93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 28)

آج ایک بار پھر مصطفی کے مدعو کرنے پر ہارون اپنے خاندان کے ہمراہ لنچ پر ان کے گھر آئے تھے۔دن بدن یہ ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا تھا۔حاتم کو یہ ملاقاتیں
ایک آنکھ نا بھاتی تھیں۔مانو کی اس حرکت کے بعد وہ کبھی یہاں آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا مگر اپنے
باپ کی جھڑکیاں سننے کے بعد اسےمجبورا یہاں آنا پڑا تھا۔ہارون کا اپنے گھر میں بہت روب تھا۔ان کی بیوی اور
بچے ان کے کسی بھی فیصلے کے آگے کچھ بھی بولنے کی جرات نہیں کر سکتے تھے۔
لنچ کے بعد صوفی مانو کے ساتھ اس کے کمرے میں کھیل رہی تھی۔اسے یہ بچی بہت ہی پسند تھی۔مانو کے اچانک
غائب ہو جانے پر صوفی اسے ڈھونڈھنے نکل گئی تھی۔وہ اچھے سے جانتی تھی کہ یہ مانو کی کوئی نئی شرارت ہے۔
مسلسل اس کا نام پکارتے وہ آگے بڑھ رہی تھی جب ایک کمرے سے اسے کچھ گرنے کی آواز سنائی دی تھی۔وہ بغیر
کچھ سوچے سمجھے اندر داخل ہوئی تھی۔اپنی آنکھوں کے سامنے ایک لڑکے کو دیکھ کر اس کی چیخ نکلنے ہی والی
تھی جب مقابل نے اس کے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا تھا۔وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
“کون ہو تم؟”اسے ایک جھٹکے سے چھوڑے مقابل غصے سے پوچھ رہا تھا۔
صوفی کا تو سارا وجود ہی کانپ اٹھا تھا۔
“میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟”اگلےسوال پر اس کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔منہ پر ہاتھ رکھے وہ بھاگتی ہوئی
وہاں سے گئی تھی۔

حاتم باہر لان میں ٹہل رہا تھا جب مانواس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی تھی۔اسے دیکھ کر حاتم کا حلق تک کڑوا
ہوا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ وہاں سےجاتا،مانو فورا سے اس کے آگے سےگزر گئی تھی۔حاتم کو شدید حیرت ہوئی تھی۔اب وہ وہیں کھڑا مانو کو جھولے پر منہ پھلائے بیٹھا دیکھ رہا تھا۔
“پاگل ٹڈی!”اس نے سر جھٹکتے قدم آگے بڑھائے تھے۔ایک تو غلطی بھی اس ہی کی تھی اور اوپر سے وہ نخرے بھی دکھا رہی تھی۔
اندر کی جانب جاتے ہوئے اس کا کسی سے تصادم ہوتے ہوتے بچا تھا۔
“آپ عبداللہ بھائی ہیں نا؟”اسے سامنے والے کی شخصیت نے بےحد متاثر کیا تھا۔
“عبداللہ میں صرف اپنی ماں کے لیے ہوں اور بھائی میں صرف اپنی بہن کے لیے،سمجھے بچے!”وہ ناگواری سے
کہتے آگے بڑھا تھا۔اصل غصہ تو اسے اس لڑکی کی حرکت پر تھا۔کوئی اور انہیں اس طرح ساتھ دیکھ لیتا تو نجانے
کیا سوچتا؟
“دونوں بہن بھائی ہی پاگل ہیں۔بہن کا نام ماہ نور نہیں ہے تو بھائی کا نام عبداللہ نہیں ہے۔”دونوں بہن بھائیوں پر مٹی ڈالتے وہ آگے بڑھا تھا۔یہ پہلی ملاقات بالکل بھی خوشگوار نہیں رہی تھی۔

وہ صوفی کے کمرے میں مسلسل ادھرسے ادھر چکر لگائے اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔وہ بستر پر گم صُم بیٹھی کہیں
اور ہی کھوئی تھی۔اسے اپنے کیے پرشدید ندامت تھی۔آخر کیسے وہ کسی کے بھی کمرے میں داخل ہو سکتی تھی؟
“نجانے وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہو گا۔”صوفی کے حلق میں کانٹے چھبنے لگے تھے۔
“نہایت ہی کوئی کھڑوس شخص تھا۔گھر آئے مہمانوں سے بات کرنے کی تمیز تک نہیں ہے اسے…!”مسلسل بولتے ہوئے اب اس کی نظر صوفی پر پڑی تھی۔
“کہاں کھوئی ہوئی ہو تم؟”حاتم کےاپنے سامنے چٹکی بجانے پر وہ ہوش میں آئی تھی۔
“حاتم کو اگر پتا چل گیا تو وہ کیا سوچےگا؟”صوفی نے فورا ہی جھرجھری لی تھی۔
“کہیں نہیں…!”اس کی زبان نے بامشکل الفاظ ادا کیے تھے۔
“مجھے کہتا ہے کہ ‘بچے…”عجیب و غریب شکلیں بناتے وہ ایک بار پھر سے شروع ہو چکا تھا۔
“پندرہ سال کا ہوں میں،بچہ تھوڑی ہوں۔”حاتم نے غصے سے سر جھٹکا تھا۔
صوفی خاموشی سے اس کی ساری باتیں سن رہی تھیں۔
“آخر کیا عمر ہو گی اس کی؟اٹھارہ،انیس کا ہی ہو گا نا؟”
“تم نے کیوں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے؟”اس کی مسلسل خاموشی سے وہ جھنجھلا اٹھا تھا۔
“میں سونا چاہتی ہوں حاتم!میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔”صوفی کے آہستگی سے کہنے پر وہ بھڑک اٹھا تھا۔
“بس ایک بار مجھے وزیراعظم بن لینےدو،دیکھ لوں گا میں ایک ایک کو…!”وہ غصے سے پیر پٹختا وہاں سے گیا
تھا۔

رات کے کھانے پر سب موجود تھے۔مصطفی بار بار نظر اٹھا کر اپنے بیٹےکی جانب دیکھ رہے تھے۔وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا مگر بظاہر وہ خود کو لاعلم ہی ظاہر کر رہا تھا۔
“ہارون کے گھر والے کیسے لگے تمہیں؟”بالآخر انہوں نے بات کا آغاز کیا تھا۔
“اچھے ہیں۔”اس نے پلیٹ پیچھے کھسکھائے نیپکین سے اپنا منہ صاف کیا تھا۔
اس نے بہت عجلت میں کھانا کھایا تھا ایسے جیسے اسے کہیں جانے کی جلدی ہو۔
“اور ہارون کی بیٹی؟”گھڑی میں وقت دیکھتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“وہ بھی اچھی ہے۔”اس نے بغیر سوچے سمجھے جواب دیا تھا جبکہ مصطفی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
زندگی میں پہلی بار وہ اپنے بیٹے کے کسی جواب سے خوش ہوئے تھے۔

گھر سے باہر نکلتے اس نے ہڈی کی کیپ سر پر پہنی تھی۔اب وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھا رہا تھا۔بظاہر وہ جاگنگ کر رہا تھا۔کافی راستوں سےگزرنے کے بعد اس کے قدم ایک جگہ رکے تھے۔ارد گرد ایک طائرانہ نگاہ ڈوراتے وہ فورا گاڑی کے اندر بیٹھا تھا۔
“آپ تیس سیکنڈ لیٹ ہیں۔”ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص نے باقاعدہ اسے گھورا تھا۔
“میں لیٹ نہیں ہوں اسفند!تمہاری گھڑی خراب ہے۔”اس کا لہجہ پراعتماد تھا۔اسفند اس کے اس پر یقین لہجےپر ہمیشہ ہی دنگ رہ جاتا تھا۔وہ صحیح کہہ رہا تھا،وہ لیٹ نہیں تھا۔
“آگے کیا کرنا ہے؟”اسفند کے کہنے پر وہ گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔
“فلحال تو بہت محتاط چلنا ہے۔میں کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لے سکتا۔ اگر ڈیڈ کو علم ہو گیا کہ میں اتنے
مہینے کسی ٹرپ پر نہیں بلکہ ٹریننگ پر تھا تو میری شہادت پکی ہے۔”اس کے انداز پر اسفند کا قہقہ چھوٹا تھا
مگر ہمیشہ کی طرح آج بھی مقابل کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔
“ٹھیک ہے۔ویسے بھی ابھی کچھ وقت ہے۔”اسفند نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا تھا۔
“تمہیں تھوڑا چھوٹا ہونا چاہیئے تھا۔”اس بات پر اسفند چونکا تھا۔
“یا پھر مانو کو تھوڑا بڑا…!”اسفند نےنظریں جھکا لیں تھیں۔وہ اس معنی چیز گفتگو کا مطلب اچھی طرح جانتا
تھا۔ان دونوں کی دوستی ٹریننگ سے کافی پہلے ہی ہو چکی تھی۔ٹریننگ کے دوران ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ دونوں
ہی چونکے تھے۔آہستہ آہستہ ان کے درمیان گہری دوستی ہو چکی تھی۔تھوڑی دیر بات چیت کے بعد وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا۔
“پھر ملاقات ہو گی اسفند عرف…شاہین!”باہر نکلتے ہی اس نے گاڑی کے کھلے شیشے سے اندر دیکھتے کہا تھا۔اسفند
مسکرا دیا تھا۔یہ خطاب اسے اپنے پہلے کیس کی کامیابی پر ملا تھا۔اس نام نے دشمنوں کے دل میں خوف بٹھا دیا تھا۔اس کے اصلی نام اور پہچان سے صرف کچھ لوگ ہی واقف تھے۔

وہ مزار کے پچھلی طرف ایک چبوترے پر بیٹھی کب سے اس عورت کا انتظار کر رہی تھی جو کہ آنے کا نام ہی نہیں
لے رہی تھی۔ وہ آج یہاں کیوں آئی تھی یہ وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ایک انجانی کشش تھی جو اسے یہاں کھینچ لائی تھی۔وہ سوچوں میں گم تھی جب اچانک
اس کی نظر درخت کے نیچے بیٹھی عورت پر پڑی تھی۔وانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔وہ وہاں کب آئی تھی اسے خبر تک نا ہوئی تھی۔اپنی حیرت پر قابو پاتے وہ قدم اٹھاتی اس عورت کے پاس گئی تھی۔
“کیا تم مجھے ہاتھ دیکھنا سکھا سکتی ہو؟”اس کے قریب بیٹھتے وانیہ نےآہستگی سے کہا تھا۔وہ اس مقصد سے
یہاں نہیں آئی تھی مگر اچانک ہی اس کے دماغ میں یہ بات آ گئی تھی۔اسے دنیا کی ہر انوکھی چیز سیکھنے کا شوق تھا۔
“مستقبل جاننا چاہتی ہو؟”اس عورت نے اس کے جانب دیکھے بغیر کہا تھا۔
“ماضی جاننا چاہتی ہوں۔”اس نے شکست خور لہجے میں کہا تھا۔
“جو گزر گیا اسے جان کر کیا کرو گی؟”اب کی بار اس عورت نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
“سکون کی تلاش ہے۔ماضی جان کر شاید سکون مل جائے۔”
“غلط جگہ سکون تلاش کر رہی ہوں۔”اس عورت نے ایک افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالی تھی۔
“غلط سہی کچھ نہیں پتا،بس جاننا ہے۔تم نے مجھے وہ آئینہ کیوں دیا تھا؟” اسے اچانک ہی یاد آیا تھا۔
“وقت سب سمجھا دے گا۔”تسبیح کے دانے گراتے وہ خاموش ہوئی تھی۔
“ماضی نا سہی،چلو مستقبل ہی بتا دو۔”وانیہ نے گویا ہار مانی تھی۔اس عورت کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رکے تھے۔اس نے ایک بار پھر وانیہ کی جانب دیکھا تھا۔اب کی بار اس کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری تھی۔
“میں یہ کام چھوڑ چکی ہوں لیکن تمہارے لیے یہ میں کرنے کو تیار ہوں۔”وانیہ نے خوشی سے اس کے آگے اپنا ہاتھ پھیلایا تھا۔
“راہ بہت کھٹن ہے۔دو راستے ہیں،دیکھتے ہیں تم کسے چنو گی۔”وہ کہہ کر خاموش ہوئی تھی۔
“مجھے پلیز صاف صاف بتاؤ۔”اسے گہری دلچسبی ہوئی تھی۔
“مستقبل سے تو اللہ ہی واقف ہے مگر تمہارے ہاتھوں کی لکیریں کچھ بتا رہی ہیں۔”
“کیا بتا رہی ہیں؟”
“شادی…دو شادیاں…!”وانیہ کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔
“تم سیریس ہو؟”
“میں نے کہا نا مستقبل سے تو اللہ واقف ہے۔میں تو بس وہی بتا رہی ہوں جو مجھے دکھ رہا ہے۔”
“میں نے یہاں آ کر اپنا وقت ضائع کیا۔ ایک شادی تو ہو نہیں رہی،دو دو شادیاں…” اس کا قہقہ چھوٹا تھا۔
“پاگل عورت…!”وہ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“دعا مانگا کرو لڑکی!اپنے اچھے مستقبل کے لیے دعا مانگا کرو۔”وانیہ کے بڑھتے قدم رکے تھے۔وہ ایڑیوں کے بل واپس گھومی تھی۔
“جب ضرورت ہوتی ہے تب مانگ لیتی ہوں۔”وہ بال جھٹکتے آگے بڑھی تھی۔ یہ سچ تھا۔وہ ضرورت کے وقت ضرور
دعا مانگتی تھی۔کبھی امتحان میں کامیابی کے لیے،کبھی نائل کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے تو کبھی کس لیے…ان سب چیزوں میں وہ اپنے عقائد کو پس پشت ڈال دیتی تھی۔وہ خود اپنے آپ کو سمجھنے سے قاصر تھی۔
منہ میں مسلسل بڑبڑاتی وہ اب مزارکی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
“وقت ضائع کر دیا بوڑھیا نے میرا!”چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتی وہ ناگواری سے اتر رہی تھی۔سیڑھیاں اترتے وہ ایک جگہ رکی تھی۔اب وہ اپنی دوست کو فون کر کے اپنے دن کے برباد ہونے کا بتا رہی تھی۔گارڈز آج بھی باہر ہی کھڑے تھے۔الیکس کب سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔
وانیہ فون پر بات کرتے ایک درخت کے پاس رکی تھی۔آج مزار میں لوگوں کی تعداد کافی کم تھی۔ویسے بھی یہاں
سے ہسپتال بہت دور تھا اور سانپ بھی بےحد زہریلا تھا۔وانیہ کے زندہ رہنے کا کوئی چانس نہیں تھا۔اس کے قدموں کی سیدھ میں الیکس نے ڈبہ کھولے سانپ چھوڑا تھا۔
وہ سانپ رینگتا ہوا وانیہ کی جانب بڑھا تھا۔وہ فون پر محو گفتگو تھی۔ سانپ اس کے قدموں کے قریب آ کر
رکا تھا۔وانیہ کو بالکل بھی خبر نہیں تھی کہ اس کے قدموں کے قریب ایک سانپ ہے۔
اس سانپ نے وانیہ کے پیر پر ڈسا تھا۔ کسی احساس کے تحت اس نے نیچے زمین پر دیکھا تھا۔سانپ دیکھتے ہی
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔اس نے فورا ادھر ادھر دیکھا تھا۔وہاں اکا دکا لوگ موجود تھے۔اور کسی کا بھی دھیان اس طرف نہیں تھا۔سانپ کے جانے سے پہلے ہی وہ اسے پکڑ چکی تھی۔
“یہ تو بہت نایاب لگتا ہے۔”اس نے لوگوں کی نظروں سے بچتے اس سانپ کو اپنے بیگ میں ڈال کر زپ بند کی تھی۔
اب اس نے اپنے پیر کی طرف دیکھا تھا جہاں ڈسنے کا نشان تھا۔بہت آرام سے اس جگہ کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے وہ نارمل انداز میں آگے بڑھی تھی۔
الیکس کو ہارٹ اٹیک آتے آتے بچا تھا۔وہ بار بار اپنی آنکھیں مسل رہا تھا۔اس کی آنکھوں نے جو دیکھا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔
سانپ کے کاٹنے کے بعد وہ لڑکی کیسے زندہ بچ سکتی تھی؟
کتنے آرام سے اس نے سانپ کو اٹھایا تھا جیسے وہ اس سب میں ماہر ہو۔الیکس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔