Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 05)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 05)
اپنے پیلس کے اندر داخل ہوتے ہی نائل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ایک کمرے کے باہر رکا تھا۔آہستگی سے کمرے کا ناب گھمائے نائل اندر داخل ہوا تھا۔دبے پاؤں چلتا وہ بستر کے قریب پہنچا تھا۔
وہ پرسکون نیند سو رہی تھی۔لیمپ آن کرتے وہ اس کے قریب بستر پر بیٹھا تھا۔
اس کا چہرہ دیکھتے نائل کو اس پر بےتحاشہ پیار آیا تھا۔
“میری جان…!”نائل نے اس کے بالوں میں آہستگی سے ہاتھ پھیرا تھا۔وہ بےسود سوئی رہی تھی۔
“مجھے پتا ہے کہ آپ جاگ رہی ہیں۔”نائل نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔
“جی نہیں!میں سو رہی ہوں۔”اس نے فورا ہی زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔نائل کا بےساختہ قہقہ چھوٹا تھا۔
“افف!”بستر پر بیٹھتے اس نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔مجال ہے جو اس کی زبان کسی وقت بھی کنڑول ہو جائے۔
“چلیں اٹھیں!باہر چلتے ہیں۔”نائل نے کھڑے ہوتے ساتھ بہت محبت سے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا…میں آپ سے بہت،بہت ناراض ہوں۔”وہ منہ پھلائے رخ موڑ گئی تھی۔
“اور میرا بچہ مجھ سے کیوں ناراض ہے؟”اس کے قریب بیٹھتے نائل نے ایک بازو اس کے گرد پھیلایا تھا۔
“اتنے دنوں سے آپ گھر نہیں آئے،چلیں ٹھیک ہے میں پھر بھی معاف کر دیتی ہوں مگر آج تو میری سالگرہ تھی لیکن آپ پھر بھی لیٹ آئے ہیں۔”آواز میں نمی گھلی تھی۔
“میرا بچہ آئی ایم سوری!بھائی کو معاف کر دو”نائل نے ایک آس سے کہا تھا۔
“یہ آخری بار ہے۔”وانیہ نے انگلی اٹھائے اسے وارننگ دی تھی۔
“بالکل…!”نائل نے اس کی ہاں میں ہاں ملانا ضروری سمجھا تھا۔
“چلیں!اب کیک کٹ کرتے ہیں۔”نائل نے اسے سہارا دیے اٹھایا تھا۔
“خود چل سکتی ہوں میں…!”وہ ہمیشہ ہی اسے بچوں جیسا ٹریٹ کرتا تھا جس پر وہ کبھی کبھی اکتا جاتی تھی۔
“میرا بچہ!اگر آپ گر گئی پھر…؟”نائل کے لہجے میں
فکرمندی تھی۔
“زمین پر قدم رکھنا ہے بھائی،پل صراط پر نہیں…!”وانیہ نے اس کی بات مذاق میں اڑائی تھی۔وہ بھی سر جھٹک کر مسکرا دیا تھا۔
دودھیا اور گلابی رنگت،سنہری اور پرکشش آنکھیں،لمبے بھورے بال اور چہرے پر بکھری معصومیت…وانیہ آفندی ایک بہت ہی دلکش اور خوبصورت لڑکی تھی۔
وہ لوگوں کی نگاہوں کا مرکز تھی۔جو شخص اسے ایک بار دیکھ لیتا تو دوبارہ پلٹ کر دیکھنا تو جیسے اس پر فرض ہو جاتا تھا۔
لاؤنچ میں داخل ہوتے ہی انہوں نے کیک کٹ کیا تھا۔
“آپ کا گفٹ آپ کو صبح ملے گا۔”نائل نے بہت محبت سے اسے خود سے لگایا تھا۔
“میں باقی لوگوں کی طرح اپنی سالگرہ کیوں نہیں منا سکتی؟”وانیہ نے اداسی سے کہا تھا۔
“آپ جیسے چاہے گی ہم بالکل ویسے آپ کی سالگرہ منائے گئے۔”اس کا بجھا بجھا سا چہرہ دیکھ نائل فکرمند ہوا تھا۔
“میں باقی لوگوں جیسی کیوں نہیں ہوں؟”کہتے ساتھ ہی وہ رو دی تھی۔اس کے آنسو سیدھا نائل کے دل پر گرے تھے۔
“میری جان!آپ باقیوں جیسی ہو بھی نہیں سکتی،کیونکہ آپ نائل آفندی کی بہن ہیں۔”نائل نے مسکرا کر اس کے آنسو صاف کیے تھے۔وہ بھی نم آنکھوں سے مسکرا
دی تھی۔
“اپنی سالگرہ کا تحفہ میں اپنی مرضی سے لوں گی۔”وہ فورا آکسائیڈ ہوئی تھی۔
“ٹھیک ہے۔”وہ اعتراض کر ہی نہیں سکتا تھا۔
“ایسے نہیں!پہلے آپ وعدہ کریں کہ میں جو کہوں گی،آپ مجھے دیں گے۔”وانیہ نے اس کے آگے ہتھیلی پھیلائی تھی۔
“اب ایسے تو میں کوئی وعدہ نہیں کرنے والا،آپ کا کیا بھروسہ،آپ کہیں ایفل ٹاور ہی نا مانگ لیں۔”نائل نے لب دبائے کہا تھا۔
اس نے یہ بات محض وانیہ کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کی تھی مگر اس کی یہ بات بری طرح سے اس کے گلے پڑ جائے گی،یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
“تو کیا آپ مجھے ایفل ٹاور خرید کر نہیں دے سکتے؟”وانیہ نے شاک کی کیفیت میں پوچھا تھا۔
“ہائے اللہ!مجھے تو لگا تھا کہ ہم امیر ہیں۔مگر ہم تو بہت زیادہ غریب ہیں۔”اس نے افسوس سے سر جھکایا تھا۔
نائل نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اس کی بہن امچیور ہونے کے ساتھ ساتھ بےوقوف بھی تھی۔
صبح کے آٹھ بجے گھر کے تمام افراد ہی ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔نائل سربراہی کرسی پر براجمان تھا جبکہ ایک طرف وانیہ اور دوسری طرف ماہم بیٹھی تھیں۔
ڈائننگ ٹیبل کے گرد بارہ کرسیاں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔لاؤنچ میں بیش قیمتی کالین بچھا ہوا تھا۔دیواروں پر جگہ جگہ وانیہ اور نائل کی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔
ماہم کو تصویریں بنوانا زیادہ پسند نا تھا۔وہ رشتے میں نائل اور وانیہ کی پھوپھو لگتی تھی مگر ان کی عمر کافی کم تھی۔انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ وانیہ کی پرورش تھی۔
“رات میں نے آپ سے کچھ کہا تھا۔”وانیہ کو اچانک ہی یاد آیا تھا۔
“کیا…؟”نائل نے گرین ٹی کا سپ لیتے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“مجھے اپنی سالگرہ کا تحفہ اپنی مرضی کا چاہیئے۔”
“کیا چاہیئے میری جان کو…؟”کپ کو ٹیبل پر رکھتے نائل نے محبت سے استفسار کیا تھا۔
“میں چاہتی ہوں آپ شادی کر لیں۔”وانیہ کی بات پر ماہم اور نائل دونوں ہی چونکے تھے۔
“بھائی پلیز!گھر میں بھابھی آ جائیں گی نا،تو بہت مزا آئے گا۔ویسے بھی آپ بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں،پلیز شادی کر لیں۔”وانیہ نے معصومیت سے کہا تھا۔
نائل خاموش رہا تھا۔یہ وہ سوال تھا جس کا وہ جواب نہیں دے سکتا تھا۔
“بھائی سوچے تو سہی ایک بار…آپ کے پاس بھی بیوی آ جائے گی پھر آپ کے بچے ہو گے اور میں ان کے ساتھ کھیلوں گی۔پہلے بیٹی ہو گی،ہم اس کا کمرہ سجائے گے،ہم کالے رنگ کا پینٹ کروائے گے۔ضروری تھوڑی ہے کہ ہر لڑکی کو گلابی رنگ ہی پسند ہو۔پھر ہم باہر گھومنے جائے گے اور فاسٹ فوڈ بھی کھائے گے۔”نائل کے لبوں کو دلفریب مسکراہٹ نے چھوا تھا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ ساری چیزیں وانیہ کی اپنی پسند ہیں۔
ماہم بھی وانیہ کی باتوں سے محظوظ ہوئی تھی۔وانیہ ان کے گھر کی رونق تھی۔
“جب وہ تھوڑی سی بڑی ہو گی تو پھر ضد کرے گی کہ اسے پیرس جانا ہے،مگر کوئی بات نہیں پیرس بالکل بھی اچھی جگہ نہیں ہے۔ہیں نا بھائی…؟”نائل نے بامشکل لب دبائے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“اسے کریلے کا جوس بھی پسند نہیں ہو گا،مگر وہ تو صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے نا…!”وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلی جا رہی تھی جب ماہم نے اسے ٹوکا تھا۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے مگر تم اس کا نام کیا رکھو گی؟”نائل اور ماہم دونوں نے ہی دلچسبی سے اس کے کنفیوژ چہرے کو دیکھا تھا۔
وہ کچھ دیر سوچتی رہی تھی پھر وہ ایکدم جوش سے بولی تھی۔
“نین…!میں اس کا نام نین رکھو گی۔”اس نے دو انگلیوں کی چٹکی بجائے مسکرا کر کہا تھا۔ماہم اور نائل دونوں ہی شل ہو گئے تھے۔
“اچھا نام ہے نا بھائی؟”وانیہ نے آنکھوں میں تجسس کا تاثر لیے نائل کی طرف دیکھا تھا۔
“بہت برا نام ہے۔”اپنے غصے پر بامشکل قابو پاتے وہ فورا وہاں سے اٹھا تھا۔
“ارے!اتنا اچھا تو ہے۔”اس نے منہ بنائے ماہم کی طرف دیکھا تھا۔شاید وہیں سے کوئی ستائشی جملہ سننے کو مل جائے۔
“وانیہ!یہ نام تمہیں کس نے بتایا ہے؟”ماہم کے چہرے پر پریشانی کا عنصر تھا۔
“کسی نے بھی نہیں!خود ہی میرے ذہن میں آیا تھا۔”وانیہ نے لاپروائی سے کہا تھا جبکہ ماہم گہری سوچ میں پڑ گئی تھیں۔
گاڑی کو ایک سائیڈ پر بریک لگائے وہ نہایت سخت تاثرات چہرے پر سجائے آگے بڑھ رہا تھا۔کلینک کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے پیر سے ٹھدا مار کر دروازہ کھولا تھا۔
“نائل…!”ڈاکٹر اشعر نے ابھی الفاظ ادا بھی نہیں کیے تھے کہ نائل نے اسے گردن سے دبوچا تھا۔
“اتنے سالوں تک تم جیسوں کو کھلا پلا رہا ہوں،کس لیے…؟”وہ غرایا تھا۔
“کیسے یاد ہے اسے وہ نام…؟بولو،کیسے؟؟”شدید غصے کی حالت میں نائل نے اس کی گردن پر مزید دباؤ ڈالا تھا۔
“تم نے کہا تھا کہ اسے صرف یہ سب تب یاد آئے گا جب اسے دورہ پڑتا ہے۔عام حالات میں اسے کچھ یاد نہیں رہے گا تو
پھر اسے نین کیسے یاد ہے؟”اس کی آنکھیں انگارے برسا رہی تھیں۔طیش کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔
“اا…ات…اتفاق…!”اشعر نے اکھڑتی سانسوں کے درمیان کہا تھا۔
“کسی دن میں تمہارا سارا وجود گولیوں سے بھون دوں گا اور تمہاری لاش کو جنگلی کتوں کے آگے ڈال دوں گا۔اور تمہارے گھر والوں سے کہوں گا کہ یہ محض ایک اتفاق ہے۔”نائل نے اسے ایک جھٹکے سے پڑے دکھیلا تھا۔
“میری بہن میری زندگی ہے۔اور میں اپنی زندگی کو کسی قسم کی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔بہتر یہی ہے کہ یہ اتفاق دوبارہ نا ہو۔”اسے وارننگ دیے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔
دروازے تک پہنچ کر اس کے قدم رکے تھے۔اس نے مڑ کر سرد مہری سے کہا۔
“مجھے امید ہے آئیندہ اس قسم کے اتفاقات نہیں ہوں گے۔”اس کے وجود پر ایک ہتک آمیز نگاہ ڈال کر وہ سر جھٹکتے باہر چلا گیا۔
گھر آتے ہی اس نے خود کو نارمل کیا تھا۔وانیہ کے سامنے وہ غصہ نہیں کرتا تھا۔سٹڈی روم میں داخل ہوتے اس کے
ماتھے پر تیوری چڑھی تھی،وجہ سامنے موجود لفافہ تھا۔
نائل نے لب بھینچے اسے کھولا تھا۔
“صرف ایک سال…میری امانت کا خیال رکھنا۔”خط پڑھتے
ساتھ ہی اسے شدید طیش آیا تھا۔اس خط کو ہاتھ میں دبوچے وہ تیز تیز قدم اٹھاتا لاؤنچ سے گزرتے باہر لان کی طرف گیا تھا۔گیٹ پر پہنچتے اس نے گارڈ کو دبوچا تھا۔
“یہ میرے گھر تک کیسے پہنچا؟”لہجہ
نہایت سرد تھا۔
“کوریئر…!”
“چٹاخ…!”نائل نے اس کے منہ پر زبردست تمانچہ رسید کیا تھا۔اس کے ہاتھ کا چانٹا کھانے کے بعد وہ شخص زمین
پر گرا تھا۔ضرب اتنی شدید تھی کہ اسے اپنے کان میں گھنٹیاں بجتی سنائی دے رہی تھیں۔
“دوبارہ یہ ہوا تو جان لے لوں گا میں تمہاری…!”وہ غصے سے واپس اندر کی جانب بڑھا تھا۔
“کیا ہوا نائل…؟”اسے غصے سے لاؤنچ میں داخل ہوتے دیکھ ماہم کو تشویش ہوئیتھی۔
“یہ شخص…!”نائل نے وہ خط ماہم کی جانب بڑھایا تھا۔اس نے نفی میں سر ہلائے افسوس کیا تھا۔
“ہر سال!ہر سال…وانیہ کی سالگرہ پر یہی خط بھیجتا ہے،بس ایک بار…ایک بار میرے ہاتھ لگ جائے پھر دیکھیں گا میں اس کا کیا حال کرتا ہوں۔”ماہم کے ہاتھ سے خط جھپٹتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔
ماہم کا سر چکرانے لگا تھا۔یہ دشمنی تو بہت پرانی تھی۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ نائل اور وہ دونوں ہی ضدی ہیں۔لیکن اس سب میں انہیں بس وانیہ کی فکر تھی۔وہ معصوم تھی،بےحد معصوم…کہیں ان دونوں کی جنگ اس معصوم کی زندگی ہی نا برباد کر دے۔
وہ اپنی نیند پوری کر کے باہر لاؤنچ میں آئی تھی۔ایک نئی ملازمہ کو کام کرتا دیکھ وہ ٹھٹھکی تھی۔اس گھر میں ایک
نئے چہرے کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت بھی ہوئی تھی۔
“تم نئی ہو؟”وانیہ کا انداز دوستانہ تھا۔اس ملازمہ نے نظریں جھکائے تابعداری سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“پھوپھو کہاں ہیں؟مجھے پاستہ کھانا ہے۔”اسے اس وقت شدید بھوک لگی تھی۔
“جی وہ اپنے کمرے میں ہیں۔آپ کہے تو میں بنا دوں؟”
“ہاں بنا دو۔”وانیہ نے خوشدلی سے اجازت دی تھی۔
وہ بھی اس ملازمہ کے ساتھ کچن تک آئی تھی۔وانیہ نے ستائشی نگاہوں سے سارے کچن کو دیکھا تھا۔یہ اس کے گھر کا کچن تھا مگر پھر بھی اس نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔نائل اور ماہم اسے کچن میں نہیں جانے دیتے تھے اور ان
کے حکم پر گھر کے تمام ملازموں نے بھی اسے کبھی کچن میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔
وانیہ کی ضرورت کی تمام چیزیں اور ایک چھوٹا سا فریج اس کے کمرے میں ہی رکھ دیا گیا تھا۔
اس ملازمہ نے چولہے پر برتن رکھے چولہا جلایا تھا۔وانیہ کی رنگت ایک دم ہی زرد پڑی تھی۔اب برتن میں پانی ڈالے
اس نے پانی ابلنے رکھا تھا۔پانی کے ابلتے ساتھ ساتھ وانیہ کا چہرے پسینے سے تر ہوا تھا۔
“آگ…!”اس کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
“آگ…!”وہ چیختی ہوئی آگے بڑھی تھی۔اپنے ہاتھوں سے برتن کو اٹھائے اس نے نیچے زمین پر پھینکا تھا۔گرم پانی کے چھینٹے اس کے پیروں پر پڑے تھے۔
“وہ مر رہی ہے۔وہ مر جائے گی۔”وہ مسلسل چیختے چلاتے اپنے ہاتھوں سے آگ بجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کا یہ پاگل پن دیکھ وہ ملازمہ بری طرح گھبرا گئی تھی۔وہ بھاگتے ہوئے کچن سے باہر گئی تھی۔اب اس نے چلا چلا کر سب کو اکھٹا کیا تھا۔
ماہم بھاگتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی تھی۔
“وانیہ…!”ماہم نے بھاگتے ہوئے اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔وہ کسی صورت قابو میں نہیں آ رہی تھی۔مسلسل اپنے ہاتھوں سے آگ بجھانے کی کوشش کرتے
وہ اپنے ہاتھ بری طرح جلا چکی تھی۔
“نائل!نائل…!”ماہم نے فورا نائل کو آواز دی تھی۔وہ ابھی زینے ہی اتر رہا تھا کہ ماہم کی آواز کی پیروی کرتے وہ بھاگتا ہوا کچن کی جانب گیا تھا۔
“وانیہ…!”وانیہ کو پیچھے ہٹائے اس نے فورا چولہا بند کیا تھا۔
“آگ…گاڑی…وہ مر جائے گی۔میں آگ…آگ بجھانی ہے۔”وہ اس وقت آپے سے باہر ہو چکی تھی۔
“میری جان!کوئی آگ نہیں ہے،کچھ نہیں ہے۔”نائل نے اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کی تھی۔
“آگ ہے،گاڑی میں لڑکی ہے۔خون تھا۔وہ چار لوگ تھے۔نین…وہ مر جائے گی۔وہ مر گئی۔”وہ ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“میں نے دیکھا…میں نے…وہ جھاڑیوں کے پیچھے وہ شخص…!”جہاں ماہم نے نظریں چرائی تھیں وہی نائل نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں۔
“وہ شخص…اس نے…!”تمام الفاظ یہاں آ کر ختم ہوئے تھے۔وہ چکراتے سر کے ساتھ ہوش و ہواش سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
