Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 04
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 04
“ناشتہ تیار ہے،آپ چینج کر کے آ جائیں۔”چہرے پر سجی مسکراہٹ کے ساتھ وہ وہاں سے اٹھی تھی۔
ناشتے کے بعد وہ اس کے لیے کافی بنا لائی تھی۔
“آج کچھ خاص ہے کیا؟”سنیہا کا رویہ دیکھ وہ کچھ حیران تھا۔
“نہیں….”یک لفظی جواب…..
“آپ سے ایک اجازت چاہیئے تھی۔”دونوں ہاتھوں کو آپس میں مس کیے اس نے لب کاٹتے پوچھا تھا۔
“کیسی اجازت؟”وہ ٹھٹکا تھا۔
“میں سارا دن گھر میں بور ہوتی رہتی ہوں۔کیا میں کبھی کبھی باہر نہیں جا سکتی؟”اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا تھا۔نجانے وہ کس طرح ری ایکٹ کرے؟؟؟
“ٹھیک ہے،کبھی کبھار چلی جایا کرو۔لیکن یہاں دوست بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔”لہجہ کٹیل تھا۔اس نے ابھی تک اس شادی کو پوشیدہ ہی رکھا ہوا تھا۔سوسائٹی میں کسی کو بھی اس شادی کا علم نہیں تھا۔
اور ایک لڑکی کا اس کے گھر میں رہنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔وہ اپنے سرکل میں ایک عیاش بزنس مین کے طور پر مشہور تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آگ…..”کانوں پر ہاتھ رکھے وہ بلند آواز میں چلا رہی تھی۔
“نہیں نین،آگ نہیں ان خوبصورت الفاظ کو دیکھو،جو وہاں لکھے ہوئے ہیں۔”حاتم نے اسے شانوں سے تھام کر اس کا رخ اس بورڈ کی جانب کیا تھا۔
“چھوڑو مجھے،جانے دو۔”وہ مسلسل پھڑپھڑاتے ہوئے اس سے دور جانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم کہیں نہیں جاؤ گی۔پہلے ہم کیک کٹ کرے گے پھر کھانا کھائے گے پھر ہی گھر جائے گے۔”اس کا فیصلہ سنتے وہ تڑپ اٹھی تھی۔
“میں مر جاؤں گی عمر!پلیز مجھے جانے دو۔”اس نے سسکتے ہوئے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔
“تمہیں کچھ نہیں ہو گا نین،میں ہوں نا تمہارے ساتھ….”حاتم نے اس کے ہاتھوں کو تھامتے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
“ہر طرف خون ہے۔”وہ اپنی ہی دھن میں بار بار چلا رہی تھی۔
“نین!کہاں پر ہے خون؟؟”حاتم نے اسے کندھے سے جھنجھوڑ کر جیسے ہوش دلایا تھا۔
“ہر طرف…..”اس نے کانپتے ہاتھ سے پورے ٹیرس کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“یہ گلاب ہے نین…..”عمر نے جھک کر اس کے قدموں سے چند پتیاں اپنے ہاتھ میں اٹھائی تھیں۔
“یہ دیکھو!یہ پھول ہیں۔کتنی اچھی خوشبو ہے اس کی….”اس نے اپنی ہتھیلی پر رکھے پھول اس کے سامنے کیے تھے۔
“اور یہ…..”اس کا ہاتھ سختی سے پکڑتے وہ آگے لے گیا تھا۔
“یہ کرٹنز ہیں،یہ ٹیبل ہے،یہ کینڈلز ہیں اور یہ کیک…..خون کہیں بھی نہیں ہے۔”اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ اسے باور کروا رہا تھا۔
“مم….مجھے گھر جانا ہے۔”وہ کچھ بھی سوچ یا سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
“نہیں جانا گھر،یہی پر رہنا ہے،سمجھی تم…..”اب کی بار وہ غصے سے گویا ہوا تھا۔
وہ روتے،سسکتے ان بکھری گلاب کی پتیوں کے درمیان بیٹھ گئی تھی۔دروازے کا لاک کھولنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا مگر بات ہمیشہ اس کی ذہنی حالت پر آ کر رک جاتی تھی۔اپنے ہواس کھونے کے بعد وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ماہم کی قید میں اتنے عرصے تک رہنے کی واحد وجہ بھی یہی تھی۔
“جب کیک کٹ کرنے کا موڈ ہو تب بتا دینا۔”حاتم نے گویا اپنے دل پر پتھر رکھ لیا تھا۔وہ اپنی نین کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر آج وہ اسے جان بوجھ کر تکلیف پہنچا رہا تھا۔مگر یہ ضروری بھی تھا،اس کا ڈر ختم کرنے کے لیے یہ بےحد ضروری تھا۔
وہ چپ چاپ جا کر کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔وہ نجانے کتنی دیر روتی رہی تھی۔کبھی وہ چلانے لگ جاتی تھی تو کبھی اس حادثے کو دہرانے لگ جاتی تھی مگر حاتم اس سے بالکل لاتعلق کرسی پر آرام سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔
ایک گھنٹے بعد وہ رو رو کر تھک گئی تھی۔
“اٹھاؤ مجھے،کیک کٹ کرتے ہیں۔”بھرائی آواز کے ساتھ وہ منمنائی تھی جبکہ حاتم کے لبوں کو مسکراہٹ سے چھوا تھا جسے وہ اگلے ہی لمحے کمال مہارت سے چھپا گیا تھا۔چہرے پر متانت سجائے وہ اٹھ کر نین کی جانب آیا تھا۔اس نے غصے سے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ سختی سے تھاما تھا۔اپنے ناخن اس کی ہتھیلی میں چھبانا وہ نا بھولی تھی۔اس کی اس حرکت پر حاتم نے بامشکل امڈتے قہقے کو ضبط کیا تھا۔
عینین نے آنکھیں بند کیے حاتم کے ساتھ وہ کیک کٹ کیا تھا۔
حاتم کیک کا پیس اس کے لبوں تک لے گیا تھا۔عینین نے آنکھیں کھولے پہلے اس پیس کو دیکھا تھا پھر ٹیبل پر پڑے اس بڑے سائز کے کیک کو اور پھر اس نے آہستگی سے ایک نظر پورے ٹیرس پر گھمائی تھی۔اس کا صبر یہیں ختم ہوا تھا۔وہ چکراتے سر کے ساتھ حاتم کی باہوں میں جھول گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینین کی آنکھ صبح دس بجے کے قریب کھلی تھی۔اٹھتے ساتھ ہی اسے اپنے سر پر مسلط وہی دو ملازماؤں کا چہرہ دکھا تھا۔
“گڈ مارننگ میم!”انہوں نے ہر روز کی طرح وہی الفاظ دہرائے تھے۔آنکھیں کھولتے ساتھ ہی اس کے ذہن کے پردے پر کل رات والا قصہ لہرایا تھا۔
“عمر کہاں ہے؟”وہ غصے سے دمکتے چہرے کے ساتھ اٹھ کر بیٹھی تھی۔
“سر کسی کام سے باہر گئے ہوئے ہیں۔تھوڑی دیر تک آ جائے گے۔آپ ناشتے میں کیا لے گی میم؟”
“زہر…..اور اپنے اس سر کو بھی بتا دینا کی اگر اپنی بھلائی چاہتا ہے تو آج گھر نا آئے۔”وہ تلملاتے ہوئے بستر سے اٹھی تھی۔
اگلے دو گھنٹے عینین نے بہت مشکل سے گزارے تھے۔اسے کبھی غصہ آ رہا تھا تو کبھی رونا…..اس کا عمر اس کے ساتھ یہ سب کیسے کر سکتا تھا؟
“گڈ مارننگ جاناں!”اپنے پیچھے سے حاتم کی آواز سنتے وہ کرنٹ کھا کر پلٹی تھی۔
“ناشتہ کیوں نہیں کیا میری نین نے؟”اس کا کیچر کھولے حاتم اس کے قریب ہوا تھا۔عینین کے بھورے ریشمی بال کمر پر پھیل گئے تھے جبکہ آنکھیں غضب ڈھا رہی تھیں۔
“اب اتنے پیار سے تو مت دیکھو نا….”حاتم نے اسے چھونا چاہا تھا مگر عینین نے فورا ہی اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
“مجھے گھر جانا ہے۔”ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا گیا تھا۔
“ہم اس وقت گھر پر ہی موجود ہیں نین!”
“مجھے اپنے گھر جانا ہے۔مجھے بھائی کے پاس جانا ہے۔”دو موٹے موٹے آنسو تیرتے ہوئے اس کی گال پر لڑکھ گئے تھے۔
“کیا…..؟”اسے شدید قسم کا جھٹکہ لگا تھا۔
“مجھے میرے بھائی کے پاس جانا ہے۔وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ…..”ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ بلک بلک کر روپ رہی تھی۔
حاتم کا پارہ سوے نیزے پر چڑھا تھا۔اس کی ساری ریاضتیں جیسے بےمول ہوئی تھیں۔صرف کل رات کی وجہ سے وہ کیسے اس کی بےپناہ محبت کو بھول سکتی تھی؟؟؟
“میرے بھائی بہت اچھے ہیں۔انہوں نے مجھے کبھی تکلیف نہیں پہنچائی بلکہ میں نے ان کے ساتھ غلط کیا۔مجھے میرے گھر چھوڑ کر آؤ۔”خونی رشتے اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹتے۔پہلے وہ غصے میں تھی مگر اب حاتم کی ایک غلطی کی وجہ سے اس کی سوئی محبت جاگ اٹھی ٹھی۔سارا غصہ جیسے جھاگ بن کر اڑا تھا۔
“نین!یہاں بیٹھو….”حاتم نے اپنے غصے کو ضبط کرتے اسے شانوں سے تھام کر صوفے پر بٹھایا تھا۔وہ اب بھی رو رہی تھی۔
“نائل بھائی مجھے پسند نہیں کرتے۔وہ شروع سے ہی اس نکاح کے خلاف تھے۔”اس نے اپنا لہجہ حد درجے نرم رکھا ہوا تھا۔
“میں نے اتنے سال ان کی بہت منتیں کیں کہ مجھے تم سے جدا نا کریں یہاں تک کہ میں انہیں خط بھی لکھتا رہا۔”خط کے پیچھے اس نے “دھمکی آمیز” کہنے سے گریز کیا تھا۔
“میں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے اور پتا نہیں کیا کیا نہیں کیا۔بس پیڑ پکڑنے کی کسر رہتی تھی۔”تیر اور گولیاں مارنے جیسی غیر اہم بات بتانا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا۔
آنسو اب تھم چکے تھے۔وہ دم سادھے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔اپنے شوہر کے چہرے پر اس قدر بےچارگی دیکھ اس کا دل نرم پڑنے لگا تھا۔
“میں تو ابھی بھی یہی چاہتا تھا کہ تمہاری رخصتی تمہارے گھر سے ہو۔میں نے نائل بھائی کو فون بھی کیا تھا لیکن جو الفاظ انہوں نے مجھے کہے وہ میں تمہارے سامنے دہرا نہیں سکتا۔”عینین کی آنکھوں میں بےیقینی ابھری تھی۔
“لیکن میں نے پھر بھی ہار نہیں مانی،میں تو تمہارے گھر بھی گیا تھاکہ تمہارے بھائی سے ایک بار پھر التجا کروں کہ وہ ہماری شادی میں شامل ہو جائیں۔میرے ساتھ چاہے وہ جیسا مرضی سلوک کریں مگر تم تو ان کی بہن ہو نا….کم از کم تمہارے سر پر ہی شفقت کا ہاتھ رکھ دیں۔لیکن وہاں جا کر مجھے پتا چلا کہ وہ تو گھر پر ہی نہیں ہیں۔وہ اپنی بیوی کے ساتھ پیرس گھومنے گئے ہوئے ہیں۔”عینین کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔وہ ایک بار پھر اسے نائل سے بدگمان کرنے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
محبت انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کرتی ہے۔انسان کو صرف اپنے محبوب کی کہی بات ہی سچ لگتی ہے۔
“اور جو کل رات میرے ساتھ تم نے کیا،اس کا کیا…..؟”اس نے ڈبڈبائی نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“میں بس تمہارا ڈر ختم کرنا چاہتا ہوں۔بھلا یہ بھی کوئی ڈرنے کی چیزیں ہیں؟سرخ رنگ تو بہت خوبصورت رنگ ہے۔میں تمہیں اس رنگ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔”حاتم نے اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا تھا۔
“تم مجھے خون میں دیکھنا چاہتے ہو؟”آواز میں نمی کا عنصر اب بھی واضح تھا۔
“میں تمہیں اپنی شادی کی پہلی رات سرخ جوڑے میں دیکھنا چاہتا ہوں۔اور جہاں تک بات ہے خون کی،تو میں تو اپنی نین کی آنکھ میں ایک آنسو بھی برداشت نہیں کر سکتا تم خون کی بات کرتی ہو؟”حاتم اس کے قریب ہوا تھا۔وہ ایک بار دبک کر پیچھے ہٹی تھی۔
“کل ہمارا نکاح ہے۔اور نکاح کے بعد یہ گریز میں بالکل برداشت نہیں کروں گا۔”حاتم نے اسے پیار بھری دھمکی دی تھی۔وہ فورا جھنپ گئی تھی۔
“جاؤ جا کر منہ دھو کر آؤ پھر ناشتہ کرتے ہیں۔”وہ منہ بناتی اٹھی تھی۔
اس کے جانے کے بعد وہ گردن پیچھے کی پھینک کر دل کھول کر ہنسا تھا۔
“ویل دن ڈیوڈ!تم اداکاری بھی اچھی کر لیتے ہو۔”حاتم نے خود کو داد دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج نائل سنیہا کو باہر لے کر آیا تھا۔دونوں نے ساتھ میں لنچ کیا تھا پھر اس کے بعد اچانک ہی نائل کا شاپنگ کا ارادہ ہوا تھا۔سنیہا نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔وہ چپ چاپ اس کی ہر بات مان رہی تھی۔
چند ڈریسز اور جیولری خریدنے کے بعد وہ لوگ ابھی مال سے باہر ہی نکل رہے تھے جب پیچھے سے ایک آواز آئی تھی۔
“نائل…..”ایک شخص مسکراتا ہوا وہاں آیا تھا۔
“اسد….”نائل نے بھی مسکرا کر اس سے مصاحفہ کیا تھا۔
“نئی گرلفرینڈ ہاں…..؟”اس نے سر تا پیر گہری نظروں سے سنیہا کا جائزہ لیا تھا۔
نائل نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“نہیں صرف دوست ہے۔”سنیہا کا ہاتھ تھامے وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا۔وہ بےیقینی سے اپنے شوہر کو دیکھتی رہی تھی۔گاڑی تک پہنچتے نائل کا چہرہ دھندلایا تھا۔سنیہا کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
نائل نے بغیر کچھ کہے غصے سے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔سنیہا اس قدر شاک میں تھی کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب گھر تک کا سفر طے ہوا تھا۔
گاڑی رکتے ہی اسے ہوش آیا تھا۔وہ چپ چاپ اٹھ کر مرے مرے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد نائل کمرے میں داخل ہوا تھا۔اسے گم صُم بستر پر بیٹھے دیکھ وہ اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔
“میں نے پبلکلی ہماری شادی اناؤنس نہیں کی۔مجھے امید ہے تم مجھے سمجھو گی۔”نائل نے اس کا دودھیا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
“میں نہیں سمجھوں گی تو اور کون سمجھے گا۔”وہ استہزایہ ہنسی تھی۔
“بس آپ مجھے ایک بتائیں کہ آخر آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا؟”اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرواتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔نائل بھی اس کے ساتھ ہی اٹھا تھا۔
“ڈیڈ سے انتقام لینا تھا تو مجھ سے نکاح کیوں کیا؟اگر ڈیڈ نے چند پیسوں کے عوض مجھے بیچ ہی دیا تھا تو نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”نائل نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“نکاح کے بغیر رکھ لیتے مجھے اپنے پاس،وہ کیا کہہ رہا تھا آپ کا دوست…..؟ہاں گرل فرینڈ…..”وہ آج بولنے پر آئی تھی تو تمام تر لحاظ بھول بیٹھی تھی۔
“سنیہا…..!”نائل نے غصے سے اس کی کلائی دبوچی تھی۔
“کیا سنیہا……؟”اپنا ہاتھ چھڑواتی وہ چلا اٹھی تھی۔
“جب ساری دنیا کے سامنے اپنانے کی ہمت نہیں تھی تو پھر نکاح کیوں کیا تھا؟”
“مجبوری ہے میری،نہیں بتا سکتا سب کو…..”نائل نے نظریں چرائی تھیں۔
“ایسی بھی کیا مجبوری ہے جو ہمارے رشتے کو ایک گالی ہی بنا دیا آپ نے؟؟”وہ بےبسی سے چلا اٹھی تھی۔
“میں بس تمہاری حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔”وہ اسے کچھ بھی نہیں سمجھا سکتا تھا۔
“آپ پلیز چلے جائیں یہاں سے،میں اس وقت آپ کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی۔”وہ بری طرح رو رہی تھی۔نائل کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا تھا پھر اس نے پیچھے کی جانب قدم اٹھائے تھے۔فلحال اسے اکیلا چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
تھوڑی دیر رونے کے بعد سنیہا نے اپنے گال رگڑتے فون اٹھایا تھا۔
“مجھے تم سے ملنا ہے کبیر!”اس نے بھرائی آواز کے ساتھ کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوڈ اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ ضروری فائلز الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا جب اس کا فون بجا تھا۔نائل کی کال دیکھ کر اس کے لبوں پر تیکھی مسکراہٹ ابھری تھی۔
“تم سمجھتے کیا ہو خود کو….ہر چیز میں ٹانگ اڑانا ضروری ہے۔ماہم کو کہاں غائب کیا ہے۔سچ سچ بتاؤ کہاں ہے وہ؟؟”شوروم میں اسے نا پا کر وہ غصے سے پاگل ہوا تھا۔اتنی سکیورٹی کے باوجود صرف ڈیوڈ ہی یہ جرات کر سکتا تھا۔
“ریلیکس سالے صاحب!سانس تو لے لیں۔”فائل سائیڈ پر رکھے ڈیوڈ نے تحمل بھرے انداز میں کہا تھا۔
“ماہم کہاں ہے ڈیوڈ؟”نائل کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا تھا۔
“مجھے کیا پتا…..”صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے اس نے بہت اطمینان سے کہا تھا۔
“تم آخر سدھرتے کیوں نہیں ہو؟”وہ بےبسی سے چلا اٹھی تھی۔
“آہ یہ کیا کہہ رہے ہیں سالے صاحب!میں تو نہایت شریف اور مہذب شہری ہوں۔ایک سدھرا ہوا انسان….کسی انسان کو غائب کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔میں نے تو کبھی ایک مچھر تک نہیں مارا۔آپ تو نہایت خوش قسمت ہیں سالے صاحب جو آپ کو مجھ جیسا معقول بہنوئی ملا ہے۔”اس نے لب دبائے کہا تھا۔نظروں کے سامنے نائل کا لال دمکتا ہوا چہرہ لہرایا تھا۔
“Ohh Shut Up…..”
اگر وہ اس کے سامنے ہوتا تو یقینا وہ ڈیوڈ کا بہت برا حشر کر چکا ہوتا۔
“Same to you Salee Sahab…..”
لہجہ اب بھی اطمینان بخش تھا۔
“Go to hell…..”
نائل نے غصے سے کال کاٹی تھی۔
“You also…..”
ڈیوڈ نے جاندار قہقہ لگایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نائل کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے سنیہا کیفے گئی تھی۔
“تم اب بھی سوچ رہی ہو سنیہا!اس شخص نے تمہارے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور تمہیں اب بھی اس کی فکر ہے۔”
“پھر میں کیا کروں کبیر…..؟”وہ بری طرح ہاری ہوئی تھی۔
“جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو۔”
“مگر…..”
“اگر مگر کچھ نہیں سنیہا،اس نے تم سے جھوٹ بولا،تمہیں دھوکہ دیا اور نجانے کیا کچھ نہیں کیا تمہارے ساتھ…..سب کچھ ریڈی ہے بس تم اس سے کسی بھی طرح پیپرز سائن کروا لو۔”
“ہممم…..”وہ گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
