93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 29)

گھر آتے ساتھ ہی وہ تقریبا بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی تھی۔دروازہ لاک کرتے اس نے اپنے بیگ کو بستر پر پٹخا تھا۔وانیہ کا سر بری طرح چکرانے لگا تھا۔اس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تھا جو کہ نیلے پڑ گئے تھے۔زہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا۔وہ
لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ فرش پر گری تھی۔اس کے ہونٹوں سے جھاگ نکلنی شروع ہو گئی تھی۔اگلے ہی لمحے وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔ اسے تقریبا دو گھنٹے بعد ہوش آیا تھا۔ بوجھل قدموں سے بستر کا سہارا لے کر وہ بامشکل اٹھی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے ہونٹوں پر
لگی جھاگ کو صاف کیا تھا جو کہ اب خشک پڑ چکی تھی۔
“لگتا ہے سانپ کچھ زیادہ ہی زہریلا تھا۔”اس کے گلے سے بامشکل آواز نکلی تھی۔ اس کے شوق بھی اس کی طرح منفرد تھے۔ مختلف سانپوں سے کیمیکلز بنانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔اس نے کئی بار آہستہ آہستہ ان سانپوں کا زہر ایک خاص فارمولے کے تحت اپنے جسم میں اتارا تھا۔یہی وجہ تھی کہ اس پر سانپوں کے کاٹنے کا اثر نہیں ہوتا
تھا۔اس نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں خوفیہ طور پر نجانے کیا کیا رکھا ہوا تھا۔ بظاہر وہ وہاں پینٹنگ کرتی تھی مگر درحقیقت وہاں ایک الگ ہی دنیا قائم تھی۔

وہ بستر پر لیٹا کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا جب سنیہا کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتے اس کے قریب بیٹھی تھی۔
“کیا سوچ رہے ہو؟”ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے سنیہا نے مسکرا کر پوچھا تھا۔
“تمہاری سوتن کے بارے میں…!”اٹھ کر بیٹھتے نائل نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
“I hate you!”
وہ غصے سے کہتی ابھی اٹھی ہی تھی جب نائل نے اسے بازو سے پکڑے واپس بستر پر بٹھایا تھا۔
“صرف کافی ہی پلاؤ گی یا پھر کچھ کھلاؤ گی بھی؟”نائل نے خوشگوار موڈ میں پوچھا تھا۔
“تم ہی نے تو کھانا لگانے سے منع کیا تھا۔”
“اب میں ہی کہہ رہا ہوں کہ لگا دو۔” نائل نے اس کی کلائی آزاد کرتے اب کافی کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“ٹھیک ہے میں لگاتی ہوں،تم آ جاؤ۔” وہ کہتے ساتھ ہی اٹھی تھی جب نائل نے اسے پکارا تھا۔
“سنیہا…!”
سنیہا کے دل کی دھڑکن ایکدم ہی بےترتیب ہوئی تھی۔اسے اپنا نام آج بےحد خوبصورت لگا تھا۔
“تھوڑی عزت کر لیا کرو میری۔”اس کی اگلی کہی بات پر سنیہا کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔
“مجھے ‘تم’ کہہ کر مخاطب مت کیا کرو۔”
“وجہ…؟”سنیہا نے بھنویں سکیڑے استفسار کیا تھا۔
“اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔”کپ لبوں سے لگاتے نائل نے عجیب نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“مطلب…؟”وہ الجھ گئی تھی۔درحقیقت وہ اسے الجھا رہا تھا۔
“جو بیویاں اپنے شوہروں کو تم کہہ کر مخاطب کرتی ہیں ان کے بیوہ ہونے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔”ایک اور سپ لیتے نائل نے لاپروائی سے کہا تھا۔
“What…?”
نائل کا لہجہ جتنا عام تھا،سنیہا کا ردعمل اتنا ہی شدید تھا۔وہ بیچاری تو ہونق بنے اسے دیکھتی ہی رہی تھی۔
“سچ کہہ رہا ہوں۔دادی بھی دادا کو آپ کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھیں اور مام بھی ڈیڈ کو…ایک دفعہ دادی نے دادا کو تم کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ دادا کو ہارٹ اٹیک آتے آتے بچا تھا۔آگے تم خود سوچ لو۔”کافی کا آخری سپ لیتے نائل نے کپ واپس میز پر رکھا تھا۔
سنیہا اس کے چہرے کے تاثرات جانچنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح آج بھی سنجیدگی
تھی۔
“تم سچ کہہ رہے ہو؟”اسے یہ نہایت ہی غیر منطقی بات لگی تھی جس پر یقین کرنا نا ممکن تھا۔
“میرا تمہارا کیا مذاق؟”نائل کا انداز بےحد لاپرواہ تھا۔سنیہا تو کچھ لمحے بےیقینی سے اسے دیکھتی ہی رہی تھی۔پھر اپنے چکراتے سر کو تھامتے وہ فورا وہاں سے اٹھی تھی۔
وہ شخص اسے پاگل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔اس کی عجیب و غریب باتوں سے ہمیشہ ہی سنیہا کا سر درد کرنے
لگ جاتا تھا۔

یونیورسٹی میں عائزہ زبردستی وانیہ کو ایک کلاس کے لیے لے گئی تھی جو کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ کے ہال میں تھی۔
وہاں انہیں مختلف قسم کے موضوعات پر لیکچرز دیے جاتے تھے۔آج یہاں اسلام پر لیکچر دیا جانا تھا۔وانیہ اس بات سے
لاعلم تھی بلکہ اسے لاعلم رکھا گیا تھا۔اپنی نشست پر
بیٹھنے کے بعد اسے اس لیکچر کی نوعیت کا علم ہوا تھا۔
اس نے گھور کر عائزہ کو دیکھا تھا جس پر وہ نظریں چرا گئی تھی۔ یہ لیکچر تقریبا دو گھنٹے چلا تھا۔وہ خاموشی سے وہاں بیٹھی رہی تھی۔ لیکچر کے ختم ہوتے ہی وہ جان چھڑوانے والے انداز میں باہر آئی تھی۔باہر آتے ساتھ ہی اس نے عائزہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
ابھی وہ دونوں باتیں ہی کر رہے تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر انہیں ٹوکا تھا۔ یہ وہی لڑکی تھی جو اندر لیکچر دے رہی تھی۔وہ مکمل طور پر عبایہ اور نقاب میں ملبوس تھی۔
“کوئی مسئلہ ہے؟”
“ہاں بالکل ہے۔”وانیہ کے جواب دینے سے پہلے ہی عائزہ بول دی تھی۔ “اس کے کچھ عجیب و غریب سوال ہیں۔کیا آپ ان کے جواب دے سکتی ہیں؟”
“ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔”وانیہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔
“اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں۔”لہجہ شائستگی سے بھرپور تھا۔
“یہ تو بہت اچھا ہو جائے گا۔”اس بار بھی عائزہ فورا سے بولی تھی۔ناچاہتے ہوئے بھی وانیہ کو اس لڑکی کے پیچھے
چلنا ہی پڑا تھا۔
“اس مولوانی سے کیا میں سائنس کی باتیں پوچھوں؟یہ مجھے کیا جواب دے گی۔زیادہ سے زیادہ ایک دو آیتیں پڑھ
کر سنا دے گی یا پھر میرے کسی سوال پر کفر کا فتویٰ لگا دے گی۔اور آتا ہی کیا ہے ان لوگوں کو…؟”اس کا ذہن مختلف سوچیں بن رہا تھا۔
ایک کمرے میں جا کر وہ کرسی پر بیٹھی تھی اور اس نے اپنے سامنے رکھی گئی دو کرسیوں پر انہیں بیٹھنے کا کہا تھا۔
“میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟”
“بتاؤ نا…!”عائزہ نے وانیہ کو کہنی ماری تھی جس پر اس نے خونخوار نگاہوں سے اسے گھورا تھا۔
“مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔”بالآخر جو جواب اس نے دیا تھا اس پر عائزہ نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔
“میں بتاتی ہوں۔ابھی کل ہی یہ کہہ رہی تھی کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟”اس سوال پر وہ لڑکی مسکرا دی
تھی۔
“کیا آپ واقعی ایسا سوچتی ہیں؟”وہ اب براہ راست وانیہ سے مخاطب تھی۔ وانیہ نے گہری سانس خارج کرتے ہار
مانی تھی۔
“ہاں!ہر چیز کا کوئی نا کوئی خالق ضرور ہوتا ہے تو پھر اللہ کا خالق کون ہے؟
Who created God?”
“No one…!”

قُلۡ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ‌ ۞
اللہ کا معنی ہے ایسی ہستی جو صرف تخلیق کر سکتی ہے اسے کسی نے تخلیق نہیں کیا۔”
“یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔انسانی عقل اس چیز کو تسلیم کرتی ہے کہ ہر کسی کا کوئی نا کوئی خالق ضرور ہے۔”
اس نے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی تھی۔
“درحقیقت آپ کا سوال ہی غیر منطقی ہے۔کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ ایک حاملہ خاتون کسی بکری کے بچے کو جنے…
یقینا نہیں!کیونکہ یہ ایک غیر منطقی بات ہے بالکل آپ کے سوال کی طرح… اللہ کی ذات ہمیشہ سے موجود تھی،ہے
اور رہے گی۔”
“لیکن پھر بھی یہ سوال تو ذہن میں اٹھتا ہے نا کہ آخر اللہ کی ذات آئی کہاں سے…؟”وہ اپنی بات پر مصر تھی۔
“آپ جانتی ہیں کہ یہ سوال ذہن میں کیوں اٹھتا ہے؟”وانیہ نے ناسمجھی سے اس لڑکی کی طرف دیکھا تھا۔
“یہ سوال ذہن میں اس لیے اٹھتا ہے کیونکہ ہم انسان ہیں۔انسان ایک تولیدی عمل سے اس دنیا میں آتا ہے۔اس نے اپنے
اردگرد ہر چیز کو تخلیق ہوتے دیکھا ہے،پیدا ہوتے دیکھا ہے جس وجہ سے ہم اللہ کو بھی اس سانچے میں سوچتے
ہیں کہ یقینا اسے بھی کسی نے تخلیق کیا ہو گا۔چلو فرض کر لیتے ہیں کہ اللہ کو کسی نے تخلیق کیا ہے(نعوذباللہ)
تو پھر اس تخلیق کرنے والے کو کس نے بنایا؟اللہ ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔”وانیہ نے اب
کوئی سوال نہیں پوچھا تھا۔وہ اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ قسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی سوچا تھا۔اسے ہر سوال کا جواب خود ہی ڈھونڈھنا تھا۔

سنیہا نے ڈائینگ ٹیبل پر کھانا چن دیا تھا۔نائل سربراہی کرسی پر براجمان تھا۔
“میں نے آج دیسی کھانا بنایا ہے۔آپ چکھ کر بتائیں،کیسا بنا ہے؟”نائل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔وہ مسکرا رہی تھی۔نائل بھی اس کے اس طرح ‘آپ’ کہنے پر مسکرا
دیا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک باؤل پر سے ڈھکن ہٹایا تھا۔چہرے کا رنگ فورا ہی فق ہوا تھا۔اب اس نے باری باری ساری ڈشز پر سے ڈھکن ہٹایا تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟”اپنے سامنے اتنا اوئلی کھانا دیکھ کر اس کا موڈ آف ہو چکا تھا۔
“دیسی فوڈ…!”سنیہا نے ناسمجھی سےجواب دیا تھا۔
“تم میری ڈائیٹنگ کا بیڑا غرق کرو گی۔میں یہ سب نہیں کھاتا۔”نائل عجیب شکلیں بناتے وہاں سے اٹھا تھا۔
“لیکن تم…آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کو دیسی فوڈ پسند ہے۔”وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“میری کہی ہر بات کو سیریس لینا ضروری ہے۔”وہ جھنجھلایا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے،میں کچھ اور بنا دیتی ہوں۔”
“نہیں رہنے دو۔بہت وقت لگے گا۔ایک کام کرتے ہیں،کہیں باہر چلتے ہیں۔”سنیہا اس کے دن بدن بدلتے تیور دیکھ کر حیران
رہ جاتی تھی۔سامنے کھڑا شخص ایک عجیب و غریب مخلوق تھی جو کہ اس کی سمجھ سے بالکل باہر تھی۔
کبھی وہ اسے طعنے دیتا تھا تو کبھی وہ حد سے زیادہ سویٹ بن جاتا تھا۔
“پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس،جلدی سے تیار ہو جاؤ۔”نائل کے کہنے پر وہ مسکرا کر سر جھٹکتی اوپر گئی تھی۔
نائل گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ سنیہا چوری چھپے اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔
“میں جانتی ہوں کہ تمہاری سنائی گئی کہانی جھوٹی ہے مگر اگر تمہیں میرا آپ کہنا اچھا لگتا ہے تو پھر مجھے تمہاری خوشی زیادہ عزیز ہے۔”وہ دل ہی دل میں مخاطب
ہوئی تھی۔
“میں شوہر ہوں تمہارا۔تم مجھے دیکھ سکتی ہو۔”اپنی چوری پکڑے جانے پر سنیہا نے بوکھلا کر رخ دوسری جانب
موڑا تھا۔
انہوں نے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا تھا۔ڈنر کے بعد وہ ابھی باہر ہی آئے تھے کہ نائل کو ضروری کال آ گئی تھی۔وہ اسے
کچھ دیر وہیں رکنے کا کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا۔ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ واپس لوٹا تھا۔سنیہا کو کسی عورت سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے دیکھ اس کے ماتھے پر شکنیں ابھری تھیں۔نائل کے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ عورت وہاں سے جا چکی تھی۔
“کیا کہہ رہی تھی وہ عورت؟”اس کےلہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی۔
“وہ…!”سنیہا کہتے کہتے رکی تھی۔اسے اچانک ہی شرارت سوجھی تھی۔
“وہ کہہ رہی تھی کہ میں بےحد حسین ہوں اور میں جس شخص کا نصیب ہوں،وہ بہت خوش قسمت ہے۔”سنیہا نے چہرے پر سنجیدگی سجائے کہا تھا۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ نائل کوذرا برابر بھی شک ہو۔
“ایک سیکنڈ تم یہی رکو میں ابھی آتا ہوں۔”اپنے کوٹ کی جیب سے موبائل نکالے نائل نے بےانتہا سنجیدگی سے کہا
تھا۔
“کہاں…؟”سنیہا نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
“اس عورت کو کسی اچھے اپٹکس کا نمبر دینا ہے۔مجھے لگتا ہے اس کی نظر بہت زیادہ خراب ہے۔”نائل نے جس
قدر سنجیدگی سے کہا تھا۔سنیہا کا چہرہ اتنا ہی سرخ ہوا تھا۔
“اب بات مت کرنا مجھ سے…!”وہ غصےسے پیر پٹختی آگے بڑھی تھی۔
“اب کیا کر دیا میں نے…؟”وہ کندھے اچکاتا اس کے پیچھے گیا تھا۔

وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی جب ملازمہ نے کمرے کا دروازہ بجایا تھا۔وانیہ نے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
“بی بی جی!آپ کی دوست نے آپ کے لیے کچھ تحائف بجھوائے ہیں۔”وہ فورا الرٹ ہو کر بیٹھی تھی۔
“لے کر آؤ فورا…!”وانیہ تیزی سے بستر سے اٹھی تھی۔
کچھ دیر بعد کمرہ مختلف تحائف سے بھر چکا تھا۔وانیہ ہر ایک چیز کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔
“آج تو کوئی خاص موقع نہیں ہے تو پھر شاہین نے یہ سب کیوں بھجوایا ہے؟”وہ سوچ میں ڈوبی تھی۔پھولوں کے اندر بھی اسے آج کوئی نوٹ نہیں ملا تھا۔
“باقی سب تو ٹھیک ہے مسٹر شاہین! مگر ٹیڈی بیئر کیوں بھیجتے ہو تم مجھے؟” اس نے بڑے سائز کے ٹیڈی بیئر کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔
“میں کوئی چھوٹی بچی تھوڑی ہوں۔”وانیہ نے مسکرا کر ٹیڈی بیئر ایک سائیڈ پر رکھا تھا۔اچانک ہی کسی احساس کے تحت اس نے ٹیڈی بیئر واپس اٹھایا تھا۔اس کے کان کے پاس ایک خط چسپاں تھا جو کہ کافی مہارت سے وہاں چپکایا گیا تھا۔وانیہ نے خط کھول کر پڑھا تھا۔”آج میری سالگرہ ہے۔”وانیہ چونکی تھی۔آج سے پہلے تو اس نے کبھی بھی اسے ایسی کوئی خبر نہیں دی تھی۔
“تمہارے بغیر میرا گزارا نہیں ہے۔صرف ایک سال!اپنی اکیسویں سالگرہ پر تم میرے پاس ہو گی۔”وانیہ نے وہ خط
پڑھ کر بند کیا تھا۔
اب اس نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پہنےبریسلیٹ کو دیکھا تھا تو دوسری نظر ان تحائف اور خط کو….”کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسےیہ تحائف اور خطوط بھیجنے والا اور اس بریسلیٹ کے ذریعے مجھ سے بات کرنے والا شخص الگ الگ ہیں۔”وہ بالکل صحیح سوچ رہی تھی۔دونوں کی باتوں میں تضاد تھا۔وہ ان تحائف اور خطوط بھیجنے والے کو شاہین سمجھتی تھی جبکہ درحقیقت اسے یہ سب ڈیوڈ بھیجتا تھا۔