93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 39)

اپنی ماں کے کہنے پر وہ دوپہر کے وقت صوفی کے گھر آیا تھا۔وہ تقریبا پندرہ منٹ سے گاڑی کے پاس کھڑا اس مہارانی کا انتظار کر رہا تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔آج شام کو ایک گرینڈ پارٹی تھی جس میں ان کے نکاح کو ساری دنیا کے سامنے ڈسکلوز کرنا تھا۔عبداللہ اس کے سخت خلاف تھا کیونکہ صوفی کو اپنے فرینڈ سرکل میں سب سے ملوانا وہ اپنی بےعزتی سمجھتا تھا۔

وہ اچھے سے جانتا تھا کہ سب اس کا مذاق اڑائے گے۔صوفی کسی طرح سے بھی اس کے قابل نہیں تھی۔

مزید دو منٹ گزر جانے کے بعد اسے صوفی نظر آئی تھی جو کہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسی کی جانب بڑھ رہی تھی۔عبداللہ کا دماغ سوا نیزے پر چڑھا تھا۔آج اس لڑکی کی خیر نہیں تھی۔

“سس…سوری!”اس تک پہنچتے صوفی نے ہانپتے ہوئے کہا تھا۔ان چند دنوں میں ہی وہ اپنے شوہر کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی۔

“تمہیں پتا ہے میں کب سے تمہارا یہاں دھوپ میں کھڑا انتظار کر رہا ہوں؟کوئی احساس ہے تمہیں….؟”لہجہ نہایت سخت تھا۔صوفی بالکل سہم گئی تھی۔

اسے کتنی ہی دفعہ ملازم اندر بلا چکے تھے اور تو اور صوفی کی والدہ بھی اسے خود اندر بلانے آئی تھیں مگر وہ اپنی ضد کا پکا تھا۔

” تم سمجھتی کیا ہو خود کو…؟کسی سلطنت کی شہزادی ہو اور میں تمہارا غلام….؟”عبداللہ کے لہجے کی ترشی پر صوفی کی آنکھیں چھلکنے لگی تھیں۔

“میں….میں نماز پڑھ رہی تھی۔”نظریں جھکائے وہ منمنائی تھی۔عبداللہ کا سارا غصہ جیسے جھاگ بن کر اڑا تھا۔

وہ کچھ دیر اس تھر تھر کانپتے وجود کو دیکھتا رہا تھا پھر اس نے سانس خارج کیے سر جھٹکا تھا۔

“بیٹھو گاڑی میں….”لہجے میں وہی سختی لیے عبداللہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔

وہ اسے سیدھا شاپنگ مال لے گیا تھا۔عبداللہ نے ساری شاپنگ اپنی مرضی سے کی تھی۔صوفی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔اسے عبداللہ کی چوائس اچھی لگی تھی۔

اس نے صوفی کے لیے بہت خوبصورت میکسی سیلیکٹ کی تھی۔ٹی پنک کلر کی بہت نفیس میکسی…جس کے گلے اور بازوں پر ہلکا ہلکا کام ہوا ہوا تھا۔

عبداللہ نے اس کے لیے کسی قسم کا بولڈ ڈریس نہیں لیا تھا۔وہ اس کی بیوی تھی،وہ اسے مڈرن لک میں ضرور دیکھنا چاہتا تھا مگر حیا کے زمرے میں رہ کر….

شاپنگ کرنے کے بعد وہ واپس گاڑی میں آ کر بیٹھے ہی تھے جب عبداللہ کا فون بجا تھا۔

“جی مام….؟”سونی کی کال دیکھ کر اس نے فورا کال ریسیو کی تھی۔

“کیا مصیبت ہے؟اب آئسکریم بھی کھلاؤں اسے…کیا مصیبت میرے سر پر تھوپ دی ہے؟”وہ اور بھی نجانے کیا کیا بول رہا تھا۔اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ وہ اپنے کہے جملوں سے کسی کے دل پر چھریاں چلا رہا ہے۔

کچھ دیر بعد عبداللہ نے فون کاٹے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔

“آئسکریم کا کون سا فلیور پسند ہے تمہیں؟”صوفی نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔

“مجھے آئسکریم نہیں پسند….”اتنی بےعزتی کے بعد وہ اس شخص کے ساتھ آئسکریم تو بہت دور کی بات پانی تک نا پیے۔

“کون سا فلیور کھاؤ گی؟”وہ اب بھی اپنی بات پر مصر تھا۔

“مجھے آئسکریم نہیں کھانی۔”اس نے اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ایک بار پھر کہا تھا۔صوفی کو لگا شاید عبداللہ نے اس کا جواب ٹھیک سے سنا نہیں ہے۔

“ایک بار ذرا پھر سے کہنا….”سڑک پر نگاہیں جمائے اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“مجھے….مجھے نہیں کھا….”اس کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے جب عبداللہ نے گاڑی کو جھٹکا دیے ایکدم سے سپیڈ بڑھا دی تھی۔

صوفی کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے تھے۔اسے موت اپنے سامنے دکھائی دے رہی تھی۔

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ…؟”سڑک کے بیچوں بیچ وہ تیز ڈرائیو کر رہا تھا۔کبھی کسی گاڑی تو کبھی بائیک سے وہ ٹکراتے ٹکراتے بچتے تھے۔

“تو آئسکریم نہیں پسند تمہیں….؟”پہلی بار صوفی نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا جس کے چہرے پر بلا کا اطمینان اور سنجیدگی تھی۔ایسے جیسے وہ یہ موت کا کھیل کھیلنے میں ماہر ہو۔

“مم…مجھے پسند ہے۔”وہ جتنا تیز بول سکتی تھی وہ بولی تھی۔

اس کے کہتے ساتھ ہی عبداللہ نے ایک سائیڈ پر گاڑی روکی تھی۔صوفی کی جان میں جان آئی تھی۔

“دوبارہ میری کہی کسی بھی بات سے اختلاف مت کرنا۔”کاٹ دار اور سخت لہجہ….

اس نے سمجھتے ہوئے اچھی بیویوں کی طرح فورا اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“اب بتاؤ کون سا فلیور کھاؤ گی؟”

“جو آپ کو پسند ہو۔”عبداللہ نے گھور کر اس صنف نازک کو دیکھا تھا جو آنکھیں جھکائے مسلسل ہانپ رہی تھی۔

یعنی ڈوز کا اثر ابھی بھی ٹھیک سے نہیں ہوا تھا۔

“مجھے تو کریلے کا جوس پسند ہے۔پیو گی؟؟”

“جی….!”فرنبرداری کا مظاہرہ کرتے اس نے ایک بار پھر سر کو زور و شور سے ہلایا تھا۔

“میں ایک وقت میں تین گلاس پیتا ہوں۔تم پیو گی؟”

“جی….!”جواب اب بھی وہی تھا۔عبداللہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا تھا۔

“گھر چلیں…؟”

“جی….!”ایک بار پھر اسی جواب پر اس نے سر جھٹکتے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ بہت زیادہ نروس ہے جس وجہ سے وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

“گھر پر سب کو بتاؤ گی کہ میں نے اتنی تیز ڈرائیونگ کی؟”کچھ دیر بعد عبداللہ کو شرارت سوجھی تھی۔

“جی….!”ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے صوفی نے خالی الذہنی کی کیفیت میں ایک بار پھر وہی جواب دیا تھا۔

“تم میری شکایت لگاؤ گی؟”عبداللہ نے ایک نظر اس کی طرف ڈالی تھی۔

“جی….!”کسی ربورٹ کی مانند صوفی نے ایک بار پھر وہی جواب دیا تھا۔

“تم میری شکایت لگاؤ گی؟”اس نے بےیقینی سے صوفی کی جانب دیکھا تھا۔

“جی….ہاں….نہیں….!”اسے اب کہیں جا کر ہوش آیا تھا۔

“بیواقوف لڑکی….!”وہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔

باقی کا سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔اپنے گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی صوفی نے پھرتی سے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا۔

وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔وہ اس شخص کے ساتھ مزید ایک لمحہ بھی نہیں گزارنا چاہتی تھی۔

“رکو…”صوفی نے شکست خور حالت میں واپس ہاتھ ہٹایا تھا۔

“شام کو جب پارٹی میں آنا تو یہ حجاب اتار کر آنا…”

صوفی کے سر پر معنوں بم گرا تھا۔

“دیکھو!اب جب ہمارا نکاح ہو ہی گیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ رخصتی سے پہلے تم تھوڑا گروم ہو جاؤ۔اپنے پہننے اوڑھنے کا سٹائل بدل لو۔اور اپنے اندر تھوڑا اعتماد لاؤ۔مجھے تو یقین نہیں آتا کہ تم ہارون انکل کی بیٹی ہوں….انہیں دیکھو،اپنے بھائی کو ہی دیکھ لو اور ایک تم ہو کہ….”عبداللہ نے سر جھٹکا تھا۔صوفی کی نظریں مزید جھک گئی تھیں۔

یہ ضروری نہیں کہ آپ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھو تو آپ پر اعتماد اور پروقار ہو۔بچوں کو اعتماد دینا پڑتا ہے۔صوفی کو کبھی اپنے گھر کی جانب سے نا تو اعتماد ملا تھا اور نا ستائش…..وہ شروع سے ہی حساس تھی۔ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز کو محسوس  کرنے والی اور پھر گھر کے ماحول نے اسے حد سے زیادہ حساس بنا دیا تھا۔

رات کے وقت آفندی ہاؤس میں شاندار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔شہر کے مشہور و معروف بزنس مین اس پارٹی میں مدعو تھے۔سونی اور مانو صوفی کے ساتھ پارلر گئے ہوئے تھے جبکہ باقی سب مہمانوں کا استقبال کرنے میں مصروف تھے۔گرے کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ کسی سے محو گفتگو تھا۔ہر ایک کی ستائشی نظر اس سنہری آنکھوں والے شہزادے پر جیسے رک گئی تھی۔

وہاں موجود ہر شخص اس شہزادے کی شہزادی کو دیکھنے کے لیے بےچین تھا۔

کچھ دیر بعد تمام لائٹس آف کی گئی تھیں۔اب صرف ایک ہی لائٹ آن تھی۔مدھم سی نیلی رنگ کی ایک لکیر نما روشنی….جس میں اس حجابی شہزادی کا چہرہ صاف دکھ رہا تھا۔پاکیزہ اور حسین چہرہ….

عبداللہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گیا تھا۔اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔

“کیا وہ صوفی تھی…؟”اس کے دل اور دماغ نے فورا لال سگنل دیا تھا۔

“ہر گز نہیں….تو پھر یہ کون تھی؟”وہ اسے نہیں پہچان پایا تھا۔

مصطفی کے ہوش دلانے پر اسے ناچار آگے قدم بڑھانے پڑے تھے۔صوفی تک جاتے اس نے اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلایا تھا۔

نیلی روشنی میں دونوں کا عکس واضح تھا۔ہر ایک آنکھ انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔کسی کی نظروں میں رشک تھا اور کسی کی نظر میں حسد….

عبداللہ کے ہاتھ آگے بڑھانے پر صوفی نے بھی اپنا کپکپاتا ہاتھ اس کے سپرد کیا تھا۔صوفی کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھیں۔اس کے ہاتھوں کی نمی کو محسوس کرتے عبداللہ کی جان میں جان آئی تھی۔

یہ صوفی ہی تھی۔یہ اس کی ڈرپوک منکوحہ ہی تھی۔

“میں بھی سوچوں کسی اور لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کا تھوڑی کہے گئے ڈیڈ….!”اس نے اپنے خیالات کو خود تک ہی رکھا تھا۔

اب وہ اس نیلی روشنی کی سیدھ میں اس کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھ رہا تھا۔

“مام!آپ لوگ کس پالر گئے تھے؟”اس نے ساتھ چلتی سونی کے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر سونی نے اسے گھوری سے نوازا تھا۔عبداللہ کو مجبورا خاموش ہونا پڑا تھا۔

“میرا مطلب ہے کہ یہ کنفرم میرے والی ہے نا….؟”کچھ دیر بعد وہ پھر گویا ہوا تھا۔

“تم سدھرتے کیوں نہیں ہو؟”سونی نے اس پر افسوس بھری نگاہ ڈالی تھی۔وہ منہ بناتا ایک بار پھر خاموش ہوا تھا۔

اب تقریبا سب لوگ ہی آ کر ان سے مل رہے تھے۔مختلف تحائف اور پھولوں سے پورا لان ہی تقریبا بھر چکا تھا۔صوفی کے لیے یہ لک سونی نے ہی چنا تھا۔وہ اپنا حجاب  نہیں اتارنا چاہتی تھی۔اسی لیے سونی نے اس کی ڈریسنگ اور اس کے حجاب کو تھوڑا سا سٹائلش لک دیا تھا۔

صوفی بےانتہا حسین تھی۔ذرا سے میک اپ سے اس کی خوبصورتی مزید نکھر گئی تھی۔

“آپ ناراض ہیں مجھ سے…؟”ہمت جمع کر کے صوفی نے بات کا آغاز کیا تھا۔

“نہیں….کیوں….؟”وہ حیران ہوا تھا۔

“میں نے بہت سوچا مگر میں…حجاب نہیں اتار سکی۔میرے پاس دو راستے تھے…یا تو میں آپ کو راضی کر لوں یا پھر اپنے رب کو….میں اپنے رب کو ناراض نہیں کر سکتی۔

I am sorry!

میں آپ کے لیے بھی یہ نہیں کر سکتی۔”اس نے نظریں جھکائے مدھم آواز میں کہا تھا۔

“اچھی بات ہے۔تمہیں یہ کرنا بھی نہیں چاہیئے۔”صوفی نے چونک کر نظریں اٹھائی تھیں۔عبداللہ کو اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ فورا نظریں جھکا گئی تھی۔

“اتنا برا نہیں دکھتا میں….تم مجھے دیکھ سکتی ہو۔”پہلے کی نسبت اس کا رویہ آج کافی بہتر تھا۔

وہ بلش کر گئی تھی۔کیوں….؟وہ یہ نہیں جانتی تھی۔

“تم دنیا کے سامنے حجاب نہیں اتار سکتی لیکن میرے سامنے تو اتار سکتی ہو نا….؟یا پھر بالوں میں کوئی مسئلہ ہے؟؟”اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

وہ ایک لمحے کے لیے چونکی تھی پھر اچانک ہی وہ ہنس دی تھی۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میرے بالوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔”شاید زندگی میں پہلی بار وہ حاتم کے علاؤہ کسی اور سے کھل کر بات کر رہی تھی۔

کیوں نا کرتی وہ اس کا جیون ساتھی تھا۔صوفی کو بس تھوڑی سی محبت اور تھوڑے سے اعتماد کی ضرورت تھی۔

“تو پھر کب کھول رہی ہو یہ حجاب….؟”اپنے خدشات کو دور کرنے کے لیے اس کے بال دیکھنا بےحد ضروری تھی۔عبداللہ کو کہیں نا کہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ شاید اس کے سر پر بال ہی نا ہوں اسی وجہ سے وہ حجاب نہیں کھولتی۔

یہ اس کے ذہین دماغ کی اپنی خراقات تھی۔اگر واقعی ایسا تھا تو وہ یہ دھوکہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

“رخصتی کے بعد….!”صوفی کی بات پر عبداللہ کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔اب تو اسے مزید فکر ستانے لگی تھی۔کہیں یہ سب لوگ مل کر اسے دھوکہ تو نہیں دے رہے؟؟

“تمہیں بغیر حجاب کے تو میں دیکھ کر رہوں گا۔”اس نے عہد کیا تھا اور وہ اپنے عہد کا پکا تھا۔