Alhamd se Wannass By Umaima Shafeeq Qureshi readelle50265 Alhamd se Wannass (Episode 07)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 07)
یہ منظر اسلام آباد کے ایک ہوٹل کے کمرے کا تھا۔چار گواہوں کی موجودگی میں وہ اضطراب کی حالت میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔اسے خوف تھا،کچھ غلط ہو جانے کا
خوف…اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے کر وہ آج اپنی محبت کے لیے یہاں آئی تھی۔دل ہزار وسوسے بن رہا تھا۔
علی سے وہ یونیورسٹی میں ملی تھی۔وہ اس کا سئنیر تھا۔رفتہ رفتہ ان دونوں کو ہی ایک دوسرے سے بےتحاشہ محبت ہو گئی تھی۔اس کے گھر والے محبت کی شادی
کے خلاف تھے اور علی کے پیرینٹس بھی راضی نہیں تھے جس وجہ سے وہ دونوں یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔علی نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ نکاح کے بعد اس کے گھر والوں کو منا لے گا جس وجہ سے وہ تھوڑی مطمئن تھی۔مولوی صاحب کے آتے ہی نکاح پڑھوایا
گیا تھا۔دونوں کا نکاح الگ الگ جگہ پڑھایا گیا تھا۔
نکاح کے بعد وہ پریشانی کی حالت میں بستر پر بیٹھی تھی۔ذہن مکمل طور پر ماؤف تھا۔تھوڑی دیر بعد علی کمرے میں داخل ہوا تھا۔وہ فورا نظریں جھکائے سیدھی ہوئی تھی۔
“تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو حریم!”اس کے پاس بیٹھتے علی نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔گھنی پلکوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔
“میں بہت خوش قسمت ہوں جو آپ نے مجھے چنا۔ورنہ کہاں مجھ جیسی سانولی لڑکی اور کہاں آپ جیسا ہیندسم شخص…”اس کی شکل و صورت واجبی تھی اور علی ایک بہت پرکشش مرد تھا۔اسے ہمیشہ ہی حیرت ہوتی تھی کہ آخر اس جیسا شخص کیسے ایک معمولی شکل و صورت والی لڑکی کے ساتھ محبت کر سکتا ہے۔
“ایسی باتیں مت کیا کرو جاناں!خیر چھوڑو میں تمہیں منہ دکھائی کا تحفہ دیتا ہوں۔”اس نے اپنی کوٹ کی جیب سے ایک جیولری باکس نکال کر اس کی جانب بڑھایا تھا۔
“یہ بہت خوبصورت ہے۔”اس کی آنکھیں چھلکنے لگی تھی۔
“میں پہناتا ہوں تمہیں…!”علی نے مسکرا کر اس کی گردن پر وہ لاکٹ پہنایا تھا۔ایکدم ہی اس نے حریم کے منہ پر ہاتھ رکھے لاکٹ کو بہت زور سے پیچھے کی طرف کھینچا تھا۔حریم کی گردن کی نس کٹ چکی تھی۔
وہ بےجان وجود کے ساتھ بستر پر ڈھے گئی تھی۔نائل نے اسے چیخنے تک کی اجازت نہیں دی تھی۔اس لاکٹ کی چین کسی تیز دھار چاقو کی مانند تھی اور اس پر زہر بھی لگا ہوا تھا۔اگر وہ زہر جسم کے اندر چلا جائے تو بچنا ناممکن تھا۔اس طرح لاکٹ کو پیچھے تک کھینچنے کی وجہ سے نا صرف اس لڑکی کی گردن کٹی تھی بلکہ زہر بھی اس کے جسم میں سرایت کر چکا تھا۔
اس کے منہ سے جھاگ نکلتا دیکھ نائل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔گردن سے خون بہہ بہہ کر سارے بستر کو بگھو رہا تھا۔وہ دو منٹ وہیں کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا تھا پھر وہ تنفر سے سر جھٹکتا کمرے سے باہر نکلا تھا۔
کمرے سے باہر نکلتے اس نے کسی کو میسیج کیا تھا۔
“Done….!”
ایک چھوٹے سے بند کمرے میں چند لوگ بیٹھے تھے۔کمپیوڑرز پر مختلف ریکارڈز چیک کیے جا رہے تھے۔چیف
صاحب ایک کرسی پر اضطراب کی حالت میں بیٹھے تھے تبھی ان کا فون بجا تھا۔فون پر جو خبر انہیں ملی تھی،اس نے ان کا سارا سکون درہم برہم ہو چکا تھا۔
“نائل کہاں ہے؟”ان کے چہرے پر بلا کی سختی تھی۔
کچھ دیر بعد نائل کو فون کر کے بلایا گیا تھا۔وہ راستے میں ہی تھا۔دس منٹ بعد وہ یہاں پہنچا تھا۔
آتے ساتھ ہی اس نے چیف کو سلوٹ پیش کیا تھا۔
“سر…!”
“یہ سب کیا ہے نائل؟تم نے کیوں مارا اس لڑکی کو؟وہ ہمارے لیے اہم تھی۔”وہ شدید غصے میں تھے۔وہ تنی ہوئی گردن کے ساتھ خاموش ہی کھڑا رہا تھا۔
“جواب دو نائل…؟”وہ ایسے کھڑا تھا جیسے اسے کسی چیز کی کوئی پرواہ ہی نا ہو۔
“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔”انہوں نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔
“میں جاؤں سر…!”لہجے میں ادب تھا مگر شرمندگی…وہ کہیں نہیں تھی۔
“تم آئی۔ایس۔آئی کے لیے بہت اہم ہو نائل!اس سب کے پیچھے کیا وجہ تھی؟”وہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ نائل کوئی بھی کام بغیر کسی وجہ کے نہیں کرتا۔
“اگر میں اسے نا مارتا تو وہ مجھے مار دیتی۔اس کے ہاتھ کی انگوٹھی میں زہر تھا جو کہ وہ آدھ رات کو میری نیند کا فائدہ اٹھا کر میرے جسم میں اتارنا چاہتی تھی۔”وہ کہہ کر خاموش ہوا تھا۔
“یہ سب تم پہلے بھی تو بتا سکتے تھے۔”
“آپ جانتے ہیں مجھے صفائی دینے کی عادت نہیں ہے۔آپ نے جب پوچھا میں نے بتا دیا۔”چیف صفدر نے گہری سانس خارج کی تھی۔
نائل کی آئی۔ایس۔آئی کے لیے خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں تھیں۔وہ بہت طاقتور تھا۔اس کی ان خدمات
کے پیش نظر وہ اس کے اکھڑ مزاجی کو نظرانداز تو کر ہی سکتے تھے۔
“اب میں جاؤں؟”اسے اس وقت صرف وانیہ یاد تھی۔وانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی،وہ اس وقت صرف گھر جانا چاہتا تھا۔
“ہمم ٹھیک ہے۔ویسے شادی مبارک ہو۔”وہ چونکا تھا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ ان کا اشارہ سنیہا کی طرف ہے۔محسن کوئی بھی بات اپنے تک نہیں رکھ سکتا تھا
“تصحیح کیجیے سر!شادی نہیں…اکیسویں شادی…!”اس کے چہرے کی سنجیدگی پر چیف صفدر کے ہونٹ پر مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
“تم جا سکتے ہو۔”وہ سلیوٹ پیش کرتا واپس مڑا تھا۔
وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا محسن بات بے بات اسے چھیڑنے میں مصروف تھا۔
“مبارک ہو تم بیس بار بیوہ ہو چکے ہو۔”اس نے کہتے ساتھ ہی زبردست قہقہ لگایا تھا۔
“بیوہ نہیں رنڈوا…!”نائل نے تڑک کر جواب دیا تھا۔
“ہاں ہاں وہی…!”وہ ایک بہت خوش شکل اور مشہور بزنس مین تھا۔لڑکیاں اس کی اٹھتی ایک نظر کے لیے اپنی جان دینے کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔
ابھی اسے آئی۔ایس۔آئی جوائن کیے کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ انہیں یونیورسٹی میں سنگین جرائم کی خبر ملی تھی۔نائل وہاں سٹوڈنٹ بن کر گیا تھا۔ان جرائم میں ملوث ایک لڑکی سے اس نے دوستی کر لی تھی۔اور اس طرح وہ لوگ بہت جلد اصل مجرم تک پہنچ گئے تھے۔نائل کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ اس کی یہ دوستی اس کے گلے کا طوق بن جائے گی۔یہ کام اب اس کے ذمے لگا دیا گیا تھا۔اسے تو اب یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے اپنے تیرہ سالہ کیرئر میں کتنی لڑکیوں سے دوستی کی تھی اور کتنیوں کو گرل فرینڈ بنایا تھا۔ہاں!نکاح کی تعداد اسے اچھے سے یاد تھی۔بات نکاح تک تب ہی پہنچتی تھی جب معاملہ حد سے زیادہ سنگین ہو۔نکاح نامہ،مولوی،گواہ،نام سب کچھ ہی نقلی ہوتا تھا۔حتی کہ نکاح میں پڑھی جانے والی سورتیں بھی…ان کا اپنا ایجینٹ جو مولوی کا کردار ادا کرتا تھا،وہ محض عربی زبان میں کچھ الفاظ دہراتا تھا۔نائل کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ حجاب و قبول سے گریز کرے۔
“اکسویں بار بیوہ،میرا مطلب ہے رنڈوا ہونے کا کب ارادہ ہے؟”محسن آج فل موڈ میں تھا۔اوپر سے نائل کا کڑھنا
اسے محظوظ کر رہا تھا۔
محسن اور نائل بچپن کے دوست تھے۔ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ان کا معمول تھا۔انہوں نے آئی۔ایس۔آئی بھی ایک ساتھ ہی جوائن کی تھی مگر نائل اپنی صلاحیتوں کی بنا پر اس سے سبقت لے گیا تھا۔وہ آئی۔ایس۔آئی کا وولف(بھیڑیا) تھا۔
“ایکسکیوز می!وہ میری پرسنل شادی ہے۔”نائل نے اس کی بات کا برا منایا تھا۔
“مطلب…؟”
“مطلب یہ کہ پرنسنل اور پروفیشنل شادی میں بہت فرق ہوتا ہے۔سنیہا سے میں نے اصلی نکاح کیا ہے۔”
“اووو…!”محسن نے اثبات میں سر ہلائے لبوں کو گول کیا تھا۔
“یعنی اسے نہیں مارنا؟”محسن نے لب دبائے پوچھا تھا۔
“اسے موت نہیں زندگی دینی ہے،دردناک زندگی…تمہیں اتنا تڑپاوں گا کہ تم موت کی بھیک مانگوں گی۔تم سسکو گی سنیہا!بالکل ویسے جیسے میں سسکا تھا۔ابھی تو میں نے تمہارے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا۔آہستہ آہستہ میں تم پر زندگی کا یہ گھیرا تنگ کرتا جاؤں گا،لیکن تمہیں موت
نہیں دوں گا۔”نائل نے ڈرائیونگ کرتے قہر زدہ آنکھوں سے عہد کیا تھا۔اس نے زبان نے کچھ نہیں کہا تھا مگر دل ہی دل میں وہ اپنے ہر زخم کا حساب لینے کا پختہ عہد کر چکا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں خالی الذہنی کی حالت میں بستر پر بیٹھی تھی۔دورہ پڑنے کے دو تین دن تک اس کی یہی حالت رہتی تھی۔
“بس بہت ہو چکا،میں اب مزید یہ اذیت برداشت نہیں کر سکتی۔”اس نے بھرائی آواز میں خود سے کہا تھا۔
“میں وانیہ آفندی اب ہر راز پر سے پردہ ہٹا کر رہوں گی۔”وہ عہد کر کے بستر سے اٹھی تھی۔اس نے بہت مشکل سے اپنے
جلے ہوئے ہاتھوں سے کمرے کے ایک کونے میں کیمرہ آن کیے موبائل رکھا تھا،کچھ اس طرح سے کہ سارے کمرے کا منظر صاف نظر آئے۔
اب وہ قدم قدم چلتی سامنے ٹیبل تک پہنچی تھی۔وانیہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے فروٹس کے درمیان پڑی چھری اٹھائی تھی۔ہاتھ جلے ہونے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ تکلیف محسوس کر رہی تھی مگر اسے آج یہ کرنا ہی تھا۔
چھری کلائی پر رکھے اس نے کٹ لگایا تھا۔ایک کے دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا…خون بہتے دریا کی مانند اس
کے ہاتھ سے فرش تک کا سفر کر رہا تھا۔وانیہ کی حالت خراب ہونے لگی تھی مگر وہ پھر بھی ڈھیٹ بنے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔اپنی کلائی اور فرش پر خون دیکھے اس کی چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی۔
نائل ابھی ابھی گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔وانیہ کی چیخ و پکار سنتے وہ ڈورتا ہوا اس کے کمرے میں گیا تھا۔ماہم بھی فورا وہاں پہنچی تھی۔
“وانیہ…!”اس کے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھ نائل بالکل پاگل ہو چکا تھا۔
“خون تھا،ہر جگہ،پیٹ سے خون نکل رہا تھا۔اس شخص کے کپڑوں پر خون تھا۔اس نے اس لڑکی کے ساتھ…وہ مر جائے گی،وہ مر گئی۔”وہ مسلسل چیخ چلا رہی تھی۔
“فرسٹ ایڈ باکس لے کے آئیں۔”وہ چلایا تھا۔ماہم نے اثبات میں سر ہلائے ایک دراز سے باکس نکالا تھا۔
“میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی،میں
کسی کو نہیں بتاؤں گی۔میں وعدہ کرتی ہوں شاہین!میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔تم ان برے لوگوں کو مار دو۔تم انہیں مار دینا۔وہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔نین…نین…!”وہ چیختے چلاتے ایک بار پھر ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی تھی۔
