بار گارڈ نے فورا دروازہ کھولا تھا۔چار گولیاں لگنے کے بعد بھی وہ بغیر کراہے اپنے قدموں پر کھڑا تھا۔سامنے موجود شخص کسی کو کرہانے کی اجازت کہاں دیتا تھا؟؟؟
دروازے کا ہینڈل گھومنے کی آواز پر سنیہا خود میں مزید سمٹی تھی۔اسے اپنے اطراف میں صرف خوف کے سائے لہراتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔
دروازہ کھلتے وہ اندر داخل ہوا تھا۔ایک سرسری سی نگاہ کمرے کے ایک کونے میں دبکی بیٹھی لڑکی پر ڈال کر اس نے واپس پلٹتے دروازہ زور سے بند کیا تھا۔
“ٹیپ لگاؤ اس کے منہ پر،سر میں درد کر دیا ہے۔”حکم صادر کرتے وہ کوٹ کا بٹن بند کرتا آگے کی جانب بڑھا تھا۔
سنیہا ہاتھوں میں منہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“نائل کہاں ہیں آپ…..؟”وہ بےبسی سے اسے پکار رہی تھی۔
“بابا کون ہے یہ لڑکی؟”بدر تک پہنچتے اس نے پہلے سوال داغا تھا۔
“نا حال پوچھا نا کچھ سیدھا سوال….”بدر نے شکایتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔اس کی شکایت پر وہ مسکرا دیا تھا۔
“مجھے بس تجسس ہو رہا ہے۔اتنے عرصے سے وہ کمرہ خالی ہے اب اچانک کوئی خاص کیسے آ گیا؟”
“تم کچھ زیادہ دلچسبی نہیں لے رہے؟”بدر کو حیرانی ہوئی تھی۔
“ایسی بات نہیں ہے بابا،میں نے تو ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔”وہ مدھم سا مسکرایا تھا۔
“اگر تمہیں دلچسبی ہے تو….”بدر کا لہجہ معنی خیز تھا۔اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا تھا کہ وہ نائل کی بیوی کو حاتم کے آگے پیش کر دے۔یہ دونوں کے درمیان موجود دشمنی کو بھڑکانے کا سب سے اچھا طریقہ تھا۔
“میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا بابا،میں نین کے علاؤہ کسی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔”حاتم فورا خفا ہوا تھا۔
“جانتا ہوں بیٹا!مذاق کر رہا تھا۔تم کبھی ملواو نا اپنی نین سے۔میں بھی تو دیکھو کہ آخر میری بہو میں ایسی کیا خاص بات ہے جو میرا بیٹا اتنا دیوانہ ہوا پھرتا ہے۔”بدر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
“جی ضرور…..”چند ضروری باتوں کے بعد اس نے اپنے قدم باہر کے لیے اٹھائے تھے۔
حاتم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد بدر کو ایک کال آئی تھی۔
“کیا مسئلہ ہے؟”اس نے ناگواری سے پوچھا تھا۔
“لڑکی مرنے والی ہے۔”
“تو….؟”
“اس کی آخری سانسیں چل رہی ہیں۔”مقابل نے اپنی بات پر زور دیتے کہا تھا۔
“مر بھی جائے تو بھی بستر پر بھیج دینا۔میں ان نازک کلیوں پر اتنا پیسہ بلاوجہ نہیں لگاتا۔”اس نے طیش کی حالت میں فون کاٹ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل کسی میٹنگ سے واپسی پر گھر جا رہا تھا جب اس کا فون بجا تھا۔فون اٹھاتے ساتھ ہی اس کی رگیں تن گئی تھیں اور آنکھوں میں خون ڈور آیا تھا۔
وہ شدید اشتعال کی حالت میں گاڑی میں بیٹھا تھا۔گھر پہنچ کر اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا تھا۔ایک ڈرار سے فون نکالے اس نے ایک نمبر ملایا تھا۔
“ہیلو کون؟؟”فون تیسری بیل پر ریسیو کر لیا گیا تھا۔
“تمہارا باپ….”نائل کا لہجہ اشتعال انگیز تھا۔
“کون بات کر رہا ہے؟”بدر الرٹ ہوا تھا۔یہ نمبر تو اس کے خاص آدمیوں کے پاس ہی تھا تو پھر یہ کون تھا جو اس سے اس لہجے میں بات کر رہا تھا؟؟؟
“بات مجھ تک تھی تو قابل برداشت تھی مگر میری بیوی کو بیچ میں لا کر تم نے ٹھیک نہیں کیا۔”نائل نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔
“نائل….”بدر کے لب مسکرائے تھے۔
“تم نے مجھ پر حملے کروائے،دھمکیاں دیں،میں نے نظر انداز کیا لیکن کوئی میری عزت پر ہاتھ ڈالے یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔”
“کیا کر لو گے،ہاں بولو…..؟اس کے بعد میں تمہاری بہن کو اٹھواؤں گا۔جو کرنا ہے کر لو۔”نائل کا خون کھولنے لگا تھا۔
“آدھا گھنٹہ،صرف آدھا گھنٹہ….،آدھے گھنٹے کے اندر اندر مجھے میری بیوی میرے گھر پر چاہیئے ورنہ تم نائل آفندی کا وہ روپ دیکھو گے جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا ہو گا۔”
“اچھا کیا کرو گے تم….؟”وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
“اگلے پانچ منٹ میں سمجھ آ جائے گی تمہیں….”اسے تنبیہہ کرتے نائل نے فون کاٹ دیا تھا۔
“دو ٹکے کا میجر میرا کیا اکھاڑ لے گا؟”بدر نے زبردست قہقہ لگایا تھا۔وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ایکسپوز ہو جانے کے بعد وہ اپنی اہمیت کھو چکا ہے اور آئی۔ایس۔آئی والے اب اس کے لیے کچھ نہیں کرے گے۔اسے اتنے عرصے سے کوئی نقصان نا پہنچانے کے آرڈرز بدر کو اوپر سے ملے تھے۔
ڈارک ورلڈ تقریبا دنیا کے ہر کونے تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ سب ہی ایک دوسرے سے منسلک تھے۔
نائل کو ختم کرنے پر کوئی بھی راضی نہیں تھا،وجہ شاہین تھا۔لیکن اب بدر کا صبر جواب دے گیا تھا۔اگر نائل اس کے معاملات میں دخل دینے سے گریز نہیں کرتا تھا تو پھر وہ کیوں پیچھے ہٹتا؟؟
ٹھیک پانچ منٹ بعد بدر کا دوسرا فون بجا تھا۔جو کچھ اسنے سنا تھا وہ اس کے پیروں تلے زمین کھینچنے کے لیے کافی تھا۔
“ایسے کیسے ڈیل کینسل ہو گئی۔میں پانچ کڑور دے چکا ہوں۔مجھے منشیات چاہیئے۔”وہ اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھا تھا۔
“کیا مطلب پیسے واپس نہیں ملے گے؟میں نے رقم ادا کی ہے تو مجھے منشیات چاہیئے ورنہ میری رقم واپس کرو۔”مقابل کا جواب اسے طیش دلا گیا تھا۔
“اگر اپنی سلامتی چاہتے ہو تو پیسے اور منشیات دونوں بھول جاؤ۔”فون کی سکرین تاریک ہو چکی تھی بالکل اس کے چہرے کی مانند…..
اتنے دنوں کی انتھک محنت کے بعد فرانس کے ایک مشہور گروہ کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا تھا۔وہ اس خاص قسم کی منشیات کو پاکستان کی یونیورسٹیز کے سٹوڈنٹس میں عام کرنا چاہتا تھا لیکن اب اچانک ڈیل کا کینسل ہونا اس کے لیے بڑا دھچکہ تھا۔اور تو اور وہ لوگ پیسے دینے کو بھی تیار نہیں تھے۔
ابھی وہ اسی صدمے میں تھا کہ ایک بار پھر اس کا فون بجا تھا۔اس نے شکست خور حالت میں فون اٹھایا تھا۔
“فیکٹری میں آگ لگ گئی؟؟”اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا تھا۔
“کیسے لگ گئی؟تم لوگ آخر…..”الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب جیمز کی کال آئی تھی۔بدر نے دل کو مضبوط کرتے کال اٹھائی تھی۔
“لاہور والی حویلی پر حملہ ہو گیا ہے۔”وہ مزید نہیں سن سکتا تھا۔بدر نے فورا کال کاٹی تھی۔
وہ نڈھال سا کرسی پر بیٹھا تھا۔اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی۔
کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے دوسرا فون اٹھائے نائل کو کال ملائی تھی۔وہ صوفے پر پیر پھیلائے لیٹا اس ہی کی کال کا انتظار کر رہا تھا۔
“کون ہو تم؟”پہلے والا غرور،تمسخرانہ اندز اب کہیں غائب
سا ہو گیا تھا۔
“ایک پہیلی جسے کوئی نہیں سلجھا سکتا۔تم کوشش کر کے دیکھ لو،مزید الجھ جاؤ گے،لیکن پہلے میرا مطالبہ پورا کرو۔”
“ٹھیک ہے۔میں تمہاری بیوی کو بھیج رہا ہوں۔لیکن یہ سب بند کرواو۔”
“یہ تو ممکن نہیں ہے۔اگلے آدھے گھنٹے تک یہ سب ہوتا رہے گا۔مجھے میری بیوی مقررہ وقت تک گھر پر چاہیئے۔اگر ایک سیکنڈ بھی اوپر ہوا تو ایسی تباہی آئے گی کہ تمہاری سات پشتیں مل کر بھی بھرپائی نہیں کر سکے گی۔”کال کٹ کر کے نائل نے فون میز پر پٹخا تھا۔
اضطراب کی حالت میں نائل نے اپنی پیشانی مسلی تھی۔اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھ وہ مضطرب سا وہاں سے اٹھا تھا۔ہر گزرتا منٹ اس پر بھاری تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ایک گاڑی ان کے گھر کے باہر رکی تھی۔نائل تیز تیز قدم اٹھاتا باہر لاؤنچ کی جانب گیا تھا۔وہ اسے دروازے سے آتی دکھائی دی تھی۔روئی ہوئی خوفزدہ آنکھیں،سفید پڑتی رنگت،بکھرے ہوئے بال….
نائل کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
“سنیہا…..”اس کے پکارنے کی دیر تھی وہ بھاگ کر اس کے گلے لگی تھی۔
“کہاں تھے آپ….؟میں نے کتنا پکارا آپ کو،آپ کیوں نہیں آئے؟”اسے کالر سے دبوچے وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔
نائل نے آہستگی سے اس کے گرد حصار قائم کرتے اسے پر سکون کرنا چاہا تھا۔
“باقی کا رومانس کمرے میں چل کر کرتے ہیں۔گھر میں اتنے ملازم ہیں،اچھا نہیں لگتا۔”وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔وہ شخص پاگل نہیں تھا بلکہ پاگلوں کا سردار تھا۔کس موقع پر کیا بات کرنی ہے یہ اسے شاید کسی نے سکھایا ہی نہیں تھا۔
“اتنے پیار سے مت دیکھو مجھے پہلے ہی تم پر اتنا غصہ ہے۔”وہ بےیقینی سے اسے دیکھتی رہی تھی۔
“آپ ایک نہایت خود غرض انسان ہیں۔”وہ اس وقت ٹوٹی بکھری حالت میں تھی اور وہ شخص اسے سمیٹنے کے بجائے اپنے ہی رونے روئے جا رہا تھا۔
“اور تم اس خود غرض انسان کی بیوی ہو۔”وہ اسے اپنے قریب کرتا اپنے اندر بھینچ چکا تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟”نائل نے اس کے بال سہلاتے ہوئے نرمی سے پوچھا تھا۔
“نہیں!”اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کرتے وہ بلک بلک کر رو دی تھی۔
“چلو اندر چلتے ہیں۔”وہ اسے اندر لے گیا تھا۔سنیہا کی حالت واقعی ٹھیک نہیں تھی۔
“نائل وہ لوگ…..”
“ایسی کی تیسی ان لوگوں کی،تم بیٹھو یہاں پر….”اسے بستر پر بٹھاتے نائل نے اسے پانی کا گلاس تھمایا تھا۔
وہ سارا پانی ایک ہی سانس میں حلق سے اتار گئی تھی۔
“نائل میں بالکل پاک ہوں۔”سنیہا کی خوفزدہ آواز سنتے نائل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں۔”اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ کہیں نا کہیں مان بھی تھا جیسے وہ اس کی بات کا یقین کر لے گا۔
“تم سے جتنا پوچھا جائے نا،صرف اتنا بولا کرو۔یہ بلاوجہ کی ٹر ٹر مجھے نہیں پسند…..”اس کے لہجے میں برہمی تھی جبکہ پہلی بار اس کی یہ برہمی سنیہا کے اندر ایک سکون اتار گئی تھی۔
“چلو لیٹو یہاں پر….”خفگی نے کب نرمی کا لبادہ اوڑھا تھا،سنیہا کو خبر ہی نہیں ہوئی تھی۔
“وہ لوگ کون تھے؟”
“میرے سسرال والے…..”نائل آفندی کسی بات کا سیدھا جواب کیسے دے سکتا تھا؟؟
“آپ بالکل بھی اچھے شوہر نہیں ہیں۔”وہ خفا ہوئی تھی۔
“اور تم بھی اچھی بیوی نہیں ہو۔”جواب دو بدو آیا تھا۔
“چلو ابھی لیٹو یہاں پر،تھوڑا ریلیکس ہو جاؤ پھر آرام سے لڑیں گے۔”نائل نے اسے لٹاتے ہوئے کہا تھا۔خود وہ اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔اس کا ہاتھ تھامتے سنیہا نے اس کی گود میں سر رکھا تھا۔آنسو ایک بار پھر بہنا شروع ہوئے تھے۔اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے وہ اسے اپنے ہونے کا یقین دلا رہا تھا۔
وہ آنکھیں میچے کافی دیر سسکتی رہی تھی۔
“سو جاؤ عزیز من!”نائل نے اس کے بالوں پر بوسہ دیتے کہا تھا۔سنیہا کے اندر ایک سکون سا اترا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
