Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 16)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 16)
فارم ہاؤس سے سیدھا وہ گھر آیا تھا۔وانیہ کی حالت کافی خراب تھی۔وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔وہ نائل کو ایک لمحے کے لیے بھی خود سے دور نہیں جانے دے رہی تھی۔
“میرا بچہ!اب بس بھی کر دو۔سب ٹھیک ہے۔”وہ پلنگ پر بیٹھا ہوا تھا اور وانیہ اس کی گود میں سر رکھے مسلسل سسک رہی تھی۔
“بھائی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔آپ پلیز کہیں مت جائیں گا۔”
“میں کہیں نہیں جا رہا مگر پہلے آپ یہ تو بتائیں کہ وہ لوگ کون تھے۔”
“مجھے کیا پتا بھائی!مجھے کچھ یاد نہیں…”ہچکیاں ایک بار پھر بندھ چکی تھیں۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے۔”نائل نے محبت سے اس کے بال سہلائے تھے۔
“بھائی وہ لوگ بہت خطرناک تھے۔پتا نہیں انہوں نے مجھے کیسے چھوڑ دیا۔مجھے تو ٹھیک سے کچھ یاد بھی نہیں ہے۔”نائل سمجھ گیا تھا کہ یقینا ڈیوڈ نے ہی وانیہ کو بچایا ہو گا اور ان دو لڑکوں کی گمشدگی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ ڈیوڈ کے ہتھے چڑھ چکے ہیں۔
“بھائی آپ نے ان لوگوں کو پکڑ لیا؟”وانیہ آنسو صاف کرتی اٹھ بیٹھی تھی۔
“نہیں میری جان!وہاں پر کوئی نہیں تھا۔”وانیہ کی رنگت پل میں فق پڑی تھی۔جو زہر وہ انہیں دے کر آئی تھی اس کے بعد وہ کیسے کہیں جا سکتے تھے۔
اس سے پہلے کہ ان دونوں کے درمیان مزید کوئی بات ہوتی،ملازمہ نے محسن کے آنے کی اطلاع دی تھی۔نائل وانیہ کو تھوڑی دیر کا کہہ کر باہر گیا تھا۔اس کے جانے کے بعد وہ چکراتے سر کے ساتھ بستر پر ڈھے گئی تھی۔
“اگر وہ دونوں بھائی کے پاس نہیں ہیں تو پھر کہاں گئے؟کہیں شاہین…یا اللہ!اتنا بڑا بلنڈر کر دیا میں نے…!”اسے شدید تشویش ہو رہی تھی۔
“یا اللہ!وہ مر جائیں لیکن پلیز کسی کے ہاتھ نا لگیں۔”وانیہ نے تہے دل سے دعا کی تھی۔
تھوڑی دیر بعد نائل کے آنے پر وہ واپس صحیح ہو کر بیٹھی تھی۔
“میری جان!اب سو جاؤ۔”نائل نے اس کے پاس بیٹھتے محبت سے کہا تھا۔
“میڈیسن بھی نہیں لی نا آپ نے…؟”اسے مصنوعی گھوری سے نوازتے نائل نے ساتھ والی دراز سے دوائی نکالی تھی۔
اب وہ جگ میں سے گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا۔
“بھائی…!”وانیہ نے چیختے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر پانی کا گلاس گرا دیا تھا۔نائل اس کی حرکت پر شدید حیران ہوا تھا۔
“میرا پین…!”وانیہ نے پھرتی سے ٹیبل پر پڑا اپنا پین اٹھایا تھا۔پین اٹھانے کے بعد اس کی جان میں جان آئی تھی۔
“وانیہ یہ کیا حرکت تھی؟”نائل نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“وہ…آپ کا ہاتھ میرے پین کو لگ جاتا۔”وانیہ نے اپنے ماتھے پر سے پسینہ صاف کرتے کہا تھا۔
“لگ جاتا تو کیا ہو جاتا؟”نائل کو ہمیشہ ہی اس کے اس رویے کی سمجھ نہیں آتی تھی۔وہ اپنی چیزوں کو لے کر کچھ زیادہ ہی حساس تھی۔وہ کسی کو بھی اپنی کوئی چیز چھونے نہیں دیتی تھی۔
“آپ مر جاتے بھائی!”وانیہ نے سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھے کہا تھا۔نائل کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا
تھا پھر اچانک ہی وہ ہنس دیا تھا۔
“پین کو چھونے سے میں مر جاتا؟”اس نے جیسے یقین کرنا چاہا تھا۔وانیہ نے ایک بار پھر سنجیدگی سے سر ہلایا تھا۔
“اس پین کو تو آپ نے بھی چھوا ہے۔آپ کو کیوں کچھ نہیں ہوا؟”نائل نے لب دبائے شرارت سے پوچھا تھا۔
“کیونکہ یہ پین مجھے پہچانتا ہے۔”اس کے چہرے پر ہنوز سنجیدگی تھی۔اب کی بار نائل کا قہقہ فلک شگاف تھا۔
وہ اس کی غیر منطقی باتوں کو ہمیشہ مذاق میں اڑا دیتا تھا۔
صبح کے وقت ڈائینگ ٹیبل پر سب موجود تھے۔وانیہ کی حالت قدرے بہتر تھی۔محسن نے ابھی ابھی انہیں ناشتے پر
جوائن کیا تھا۔
“وانیہ اب کیسی طبیعت ہے؟”وانیہ نے نرم مسکراہٹ اس کی جانب اچھالے اپنی خیریت کی اطلاع دی تھی۔
“ویسے نائل!میں ایک بات سوچ رہا تھا۔”گرین ٹی کا سپ لیتے نائل اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
“کیوں نا ہم وانیہ کے لیے کوئی کیئر ٹیکر رکھ لیں۔”فورک کی مدد سے آملیٹ کا پیس کھاتے وانیہ کے ہاتھ رکے تھے۔
“میرا مطلب ہے کہ تم ہمیشہ تو اس کے ساتھ نہیں رہ سکتے نا…کوئی ایسا شخص ہونا چاہیئے جو گھر کے باہر اور اندر بھی ہر پل وانیہ کا خیال رکھے اور اس کے ساتھ اسی کے کمرے میں رہے تا کہ ہماری وانیہ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نا ہو۔”فورک واپس پلیٹ میں رکھے وانیہ نے ایک قہر برساتی نگاہ محسن پر ڈالی تھی۔
“اگر تم کہو تو میری ایک بھروسے کی جاننے والی لڑکی ہے۔اسے بلا لیتے ہیں۔”
“ہاں ٹھیک ہے۔بلا لو۔”نائل کو محسن کا آئیڈیا اچھا لگا تھا۔وانیہ کی حالت کے پیش نظر یہی بہتر تھا کہ کوئی انسان
سایے کی طرح اس کے ساتھ رہے۔
“وانیہ بیٹا!آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا…؟”محسن نے معنی خیز مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی۔
“نہیں محسن بھائی!مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔بھائی میرے لیے جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ٹھیک ہی ہو گا۔”اس نے بھی ایک خوشگوار مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی تھی۔
“بھائی!آپ کو پتا ہے کل نا ہمارے پروفیسر نے ہمیں بہت ہی دلچسب لیکچر دیا۔”وانیہ اپنی پلیٹ چھوڑے اکسائیٹڈ ہوئی تھی۔
“اچھا…!”نائل نے دلچسبی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“انہوں نے ہمیں بتایا کہ جب کوئی بلاوجہ کسی کے معاملے میں ٹانگ اڑاتا ہے نا،تو بھاری نقصان اٹھاتا ہے۔”
“بالکل ٹھیک بات ہے۔”نائل نے مسکرا کر اس کی بات کی تائید کی تھی۔محسن نے افسوس بھری نگاہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی ہر ڈالی تھی،جس کا سارا بچپن اس ہی کی گود میں گزرا تھا اور آج وہ اسے دھمکی دے رہی تھی۔ماتم
تو اس نے نائل کی عقل پر بھی کیا تھا۔وہ شخص جو ہر پتے کو بھی مشکوک نگاہ سے دیکھتا تھا،نجانے کیوں اپنی بہن کی حرکتیں اسے نہیں دکھتی تھیں۔
بلیک مونسٹر اپنی سیکریٹ جگہ پر اپنے مخصوص کمرے میں سربراہی کرسی پر بیٹھا تھا۔جب ماریہ اندر داخل ہوئی تھی۔
“ان دونوں کو ایک خاص قسم کا زہر دیا گیا ہے جو کہ مختلف سانپوں کے زہر سے مل کر بنا ہے۔تمام سانپوں
کے زہر کو کیمیکلز کی مدد سے ملا کر کچھ اس قسم کی چیز تیار کی گئی ہے کہ سامنے والا انسان تڑپتا رہے،وہ موت سے بھی بدتر تکلیف محسوس کرے مگر مرے نہیں!اس کا اثر تقریبا ایک ہفتے تک رہے گا اس کے بعد وہ دونوں بالکل ٹھیک ہو جائے گئے۔”اپنی پیشانی مسلتے ڈیوڈ گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔
“یہ زہر انہیں دیا کس نے…؟”
“مجھے لگتا ہے یہ شاہین کا کام ہے۔”ماریہ نے اندازہ لگایا تھا۔
“میرا نہیں خیال!اگر شاہین اس سب کے پیچھے ہوتا تو وہ کبھی وانیہ کو اکیلا چھوڑ کر نا جاتا۔”بلیک مونسٹر بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔
“پھر یہ کام کس کا ہے؟”
“ایک ہفتے تک انتظار کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کہ آخر اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔مجھے یہ زہر اور زہر بنانے والا کسی بھی قیمت پر چاہیئے۔”ڈیوڈ کو اس شخص کی ذات میں گہری دلچسبی ہوئی تھی۔اگر ایک بار یہ شخص اسے مل جائے تو وہ اس کا استعمال کرتے کیا کچھ نہیں کر
سکتے تھے۔
حاتم اتوار کے روز اپنے کمرے میں بستر پر اوندھے منہ پڑا سو رہا تھاجب صوفی نے آ کر جھنجھوڑ کر اسے اٹھایا تھا۔
“ظہر کا وقت ہو گیا ہے حاتم!اٹھو اور نماز پڑھو۔”حاتم کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی تھی۔
“حاتم اٹھو اور نماز پڑھو۔”صوفی نے اسے کھینچ کر کشن مارا تھا۔
“اٹھ رہا ہوں۔”وہ کلس کر اٹھا تھا۔صوفی حاتم کی بدولت اسلام کے کافی قریب تھی۔وہ نا صرف پانچ وقت کی نمازی تھی بلکہ ہمیشہ حجاب بھی کرتی تھی۔
“گھر شفٹ ہو رہا ہے اور تم مدد کرنے کے بجائے ہر وقت سوئے رہتے ہو۔”
“یہ گھر شفٹ کرنے والی مصیبت ڈیڈ نے بلاوجہ ہی پال لی۔”وہ بڑبڑاتا ہوا فریش ہونے چلا گیا تھا۔
شام کے وقت صوفی زبردستی حاتم کو پارک لے کر آئی تھی۔وہاں پر اس بچی کو دیکھ کر حاتم کے سارے موڈ کا بیڑا غرق ہوا تھا۔اس کی قسمت کی خرابی!اس ٹڈی کی نظر بھی اس پر پڑ گئی تھی۔
“بین…!”وہ بینچ پر بیٹھا ہوا تھا تبھی وہ بھاگتی ہوئی اس تک آئی تھی۔
“تم بہت اچھے دکھتے ہو۔”وہ آکسائیڈڈ ہو کر اس کے چہرے کے نقوش کو دیکھ رہی تھی۔وہ اچھا خاصا بدمزہ ہوا تھا۔
“بین!تم یہاں مجھ سے ملنے آئے ہو نا…!”وہ اس کے پاس بینچ پر بیٹھ گئی تھی۔حاتم موبائل نکال کر اس پر مصروف ہو گیا تھا۔
“بین!کیا تم پڑھے لکھے ہو؟”وہ اس کے تھوڑا قریب ہوئی تھی۔
“نہیں!ان پڑھ ہوں۔”حاتم نے منہ کے زاویے بنائے ناگواری سے کہا تھا۔
اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ آفت مصطفی صاحب کی بیٹی تھی۔وہ گاڑی والے حادثے پر بھی
مانو کی والدہ آئی تھیں اور دوسری طرف حاتم کے والد گئے تھے۔دونوں نے ہی ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہوا تھا۔ڈنر پر اس انکشاف پر سب ہی حیران ہوئے تھے۔سب سے شدید جھٹکا تو حاتم کو لگا تھا۔وہ جس سے بھاگ رہا تھا وہی بار بار اس کے سامنے آ رہی تھی۔
“کیا تم سچ میں پڑھے لکھے نہیں ہو؟”مانو کو جھٹکا لگا تھا تبھی اس نے اپنی سنہری آنکھوں کو حیرت سے پھیلائے پوچھا تھا۔
“نہیں…!”بظاہر وہ اب بھی موبائل ہر ہی مصروف تھا۔
“تھوڑے سے بھی نہیں…؟”مانو کی آنکھوں میں آس تھی۔
“نہیں…!”جواب اب بھی وہی تھا۔
“ہائے اللہ!میں تو برباد ہو گئی۔ایک ہی تو پسند آیا تھا اور وہ بھی جاہل نکلا۔”مانو نے باقاعدہ اپنا ماتھا پیٹا تھا۔ناچاہتے ہوئے بھی حاتم کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“تم نا فکر مت کرو،میں تمہیں پڑھاؤں گی۔”مانو نے ایک عزم سے کہا تھا۔حاتم تو اس ٹڈی کی بات پر دنگ ہی رہ گیا
تھا۔یعنی جو اپنا نام تک نہیں بول سکتی تھی وہ اسے پڑھائے گی۔
“پہلے ہم اے بی سی پڑھے گئے پھر ا ب اور اس کے بعد ففٹی تک کاونٹنگ…”اس نے حاتم کو دلاسہ دیا تھا۔
“مگر مجھے تو ففٹی سے آگے کاؤنٹنگ سیکھنی ہے۔”مانو کا رنگ پل میں فق پڑا تھا جبکہ حاتم اس کی حالت سے اچھا خاصا محظوظ ہوا تھا۔
“نہیں اچھے بچے صرف ففٹی تک کاونٹنگ سیکھتے ہیں۔”اس نے اماں دادیوں کی طرح حاتم کو سمجھایا تھا۔
“مگر میں اچھا بچہ نہیں ہوں نا…تم پلیز مجھے ففٹی سے آگے کاؤنٹنگ سکھاؤ۔”
“ففٹی سے آگے کاؤنٹنگ بہت مشکل ہے۔میں تو بہت ذہین ہوں اس لیے مجھے تو آتی ہے مگر تم یاد نہیں کر سکو گے بین!”حاتم کے لیے ہنسی کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو گئی تھی۔وہ گردن پیچھے کی طرف کیے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔یہ ٹڈی اتنی بھی بری نہیں تھی۔وہ اس کے بارے میں رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔
