Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 34)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 34)
رات کے پہر چاند کی چاندنی بادلوں کے پیچھے کہیں چھپ سی گئی تھی۔کالے بادلوں کی گھٹاؤں نے کسی آسیب کی طرح آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ہوا کی خنکی ماحول کو سرد کرنے کے لیے کافی تھی۔
وہ بستر پر چت لیٹی گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔اس چٹخا دینے والی سردی میں بھی وہ بغیر کچھ اوڑھے سو رہی تھی۔پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ہاتھ بار بار حرکت کر رہے تھے مگر جسم اٹھنے سے انکاری تھی۔ایک بوجھ تھا جو اسے جاگنے سے روک رہا تھا۔
“یاد ہے اس دن کیا ہوا تھا؟تمہاری ماں….نینا….بیچاری….
چار لوگ تھے نا….جھاڑیوں کے پیچھے کیا کیا تھا اس شخص نے….؟یاد ہے نا تمہیں….؟”وہ نیند میں بےچین ہوئی تھی۔وہی صور پھونکتی بھیانک آواز اسے آج ایک بار پھر سنائی دے رہی تھی۔وہ اٹھ کر دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر کون ہے وہ جو اسے کچھ بھی بھولنے نہیں دیتا مگر جسم حرکت سے عاری تھا۔آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں۔
“چلو آج ایک بار پھر سے شروع کرتے ہیں۔پہلے کیا کیا تھا اس شخص نے….ہاں!تمہاری ماں کے بال ہٹائے تھے نا چہرے سے پھر کیا کیا تھا….؟وہ جھکا تھا نا نینا پر….”آج ایک بار پھر وہی داستان شروع ہوئی تھی۔اس کی ماں پر بیتا ہر ایک ظلم اسے کسی دلچسب کہانی کی طرح سنایا گیا تھا۔
اور اسے ہمیشہ کی سننا پڑا تھا۔ایک بےجان وجود کے ساتھ….وہ سب سن سکتی تھی مگر بول یا حرکت نہیں کر سکتی تھی۔وہ تقریبا ہر رات اسی اذیت اور اسی تکلیف سے گزرتی تھی۔بچے لوریاں سنتے سنتے بڑے ہوتے ہیں مگر وانیہ….وہ یہی سب سنتے سنتے بڑی ہوئی تھی۔
سامنے والا شخص حد سے زیادہ بےرحم تھا۔ظلم کی داستان سنانے کے بعد وہ رکتا نہیں تھا بلکہ ایک نئے سرے سے کہانی پھر سے شروع ہو جاتی تھی۔یہ سب سنتے سنتے بالآخر رات کے کسی پہر اس پر مکمل طور پر نیند غالب ہو ہی گئی تھی۔
ناشتے کے بعد وانیہ نائل کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔وہ آفس کے لیے تیار ہو رہا تھا جب وانیہ نے کمرے کا دروازہ ناک کیا تھا۔اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر نائل کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔اس نے خوشدلی سے وانیہ کو اندر آنے کی اجازت دی تھی۔
“کیا ہوا میری جان…؟رات ٹھیک سے سوئی نہیں آپ؟”اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے دیکھ کر نائل نے فکرمندی سے استفسار کیا تھا۔
وہ مدھم سا مسکرا دی تھی۔سکون کی نیند تو اسے کبھی نصیب ہی نہیں ہوئی تھی۔
“بھائی میں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتی ہوں تھیریپی کے لیے…!”انگلیاں مڑورتے اس نے بالآخر کہہ ہی ڈالا تھا۔
نائل ایک لمحے کے لیے چونکا تھا پھر اس کے لب دلفریب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
یہ پہلی بار تھا جب وانیہ نے خود سے ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہا تھا۔
“ٹھیک ہے میری جان!ہم آج ہی جائے گئے۔”اس نے آگے بڑھ کر وانیہ کو خود سے لگایا تھا۔
وہ اب تھک چکی تھی۔اپنے پاگل پن سے لڑتے لڑتے وہ واقعی تھک گئی تھی۔یا تو یہ اس کا وہم تھا یا پھر حقیقت….
اس نیم اندھیرے کمرے میں صرف دو ہی لوگ موجود تھے۔ایک ڈاکٹر سیف اور دوسری وانیہ….
وہ آج پہلی بار یہاں کھل کر بات کرنے آئی تھی۔وہ ہر بات جو وہ اپنے گھر والوں سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔
“آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہیں؟”اس کے خود سے یہاں آنے پر سیف کو نہایت خوشی ہوئی تھی۔
“آپ جنات پر یقین رکھتے ہیں؟”ایکویریم میں تیرتی ایک سنہری مچھلی پر نظریں جمائے اس نے الٹا ان ہی سے سوال پوچھا تھا۔
“بحثیت مسلمان میں رکھتا ہوں۔”وہ بھی اس سے بات کرنا چاہتے تھے۔اس کے اندر جو بھی خلائیں تھیں۔وہ صرف تب ہی پر ہو سکتی تھیں جب وانیہ اپنے دل کی بات شیئر کرے۔
“میں نہیں رکھتی۔”نظریں اب بھی اس مچھلی پر ہی جمی تھیں۔
“مجھے اپنے کندھوں پر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے ایک عجیب سا بوجھ….!”ڈاکٹر سیف کی جانب دیکھے اس نے بےبسی سے کہا تھا۔
“کیسا بوجھ….؟”
“میں آپ کو جو بھی کہوں گی کیا آپ یقین کریں گے؟”
“بالکل کروں گا۔”ڈاکٹر نے فورا ہامی بھری تھی۔
“میں پاگل نہیں ہوں۔”وہ اپنی کرسی سے تھوڑا آگے ہوئی تھی۔
“میں جانتا ہوں۔”ڈاکٹر نے ایک بار پھر اسے اعتماد میں لیا تھا۔یہ ان کا پروفیشن تھا۔مریض کو اعتماد میں لے کر اس کا ماضی جاننا….
“ہمارے درمیان جو بھی بات ہو گی وہ آپ کسی کو نہیں بتائے گے۔”
“بےفکر رہو۔میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔”وانیہ نے گہری سانس خارج کرتے بات کا آغاز کیا تھا۔
“تقریبا ہر رات مجھے ایک آواز سنائی دیتی ہے جو کہ بار بار اس حادثے کو دہراتی ہے۔ایک عجیب اور پراسرار سی آواز….میں سب کچھ بھولنا چاہتی ہوں مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ آواز مجھے کبھی کچھ بھولنے ہی نہیں دیتی۔مجھے صحیح سے یاد نہیں رہتا مگر رات میں گزرا کچھ نا کچھ وقت مجھے یاد رہتا ہے۔آپ بتائیں ڈاکٹر….یہ کوئی آسیب ہے یا پھر کوئی انسان….؟”
“آپ میڈیسن لے رہی ہیں مس وانیہ….؟”ڈاکٹر نے بہت نرمی سے پوچھا تھا۔اس بات پر وانیہ کا میٹر گھوم گیا تھا۔
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“ہر کسی کو لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں۔درحقیقت آپ سب لوگ پاگل ہیں۔”اپنا بیگ اٹھائے وہ پیر پٹختی وہاں سے گئی تھی۔
رات کے وقت وہ چوری چھپے گھر سے باہر نکلی تھی۔دوائی کھانے اور اس آواز کو ایک بار پھر سے سننے کا اس کا کوئی موڈ نہیں تھا۔ایک گارڈ کے سونے کا فائدہ اٹھاتے اس نے گاڑی کی چابی حاصل کر ہی لی تھی۔گیٹ پر کھڑے گارڈ کو وہ ہیپناٹائز کرنے میں کامیاب رہی تھی۔
اپنی گاڑی میں بیٹھتے اس نے فراٹے سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔آج کلب میں لیٹ نائٹ پارٹی تھی۔وانیہ بس سکون حاصل کرنا چاہتی تھی۔اس لیے اس نے کلب جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
کلب آ کر بھی اسے سکون نہیں ملا تھا۔کاؤنٹر کے پاس کھڑی وہ مسلسل ادھر ادھر نظریں گھما رہی تھی۔اچانک اس کی نظر الکوحل پر پڑی تھی۔لبوں پر شیطانی مسکراہٹ رینگ آئی تھی۔دماغ نے ایک نئے ایڈونچر کا سگنل دیا تھا۔دماغ کی بات پر لبیک کہتے اس نے ویٹر کو ایک گلاس بنانے کا کہا تھا۔
پہلا سپ لیتے اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی تھی۔اس نے ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا گلاس پیا تھا۔
یہ اس کے لیے ایک نیا اور منفرد تجربہ تھا۔ایک ایسی چیز کو پینا جو اس نے آج سے پہلے کبھی نا پی ہو۔
ڈیوڈ رات کے پہر اپنے ڈرائیور کے ساتھ کسی کام سے جا رہا تھا جب بیچ سڑک پر ایک گاڑی سے ان کی گاڑی کی ٹکر ہوئی تھی۔اس کا دماغ ویسے ہی گھوما ہوا تھا۔بغیر کچھ سوچے سمجھے اس نے طیش کی حالت میں گن لوڈ کی تھی۔اب اس کا ارادہ گاڑی کے اندر موجود شخص کو اوپر پہنچانے کا تھا۔
گاڑی کا دروازہ کھولے وہ باہر آیا تھا۔گاڑی کے اندر موجود حسینہ بھی جھولتی ہوئی گاڑی سے باہر آئی تھی۔
ایک لمحے کے لیے ڈیوڈ کی دھڑکنیں رکی تھیں۔ہاتھ میں موجود گن پر اسکی گرفت ڈھیلی پڑی تھی مگر اگلے ہی لمحے اپنے جذبات پر قابو پاتے اس کی آنکھوں میں لال خراشیں ابھری تھیں۔
نہایت بیہودہ لباس میں سامنے وانیہ کھڑی تھی جس سے ایک قدم بھی کھڑے رہنا مشکل ہو رہا تھا۔اتنا تو وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ ڈرنک ہے۔
“تم…تم نے میری گاڑی کیوں…کیوں….”لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ ابھی اس نے جملہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ ڈیوڈ نے
اسے کلائی سے دبوچا تھا۔اب وہ غصے سے اسے مسلسل کھینچتے ہوئے آگے لے جا رہا تھا۔
ڈرائیور کو گاڑی سے نکالے اس نے وانیہ کو اپنا کوٹ پہنائے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا تھا۔اب وہ خود گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔
مجھے جانا ہے۔مجھے پارٹی میں جانا ہے۔نشے کی حالت میں وہ مسلسل گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی جو کہ لاک تھا۔
