93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 52)

عصر کے وقت ڈیوڈ نے ایک بوسیدہ،کھنڈر نما گھر کے سامنے گاڑی روکی تھی۔اب وہ مغرورانہ چال چلتا اندر داخل ہوا تھا۔
“ہائے بلیک مونسٹر!کیسے ہو تم؟”ایک کمرے کے اندر داخل ہوتے اس نے خوشگواریت سے پوچھا تھا۔
“میرا مطلب ہے ایکس بلیک مونسٹر….”اس نے تصیح کی تھی۔
اب وہ قدم قدم چلتا بستر پر لیٹے وجود کے پاس گیا تھا۔
“اسے ویل چیئر پر بٹھاؤ۔”اس نے اپنے ایک ملازم کو حکم صادر کیا تھا۔
خود صوفے پر بیٹھے اس نے سامنے پڑی ٹیبل پر اپنے پیر رکھے تھے۔سیم بےسود وجود کے ساتھ کرسی پر بیٹھا خالی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ڈیوڈ کچھ دن پہلے ہی سیم کے ٹھکانے کا پتا لگا چکا تھا اور باآسانی اسے اپنے پاس بھی لے آیا تھا۔الیکس ابھی اس سے ناواقف تھا۔
“ڈرامے بازی بند کرو مسٹر ایکس!میں جانتا ہوں کہ تم الیکس کے سامنے جان کر نہیں بولتے مگر میرے سامنے تمہیں بولنا ہو گا۔میں سچ سننا چاہتا ہوں الف سے لے کر ے تک،حرف با حرف….”پاؤں کی قینچی بنائے وہ مسلسل اپنے جوتوں کو ہلا رہا تھا۔
“اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا؟”سیم کی لڑکھڑاتی آواز سن کر ڈیوڈ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
“تم کیا چاہتے ہو؟”
“آزادی!اس زندگی سے آزادی….”اس کا لہجہ شکست خور تھا۔وہ اپنے وجود کا ایک عضو تک نہیں ہلا سکتا تھا اور پھر نینا کی یادیں….وہ تھک گیا تھا،اسے سوچتے سوچتے….
“ٹھیک ہے میں تمہاری یہ خواہش پوری کر دوں گا مگر پہلے مجھے تمہاری کہانی جاننی ہے،تمہاری اور نینا کی کہانی….”سیم نے نظریں میچے گہری سانس خارج کیے بولنا شروع کیا تھا۔
“مصطفی،نینا اور میں ایک ساتھ یونیورسٹی پڑھتے تھے۔وہ جونیئرز تھے اور میں سینیئر….بظاہر میں وہاں سٹوڈنٹ تھا مگر اصل میں میں وہاں کیس کے لیے گیا تھا۔نینا کو میں نے پہلی بار ایک پارک میں دیکھا تھا۔اسے دیکھتے ہی میرا پتھر دل دھڑکنے لگا تھا۔پھر جب یونیورسٹی میں اسے دیکھا تو میرا دل اس کی طرف کھنچنے لگا۔لیکن میں نے دیر کر دی۔اس کی مصطفی سے شادی ہو گئی۔میں پیچھے ہٹ گیا،نینا کی خوشی کی خاطر میں نے اسے چھوڑ دیا۔پھر بیس سال بعد….”سیم نے وقفہ لیا تھا۔اس کے گلے میں کانٹے چھبنے لگے تھے۔
“میں نے اسے پھر دیکھا۔میرے دل نے زور و شور سے بغاوت کی۔اسے پانے کی خواہش نے ایک بار پھر سر اٹھایا۔میں نے اسے میسیجز کرنے شروع کر دیے،میں اسے پھول بھیجنے لگا،وہ ڈرنے لگی،اس کے اور مصطفی کے درمیان جھگڑے ہونے لگے پھر ایک دن میں نے اسے ملنے کے لیے باہر بلایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا۔”
“آپ کا دماغ خراب ہے،یہ آپ کس قسم کی گفتگو کر رہے ہیں؟میں آپ کو جانتی تک نہیں ہوں اور آپ….”نینا مشتعل ہوتی کرسی سے اٹھی تھی۔
“بہت محبت کرتا ہوں تم سے،مانتا ہوں کہ بہت دیر کر دی مگر میں کیا کروں میرا دل نہیں مانتا….میں تمہیں دنیا کی ساری خوشیاں دوں گا بس ایک بار میری ہو جاؤ۔”
“آپ پاگل ہو چکے ہیں۔میں شادی شدہ ہوں اور اپنے شوہر سے بےانتہا محبت کرتی ہوں۔میرا جوان بیٹا ہے،آپ کو ایسا سوچتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیئے۔”وہ غصے سے ایک ہتک بھری نگاہ سیم پر ڈالے وہاں سے گئی تھی۔
“میں پیچھے ہٹ گیا لیکن دل بار بار بغاوت پر اکسانے لگا۔میں دنیا کے لیے بلیک مونسٹر تھا۔اپنی محبت حاصل کرنا میرے لیے اتنا مشکل نہیں تھا۔میں نے مصطفی کو راستے سے ہٹانے کی پلیننگ کی اور پھر میں نے اسے مار دیا۔”اس کی آواز میں نمی گھلی تھی۔
“اگر اتنی ہی محبت تھی تو بیس سال پہلے کیوں کچھ نہیں کیا؟”ڈیوڈ نے گفتگو کے دوران پہلی بار سوال کیا تھا۔
“اس وقت میں بہت کمزور تھا۔اور مجھے ڈر بھی تھا کہ اگر میں زور زبردستی سے نینا کو حاصل کر بھی لیتا تو اس کی جان کو خطرہ ہوتا۔میں اس کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔بیس سال بعد ساری طاقت میری تھی،صرف میری حکومت تھی۔”وہ ایک بار خاموش ہوا تھا۔
“اگر نینا کی اتنی ہی پرواہ تھی تو پھر نینا کو مارا کیوں؟؟”
“غصہ آ گیا تھا،اس نے مجھے غصہ دلایا۔مصطفی کو راستے سے ہٹانے کے بعد میں نے اسے اغوا کیا اور میں نے زبردستی نکاح کرنا چاہا لیکن وہ تو صرف اسی کا دم بھرتی رہی۔میں نے غصے میں گولی چلا دی۔”وہ بلک بلک کر رو دیا تھا۔
“نینا کے ساتھ اور بھی کوئی تھا نا….اس کے ساتھ کیا کیا؟؟”
“ہاں اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں ایک شاید اس کی بیٹی اور ایک پتا نہیں کون تھی….وہ حجاب میں ملبوس لڑکی…..”ڈیوڈ نے چونک کر نظریں اٹھائی تھیں۔
“کیا کیا تم نے اس کے ساتھ….؟”ڈیوڈ نے سرخ انگارہ آنکھوں کے ساتھ اس کی جانب دیکھا تھا۔
“بتاؤ کیا کیا….؟”وہ چلایا تھا۔
“نینا نے مجھ سے بھیک مانگی تھی کہ میں ان دونوں کو جانے دوں لیکن میں سفاک بنا رہا۔میں نے ان تینوں کو ایک کمرے میں قید کر رکھا تھا۔نینا نے ان دونوں کو بھگا دیا تھا۔میں نے بھاگنے دیا۔میرے لیے صرف نینا اہم تھی وہ دونوں نہیں…..ویسے بھی وہ دونوں بچیاں ہی تو تھیں،آخر اس ویرانے میں،اس جنگل میں جو جنگلی جانوروں سے بھرا ہوا تھا،کیسے بچ سکتی تھیں؟؟”ڈیوڈ نے سختی سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“بہت محبت کرتے ہو نا اس سے اس لیے اپنی محبت کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تا کہ وہ اس معصوم کا جسم نوچ ڈالیں۔”سیم نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟”
“زیادہ تو کچھ نہیں جانتا میں اس بارے میں سوائے اس کے کہ نینا کا….تمہاری نام نہاد محبت کا ریپ ہوا تھا اور یہ ان لوگوں نے کیا تھا جنہیں تم نے اسے پہاڑی سے نیچے پھینکنے کا کہا تھا۔”
“نہیں!نہیں….!یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔یہ جھوٹ ہے۔ایسا نہیں ہو سکتا۔”وہ پاگلوں کی چیخ چلا رہا تھا جبکہ ڈیوڈ کے چہرے پر ڈھیروں سکون چھایا تھا۔
“وعدے کے عین مطابق میں تمہیں ہر درد سے آزادی دیتا ہوں۔”وہ چل کر ویل چیئر کے پاس آیا تھا۔
“میں تمہیں موت دیتا ہوں۔”ڈیوڈ نے اس کی گردن پر چھری رکھے ایک جھٹکے سے اس کی گردن پر پھیری تھی۔
“میری بہن اور میری بیوی کو کڈنیپ کرنے اور انہیں جنگلی جانوروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے جرم میں میں تمہیں موت کی سزا سناتا ہوں۔”ڈیوڈ نے اس کی ویل چیئر کو ٹھڈا مار کر گرایا تھا۔اس کی گردن سے فوارے کی طرح خون بہہ کر فرش پر گر رہا تھا۔
اپنا کوٹ درست کرتے ڈیوڈ اب باہر کی جانب بڑھا تھا۔اپنی گاڑی تک پہنچتے اس نے کسی کو کال ملائی تھی۔
“جو کہانی سیم نے سنائی ہے،اس میں نائل کہیں بھی نہیں تھا تو پھر اس نے کب صوفی کو مارا اور کب اپنی بہن کو بچایا؟جلد از جلد پتا لگاؤ۔”ڈیوڈ نے تنفر سے سر جھٹکتے فون رکھا رھا۔سیم سے اس ملاقات کے بعد ڈیوڈ کا ذہن مزید الجھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وانیہ فرش پر بےسود سوئی پڑی تھی جب ماہم کمرے کے اندر داخل ہوئی تھی۔وانیہ کو اس حالت میں دیکھ ماہم کے لبوں کو شیطانی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر وانیہ کے ہاتھ پر اپنی جوتی کی ہیل کی نوک رکھی تھی پھر وہ آہستہ آہستہ زور دیتی رہی تھی۔وانیہ تکلیف کی شدت کی وجہ سے بلبلا کر اٹھی تھی۔
“کیسی ہے میری بھتیجی؟”ماہم نے اسے بالوں سے پکڑے جیسے ہوش دلایا تھا۔
“ارے یہ کیا،میری گڑیا نے تو کھانا ہی نہیں کھایا؟”ماہم نے بھری ہوئی پلیٹ کی جانب دیکھتے کیا تھا۔
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے….”اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتے وانیہ بری طرح چلائی تھی۔
“چپ ایکدم چپ….”ماہم نے اس کے منہ پر زبردست تمانچہ رسید کیا تھا۔
“مجھے تھپڑ مارے تھے نا تم نے….؟ابھی بتاتی ہوں تمہیں….؟”وہ غصے سے پھنکارتی ہوئی باہر گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ میں لائٹر پکڑے وانیہ کی جانب بڑھی تھی۔
“آگ دیکھ کر تو میری گڑیا ڈرتی ہے نا….؟کوئی بات نہیں،اس کا حل ہے میرے پاس….”ماہم نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی پھر اس کا ایک ہاتھ گرفت میں لیے ماہم نے لائٹر جلائے اس کی ہتھیلی پر نشان چھوڑا تھا۔وانیہ درد سے چلا اٹھی تھی۔اس یہ سلسلہ رکا نہیں تھا،وہ پہ در پہ مختلف جگہ سے اس کا ہاتھ جلا رہی تھی۔وانیہ بےبسی سے چیختی چلاتی اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر سب بےسود….اسکا ایک ہاتھ پوری طرح جلانے کے بعد ماہم نے اس کے دوسرے ہاتھ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا۔
“چلو آج دوسرا انکشاف کرتے ہیں۔”اس کے سسکتے وجود کی طرف دیکھتے ماہم نے اس کی آنکھوں پر سے پٹی ہٹائی تھی۔
“میں تمہارے باپ کی کزن ہوں۔بچپن میں ہی ایک کار ایکسیڈینٹ میں میرے ماں باپ کا انتقال ہو گیا۔تمہارے باپ نے مجھے فل سپورٹ کیا اور پڑھنے کے لیے باہر بھی بھیجا۔وہ ڈگریز اور وہ میڈلز وہ سب میرے ہی ہیں۔باہر ایک شخص سے مجھے محبت ہو گئی اور میں سایے کی طرح اس کا پیچھا کرنے لگی پھر مجھے پتا چلا کہ وہ غلط کاموں میں ملوث ہے اس کی خاطر میں بھی ان کاموں میں ملوث ہو گئی۔پہلے ان لوگوں کا اعتماد جیتا اور پھر میں ان کے لیے کام کرنے لگی لیکن مجھے وہ پھر بھی نہیں ملا،وجہ تمہاری ماں تھی۔”اس نے نفرت بھری نگاہ وانیہ پر ڈالی تھی جو مسلسل روتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی،وہاں اب چھالے پڑنے لگے تھے۔
“جانتی ہو اس دن کیا ہوا تھا….؟”ماہم گہری سوچ میں پڑ گئی تھی۔
“وہاں کوئی ہے۔”وہ لوگ بھاگتے ہوئے وہاں گئے تھے مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ماہم کا ذہن پھر بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر رہا تھا،اسے یقین تھا کہ وہاں کوئی تھا۔
وہ بھاگتے ہوئے تھوڑا آگے گئی تھی۔گاڑی میں بیٹھے اس نے گاڑی آگے دوڑا دی تھی۔وہ لوگ جس گاڑی میں نینا کو لے کر آئے تھے یہ وہ گاڑی نہیں تھی،یہ نائل کی گاڑی تھی۔جو کہ دو دن پہلے ہی چوری ہوئی تھی۔اس پہاڑی سے تھوڑے فاصلے پر وہ خالی میدان تھا جہاں ان کا تہہ خانہ موجود تھا۔
سڑک پر کچھ دیر گاڑی دوڑانے کے بعد اسے وہاں کوئی نظر آیا تھا۔گولڈن اور کالے رنگ کے سوٹ میں ملبوس وہ لڑکی،سر پر کالے رنگ کا حجاب باندھے وہ سڑک کے ایک کنارے کھڑے بری طرح ہانپ رہی تھی ۔ماہم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
وہ لندن سے واپسی پر نا صرف ہارون کے خاندان سے ملی تھی بلکہ ان میں اچھی طرح رچ بس بھی گئی تھی۔
“نائل…..”نائل کی گاڑی دیکھ کر صوفی بھاگ کر اس طرف آئی تھی۔اسے تو جیسے ایک نئی امید مل گئی تھی۔وہ اور مانو بھاگتے بھاگتے تھک گئے تھے۔رات سے صبح ہو گئی تھی مگر وہاں سے باہر جانے کا کوئی راستہ انہیں نہیں ملا تھا۔
اچانک ایک گاڑی سے چار لوگوں کو باہر نکلتے دیکھ صوفی اور مانو ایک درخت کی اوٹ میں ہوئے تھے۔مانو تو چھوٹی تھی مگر صوفی….اس نے ان چار لوگوں کو اچھی طرح دیکھا تھا۔اور جو انکشاف اس پر ہوا تھا،وہ بےحد بھیانک تھا۔
ایک چھوٹی سی غار نما جگہ پر اس نے مانو کو چھپا دیا تھا۔مانو وہاں آرام سے چھپ سکتی تھی۔صوفی نے اس سے وعدہ لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ باہر نہیں آئے گی۔اور یہ سب صرف ایک ڈرامہ ہے اور کچھ نہیں….مانو نے اچھے بچوں کی طرح وعدہ نبھایا تھا۔وہ لوگ اسے نہیں دیکھ سکتے تھے مگر مانو کی آنکھ نے ہر اک منظر دیکھا تھا۔صوفی نظر بچا کر مدد لینے کے لیے وہاں سے بھاگی تھی۔وہ مانو کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جا سکتی تھی۔وہ ویسے ہی ساری رات بھاگ بھاگ کر تھک چکی تھی۔اور اگر وہ اسے ساتھ لے کر جاتی تو یقینا وہ پکڑے جاتے۔اس نے اپنی طرف سے اور اپنے ذہن کے مطابق مانو کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی۔اگر وہ خود مانو کے پاس رکتی تو بھی وہ پکڑے جا سکتے تھے۔
“نائل….”گاڑی تک پہنچتے اس نے زور زور سے دروازہ بجانا شروع کیا تھا۔گاڑی کے شیشوں سے اندر کا منظر نظر نہیں آتا تھا۔وہ نہیں دیکھ سکی تھی کہ اندر کون ہے۔لیکن اندر بیٹھی ماہم سمجھ چکی تھی کہ صوفی سب دیکھ چکی ہے۔اب وہ اس کے لیے صرف ایک خطرہ تھی۔
“نائل انہوں نے نینا آنٹی کو مار دیا اور مانو…..”وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلی جا رہی تھی جب گاڑی سٹارٹ ہوئی تھی۔
“نائل….”صوفی نے بےیقینی سے اسے پکارا تھا۔
ماہم نے ریورس گیئر لے کر ایک جھٹکے سے گاڑی موڑے صوفی کو ہٹ کیا تھا۔وہ آنکھوں میں بےیقینی کا تاثر لیے سڑک کے پار گری تھی۔صوفی کا سر ایک پتھر سے ٹکرایا تھا۔اگلے لمحے سارا پتھر لہو لہان ہوا تھا۔
ایک اور گاڑی کی آواز سنتے گاڑی وہیں چھوڑے ماہم پھرتی سے بھاگتی جنگل کی طرف گئی تھی۔
“صوفی….”نائل بھاگتا ہوا اس کی طرف گیا تھا۔ماہم درخت کے پیچھے چھپے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
“یہ کیا….یہ کس نے کیا….؟”اس کا سر گود میں رکھتے نائل نے اس کی گال تھپتھپائی تھی۔
اس کی سانسوں کی رفتار مدھم پڑ رہی تھی۔
“تمہیں کچھ نہیں ہو گا،کچھ نہیں….”وہ دیوانہ وار بول رہا تھا جبکہ وہ آدھ کھلی آنکھوں سے بےیقینی سے اسے دیکھتی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔
“صوفی کس نے کیا یہ….؟مام کہاں ہے اور مانو….؟”نائل نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا جہاں سے خون مسلسل بہہ رہا تھا۔
“آپ نے….آپ نے کیوں کیا یہ….؟مم….مجھے کیوں….کیوں مارا….؟”یہ آخری الفاظ تھے۔اس کے بعد اس کی مدھم پڑتی سانسیں رک گئی تھیں۔ہر طرف سکوت چھا گیا تھا۔سب جیسے ختم ہو گیا تھا۔
“میں نے….؟”نائل کی آنکھوں میں بےیقینی در آئی تھی۔
“صوفی!اٹھو…..”وہ اس کا گال تھپتھپا رہا تھا مگر سب بےسود تھا۔وہ اب اسے نہیں سن سکتی تھی۔
“میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔”نائل اسے آغوش میں بھرتے گاڑی کی جانب بھاگا تھا اس بات سے بےخبر کہ اس کی سانسیں تھم چکی ہیں۔
“میں نے صوفی کو مار دیا مگر الزام نائل کے سر آیا۔بیچاری!آخری وقت میں بھی یہی سوچتی رہی کہ اسے نائل نے مارا ہے۔”ماہم نے جاندار قہقہ لگایا تھا۔
وانیہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔
“تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہیئے۔تمہیں وانیہ آفندی کے قہر سے ڈرنا چاہیئے۔نائل بھائی تو تمہارے ساتھ جو کریں گے سو کریں گے لیکن میں جو کروں گی،وہ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔”وانیہ نے سرخ انگارہ آنکھیں ماہم کی آنکھوں میں گاڑھے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا تھا۔