93.4K
74

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Alhamd se Wannass (Episode 61) Part 02

سر جھٹکتے اس نے گہری سانس خارج کی تھی۔
“میں پتا لگا لوں گا بابا،وہ مجھ سے بچ نہیں سکتا۔اس کی موت میرے ہاتھوں لکھی ہے اور یقین کریں میں اسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔اس کی زندگی جہنم بنا دوں گا جیسے اس نے ہماری بنا دی۔”اس نے گویا پیماں کیا تھا۔
“مجھے تم سے یہی امید ہے۔”بدر نے اس کی پیٹھ تپھتپائی تھی۔
“فلحال تو باقی کے دو لوگوں کو ڈھونڈھنا ہے مجھے…..”بدر چونکا تھا۔
“کونسے لوگ…..؟”
“نین کی ماں کے قاتل…..”
“تم اس میں اتنی دلچسبی کیوں لے رہے ہو؟”اس کے چہرے پر ناگواری ابھری تھی۔
“نین سے وعدہ کیا ہے۔نبھانا تو پڑے گا نا…..”
“کیا کرو گے ان دو لوگوں کے ساتھ…..؟”
“ایسی بھیانک موت دوں گا کہ روح کانپ اٹھے۔”بدر ایک لمحے کے لیے سانس نہیں لے سکا تھا۔
“مجھے لگتا ہے تم نین کو لے کر کچھ زیادہ ہی سیریس ہو۔”بدر نے ایک آنکھ آچکا کر پوچھا تھا۔
“میں بالکل ہوں۔اگر اسے ایک کھروچ بھی آئی یا پھر کسی نے اسے مجھ سے دور کیا تو میں سب بھول جاؤں گا،سب کچھ…..”بدر کو اس کا انداز کچھ عجیب لگا تھا۔
“کیا یہ دھمکی تھی؟”
“نہیں نہیں ڈیوڈ اسے دھمکی کیوں دے گا؟”لیکن ایک بات طے تھی کہ وہ اب عینین کو نقصان پہنچانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا تھا۔اگر ڈیوڈ کی خوشی اس لڑکی میں تھی تو اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ویسے بھی وہ چھٹانک بھر کی لڑکی اس کے لیے خطرہ ہر گز نہیں تھی۔وقت پڑنے پر وہ اسے نائل کے خلاف بھی استعمال کر سکتا تھا تب تک ڈیوڈ کے سر سے بھی محبت کا بھوت اتر جانا تھا۔
“بابا بہت دن ہو گئے ہیں۔مجھے انجیکشن چاہیئے۔”آج صبح سے وہ عجیب سی بےچینی محسوس کر رہا تھا۔
“ہاں ڈیوڈ کیوں نہیں مگر پہلے وہ ڈرگز سے بھرا ٹرک تو منزل تک پہنچا دو۔”
“آپ کو میری صلاحیتوں پر شک ہے بابا،ایسا کون سا کام ہے جو آپ نے مجھے کہا ہو اور میں نے نا کیا ہو؟”وہ الٹا بگڑا تھا۔
“ایسی بات نہیں ہے بیٹا،میں تو مذاق کر رہا ہو۔یہ لو۔”بدر نے سرنج میں انجیکشن بھر کر اسے تھمایا تھا۔
ڈرگز کے جسم میں اترتے ہی اس کے چہرے پر سکون کے سائے لہرائے تھے۔
“اچھا ڈیوڈ ایک بات تو بتاؤ۔”بدر چل کر اس کے قریب آیا تھا۔
“جی…..؟”
“عہد نامی جدید میں کونسی کتاب تمہیں سب سے زیادہ پسند ہے؟”
“یوحنا کی انجیل…..”
“کیوں……؟”
“وہ باقی تینوں سے مختلف ہے۔متی ، مرقس اور لوقا کی اناجیل کو “اناجیل ِ مماثلہ” کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ ان کا طرز تحریر اور مواد کافی حد تک ایک جیسا ہے۔لیکن یوحنا کی انجیل سب سے الگ ہے۔حضرت عیسی کی الوہیت اور فرزند خدا ہونے کا عقیدہ صرف انجیل یوحنّا میں بیان ہوا ہے۔”وہ کہہ کر خاموش ہوا تھا۔بدر کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری تھی۔
“بابا انجیل مقدس حق ہے،میں سچ کہہ رہا ہوں۔آپ بھی اسے تھام لیں۔”بدر اس کی بات پر چونکا تھا۔اس نے زندگی میں پہلی بار ایسا کوئی مطالبہ کیا تھا۔
“تم ٹھیک کہتے ہو۔مجھے اس بارے میں سوچنا چاہیئے۔”کچھ دیر مزید بات چیت کے بعد ڈیوڈ وہاں سے چلا گیا تھا۔
اس کے جانے کے بعد پورے گھر میں بدر کا قہقہ گونجا تھا۔ماضی کی یاد اس کے ذہن کے پردے پر اجاگر ہوئی تھی۔
“تم نے مجھے کیوں پادری بنا دیا ہے اور اس بچے کو کیوں اس کے مذہب سے دور کر رہے ہو؟”منیر نے بیزاری سے کہا تھا۔وہ ان ہی کا ساتھی تھا۔مسلمان تھا مگر حاتم کے سامنے وہ ایک پادری بنا ہوا تھا۔
“میں اسے ایک درندہ اور حیوان بنانا چاہتا ہوں۔میں اسے بلیک مونسٹر بنانا چاہتا ہوں اس لیے اس لڑکے کی سب سے قیمتی چیز اس سے چھیننا ضروری ہے۔تم نے شاید غور نہیں کیا مگر میں نے کیا ہے۔اس کی سب سے قیمتی چیز اس کا ایمان ہے۔تم نے کبھی اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے؟کبھی اس کے چہرے پر چھایا اطمینان دیکھا ہے؟مجھے وہ چھیننا ہے۔مجھے اسے گمراہ کرنا ہے۔بس اس کے دماغ میں مسلمانوں کے لیے نفرت یہاں تک کہ انسانوں کے لیے بھی نفرت بھر دو۔”
“ٹھیک ہے۔”منیر نے جیسے سر سے بلا ٹالتے کہا تھا۔
“تم میرے لیے بہت خاص ہو ڈیوڈ،میں تمہیں کسی قیمت پر کھو نہیں سکتا۔”ماضی کی بات یاد کرتے وہ چلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور پہنچتے ہی وہ سب سے پہلے گھر گیا تھا۔عینین کو دیکھنے کے لیے اس کا دل بے قرار تھا۔اسے اپنے کمرے میں بستر پر منہ پھلائے بیٹھے دیکھ حاتم کی آنکھوں کو قرار آیا تھا۔وہ پہلے ہی اسے آگاہ کر چکا تھا کہ وہ آنے والا ہے جس وجہ سے وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔اسے اسلام آباد گئے دو دن ہو گئے تھے جس وجہ سے عینین سخت خفا تھی۔
“تیرا طلعت صبیح ہے…..
تیرے لب عسل سے زیادہ میٹھے…..
تیری آواز مطرب سے زیادہ خوب رو……
تیرے نین میرا پسندیدہ نظارہ…..
تیری زلفوں سے اٹھتی نکہت میری درماں…..”اس کے قریب آتے حاتم نے اس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتاری تھی۔نین جھنپ کر پیچھے ہٹی تھی۔وہ اس سے لڑنے کا پورا پورا ارادہ رکھتی تھی لیکن وہ اپنی محسورکن آواز سے اس کے کانوں میں سحر پھونک رہا تھا۔اس کا دل ناچاہتے ہوئے بھی بےقابو ہوا تھا۔
“میں ناراض ہوں۔”منہ پھیرے وہ منمنائی تھی۔
“میں جانتا ہوں۔”اس کے قریب بیٹھے حاتم نے کہا۔ تھا۔وہ دبک کر پیچھے ہٹی تھی۔
“تو پھر دور رہو۔”اس کی قربت میں وہ ہمیشہ ہی کنفیوژ ہو جاتی تھی۔
“دور رہوں گا تو اپنی نین کو مناؤں گا کیسے؟”وہ مزید قریب ہوا۔ت وہ رخ موڑ گئی تھی۔
“تمہارا یہ بہانہ اب ختم کرنا ہی پڑے گا۔”حاتم نے لب دبائے کہا۔
“ہم کل اسلام آباد جا رہے ہیں۔اور ہم وہاں پر نکاح کر لے گے۔لیکن اگر تم چاہو تو اس خوشی کے موقع پر اپنے بھائی کی دعائیں لے سکتی ہو۔”نین نے چونک کر سر اٹھایا تھا۔حاتم اس کی جانب دیکھے مسکرا رہا تھا۔
“یہ لو بات کر لو۔”حاتم نے نائل کا نمبر ملا کر فون اسے تھمایا تھا۔خود وہ کمرے سے چلا گیا تھا۔وہ دونوں بہن بھائی کے درمیان نہیں آنا چاہتا تھا۔وہ کچھ دیر خالی الذہنی کی کیفیت سے فون کی سکرین کو دیکھتی رہی تھی پھر اس نے ہمت جمع کر کے فون کان سے لگایا تھا۔
“وانیہ میری جان!میرا بچہ…..”وہ کرب سے پکار اٹھا تھا۔
عینین کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گال پر گرا تھا۔
“آپ سن رہی ہیں نا…..؟”اپنی سسکی روکنے کے لیے اس نے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“عینین…..”اس نام پر وہ تمام تر ضبط کھوئے ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔
“میرا بچہ!ایسےتو مت رو نا…..”نائل کی آواز بھی بھرا گئی تھی۔
“آپ بہت برے ہیں بھائی،بہت زیادہ…..”وہ ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی جبکہ اپنی بہن کی بات پر وہ کچھ بول نہیں سکا تھا۔
“اتنی بڑی غلطی تو نہیں تھی میری جو آپ نے مجھے اتنی بڑی سزا دی۔آپ نے مجھے خود سے دور کر دیا اور میرا اعتبار بھی نہیں کیا۔”نائل نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔
“آپ کو پتا ہے میں ہر روز کس قدر اذیت سے گزرتی تھی۔آپ نے ایک بار بھی مڑ کر میری خبر نہیں لی۔پھوپھو نے…..پھوپھو نے میرے ساتھ…..”وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“میری جان ایسے مت رو۔پلیز مت رو۔”اس کا بس چلتا تو وہ اس کی آنکھ سے گرتے ہر موتی کو چن لیتا۔
“میں تو روز ہی ایسے روتی تھی بھائی…..”اپنے آنسو صاف کرتے وہ چلا اٹھی تھی۔
“مجھے معاف کر دیں۔کیا آپ اپنے بھائی کو معاف نہیں کرے گی؟”نائل نے ایک آس سے کہا تھا۔
“نہیں،کبھی نہیں!معاف کرنا تو دور میں تو آپ کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔فون صرف اس لیے کیا ہے کہ آپ کو بتا سکوں کہ میں عمر کے ساتھ بہت خوش ہوں جیسے آپ اپنی بیوی کے ساتھ…..”
“آپ غلط شخص پر اعتبار کر رہی ہیں۔وہ آپ کو بالکل توڑ دے گا۔وانیہ اس پر اعتبار مت کریں۔اسے کبھی مت بتائیں گا کہ اللہ نے آپ کو کن صلاحتیوں سے نوازا ہے “اس نے محتاط ہوتے عینین کے کسی ہنر کا ذکر نہیں کیاتھا۔
“کیوں نا بتاؤں؟”
“وہ میرا شوہر ہے۔میں اس سے کچھ نہیں چھپاؤں گی۔آپ نے اتنے سالوں تک مجھ سے یہ سب چھپا کر رکھا۔مجھے سمجھ نہیں آتی بھائی،کیا ملک کے لیے کام کرنا گناہ ہے؟کیا کسی حساس ادارے سے تعلق رکھنا گناہ ہے؟”نائل کے ماتھے پر دو بل پڑے تھے۔
“آپ کو تو فخر ہونا چاہیئے بھائی کہ آپ کا بہنوئی ایک محب وطن ہے۔”عینین نے افسوس سے کہا تھا۔ماہم پہلے ہی اس کے دماغ میں نائل کے خلاف نجانے کیا کچھ بھر چکی تھی اوپر سے رہی سہی کسر حاتم نے پوری کر دی تھی۔
“محب وطن…..؟”نائل کو شدید شاک لگا تھا۔
“میری جان میری بات غور سے سنیں،وہ شخص آپ کو بیواقوف بنا رہا ہے۔میں آپ کو سب سمجھاتا ہوں۔آپ تحمل سے میری بات…..”
“میں عمر کے خلاف کچھ نہیں سنوں گی بھائی!اور آپ پہلے جا کر اپنی پہلی بیوی کا انتقام تو لیں۔اپ کو پتا ہے اسے بھی پھوپھو نے مارا تھا۔اتنے سالوں سے مجھے غلط دوائی بھی وہی دے رہی تھیں،اور جس سائیکیٹریسٹ کے پاس ہم جاتے تھے نا وہ بھی پھوپھو سے ملا ہوا تھا۔لیکن افسوس بھائی آپ کبھی کچھ دیکھ ہی نہیں سکے یا پھر شاید آپ بھی اس سب میں ملوث تھے۔”اپنی سنا کر وہ فون کاٹ چکی تھی جبکہ دوسری طرف نائل بالکل ششدر رہ گیا تھا۔عینین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ اپنے الفاظ سے نائل کا کلیجہ چیر گئی تھی۔
فون سائیڈ پر اچھالے وہ گھٹنوں میں منہ دیے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی جب اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔عینین نے سر اٹھا کر نم آنکھوں سے سامنے دیکھا تھا۔اگلے لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
“بھائی نے بہت غلط کیا میرے ساتھ،بہت غلط…..”عینین کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“تم مجھے کبھی دھوکہ مت دینا۔مجھ سے کبھی جھوٹ مت بولنا…..”اس کے سینے سے سر اٹھائے اس نے ایک آس سے کہا تھا۔
“ایسا کبھی نہیں ہو گا،کبھی نہیں….”حاتم نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا تھا۔عینین کے آنسو اب تھمنے لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ رات کے پہر شکست خور حالت میں گھر لوٹا تھا۔کمرے میں داخل ہوتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔سنیہا جائے نماز بچھائے نماز پڑھ رہی تھی۔اس نے شاید پہلی بار سنیہا کو نماز پڑھتے دیکھا تھا۔وہ مبہوط سا اسے دیکھتا رہا تھا پھر وہ چپ چاپ پلنگ پر آ بیٹھا تھا۔نماز پڑھنے کے بعد سنیہا نے جائے نماز تہہ کر کے رکھی تھی۔
“کھانا لگا دوں؟”اس کے پاس کھڑے ہوتے اس نے نرمی سے پوچھا تھا۔لہجے میں پہلے جیسا جوش اور خوشی نہیں تھی۔اس نے اس رشتے کو اور نائل کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔اب وہ مزید اس سے محبت کی بھیک مانگ کر اپنی توہین نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“بھوک نہیں ہے۔”لہجہ تھکن سے چور تھا۔
“پھر کافی بنا لاتی ہوں۔”
“دل نہیں چاہ رہا۔”
“کچھ اور چاہیئے؟”نائل کے نفی میں سر ہلاتے ساتھ ہی وہ چپ چاپ پلنگ پر جا لیٹی تھی۔اس نے ایک بار بھی اس کی رنجیدگی کی وجہ نہیں پوچھی تھی۔نائل بھی اس کے بدلتے تیور دیکھ کر حیران تھا۔ہمیشہ تو وہ اس کے سر پر مسلط رہتی تھی اور اس کے لاکھ جھڑکنے اور برا بھلا کہنے کے بعد بھی وہ پیچھے نہیں ہٹتی تھی اور اب اسے سنیہا کی ضرورت تھی تو وہ اس سے بالکل لاتعلق ہو گئی تھی۔
وہاں سے اٹھتے وہ چینج کرنے گیا تھا۔نائٹ ڈریس پہنے وہ بھی اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹا تھا۔لیمپ کی مدھم روشنی میں وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔سنیہا کی آنکھیں بند تھیں۔
“تم مجھ سے ناراض ہو؟”گفتگو کا آغاز نائل نے کیا تھا۔یہ اسے ہی کرنا تھا۔
“نہیں…..”یک لفظی جواب آیا تھا جبکہ آنکھیں ابھی بھی بند تھیں۔
“تمہیں ہونا چاہیئے۔”وہ آنکھیں کھولنے پرمجبور ہو گئی تھی۔
“سب مجھ سے ناراض ہیں تو تمہیں بھی ہونا چاہیئے۔”وہ عجیب انداز میں ہنسا تھا۔
“سب ٹھیک ہے؟”وہ اپنی جگہ پر اٹھ بیٹھی تھی۔
“پتا نہیں…..”اس کا ہاتھ تھامتے نائل نے اپنا سر اس کی گود میں رکھا تھا۔وہ بالکل دنگ رہ گئی تھی۔
“میں تھک گیا ہوں سنیہا،بہت زیادہ تھک گیا ہوں۔”اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ نم آواز میں گویا ہوا تھا۔
“میں نے ہمیشہ تمہارے ساتھ زیادتی کی بلکہ سب کے ساتھ کی۔سب نے دھوکہ دیا مجھے،سب چھوڑ گئے۔تم تو دھوکہ نہیں دو گی نا مجھے…..؟”اٹھ کر بیٹھتے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نائل نے بہت مان سے پوچھا تھا۔
“نہیں دو گی نا…..؟”اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالے نائل نے ایک بار پھر پوچھا تھا۔
وہ کچھ دیر سر جھکائے خاموش رہی تھی پھر اس نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری تھی۔
“اگر میں نے دے دیا تو…..؟”نائل کے چہرے پر ناگواری ابھری تھی۔کم از کم وہ یہ نہیں سننا چاہتا تھا۔
“تو پھر میں مر ہو جاؤں گا۔”
“اللہ نا کرے۔”سنیہا نے ترپ کر اس کے لبوں پر اپنا ملائم ہاتھ رکھا تھا۔اس کا ہاتھ تھامتے وہ نم آنکھوں سے مسکرا دیا تھا۔
“بس تم کبھی مجھ سے جھوٹ مت بولنا۔”نائل نے اس کی دائیں گال سہلائی تھی۔وہ پھیکا سا مسکرا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔