Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 13)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 13)
وانیہ کی آنکھ رات کے نو بجے کے قریب کھلی تھی۔اٹھتے ساتھ ہی اس کی نظر نائل پر پڑی تھی جو کہ اس کے عقب میں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
“کتنا سوتی ہیں نا آپ…؟جب سے یونی سے آئی ہیں تب سے سو رہی ہیں۔میں کب سے آپ کے جاگنے کا انتظار کر رہا ہوں۔”نائل نے بہت محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیا تھا۔وانیہ کچھ دیر ویران آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر وہ آہستگی سے اٹھی تھی۔
“میں یونیورسٹی سے آ کر سو گئی تھی؟”نائل نے اثبات میں سر ہلاتے اسے خود سے لگایا تھا۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔”وہ فورا ہی اس سے دور ہوئی تھی۔
“بھائی آپ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں؟”وہ چلاتے ہوئے پیچھے ہٹی تھی۔نائل کو حالات سمجھنے میں دیر لگی تھی۔
ہمیشہ ہی دورے کے بعد وہ سب بھول جاتی تھی۔پھر نائل اور ماہم اسے جو بتاتے تھے،وہ یقین کر لیتی تھی۔
“وہ مام تھیں نا…؟”وانیہ کی اچانک کہی گئی بات پر نائل ساکت رہ گیا تھا۔
“وہ میری ماں تھیں۔”وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“میں انہیں نہیں بچا سکی،میں کچھ نہیں کر سکی۔میری آنکھوں کے سامنے اس شخص نے…!”وہ ہچکیاں لے لے کر
رو رہی تھی۔نائل کی آنکھ سے بھی ایک آنسو گرا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر وانیہ کو خود سے لگایا تھا۔اس کی شرٹ دبوچے وہ بچوں کی طرح روتی رہی تھی۔نائل نے اسے رونے دیا تھا۔
“تو کیا وانیہ کو سب یاد آ گیا تھا؟”اس کا ذہن مختلف خیالات بن رہا تھا۔
“آپی نے کہا تھا کہ چھپی رہو۔تم چھوٹی ہو،یہاں پر آرام سے چھپ سکتی ہو۔میں کسی کو بلا کر لاتی ہوں۔میں
انتظار کرتی رہی لیکن کوئی نہیں آیا،کوئی نہیں…آپی بھی نہیں…لیکن میں نے وعدہ نہیں توڑا،میں وہاں سے باہر نہیں آئی تھی۔”وہ نائل کے سینے سے لگی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی۔
“چار لوگ تھے۔ایک عورت تھی اور تین مرد…مام کا خون نکل رہا تھا۔انہوں نے گاڑی…نیچے پھینک دی۔”وہ ہچکیوں
کے درمیان بامشکل بول پا رہی تھی۔
“کون تھے وہ چار لوگ؟آپ کو کچھ یاد ہے؟”نائل ہمیشہ سے ہی اس سے یہ پوچھنا چاہتا تھا مگر وانیہ کی حالت کبھی اتنی بہتر نہیں رہی تھی کہ وہ کوئی سوال و جواب کر سکے۔
“کیچپ نہیں تھا۔کوئی ڈرامہ نہیں تھا۔آپی نے جھوٹ کہا تھا۔”وہ اپنی ہی دھن میں بولے چلی جا رہی تھی۔
“کون آپی…؟”نائل جاننا چاہتا تھا کہ اسے کس حد تک یاد ہے۔
“شاہین نے کہا تھا کہ سب بھول جاؤ۔وہ بدلہ لے گا۔”
“وانیہ شاہین کون ہے؟وہ کیسا دکھتا ہے؟”نائل کے اس سوال پر وانیہ نے اس کے سینے پر سے سر اٹھایا تھا۔
“وہ…اس کا چہرہ…”وانیہ نے اپنے دماغ پر بھرپور زور ڈالا تھا۔
“پتا نہیں…یاد نہیں ہے۔”وہ ایک بار نائل کے سینے سے لگی تھی۔
“کوئی بات نہیں!بھائی ہیں نا…سب ٹھیک ہو جائے گا۔آئی پرومس!میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔”نائل نے اس کی پیٹ تھپتپاتے ہوئے اسے تسلی دی تھی۔
“چلو اٹھو!منہ ہاتھ دھو لو پھر کھانا کھاتے ہیں۔”
“بھائی وہ لوگ کون تھے؟انہوں نے ایسا کیوں کیا؟”
“میں سب پتا لگا لوں گا۔آپ نے بس ٹینشن نہیں لینی۔”نائل نے وانیہ کے آنسو صاف کرتے کہا تھا۔
“ٹھیک ہے!اب اس بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر آپ کو کچھ یاد آئے گا تو آپ سب سے پہلے مجھے بتائیں گی۔”وانیہ کے اثبات میں سر ہلانے پر نائل کے لب مسکرائے تھے۔
“کچھ اور یاد ہے آپ کو…؟”وانیہ نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“میرا مطلب ہے کچھ ایسا جو آپ نے مجھے ابھی تک نا بتایا ہو۔دیکھو میری جان!بھائی سے کچھ نہیں چھپاتے۔جو بھی بات ہے آپ مجھے سچ سچ بتائے گی۔”
“مجھے اور کچھ یاد نہیں ہے۔”نائل کے چہرے پر سکون بکھرا تھا۔
“ٹھیک ہے میری جان!اب اس بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر آپ کو کچھ بھی اور یاد آئے گا تو آپ سب سے پہلے مجھے بتائیں گی۔”وانیہ کے اثبات میں سر ہلانے پر نائل مطمئن ہو گیا تھا۔
نائل بستر پر بیٹھا مسلسل لیپ ٹاپ پر مصروف تھا جب سنیہا ڈھرلے سے تن فن کرتی اس کے قریب بستر پر آ کر بیٹھی تھی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟”نائل نے غصے سے اسے گھورا تھا۔
“میں بور ہو رہی ہوں۔”اس کا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھے سنیہا اس کے مزید قریب ہوئی تھی۔
“تم ایک نمبر کی بےحیا لڑکی ہو۔”اس کے بارے میں اپنی مفید رائے دیتا وہ بستر سے اٹھا تھا۔
“تم بھی تھوڑے سے بےحیا ہو جاؤ۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔”سنیہا نے لب دبائے ایک آنکھ ونگ کی تھی۔نائل کا چہرہ غصے سے دہکنے لگا تھا۔
“اٹھو نکلو میرے کمرے سے..!”اسے کلائی سے دبوچے نائل نے اسے اپنےمقابل کھڑا کیا تھا۔
نائل کے کہنے کے بعد بھی وہ اسے چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔وہ بھی اب سنیہا کو جسمانی طور پر کوئی نقصان نہیں پہنچا رہا تھا جس وجہ سے وہ مزید شیر ہو گئی تھی۔
“تم اتنے روڈ کیوں ہو؟”سنیہا نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے پوچھا تھا۔
“تم اتنی بےباک کیوں ہو؟”اس کا ہاتھ جھٹکتے نائل نے اسے پرے دکھیلا تھا۔
“اپنے شوہر سے اپنا حق مانگنا بےباکی ہے تو بےباکی ہی سہی…”وہ دن بہ دن اس پر حاوی ہوتی جا رہی تھی۔
نائل کے فارم ہاؤس کے چکروں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔وہ اسے اپنا عادی بنا رہی تھی۔
“حق کی بات کر رہی ہو؟”نائل نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔آنکھوں میں گہری چمک لیے اب اس نے ایک ہاتھ سے سنیہا کی ٹھوڑی کو چھوا تھا۔
وہ آنکھیں میچ گئی تھی۔نائل کے لمس سے اسے چھبن محسوس ہو رہی تھی۔
“حق بیوی کو دیا جاتا ہے،زرخرید غلام کو نہیں…!”نائل نے اپنی گرفت مزید بڑھا دی تھی۔سنیہا کا دم گھٹنے لگا تھا۔
“ہاں لیکن تم پھر بھی ایسا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے۔”اسے بالوں سے پکڑے نائل اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب
لے گیا تھا۔اس کی سلگتی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے سنیہا نے بےاختیار اپنی سانسیں روکی تھیں۔
“لیکن میری عادت ہے میں ہر چیز کی قیمت ادا کرتا ہوں۔تمہیں خریدنے کی قیمت تمہارے باپ کو ادا کی تھی تو
پھر…!”وہ اس کے کان کے پاس جھکا تھا۔
“تم کتنی قیمت لو گی؟”سنیہا نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا۔جو کچھ اس نے سنا تھا،اس پر یقین کرنا ناممکن تھا۔
اسے آہستگی سے خود سے دور کرتے نائل اب اس کے چہرے کے تاثرات سے محظوظ ہو رہا تھا۔
سنیہا آنکھوں میں ڈھیر سارا پانی لیے اسے دیکھتی ہی رہی تھی۔وہ اس کا شوہر تھا۔ان کے درمیان ایک پاکیزہ رشتہ تھا۔وہ کیسے اپنی بیوی سے اس قسم کی گفتگو کر سکتا تھا؟
“ڈونٹ وری!میں ہر قیمت ادا کر سکتا ہوں۔”اسے خاموش دیکھ کر نائل نے گویا اس کا تمسخر اڑایا تھا۔وہ بغیر کچھ کہے تقریبا بھاگتی ہوئی وہاں سے گئی تھی۔
کافی دیر اپنے کمرے میں آنسو بہانے کے بعد وہ سوجھی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ایک بار نائل کے سر پر مسلط ہوئی تھی۔
“مجھے اپنے گھر جانا ہے۔”اس کے لہجے میں نمی کے ساتھ ساتھ مضبوطی بھی تھی۔
نائل مکمل طور پر اسے نظرانداز کرتا لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔
“مجھے میرے گھر بھیج دو۔”اب کی بار وہ چیخی تھی۔
نائل غصے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“دماغ درست ہے تمہارا…؟”نائل نے بری طرح اسے جھنجھوڑا تھا۔
“تم مجھے بھیج رہے تھے نا…اب میں خود کہہ رہی ہو مجھے جانا ہے۔”
“وہ آفر کب کی ختم ہو چکی ہے۔بہتر یہی ہے کہ چپ چاپ کسی کونے میں پڑی رہو۔”نائل نے ناگواری سے آنکھیں گھمائی تھیں۔
“مجھے نہیں رہنا تم جیسے منافق اور جاہل شخص کے ساتھ…”
“زبان سنبھال کر بات کرو۔”نائل کے اعصاب تن گئے تھے۔وہ اسے طیش دلا رہی تھی۔
“تم اپنی زبان سنبھال کر رکھو۔تمہیں تو عورت سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔تمہاری تو تربیت ہی نہیں ٹھیک…”
“منہ بند رکھو اپنا ورنہ جان لے لوں گا میں تمہاری…”اس نے مٹھیاں بھینچے کہا تھا۔
“مجھے میرے گھر جانا ہے بس…”وہ ضد پر آڑی تھی۔
“کون سا گھر…؟وہاں اب تمہارا کوئی نہیں ہے۔تمہارے اس گھٹیا باپ نے بیچ دیا ہے تمہیں…”
“میرے باپ کو کچھ مت کہو۔تم خود گھٹیا ہو تمہارا پورا خاندان…!”ابھی
اس کے الفاظ منہ ہی تھے کہ نائل نے اس کے بال دبوچے تھے۔پھر ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا۔وہ اوندھے منہ فرش پر گری تھی۔
“کہو کہ میرا باپ ایک نہایت ہی گھٹیا اور نیچ انسان ہے۔”اب کی بار نائل نے اس کا منہ دبوچا تھا۔
“بولو…”اس نے اب کی بار بہت زور سے بالوں کو جکڑ کر ہلایا تھا۔
“سی…”سنیہا کی سسکی نکلی تھی۔
“میں…ایسا کچھ نہیں کہوں گی۔”ایک بیٹی اپنے باپ کے بارے میں اس قسم کے الفاظ کیسے استعمال کر سکتی تھی۔
“اگر تم نہیں چاہتی کہ آج کی پوری رات تم سانپوں اور بچھوں کے درمیان گزارو،تو جو میں کہہ رہا ہوں وہ کہو۔”
وہ نفی میں سر ہلاتی مسلسل اشق بہا رہی تھی۔
“کہو…!”اس کی دھاڑ پر وہ سہم گئی تھی۔
“ڈیڈ…!”وہ ایک بار پھر سسکی تھی۔
“کہو کہ میرا باپ ایک نہایت ہی گھٹیا اور نیچ انسان ہے۔”نائل نے اس کے بالوں کو ایک بار پھر جھٹکا دیا تھا۔وہ
اس شخص کے آگے بےبس ہو گئی تھی۔نائل کی بات ماننے کے علاؤہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔
“میرا باپ ایک گھٹیا…!”ہچکیاں ایک بار پھر بندھ گئی تھیں۔
“جملہ مکمل کرو سنیہا…!”اس کا منہ دبوچے نائل غرایا تھا۔
“گھ…ٹیا شخص ہے۔”یہ وہ ہی جانتی تھی کہ اس نے یہ کیسے کہا تھا۔
“شاباش…!”اس کا گال تھپکتے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے وہ اٹھا تھا۔
“اللہ کا قہر نازل ہو گا تم پر…جس طرح میں تڑپ رہی ہوں بالکل اسی طرح تم بھی تڑپو گے۔میری بددعا ہے نائل آفندی!اللہ تمہیں تمہارے سب سے عزیز شخص کے ہاتھوں رسوا کرے گا۔”آج ساری محبتیں جیسے فنا ہو گئی تھیں۔پیچھے جو بچا تھا وہ نفرت تھی،ٹوٹے بکھرے دل کی کرچیاں تھیں۔
نائل تنفر سے سر جھٹکتا وہاں سے گیا تھا۔
دوپہر کے وقت وہ دونوں مسلسل باتیں کرتے ہوئے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔
“میرا پیپر تو بہت اچھا ہوا ہے۔”گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ہی اس لڑکی نے بہت جوش سے کہا تھا۔
“پلیز ڈیڈ کے سامنے اپنی زبان بند رکھنا۔”اس نے کلس کر کہا تھا۔
“تم پڑھتے کیوں نہیں ہو؟”اس لڑکی نے شکوں کناں نگاہوں سے اپنے جڑواں بھائی کی طرف دیکھا تھا۔
“میں پڑھنا چاہتا ہوں لیکن تم مجھے ٹھیک سے پڑھاتی ہی نہیں ہو۔”گاڑی میں کسی کی کھلکھاہٹ کی آواز گونجی تھی۔دونوں نے ہی چونک کر پیچھے دیکھا تھا۔
“حاتم گاڑی روکو۔”صوفی نے ڈر کر کہا تھا جس پر حاتم نے بروقت بریک لگائی تھی۔
گاڑی سے باہر آتے وہ دونوں ہی مضطرب سے ایک سائیڈ پر کھڑے ہوئے تھے۔
“گاڑی میں بھوت ہے۔”صوفی نے حاتم کو بازو سے دبوچا تھا۔
“دن کے وقت بھوت کہاں سے آ گیا۔یقینا کوئی چور ہو گا۔”حاتم نے تکا لگایا تھا۔
“تم دیکھو نا جا کر…”صوفی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔
“میں کیوں دیکھوں،تم جا کر دیکھو نا…!”دونوں ہی میڑک کے سٹوڈنٹس تھے۔شکل صورت میں دونوں ہی بہن
بھائی ہو بہو ایک جیسے تھے۔ان دونوں میں واحد فرق ان
کی آنکھیں تھیں۔صوفی کی آنکھیں سیاہ اور پرکشش تھیں
جبکہ حاتم کی آنکھوں کا رنگ کچھ مختلف تھا۔اس کی آنکھیں ہلکی بھوری اور نیلی تھیں۔اپنی ان انوکھی آنکھوں کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز تھا۔لڑکیاں اس کے لکس اور اس
کی آنکھوں پر فدا ہو جاتی تھیں۔صوفی اور حاتم کی عمر
پندرہ سال کے قریب تھی۔حاتم صوفی سے دو منٹ بڑا تھا جس کا روب وہ اس پر ہمیشہ ہی جھاڑتا تھا۔
“تم مجھ سے بڑے ہو تو تم جا کر دیکھو نا…!”
“صرف دو منٹ تو بڑا ہوں۔”حاتم نے احتجاج کیا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ دونوں مزید جھگڑتے ،گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا تھا۔اندر سے نمودار ہوتی مخلوق کو دیکھ کر ان دونوں کی آنکھیں پھٹی ہی پھٹی رہ گئی
تھیں۔
“کھودا پہاڑ…”صوفی نے جملہ ادھورا چھوڑا تھا۔
“اور نکلی چوہیا…”جملہ حاتم نے مکمل کیا تھا۔
دو پونیاں بنائے،پھولے ہوئے گالوں وہ چھوٹی سی آفت
اب معصومیت سے ان کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“یہ کون ہے؟”حاتم نے سر تا پیر اس چھوٹی سی ٹڈی کا جائزہ لیا تھا۔جس کے سر اور پیر میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔
“یہ کتنی کیوٹ ہے نا…؟”صوفی تو اس کے بھرے ہوئے گال دیکھ کر آکسائیڈڈ ہو گئی تھی۔
“مگر یہ ہے کون اور ہماری گاڑی میں کیا کر رہی ہے؟”آخر کوئی کیسے ان کی اجازت کے بغیر ان کی گاڑی میں چھپ سکتا تھا۔
“یونیفارم تو ہمارے سکول کا ہی ہے۔”صوفی نے اس کے کپڑوں کو دیکھتے کہا تھا۔
“مجھے بھوک لگی ہے بین۔”اس ننھی سی گڑیا نے حاتم کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔صوفی کو تو وہ ایسے نظرانداز کر گئی تھی جیسے وہ وہاں موجود ہی نا ہو۔
“کون ہو تم…؟”وہ دبک کر پیچھے ہٹا تھا۔
“یہ بین کون ہے؟”حاتم نے سوالیہ نظروں سے صوفی کی طرف دیکھا تھا جس پر صوفی نے کندھے اچکائے تھے۔
“تم بین ہو۔”وہ بچی جا کر حاتم کے پیروں سے چھپکی تھی۔
“اوئے…شش..ہوشش…دور ہٹو…!”اس کے اس طرح خود سے چپکنے پر حاتم تو بوکھلا ہی گیا تھا۔
“حاتم وہ کوئی جانور نہیں ہے،چھوٹی سی بچی ہے۔”صوفی کو حاتم کا یہ رویہ سخت ناگوار گزرا تھا۔
“یہ جو بھی مخلوق ہے اسے مجھ سے دور ہٹاؤ۔”وہ مسلسل اپنا پیر جھٹک رہا تھا مگر وہ اسے چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی۔
“گڑیا!میری بات سنو۔”صوفی نے پیار سے جاکر اسے حاتم سے جدا کیا تھا۔اپنی ٹانگ چھوٹنے پرحاتم نے سکھ بھرا سانس لیا تھا۔
“کون ہو آپ…اور کیا نام ہے آپ کا…؟”صوفی نے اسے گود میں اٹھاتے اس کا دائیاں گال کھینچے استفسار کیا تھا۔
بس پھر کیا…وہ سائرن بجا تھا کہ انسان تو انسان پرندوں نے بھی پناہ مانگی تھی۔آدھے گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد بالآخر حاتم کی انگلی ہی اسے خاموش کروا سکی تھی۔
اب وہ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر ایک ہاتھ سے برگر کے ساتھ انصاف کر رہی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے ان نے حاتم کی انگلی تھام رکھی تھی۔وہ دونوں بہن بھائی اس عجیب و
غریب مخلوق کو دیکھ کر رہے تھے۔جب وہ برگر کھا چکی تھی تو حاتم نے اس سے بہت پیار سے پوچھا تھا۔
“بیٹا آپ کا گھر کہاں ہے؟”
“دور…بہت دور…!”اس نے اپنی گول مٹول آنکھوں کو پھیلائے کہا تھا۔
“آپ کے ڈیڈ کا کیا نام ہے؟”اس نے صبر کا دامن تھامے اگلا سوال پوچھا تھا۔
“ڈیڈ…!”اس آفت کے جواب پر جہاں حاتم کا چہرہ سرخ ہوا تھا وہیں صوفی کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“یار یہ کتنی کیوٹ ہے۔”صوفی تو اس بچی پر دل و جان سے فدا ہی ہو گئی تھی۔
“تمہارا نام کیا ہے؟اپنا نام تو پتا ہو گا نا…؟”حاتم نے دانت پیستے ہوئے پوچھا تھا۔وہ اپنی سنہری آنکھوں سے اسے
دیکھتی ہی رہی تھی۔
“اپنا نام پتا ہے؟”حاتم کے ایک بار پھر پوچھنے پر اس نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
حاتم نے بےاختیار گہری سانس خارج کی تھی۔
“اپنا نام بتاؤ۔”خاموشی،گہری خاموشی…
“نام پتا ہے تو بتاؤ نا…؟”وہ سخت جھنجھلایا تھا۔ایک تو اس کا پیپر اتنا برا ہوا تھا اور دوسری طرف یہ آفت…
“نام پتا ہے لیکن…”اس بچی نے منہ بسورے کہا تھا۔
“لیکن کیا…؟”وہ شدید تپا تھا۔
“بولنا نہیں آتا…!”صوفی اور حاتم دونوں کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
“کیا…؟”وہ تو شاک کے مارے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“میں اسے مار دوں گا۔میں اس ٹڈی کی جان لے لوں گا۔”وہ غصے سے اس آفت کی پڑیا کے قریب گیا تھا جب صوفی نے اسے روکا تھا۔
“ریلیکس حاتم!بچی ہی تو ہے۔”صوفی نے اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ تو جیسے آج اس بچی کو جان سے ہی مارنا چاہتا تھا۔
