Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 03
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 63) Part 03
“سنیہا اب بس بھی کرو یار،تم اس وقت اپنے گھر پر ہو اپنے شوہر کے ساتھ….”سنیہا کی آنکھ تقریبا ہر دس پندرہ منٹ کے بعد کھل جاتی تھی۔وہ اٹھ کر چیخنے چلانے لگ جاتی تھی۔وہ نائل کو اپنے پاس سے ہلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔
“گولی مار دی تھی۔یہاں ماتھے پر…..”سنیہا نے اپنی پیشانی چھوتے ہوئے کہا تھا۔نائل نے بےبسی سے اسے دیکھا تھا۔
“مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے نائل،اپ پلیز کہیں مت جائیں گا۔”اس نے بچوں کی طرح سختی سے اس کا بازو پکڑا تھا۔
“میں کہیں نہیں جا رہا۔تم تھوڑی دیر سو جاؤ۔”نائل نے اسے زبردستی جوس کے ساتھ نیند کی دوائی بھی دی تھی لیکن اس کے باوجود بھی بار بار سنیہا کی نیند ٹوٹ رہی تھی۔
“مجھے نیند نہیں آ رہی۔”وہ جب بھی آنکھیں بند کرتی تھی تو آنکھوں کے سامنے کبھی ڈرائیور کا چہرہ آ جاتا تھا تو کبھی ان غنڈوں کا…..
“اب لوری تو سنانے سے رہا میں تمہیں۔مجھے تو کوئی گانا بھی نہیں آتا۔ہاں ملی نغمے آتے ہیں،سنو گی؟؟”وہ تپ کر بولا تھا۔
“آپ بس میرے پاس رہیں۔”کوئی اور موقع ہوتا تو وہ ضرور اس کی بات کا برا مناتی مگر اس وقت وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔
“تمہارے پاس ہی ہوں۔اب کیا سٹیمپ پیپر پر لکھ کر دوں؟”وہ خاموش رہی تھی جبکہ سوں سوں مسلسل جاری تھی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب نائل کا صبر جواب دے گیا تھا۔اس نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑے اسے خود سے الگ کیا تھا۔اسے بستر پر لٹاتے وہ اس پر جھکا تھا۔
“چپ چاپ سو جاؤ ورنہ سٹور میں بند کر دوں گا تمہیں۔بالکل ویسے جیسے فارم ہاؤس پر کیا تھا۔”نائل کی آنکھوں میں ہنوز سختی دیکھ وہ غصے سے کمبل تانتی کروٹ بدل گئی تھی جبکہ دبی دبی سسکیاں ابھی بھی جاری تھیں۔
“سنیہا مجھے اب تمہاری آواز نا آئے۔”
“میں نے کل ہی سٹور کی صفائی کروائی تھی وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔”کمبل کے اندر سے ہی ڈبڈبائی آواز آئی تھی۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دیا تھا۔
“بے فکر رہو،تمہارے لیے لے آؤں گا۔”
“میں سو گئی ہوں۔”کمبل درست کرتے اب سنیہا نے آخری جملہ کہا تھا،پھر نیند اس پر غالب آ گئی تھی۔
نائل نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا۔وہ اسے اپنے پاس سے اٹھنے دیتی تب ہی وہ بدر کا کوئی بندوبست کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاتم اور عینین باہر گھومنے کے لیے آئے تھے۔برکھا رت کی وجہ سے تقریبا آئے روز ہی مینہ برستی تھی۔
“عمر گاڑی رکواؤ۔”وہ تقریبا چیخ اٹھی تھی۔
“کیا ہوا نین….؟”
“وہ سامنے دیکھو،ڈھابہ ہے،چلو کچھ کھاتے ہیں۔”وہ پرجوش سی اس کے ہاتھ پر دباؤ دیے بولی تھی۔
“اگر تمہیں کچھ کھانا ہے تو کسی اچھے ریسٹورنٹ سے کھاتے ہیں نا۔”
“بھائی بھی ساری زندگی یہی کہتے رہے ہیں۔تم سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہو۔”وہ منہ پھلاتی رخ موڑ گئی تھی۔
“نین یہ ان ہائی جینک ہوتا ہے۔”عمر نے اسے سمجھانا چاہا تھا۔
“تمہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے۔”وہ روہانسی ہوئی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے چلتے ہیں۔”وہ اس سے نہیں جیت سکتا تھا۔وہ اس وقت شہر سے کافی دور تھے۔یہ عینین کی ہی ضد تھی۔وہ اس موسم کو انجوائے کرنا چاہتی تھی۔
بارش کے پانی میں پورا شہر ہی نہایا ہوا تھا۔وہ سڑک کو پار کرتے دوسری جانب جا رہے تھے۔آسمان پر اب کی بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی۔درختوں کے پتے چمکتے موتیوں کی بوندوں کی وجہ سے مزید جھک گئے تھے۔ننھی ننھی کونپلیں کھلنے کے لیے جیسے برکھا رت کی ہی منتظر تھیں۔اطراف میں خار دار جھاڑیاں کسی ریگستان میں موجود کیکٹس کے پودے کی مانند گردن تان کر کھڑی تھیں۔
“عمر یہ سب کتنا خوبصورت ہے نا…..”عینین نے ستائشی نگاہوں سے اردگرد دیکھتے کہا تھا۔اس کے بھورے ریشمی بال آبشار کی مانند کمر پر پھیلے ہوئے تھے۔وہ اس وقت کریم کلر کے سوٹ میں ملبوس تھی جبکہ حاتم نے جینز کے اوپر Olive رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی۔
“ہممم…..”وہ موبائل پر مصروف تھا۔حاتم کا موڈ آج کچھ ٹھیک نہیں تھا۔
“تم کل تین گھنٹے کا بول کر گئے تھے۔کہاں گئے تھے؟”عینین کو اچانک ہی یاد آیا تھا۔
“کسی سے اس کی سانسیں چھیننے مگر پھر ارادہ بدل دیا۔آجکل مصروفیت زیادہ ہے نا،فری ہو کر کچھ کرتے ہیں۔”
“تمہاری باتیں بہت عجیب ہوتی ہیں۔”
“اب ایک سیکریٹ ایجینٹ کی باتیں عجیب نہیں ہو گی تو کیا ہوں گی؟”اس نے شرارت سے نین کی جانب دیکھا تھا۔دونوں اب چلتے چلتے ڈھابے کے کافی قریب پہنچ گئے تھے۔
“افف!یہ باتیں پبلک پلیسز پر نہیں کرتے۔ایک سپائے کبھی اپنی پہچان نہیں بتاتا۔”نین دبا دبا سا گویا ہوئی تھی اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ان کی باتیں نا سن لے۔
“اور اگر بتا دے تو؟”عمر نے اسے سائیڈ سمائل پاس کی تھی۔
“تو پھر وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک سپائے نہیں….”
“کچھ زیادہ ہی معلومات نہیں ہے تمہیں،کہیں تم بھی ایک سپائے تو نہیں….؟”حاتم نے اس کے گرد بازو پھیلائے مسکراتی نگاہوں سے پوچھا تھا۔
“نہیں!اگر ہوتی تو سب سے پہلے تمہیں مارتی۔”عینین نے اپنے گرد سے اس کا بازو ہٹاتے کہا تھا۔
“کیوں…..؟”حاتم نے بھویں سکیڑے اسے واپس خود سے قریب کیا تھا۔
“عمر تم یہ کیا کر رہے ہو،ہم اس وقت گھر پر نہیں ہیں۔”اس کی بڑھتی جسارتیں دیکھ وہ جھنپ گئی تھی۔
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔پہلے جواب دو پھر چھوڑوں گا۔”عینین نے گہری سانس خارج کرتے ارد گرد دیکھا تھا۔صد شکر کہ کوئی بھی ان کی جانب متوجہ نہیں تھا۔
“بہت سارے جرم ہیں۔سب سے پہلا جرم،تم مجھے بالکل وقت نہیں دیتے۔”
“میں اس وقت تمہارے ساتھ ہوں،اور کیا کروں؟؟”حاتم نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا تھا۔
“ہر وقت تو تمہارے ہاتھ میں یہ فون ہوتا ہے۔”آنکھیں گھمائے عینین نے شکوہ کیا تھا۔
“آج کل مصروفیت تھوڑی زیادہ ہے۔تم بیٹھو میں ابھی آتا ہوں۔”موبائل پر جیمز کا میسج دیکھ اس نے عینین سے ایسکیوز کیا تھا۔
وہ منہ بسور کر ایک ٹیبل کے گرد پڑی کرسی پر جا بیٹھی تھی۔حاتم کے لیے فلحال اس کا کام زیادہ اہم تھا۔عینین کو وہ بعد میں تفصیل سے منا سکتا تھا۔کال ملائے وہ تھوڑا آگے گیا تھا لیکن سگنلز نا آنے کی وجہ سے وہ سڑک پر چل دیا تھا۔
“باجی کیا لاؤں آپ کے لیے؟”
“سب کچھ،جو بھی تمہارے پاس ہے،سب تھوڑا تھوڑا لے آؤ۔”جب حاتم کو اس کی پرواہ نہیں تھی تو وہ کیوں اس کے بارے میں سوچ کر اپنا موڈ خراب کرے۔
عینین نے مسکرا کر اپنی دائیں جانب دیکھا تھا۔اس حسین موسم میں وہ جیسے کہیں کھو ہی گئی تھی۔
ریڈیو پر دھیما دھیما سا میوزک چلنا شروع ہوا تھا۔پھر یہ دھن گانے کے سروں میں تبدیل ہوئی تھی۔عینین آنکھیں بند کیے ان سروں میں جیسے کھو گئی تھی۔
“قاسائے عشق لے کے
یار کی کھوج میں نکلے
دو نین دیوانے یہ کس
موج میں ہیں نکلے”
کسی کے کندھا ہلانے پر وہ ہوش میں آئی تھی۔
“یہ آپ کے لیے….”ایک بچے نے ایک پھول کے ساتھ اسے ایک خط بھی پکڑایا تھا۔
اتنی دیر میں وہاں کام کرنے والا لڑکا اس کے لیے کھانا لے آیا تھا۔
“باجی یہ ہمارے ڈھابے کی سب سے خاص چائے ہے جو میں آپ کے لیے لے کر آیا ہوں۔”اس نے کھانے کے ساتھ چائے کا کپ بھی عینین کے سامنے رکھا تھا۔وہ مدھم سا مسکرا دی تھی۔
گرم چائے کے کپ سے بھانپ نکل رہی تھی۔عینین نے تجسس سے وہ خط کھولا تھا۔نجانے اس میں کیا لکھا تھا۔
“تقسیم کے بعد سارا حسن بارڈر پار چلا گیا۔یہ تو سراسر نا انصافی ہے۔”عینین کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ایک لمحے کے لیے دل زور سے دھڑکا تھا۔
“احمر…..”وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔وہ اس کی ہینڈ رائٹنگ اچھے سے پہچانتی تھی۔اب اس نے گھبرا کر اردگرد دیکھا تھا۔اسے دور دور تک کوئی نظر نہیں آیا تھا۔
عینین نے ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ اس کا پیر ٹیبل سے ٹکرایا تھا۔چائے کے چند گھونٹ کپ سے باہر چھلکے تھے۔گانے کے سر اب بھی ماحول پر اپنا اثر چھوڑ رہے تھے۔
“او صاحب او صاحب
تیری باندھی ہوں میں
او صاحب تو جیتا
جند ساری ہاری میں”
ہاتھ میں خط پکڑے وہ بھاگتی ہوئی وہاں سے گئی تھی۔ریشمی بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پر جھول رہی تھیں۔اچانک اسے ایک کونے میں کھڑا وہ بچہ نظر آیا تھا جس نے اسے وہ خط دیا تھا۔وہ بھاگتی ہوئی اس کی جانب گئی تھی۔
“یہ….یہ کس نے دیا ہے آپ کو….؟”اس نے ہانپتے ہوئے پوچھا تھا۔
“اس نے…..”بچے نے ایک سمت اشارہ کیا تھا تھا۔عینین نے اس کی انگلی کی سمت دیکھا تھا۔
“وہاں تو کوئی نہیں ہے۔”ویران سنسان سڑک….
“آپ….”اس سے پہلے کہ عینین مزید کچھ پوچھتی،وہ بچہ وہاں سے بھاگ گیا تھا۔وہ اس کے پیچھے جانے ہی لگی تھی جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔اس کے دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھیں۔
“کبھی ایسا بھی ہو روبرو تم بیٹھو
ہماری آنکھوں سے ذرا خود کو دیکھو”
وہ بےاختیار پلٹی تھی۔
“نین!تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”حاتم نے مسکرا کر استفسار کیا تھا۔
“وہ میں…..”وہ گھبرا گئی تھی۔
“موسم خراب ہو رہا ہے۔کبھی بھی بارش ہو سکتی ہے،گھر چلیں؟”عینین نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“کھایا تو کچھ بھی نہیں تم نے،بس بل پے کروانے کا بہانہ تھا یہ….”اس کے گرد بازو حمائل کرتے وہ اسے آگے لے جا رہا تھا۔وہ خاموش رہی تھی۔
“کبھی ایسا بھی ہو روبرو تم بیٹھو
ہمارے دل کی لگی لگے تیرے دل کو”
ہر بڑھتے قدم کے ساتھ سروں کی آواز مدھم سے مدھم ہوتی جا رہی تھی۔کسی انجانے احساس کے تحت اس نے مڑ کر دیکھا تھا۔اسے سڑک کنارے سیاہ ہڈی میں ایک شخص دکھا تھا۔اس کے دیکھتے ہی وہ پلٹ گیا تھا۔
“پردہ دل پوشی،جام چاہت نوشی
میں عشق کے سر چڑھ بولوں یا اوڑھوں خاموشی
تجھ سے کیا پردہ کروں،تو میرا آئینہ
تیری دید کا خوں تو لگے،جیسے امرت پینا”
وہ آگے کی جانب چلتے مسلسل مڑ مڑ کر اسے دیکھتی رہی تھی۔اب منظر دھندلا گیا تھا۔سیاہ ہڈی میں موجود وہ شخص جا چکا تھا۔میز پر پڑی چائے اب ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کے پہر باکنی میں کھڑی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔آج جو ہوا وہ بہت عجیب تھا۔احمر کا اچانک چلے جانا پھر آج یوں آنا،وہ بھی پاکستان میں….
“کس نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں،میں انڈین ہوں”
“اب براہ مہربانی میرا راستہ چھوڑیں اور مزید ایک مومن مرد کا ایمان خراب مت کیجیے۔”
“میرا نام احمر ہے۔”
وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی جب حاتم نے پیچھے سے آ کر اسے گلے لگایا تھا۔وہ بری طرح چونکی تھی۔
“جب شوہر پاس ہے تو پھر کس کے بارے میں سوچا جا رہا ہے؟”حاتم نے اس کے بالوں میں منہ چھپاتے کہا تھا۔
“کسی کے بارے میں نہیں،بس ایسے ہی…..”اگر وہ اس کی سوچ پڑھ لیتا تو اس وقت وہ قبر میں ہوتی۔
“بس ایسے بھی کچھ مت سوچا کرو۔”اس نے عینین کا رخ اپنی جانب موڑا تھا۔
“ویسے میری بیوی اتنی ٹیلنٹڈ ہے تو ایک ڈیمو تو بنتا ہے نا…..ایک اکاؤنٹ تو ہیک کر کے دکھاؤ۔”حاتم نے نرمی سے اس کی گال کو چھوا تھا۔
“میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔میں سونا چاہتی ہوں۔”اس کے چہرے پر بیزاریت تھی۔
“سو جانا لیکن پہلے ایک آکاؤنٹ ہیک کر لو۔پانچ منٹ کی تو بات ہے۔”
“عمر تمہارے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟تم کیوں عجیب عجیب باتیں کر رہے ہو۔تم بالکل ویسے ہی سوال پوچھ رہے ہو جیسے پھوپھو پوچھتی تھیں۔”وہ صبح سے عینین کو کریدنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ عینین کو اس کے سوالات سے شدید کوفت ہو رہی تھی۔
“اچھا اچھا،ریلیکس ہو جاؤ۔تم آرام کرو۔”اس کے بگڑتے تیور دیکھ وہ محتاط ہوا تھا۔وہ منہ بناتی بستر پر جا کر لیٹی تھی۔
“شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہے۔احمر نہیں ہو سکتا،اور اگر ہے بھی تو میں کیوں اس کے بارے یں اتنا سوچ رہی ہوں؟”عینین نے سر جھٹکتے آنکھیں موندھی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح کے وقت بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی جبکہ نائل آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا۔
“جانا ضروری ہے کیا؟”اس کے لہجے میں اداسی تھی۔
“تم کیا چاہتی ہو کہ ساری زندگی تمہارے پلو سے بندھا رہوں؟”سنیہا نے بےبسی سے سر پیچھے ٹکایا تھا۔وہ شخص سیدھا جواب دینا جانتا ہی نہیں تھا یا پھر یہ خاص کرم نوازی صرف اس ہی پر تھی۔
“آپ اتنے روڈ کیوں ہیں؟”ریسٹ واچ پہنتے نائل کے ہاتھ رکے تھے۔ماتھے پر تیوری چڑھائے اس نے گردن موڑ کر سنیہا کو دیکھا تھا۔
“کل سے تمہارے نخرے اٹھا رہا ہوں۔تمہیں اپنے ہاتھوں سے جوس تک پلایا اور کھانا بھی بستر پر لا کر دیا اور تم کہہ رہی ہو کہ میں روڈ ہوں؟”وہ صحیح معنوں میں خفا ہوا تھا۔
“ہاں یہ سب تو کیا تھا آپ نے لیکن سب سے اچھا مجھے تب لگا جب آپ نے مجھ سے اظہار محبت کیا تھا۔”اٹھ کر بیٹھتے وہ شرمائی تھی۔
“میں نے کب کیا اظہار محبت؟”وہ حیران ہوا تھا۔
“آپ نے مجھے ‘عزیز من’ کہا تھا۔”
“میں نے،کب….؟”نائل نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“کل آپ نے کہا تو تھا کہ ‘سو جاؤ عزیز من…”سنیہا نے اسے یاد دہانی کروائی تھی۔
“جاگتے ہوئے بھی خواب دیکھتی ہو کیا؟میرا دماغ خراب ہے جو میں یہ کہوں گا اور وہ بھی تم سے؟”وہ تمسخرانہ ہنسا تھا۔
“آپ نے کہا تو تھا۔”وہ کنفیوژ ہوئی تھی۔
“تم نے خواب دیکھا ہے بلکہ خواب میں بھی غلط ہی دیکھا ہے۔میں نے کہا ہو گا ‘بھاڑ میں جاؤ وبال جان….”سنیہا کا منہ بے اختیار کھلا تھا۔
“بہت برے ہیں آپ….”اس نے منہ بسورے رخ موڑا تھا۔
“اوکے بائے….”وہ بیگ اٹھاتا عجلت بھرے انداز میں باہر گیا تھا۔
“انہوں نے کہا تھا یا پھر نہیں کہا تھا۔”اس نے اپنے دماغ پر بھرپور زور ڈالا تھا مگر اسے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا تھا۔
زینے پھلانگتے وہ نیچے لاؤنچ میں آیا تھا۔
“میم کو ناشتہ کرواؤ اور میڈیسن دے دینا۔اور بالکل بھی کوئی کام نا کرنے دینا۔اگر اس نے کوئی کام کیا نا تو پھر تم اپنی خیر منانا۔”ملازمہ کو سختی سے باور کرواتے وہ آگے بڑھا تھا۔
“اور ہاں،ایک سیکنڈ کے لیے بھی اکیلا مت چھوڑنا۔اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے فورا کال کرنا۔”جاتے جاتے اسے پھر یاد آیا تھا۔ملازمہ نے ادب سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کی تاریکی میں جب ہر طرف سکوت چھایا ہوا تھا۔دو لوگ ایک سنسان جگہ پر ملے تھے۔ایسی جگہ جہاں کوئی بشر تو دور کوئی جانور تک نہیں تھا۔یہاں نا کوئی سگنلز تھے اور نا ہی کوئی ٹیکنالوجی…..یہ ملاقات بہت کم کم ہی ہوتی تھی۔
“آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔اب سب کی توجہ شاہین سے ہٹ کر آپ پر جائے گی۔”
“تو کیا میں اپنی بیوی کو ایسے ہی چھوڑ دیتا؟”نائل برہمی سے گویا ہوا تھا۔
“کوئی اور راستہ نکال لیتے مگر اب بدر آپ کو سرچ کرے گا۔”
“کرتا رہے،کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔”نائل کو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔
“وہ آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔”
“وہ خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتا۔ویسے بھی اس کا بندوبست کرنے کا سوچ لیا ہے میں نے؟”
“کیا کرے گے آپ اس کے ساتھ؟”مقابل نے دلچسبی سے پوچھا تھا۔
“میں نہیں کروں گا،جو بھی کرے گا اس کا منہ بولا بیٹا بیٹا کرے گا۔اصل کھلاڑی وہی ہے جسے پتا ہو کہ دو دشمنوں کو آخر لڑوانا کیسے ہے۔”نائل کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جبکہ اس کی بات پر مقابل نے ستائشی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
